مالک کائنات نے ملائکہ کو حکم دیا کہ
آدم کے آگے جھک جائو۔
سجدہ ریز ہو جائو۔
سب جھک گئے ماسوائے ابلیس کے۔

یہ قرآنی کہانی ہے ۔
قرآن کتاب نور ہے۔ کہانی بھی نور ہے۔
صاحب کتاب بھی نور ، معلم بھی نور، متعلم بھی نور
جھٹلانے والے بے نور
ہر دور میں
ہمیشہ سے

اس قرآنی کہانی کو سمجھنا ضروری ہے ۔
یہ پلک جھپکنے میں نہیں ہو گیا سب کچھ۔

فرشتوں نے بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
کہا تھا کہ یہ نئی پراڈکٹ، یہ نئی مخلوق جسے انسان کہا جا رہا ہے
فساد فی الارض کرے گی۔
خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔
سوالات اُٹھائے گئے تھے۔
خدشات اور سوالات پر کسی زمانے میں کوئی ممانعت نہیں تھی۔
الوہی نظام میں بالکل بھی نہیں۔

بس فرق یہ تھا کہ جب اللہ کریم نے یہ کہہ دیا کہ
آدم کو اسماء کا علم دیا گیا ہے۔
تو فرشتوں کے تمام خدشات، سوالات کی تسلی ہو گئی
اور وہ بے ساختہ پکار اُتھے
کہ اللہ پاک ہے اور ہم بس اتنا ہی جانتے ہیں، جتنا ہمیں علم ہے۔

فرشتہ صفت ہونا اسی کو کہتے ہیں

دوسری جانب ابلیسی خدشات تھے۔
ابلیس کو بھی وہی دلائل دیئے گئے۔
علم آدم الاسماء

لیکن ابلیس متکبر ہو گیا
سرکش ہو گیا
ابلیسی خدشات دراصل متعصب ہوا کرتے ہیں
انسانی تاریخ میں سب سے پہلی حکم عدولی ابلیس نے کی۔
سب سے پہلا تکبر ابلیس نے کیا۔
سب سے پہلے آدم کی تکریم سے انکار ابلیس نے کیا۔
اور سب سے پہلے راندہ درگاہ بھی ابلیس ہی قرار پایا۔

اللہ کریم جیسی بے مثل و اعلیٰ ذات کے حکم کو نہ مان کر
ابلیس نے دراصل الوہی نظام سے بغاوت کی تھی۔
اللہ کریم چاہتے تو کہانی وہیں ختم ہو جاتی۔
لیکن ایسا نہیں ہوا۔

کبھی سوچا ہے کہ ابلیس کو مہلت کیوں ملی؟

ایک خالق کا اپنی مخلوق پر اعتماد دیکھیئے۔
ابلیس جو مخلوق تھا۔
خالق نے اُس کا چیلنج قبول کر لیا۔
اُسے مہلت دی
کیونکہ اللہ کریم نے آدم کی سرشت میں
اسماء سمو دیئے تھے۔

اسماء کا علم گہرائی والا ہے۔
بزرگی والا ہے

ابلیس کو آدم کا علم و فکر والا روپ
اُس وقت پسند تھا نہ آج پسند ہے

انسانی تاریخ کا سب سے پہلا بدتمیز اور بدتہذیب
ابلیس کیوں قرار پایا؟

اُس نے شرک نہیں کیا۔
اُس نے اللہ کی وحدانیت سے انکار نہیں کیا۔
اُس نے منافقت بھی نہیں کی۔
وہ فاسق بھی نہیں تھا۔
متقی تھا۔ زاہد تھا۔ پرہیزگار تھا۔

پھر اُس نے یہ بدتمیزی کیوں کی؟

یہ سوچ کا مقام ہے۔
اپنے اذاہان و قلوب کو ایسی باتوں کی کھوج میں لگایا کریں۔
تحریک ہو گی تو برکت ہو گی۔

ابلیس نے جانتے ہو کیا کہا تھا؟
فبعزتك لأغوينهم أجمعين

پس تیری عزت کی قسم میں انہیں گمراہ کروں گا (جمع کا صیغہ ہے)

یہ ہے وہ چیلنج جو اللہ کریم نے قبول کر لیا۔
ابلیس کی کیا اوقات تھی کہ وہ چیلنج کرتا؟
لیکن علم آدم الاسماء کا سافٹ ویئر آدم کو سونپنے والی ذات
کا علم ہر قسم کے علم سے ماورا ہے۔
بلند تر ہے۔

ابلیس کی اللہ سے جنگ نہیں۔
وہ تو اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لئے بھی
اللہ کی قسم کھا چکا۔

ابلیس کی اولاد آدم سے جنگ ہے
وہ ثابت کرنا چاہتا ہے
کہ انسان اس قابل نہیں کہ اُسے نیابت فی الارض دی جا سکے
کیونکہ وہ فسادی ہے
کیونکہ وہ مٹی کا پتلا ہے
اور مٹی حقیر ہے

سمجھ آ رہی ہے نا ابلیس کی ساری گیم کی؟

ابلیس مسلمانوں کو خرافات میں مبتلا کرے گا
فرقے بنوائے گا
تنگ نظری اور انتہاپسندی کی جانب لے جائے گا
ہر وہ کام کرے گا
جس سے ایک انسان دوسرے انسان کا گلا کاٹے

اور ہر وہ انسان جو بدتمیز ہو گا
بدتہذیب ہو گا
وہ ایسی جماعتوں میں جائے گا
جہاں بدتمیزی اور بدتہذیبی عروج پر ہے

یا ہر وہ انسان جو ابلیس کے وسوسے میں آئے گا
وہ تکبر کرے گا
فساد کرے گا
اپنی تمام تر عبادات کے باوجود
اللہ کی قسمیں اُٹھانے کے باوجود

وہ آدم کی تکریم سے انکار کرے گا
علم و فضل والوں کی مخالفت کرے گا

علمائے حق کو سزائیں دینے والا نظام
ابلیس کا بنوایا ہوا ہے۔
غریبوں کو سزا دینے والا
اور طاقتوروں کو باعزت کرنے والا نظام
ابلیس کا بنوایا ہوا ہے۔

بدتمیزی، بدتہذیبی کو پھیلاتا نظام
ابلیس کے اُس پلان کا حصہ ہے
جب اُس نے کہا تھا
فبعزتك لأغوينهم أجمعين

کاش! آپ سمجھ جائیں ۔۔۔ اور کم از کم آج رات غور کریں
کہ قرآنی کہانی کیوں نور ہے ۔۔۔
اور ہم ظلمتوں کا شکار کیوں کر ہیں؟

اللہ اکبر –