محض ڈگریوں سے افراد کا مقدر نہیں بدلتا۔ شیلفوں میں کتابیں رکھی ہوں کہ دماغ اُنہیں رٹ لے، اس سے معاشرے میں انقلاب نہیں آتا۔ اگر ایسا ہوتا تو لائبریریاں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہوتیں۔ Google سرچ انجن کے پاس جس قدر معلومات ہیں، اس قدر کسی عالم کے پاس نہیں۔ اس کے باوجود گوگل بطور ایک سرچ انجن کے عالم نہیں کہلاتا۔ وہ ایک سہولت ہے ۔
تعلیم ، ڈگریاں، کتابیں ۔۔۔ یہ ایک سہولت تھی کہ افراد اور قوموں کو ایک خاص قالب میں ڈھالا جا سکے۔ اب کسی سانچے میں ڈھالنے کے لئے تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تربیت کے بغیر تعلیم کی مثال ایسے ہے جیسے دودھ دوہے بغیر ہم گائے سے دودھ کی تمنا کریں۔ یاد رکھیں! تربیت کا پلڑا ہر دور میں بھاری رہا ہے۔
اُستاد محترم جناب عون ساجد نقوی کے الفاظ میں ہم نے بیج پھینک دیئے۔ اُگائے ہی نہیں۔ ہماری ترتیب تعلیم و تربیت کے بجائے اگر تربیت و تعلیم ہو جاتی تو حالات مختلف ہوتے۔ اک ذرا ترتیب کو ہی تو بدلنا ہے۔ ہم دراصل بے ترتیب ڈگریوں کی بے ترتیب چالاکیوں کے آہنی پنجوں میں گرفتار معاشرہ ہیں۔ اسی لئے بے ترتیب ہیں۔
ایک وقت تھا جب ڈگریوں اور سرٹیفیکیٹس نے واقعی اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن ہمارا قصور یہی ہے کہ ہم جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہنگامی تبدیلیاں نہیں کر سکے۔ اور کرتا بھی کون؟ جن کرداروں کی جڑیں ، کونپلیں، پھل اور پھول بیرون ملک ہیں وہ اندرونِ ملک کیا بہار لاتے؟
ہر سال ہزاروں لاکھوں طلبا و طالبات فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ جامعات سے باہر آ کر اُنہیں سماج میں پھیلیں تلخ حقیقتوں کا ادراک ہوتا ہے۔ اگر تو والدین نے پہلے ہی محنت کر کے اُن کے لئے کوئی کاروبار کھڑا کر رکھا ہو تو اولاد کو بنا بنایا ’’قیام‘‘ مل جاتا ہے۔ اب وہ رکوع کریں یا سجود، سب چلے گا۔
لیکن جہاں زندگی پہلے ہی محرومیوں کا شکار ہو، وہاں خواب بہترین راہِ فرار ہوتے ہیں ۔ خواب برے نہیں ہوتے لیکن اگر خواب محض داخلی سطح پر محدود رہیں تو گل سڑ جاتے ہیں۔ اُس بیج کی طرح جس سے کونپل نہ پھوٹی۔ بیج سے کونپل تک، خواب سے تعبیر تک، ایک خاص ماحول کو کھڑا کرنا پڑتا ہے۔ یہ عمل کا قیام ہے۔ جب ، جیسا، جس مزاج کا عمل۔بس ویسا عمل۔ رکوع، رکوع ہے اور رکوع کے وقت قیام نہیں کیا جا سکتا اور بوقتِ قیام سجدہ بے معنی۔ بقول اقبالؔ
یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر
یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا
جب، جو وقت ہو، تب ویسی حکمت عملی افراد اور قوموں کے خوابوں کو زندہ رکھتی ہے! جب فراغت زیادہ تھی تب داستانوں کا زمانہ تھا۔ کہانی اب بھی ہے لیکن اب چند لفظی کہانیاں ہی سنی اور سنائی جاتی ہیں۔ ایس ایم ایس کا زمانہ ہے۔
ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اور جو آنے والے زمانے ہیں اس میں چار چار پانچ پانچ سالہ ڈگریاں ماسوائے بے روزگاروں کی تعداد میں اضافے کے اور کچھ کرتی دکھائی نہیں دیتیں۔ ووکیشنل ٹریننگ اور وہ بھی مختصر مدت کی تربیت۔ ہم ایسا نہیں کرتے تو ہر سال بے روزگاروں کی تعداد میں ہوش ربا اضافہ ہوتا جائے گا۔ کچھ کے ہاتھ کنارہ لگ جائے گا لیکن اکثریت ڈپریشن کا شکار ہو جائے گی۔ اور یہی ہو رہا ہے۔
اب ظاہر ہے ایسا ایک دم نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن مرحلہ وار ایسا ممکن ہے۔ قومیں ایسا کر چکی ہیں اور کر رہی ہیں۔ ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں اگر کرنا چاہیں۔
کیا فائدہ ایسے ایم اے انگریزی کا کہ طلبا و طالبات چار بنیادی اسکلز میں ہی آگے نہ بڑھ سکیں؟ وجہ کیا تھی؟ کہ ہم نے نہ تو ادب کو ادب کے طور پر پڑھایا ہے اور نہ لسانیات کو سائنسی بنیادوں پر۔ ہم نے بس ڈگریاں تقسیم کرنے والی فیکٹریاں بنا رکھی ہیں۔
ہر سال اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات دیئے جاتے ہیں۔ آپ کسی جامعہ میں جا کر انٹرویو کر دیکھیں۔’’ کیا آپ کو معلوم ہے جس قدر طلبا و طالبات کو آپ داخلہ دے رہے ہیں، کسی خاص شعبۂ علم میں، اُس میں باہر کس قدر نوکریوں یا کاروبار کی گنجائش ہے؟ ‘‘ تو جواب کیا ملے گا؟ وہ تو تقدیر ہے جی۔ ہم نے نوکریاں نہیں دینیں۔ ہمارا کام ہے پڑھانا۔ اب آگے آُ کی کوشش اور اللہ کی مرضی۔ یا آپ نہ لیں داخلہ۔ جائیں کام کریں اپنا۔ آگئے وڈے دانشور۔
وزارت تعلیم والوں سے جا کر پوچھ لیں۔ وہ ناراض ہو جائیں گے ۔ اب یہ نہیں کہ وہ جانتے نہیں۔ المیہ یہی ہے کہ وہ جانتے ہی تو ہیں۔ جان بوجھ کر اس رائج نظام کو برقرار رکھا گیا ہے۔
بہترین حکمت عملی ’’اعتدال‘‘ میں ہے! ہمیں تعلیم و تربیت میں ایک معتدل ربط قائم کرنا ہو گا۔ اور کوئی آپشن نہیں ہے۔ افراد ہوں کہ قومیں، اُنہیں تعلیم کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور تربیت کی بھی۔ بلکہ قرآن کے الفاظ میں و یعلمھم الکتاب والحکمۃ۔ کتاب و حکمت۔ اب حکمت کہاں سے آتی؟ ہمارے ہاں تو حکیم انہیں کہا جانے لگا جو پھکی دیتے ہیں۔ کشتے بنا کر دیتے ہیں۔ ہاضمے کی پُڑیاں دیتے ہیں۔ آپ سمجھ رہے ہو نا؟
ماس کمیونیکیشن کے شعبے کی مثال لے لیں۔ ملک بھر میں کس قدر جامعات یہ کورس آفر کر رہی ہیں۔ تعداد گن دیکھیں۔ اور جو گزشتہ برسوں میں یہ کورس مکمل کر چکے ہیں، اُن میں سے کتنے فیصد ماس کمیونیکیشن سے عملی طور پر وابستہ ہیں؟ شاید ایک فیصد۔ باقی ننانوے فیصد؟ کوئی یہاں گرا، کوئی وہاں گرا۔
اسی طرح ایل ایل بی ہے۔ بی بی اے ہے۔ ایم بی اے ہے۔ سب کا یہی حال ہے۔ مہنگے ترین کورسز اور پھر اُس شرح سے باہر روزگار نہیں۔ ادبیات و لسانیات والے بھی زیادہ تر اساتذہ کرام بن جاتے ہیں۔ لیکن کتنے فیصد؟
کسی بھی ایسی ڈگری کو لے لیں جس میں تربیت کا فقدان ہے، وہاں ڈگری محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے ۔ ایک طرف او لیول اور اے لیول کا ٹکڑا ہو اور دوسری طرف میٹرک اور ایف اے ایف ایس سی والا ٹکڑا۔ تو کون سا ٹکڑا وزنی ہو گا؟یا مستند ہو گا؟ سماجی حقیقیتیں ہیں۔ ہیں تلخ مگر حقائق ہی حقائق۔ ظاہر ہے کسی میجر جنرل کی اولاد کا مقدر کسی عام سپاہی کی اولاد والا تو ہو گا نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ملک پر حکمرانی کرنے والوں کی نسلیں ہمارے ساتھ ہمارے سکولوں میں پڑھ رہی ہوتیں۔
اب عین ممکن ہے کہ جسے پیدائشی طور پر بنا بنایا ماحول ملا ہو، وہ اپنی غلطیوں سے اس ماحول کو ہی تباہ کر دے۔ کوئی فائدہ نہ اُٹھا سکے۔ ہم ایسے واقعات دیکھ چکے ہیں کہ کسی غالب طبقے کی اولاد اپنی حرکتوں کی وجہ سے مغلوب ہو گئی۔ بس اتنا یاد رکھیں! ترقی و خوشحالی کا سفر نسل در نسل آگے بڑھنا ہے۔ اگر آپ کی پرانی نسل آپ کو وہ سب نہیں دے سکی تو آپ وہ نسل بن جائیں۔ محض گلے شکوے بے سود ہوتے ہیں۔ آپ وہ بن جائیں اور آنے والی نسلوں کا مقدر سنوار دیں۔
اب چونکہ رسمی تعلیم کی رائج رسمیں بے بہرہ اور بے بصیرت افرادی قوت میں اضافے کے سوا کچھ نہیں کر رہیں اس لئے ہمیں ہنر کی جانب آنا ہو گا۔ ہم ڈگریوں کو ایک دم نہیں چھوڑ سکتے۔ ظاہر ہے سماج میں پھیلایا گیا نیٹ ورک بہرحال کسی نہ کسی حد تک ڈگریوں کی چابی سے ہی آپریٹ ہوتا ہے۔ ہائے ستم ظریفی!
ہر تعلیمی ادارے کو ووکیشنل ٹریننگ کے لئے استعمال کرنا ہو گا۔ اور حکومتِ وقت کو چیک رکھنا ہو گا کہ باہر سماج میں کسی خاص شعبے میں کس قدر گنجائش ہے روزگار کی! اُسی حساب سے داخلے ہوں۔ جہاں جیسی افرادی قوت درکار ہے، آنے والے وقتوں میں، اُسی حساب سے کورسز ترتیب دیئے جائیں۔ تعلیم کے نام پر بھاری بھرکم فیسیں ماسوائے کاروباری مفادات کے حصول کے اور کچھ نہیں۔
ہر سماج کو ماہرین لسانیات و ادبیات بھی درکار ہوتے ہیں اور حساب دان بھی۔ کیمیا دان بھی اور ماہرینِ طبیعات بھی۔ لیکن کسی ایک سال کسی ایک صاحب کی آلو کی فصل اچھی ہو جائے اور اگلے سال سب ہی آلو کاشت کرنے لگ جائیں تو نتیجہ کیا ہو گا؟ ہر طرف آلو ہی آلو ہوں گے۔ بلکہ آلو کا الف مد اُتار کر پڑھ لیں، وہ صورت حال سامنے آئے گی۔ اور پھر سماجی حبس میں اضافہ ہو گا۔ بے روزگاری ڈپریشن کا مہلک ترین سبب ہے! اللہ کریم سب کو بچائے۔ آمین۔
کمپیوٹر کے شعبے میں کیا ہو رہا ہے؟ جو زبانیں دنیا بھر میں متروک ہو چکی ہیں یا جو نوے کی دہائی میں اہم ترین تھیں اور اب بے کار ہو چکی ہیں، وہ اب بھی طلبا و طالبات کو پڑھائی جاتی ہیں۔ وہ اس طرح کا نصاب پڑھ کر باہر آتے ہیں تو باہر اور ہی اسکلز دکھائی دیتی ہیں۔ اب ظاہر ہے وہ پریشان ہوں گے ہی۔
اور اس خلاء پر کوئی بات کرے تو اُسے ٹھک سے تعلیم دشمن کہہ دیا جائے گا۔ اس میدان میں بھی بڑے بڑے مفتی ہیں۔ ملا ہیں۔ جہاں جس کے کاروباری مفادات پر ضرب لگے گی وہاں فتویٰ ہو گا۔
ووکیشنل ٹریننگ کے بغیر ہم بے روزگار نوجوانوں کے ڈپریشن کو کم نہیں کر سکتے۔
پچاس لاکھ کیا پانچ کروڑ نوکریاں دی جا سکتی تھیں اگر ہنر کو مقدم سمجھ لیا جاتا۔ ہنر وہ سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر بہت سے نوجوان ڈگری یافتگان سے زیادہ بہتر زندگیاں بسر کر رہے ہیں۔
یاد رکھیں! یہاں سب باتیں اس رسمی تعلیم کی ہو رہی ہیں جو نظام ہمارے ہاں رائج ہے۔ علم الگ دنیا ہے۔ ہمارے ہاں جسے غیر نصابی کہہ دیا جاتا ہے۔ چین یونہی ترقی نہیں کرتا جا رہا ۔ دنیا میں سب سے آبادی والا ملک۔ لیکن اُن کا بچہ بچہ ہنر مند ہے۔ وہ کام کی عظمت کو کا راز جانتے ہیں۔ ہم نواب ابنِ نواب ابن نواب اور ابنِ نواب بنا دیئے جاتے ہیں۔ اب ایسے عالم میں ڈگریاں ماسوائے ماں باپ کا معاشی بھرکس کے اور کچھ نہیں۔
طبیعی عمر کم ہو چکی ہے۔ میڈیکل سائنس بتا رہی ہے۔ لیکن ڈگریوں کی طبیعی عمر پہلے سے زیادہ کی جا رہی ہے۔ الحفیظ الامان۔ کہاں سے آئے ہیں یہ نام نہاد تھنک ٹینک؟ کون بناتا ہے یہ پالیسیاں؟ کون کھیل رہا ہے ہمارے ساتھ؟ کیا ہم غلاموں کی منڈی ہیں؟ کیا ہمیں جان بوجھ کر محتاج رکھا جاتا ہے؟ سوچنا تو ہو گا ہی۔
یہ طبیعات کی دنیا ہے۔ یہاں زمینی طبع کے مطابق تربیت و تعلیم کے انتظامات ہی بہترین اور منظم افرادی قوت کو قیام دے سکتے ہیں۔ زمین پر رجحان دیکھے جاتے ہیں۔ جس کا جیسا رجحان ہو، اُس کو ویسی ہی تربیت فراہم کر دی جائے تو وہ Productive ہو جائے گا۔
اللہ اکبر۔