دل والوں کی دنیا دل ہے
دل کی دنیا دل والوں کی
مستی کون سمجھ سکتا ہے
ذکر وفکر کے متوالوں کی
دل اک چڑیا چھوٹی سی جو
چوں چوں کرتی جاتی ہے
جسم کے خاکی زنداں میں
بے چین سی اڑتی جاتی ہے

اس دل میں ذکر کے ساگر ہیں
اس دل میں فکر کے جنگل بھی
اس دل میں خیر کی دنیا بھی
اس دل میں شر کے دنگل بھی

یہ دل اک رستہ منزل کا
سب راہی خوب مچلتے ہیں
اور ذکر کا زادراہ لے کر
مستانی چالیں چلتے ہیں
یہ دل بس روح کامحرم راز
اس دل کی ہے قدسی پرواز
اس دل کے پر کب جلتے ہیں
معراج کا ہے یہ بھی دمساز
اس دل کی مستی اللہ ھو
اس دل کی ہستی اللہ ھو
اس دل کا رستہ مصطفوی
توحید کی بستی اللہ ھو
یہ دل اک کاغذ کورا سا
اس دل پر جو۔بھی لکھتے ہیں
وہ سامنے آتا جاتا ہے
بہتر ہے محبت لکھی ہو
بہتر ہے وفائیں لکھی ہوں
ہرحرف ہو مدنی مستی۔کا
طیبہ۔کی ہوائیں لکھی ہوں
یہ دل ہے کن کے نقشے پر
جب حکم ہو اس کو ہونے کا
ہو جاتا ہے۔کھو جاتا ہے
مستی کے۔ترانے گاتا ہے
یہ مست نگر ہےمستی کا
توحید کی روشن بستی کا
اس نگر کا رستہ۔مصطفوی
اس بحر کا۔بستہ۔مصطفوی