آج پھر درد کی لوری نے جگایا مجھ کو
ذکر کےگہرے سمندر میں گرایا مجھ کو
راز ہی راز ہیں ہر سمت ڈبو دے مالک!
تو نے پہلے بھی کئی بار بچایا مجھ کو

میری ہر فکر کے ہونٹوں کا تبسم تو ہے
میرے ہر ذکر کا سر تال تمہارے دم سے
میرے آنسو، میری آہیں میری تنہائی بھی تو
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو
میری ہر رگ میں بستی ہے تمہاری مستی
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو

آج پھر درد نے پرواز تمہاری کی ہے
آج پھر درد نے جبریل سے مستی پی ہے

آج پھر قلب کے آنگن میں بہاریں اتریں
آج پھر تیرے ابابیلوں کی ڈاریں اتریں

ابرہہ جتنے بھی ہیں بھوسہ بنے جاتے ہیں
وسوسے ذکر کے ہاتھوں ہی مرے جاتے ہیں

راز ہی راز ہیں سرگوشیاں کرتے ہر سو
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو