ابلیس نے آدم کو سجدے سے انکار کیا تھا۔
اللہ کو سجدے سے انکار نہیں کیا اُس نے
یہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔

قرآنی کہانی ابھی جاری ہے ۔ ۔۔

اس کہانی سے ساری کہانیاں جُڑی ہیں۔
کسی بھی دور میں لکھی جانے والی کوئی سی بھی کہانی اُٹھا کر دیکھ لیں
آپ کو اُس کہانی میں بھی اسی قرآنی کہانی کی جھلک دکھائی دے گی۔

ابلیس نے آدم کو سجدے سے انکار کیا تھا۔
اللہ کو سجدے سے انکار نہیں کیا اُس نے
یہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔
اللہ کو سجدے کرنے والے
جب اللہ کا وہ حکم نہیں مانتے جو اُنہیں پسند نہ ہو
یا جس سے اُنہیں اپنی شان میں کمی واقع ہوتی دکھائی دے
تو وہ دراصل ابلیس کی سنت ادا کرتے ہیں۔

بدتمیزی اور بدتہذیبی کی ابتداءٰ ابلیس نے کی تھی
دین میں پسند ناپسند کا نظام ابلیس نے شروع کیا تھا
أفتؤمنون ببعض الكتاب وتكفرون ببعض

ابلیس دراصل اپنے تکبر کے ہاتھوں
ہمیشہ رسوا ہوتا رہا ہے
ہوتا رہے گا
اور ہر وہ انسان جو ابلیس کی آواز پر لبیک کہتا ہے
اور تکبر کرتا ہے
وہ آخرکار رُسوا ہوتا ہے
ذلیل ہوتا ہے

سروری زیبا فقط اُس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بُتانِ آذری

ابلیسی نظام میں اولاد آدم کو جہالت کی جانب دھکیلا جاتا ہے
یا اُنہیں علم کے بعض حصے دے دیئے جاتے ہیں
اور بعض حصوں سے اُنہیں محروم رکھا جاتا ہے

جسکا منطقی نتیجہ “نیم حکیم خطرہ جان، نیم ملا خطرہ ایمان’

ابلیس کی کامیابی کا اندازہ لگانا ہے تو مسلم دنیا میں پھیلی جہالت کا گراف دیکھ لیں۔

مساجد بہت ہیں
تعلیمی ادارے بے شمار
لیکن جہالت ہے کہ ہر لحظہ بڑھتی جا رہی ہے۔

تنگ نظری اور انتہاپسندی کا
جہالت بھرے نظام سے گہرا ربط ہے

علم و فضل کو ڈگریوں کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا۔
ڈگریاں تو پیسے دے کر بھی خریدی جاتی ہیں
اگر کوئی جعلی پی ایچ ڈی ہو جائے تو وہ علم و فضل والا نہیں بن جاتا

جعل سازی دراصل ابلیسی نظام کی غلام گردشوں کی ایک کڑی ہے۔

علم وہی جو خالص ہو۔
بازار میں ہر شے کی نقل دستیاب ہے۔
علم کی بھی
عمل کی بھی
فضل کی بھی
فیض کی بھی

لیکن سمجھنے والے
سمجھتے ہیں
کہ کون اپنا الو سیدھا کرتا ہے
اور کون جسم و جاں کے ٹیڑھے پن کو سیدھا کرتا ہے۔

ہمارے تعلیمی نظام کو اسی لیئے نظر انداز کیا جاتا ہے کہ
اگر تعلیم و تربیت کا نظام بہترین ہو جائے تو
معاشرتی محرومیاں ختم ہو جائیں گی۔

اور معاشرے جب محرومیوں سے آزاد ہونے لگتے ہیں
تو دراصل وہ حقیقی آزادی سے آشنا ہونے لگتے ہیں

اور حقیقی آزادی کا مطلب زمین پر فساد پھیلنا بند ہوجائے گا
ابلیس یہ کیوں چاہے گا کہ فساد فی الارض نہ ہو؟

یہی تو اُس کا مقدمہ ہے ہمارے خلاف
یہی تو وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ
آدم و اولاد آدم اس قابل نہیں کہ اُنہیں
اشرف المخلوقات کہا جائے۔

اس لئے وہ اپنے حواریوں کے ذریعے
ایسا نظام بنائے رکھتا ہے کہ
زمین پر فساد پھیلا رہے۔

ابلیس کا گیم پلان مسلمانوں کے خلاف نہیں
انسانوں کے خلاف ہے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے۔
قرآنی کہانی کا یہ مرکزی نقطہ ہے۔

ابلیس، دراصل بنی آدم، بنی نوع انسان کا کھلا دشمن ہے۔
اس لئے وہ عالمی طاقتوں کو بھی استعمال کرتا ہے
اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بھی۔

تاریخ کے طالبعلم جانتے ہیں
کہ ہر دور میں غریب انسانوں کو
غلام بنائے رکھنے کے ہزار ہا جتن کئے جاتے رہے۔
بے بس انسانوں کو
جہالت کی زنجیروں سے باندھ کر رکھا جاتا رہا

پھر کوئی پیغمبر علیہ السلام آتے
لوگوں کو بھولا ہوا پیغام یاد کراتے ۔

اُنہیں تعلیم دیتے
تربیت کرتے ۔
ظلمت سے نور کی جانب لاتے۔

عام لوگوں کی تعلیم و تربیت کا نظام
ابلیس کی شکست ہے۔
ہر دور میں

یہاں تک کہ آخری پیغمبر ﷺ آئے۔ پہلا پیغام بھی علم آدم الاسماء تھا
اور آخری پیغام کا ابتدائیہ بھی اقراء تھا

عرب کے جہلاء نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔

گالیاں، سنگ زنی، الزامات، بہتان، پراپیگنڈہ
یہ سب جہل کے نظام کی باقیات ہیں۔
آج بھی علم و فضل والوں کے خلاف
آج کے دور کے جہلاء
نوجوانوں کو استعمال کرتے ہیں
انہیں طائف کے نوجوانوں کی طرح
گالیوں پر لگا دیتے ہیں

علم و فضل والوں پر اللہ کا فضل رہتا ہے۔
ہر دور میں ابلیس کو وقتی فتح حاصل ہوتی رہی ہے
لیکن جہاں جہاں
حق آتا تھا
باطل کو آخر کار وہاں سے بھاگنا ہی پڑا

یہ جنگ جاری ہے
کیونکہ ابلیس ابھی زندہ ہے
اور اُس نے اپنے الفاظ ابھی واپس نہیں لیئے

چیلنج کی زد میں بیٹھے ہوئے بنی نوع انسان
جس قدر زیادہ تعلیم و تربیت کے منہاج سے وابستہ ہوں گے
وہ ابلیس اور ابلیسی نظام کے لئے اُسی قدر بڑا خطرہ بنتے جائیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ علماءے حق کو قتل کر دیا جاتا رہا ہے
اور علمائے سوء پر ہمیشہ نوازشیں ہوتی رہی ہیں۔

یہ جنگ جاری رہے گی
جب تک قیامت نہیں آ جاتی

ہمیں اس جنگ میں بہرحال
علم وفضل والوں کے بیڑے میں سوار ہونا ہے۔

ہمیں فقط اُن کا انتخاب کرنا ہے
جن کا انتخاب شعور ہے۔ بصیرت ہے۔ عاجزی اور مسکینی ہے۔

اللہ اکبر –