قرآنی کہانی دراصل تمام انسانی تاریخ کا خلاصہ ہے۔
حقیقی جوہر ہے۔
یہ فقط ابلیس کے سجدہ نہ کرنے کی کہانی نہیں
اس کہانی نے منہاج دے دیئے ہیں۔
انسانی آبادیوں کی تمام تر معلوم و نامعلوم کہانیاں
آخرکار اسی ایک قرآنی کہانی سے جا ملتی ہیں۔

ابلیس کا آدم کو سجدہ نہ کرنا
ایک واقعہ نہیں۔ ایک نظریاتی دبستان ہے۔
قرآن میں بیان کردہ قصائص اور کہانیاں
عام قصوں یا کہانیوں سے بہت مختلف ہیں
ہر لحاظ سے مختلف ، بلند تر، وسیع تر

اس میں نشانیاں ہیں اولی الباب کے لئے۔

تفکر کرنے والوں کو عظیم مرتبے کیوں عطا ہوتے ہیں؟
غور و فکر کرنے والے انسانی آبادیوں کو
نت نئی سہولیات کیوں فراہم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں؟
اہل علم اور اہل بصیرت کے لئے قرآن کس قدر
خوبصورت تماثیل بیان کرتا ہے
اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ
الوہی نظام میں
جہالت کی کوئی گنجائش نہیں۔

اب جہالت کا تعین بھی کر دیا قرآن نے۔
اسی قرآنی کہانی میں ۔
ابلیس مرتبے والا تھا۔
بلند مرتبت تھا۔
اہل علم بھی تھا۔
لیکن ایسا کیا ہوا کہ اُس نے
حکم عدولی کر دی؟

صرف تکبر کی وجہ سے ۔
جب کبھی تکبر آتا ہے
تو علم و فضل رخصت ہو جاتا ہے
یہ جو پیغام میرے اور آپ کے کریم آقا سرکار نبی پاک ﷺ نے دیا تھا
کہ کسی گورے کو کالے پر
کسی کالے کو گورے پر
کسی عربی کو عجمی پر
اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں
کوئی فوقیت نہیں۔
ماسوائے تقویٰ کے ۔

اور تقویٰ مسکینی کی علامت ہے ۔
نافرمانی، بدتمیزی، بدتہذیبی، حکم عدولی
یہ سب تکبر کی نشانیاں ہیں۔

اولاد متکبر ہو جائے تو ماں باپ کی نافرمان ہو کر راندہ درگاہ ہو جاتی ہے۔
شاگرد متکبر ہو جائیں تو دنیا میں ذلیل و رسوا ہو جاتے ہیں
اتباع کا دم بھرنے والے جب اپنی مرضی سے بعض حکم مانتے ہیں
اور بعض سے انکار کرتے ہیں
اور پھر اُس پر ڈٹ بھی جاتے ہیں
تو دراصل وہ ابلیس کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں۔

ابلیس کو جاہل عابد و زاہد سے کوئی خطرہ نہیں۔
ابلیس کو غور وفکر کرنے والے عابد و زاہد سے سخت عداوت ہے
ابلیس کی اصل دشمنی علمائے حق کے ساتھ ہے۔
علمائے سوء تو ابلیس کے حواری ہیں۔

ابلیس کو بدمعاشوں، منافقوں، فاسقوں، حرام مال کھانے والوں سے پیار ہے
ابلیس ،شریف النفس لوگوں، حلال روزی کمانے والوں، سچ بولنے والوں
غور و فکر کرنے والوں اور تعمیری کام کرنے والوں سے سخت بیزار ہے

آپ یوں سمجھ لیں کہ
ابلیس سرتاپا تخریبی قوتوں کا حامل ہے
فساد فی الارض کا سب سے مہلک ہتھیار
تخریب کاری ہے۔
اسی لئے ابلیس
اپنے حواریوں کے ذریعے
فساد فی الارض کی راہ ہموار کرتا ہے۔
حالانکہ اُس کے پاس وسوسے سے زیادہ قدرت ہی نہیں
پھر بھی دیکھو کیسے فساد پھیلا رہا ہے۔

وسوسے کو سمجھنا ضروری ہے۔ تا کہ اس قرآنی کہانی کی بھرپور سمجھ آ سکے۔

آپ یوں سمجھ لیں کہ انسانی نفس دودھ کا جگ ہے
اور وسوسہ دہی کی جاگ۔

ابلیس ‘جاگ’ ٹپکاتا ہے
اور دودھ کی ہیئت و ماہیئت بدل جاتی ہے۔

یا یوں سمجھ لیں کہ انسانی نفس
بارود کا ڈھیر ہے
اور وسوسہ اس بارودی ڈھیر کے لئے
ایک چنگاری

ابلیس اپنے حواریوں کے ذریعے
کہیں جاگ لگاتا ہے تو کہیں چنگاریاں پھینکتا ہے
باقی کا سارا کام انسانی نفس کر دیتا ہے

یہی وجہ ہے کہ قیامت کے روز قرآنی مکالمہ ہو گا
ابلیس اپنے ہی حواریوں سے کہے گا کہ
بے شک میں تم پر قادر نہ تھا۔ تم دراصل خود ہی میرے جال میں پھنسنا چاہتے تھے۔ اب مجھے الزام نہ دو۔ میں تو اللہ پر ایمان رکھتا ہوں۔ (قرآنی مکالمے پڑھے ہیں نا قرآن میں؟

قرآنی کہانی بہت جامع ہے
اور ابھی جاری ہے۔

اللہ اکبر –