قرآنی کہانی میں
ابلیس کے آدم کو سجدہ نہ کرنے کی منظر کشی عظیم ہے۔
آپ اگر سارے مکالمے ایک ہی نشست میں پڑھیں تو آپ پر
عظیم حقائق منکشف ہوں گے۔

کوئی الہامی دین کبھی مشکل نہیں تھا۔
دین کا تو کام ہی یہ ہے کہ وہ ابلیس کی پھیلائی ہوئی مشکلات کے جال سے
انسانی آبادیوں کو بچائے
انہیں آسانیاں دے

یہ ساری الجھنیں
یہ سب مشکلات
یہ دکھ، درد، غم
یہ انسانوں کے اپنے انتخابات کی بدولت
اس زمین پر اترے ہیں۔

فساد فی الارض کا الزام سچ ثابت نہ ہو تو ابلیس جھوٹا کہلائے گا
اور ابلیس چیلنج کر چکا کہ وہ جیتے گا۔
اور اتنا بڑا چیلنج کہ قسم بھی اللہ کی کھائی۔

دراصل ابلیس کو اللہ سے کوئی دشمنی نہیں
اُس کی دشمنی آدم سے ہے، اولاد آدم سے ہے۔
وہ اللہ کے مقابلے میں کسی اور معبود کی پوجا بھاٹ نہیں کرتا
وہ توحید کا قائل ہے۔
اُس کی اصل دشمنی آدم سے ہے
کیونکہ وہ سمجھتا ہے
کہ آدم، اشرف المخلوقات کہلائے جانے کا حقدار نہیں۔
اور وہ آج تک اسی الزام کو سچ ثابت کرنے کے لئے
سرگرم عمل ہے۔

آپ سادہ لفظوں میں یوں سمجھ لیں کہ ابلیس کو
توحید سے انکار نہیں
لیکن وہ رسالت کا منکر ہے۔
وہ اللہ کو مانتا ہے
لیکن اللہ کی وہ بات نہیں مانتا
جو آدم سے متعلق ہو۔

یا یوں سمجھ لیں کہ حقوق اللہ کے معاملے میں
ابلیس ہمیشہ سے رضامند تھا، ہے اور رہے گا
لیکن جہاں حقوق العباد کی بات آئے گی
وہ فساد پھیلائے گا
انتشار پیدا کرے گا
تفریق پیدا کرے گا
انسانی آبادیوں کو جنگوں پر اُکسائے گا
ایسے ایسے نظریات کو فروغ دلائے گا
جس سے ہمسایہ اپنے ہمسائے کے حقوق سے دستبردار ہو جائے
جس سے حکمران اپنی رعایا کے حقوق سے غافل ہو جائے
جس سے والدین، بچوں کے حقوق سے اور بچے، والدین کے حقوق سے کنارہ کش ہو جائیں

ابلیس دراصل حقوق اللہ کی خلاف ورزی پر زیادہ نہیں اُکساتا۔
وہ اللہ سے ڈرتا ہے۔
وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے۔
قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ ابلیس اپنے آپ کو انسان کی شرپسندیوں سے بری کرنے کے چکر میں ہو گا۔

زمین پر فساد
زمین والوں کی حق شکنی سے ہی پھیلتا ہے
اور ابلیس اس راز کو جان چکا۔

اُس کا تجربہ دیکھیں۔

کتنی امتوں کو وہ گمراہ کر چکا۔
لڑوا چکا
انسانی آبادیوں کو
جہنم کا ایندھن بنا چکا۔

میں اور آپ کس طرح
اتنے تجربہ کار ابلیس کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟

اس راز کو سمجھنا ضروری ہے۔

جب اولاد اپنے ماں باپ کی فرماں بردار ہونے لگتی ہے
تو ابلیس ہارنے لگتا ہے
جب شاگرد اپنے استاد کے ادب و احترام کا راز پانے لگتے ہیں تو
ابلیس ہارنے لگتا ہے
جہاں جہاں انسانی حقوق کا خیال رکھنے والا
کوئی انسان پیدا ہوتا ہے
وہاں وہاں ابلیس ہارنے لگتا ہے

ابلیس کا مسجد، مندر، گوردوارہ یا کسی بھی عبادت خانے میں آنا جانا منع نہیں۔
ابلیس تو ہر اُس جگہ جا سکتا ہے
جہاں انسانی سوچ جا سکتی ہے۔
ابلیس ساتھ ساتھ رہے گا
وسوسہ بن کر۔
ابلیس کے وساوس کے خلاف
دفاعی نظام کیا ہے؟
غوروفکر ۔ اولی الباب کی نسبت ۔ بصیرت۔ کائنات میں پھیلی نشانیوں پر غور۔ اور کامل عبادت
وہ عبادت جو تکبر میں مبتلا نہ کرے، وہ ابلیس کی شکست ہے۔
اور ہر وہ عبادت جو انسان کو متکبر کر دے
وہ ابلیس کی جیت ہے۔

قرآنی کہانی ابھی جاری ہے۔

اللہ اکبر –