اسلام کو تیروں، تلواروں اور گھوڑوں کے دور تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔
اسلام جس دور میں داخل ہو گا اُسی دور کی ٹیکنالوجی کو اپنائے گا۔
ہر الہامی دین
اور ہر سماج
اسی طرح ارتقائی مدارج طے کرتا ہے۔
اپنے گھوڑے اور تلواریں تیار رکھنے کا حکم جب اکیسویں صدی میں داخل ہوتا ہے تو اُس حکم کی تعمیل کا انداز بدل جاتا ہے۔ حکم اپنی جگہ بدستور قائم رہتا ہے۔ یعنی جس دور میں جو ٹیکنالوجی ہو گی، جو اسباب ہوں گے، انہیں تصرف میں لانا ہو گا۔ اور دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہو گا۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں
عروج صرف اُسے حاصل ہو گا
جو اپنے دور کی ٹیکنالوجی کو اپنے تصرف میں لائے گا۔
انٹرنیٹ کی دنیا میں تقویٰ بدل نہیں جاتا۔
سوشل میڈیا پرنبی اکرم ﷺ کی تعلیمات منسوخ نہیں ہو جاتیں۔
فیس بک اور ٹوئٹر پر لکھا اور پڑھا جانے والا ایک ایک لفظ
نامہ اعمال سے خارج نہیں ہو جاتا۔
جو افراد اور قومیں
جس دور میں، جس عہد میں
داخل ہوتی ہیں
اُن سے اُسی دور
اور اُسی عہد کی بابت سوال ہو گا۔
مجھ سے منجنیقوں کے استعمال کے سوال نہیں ہوں گے۔
ہاں، مجھ سے فیسک بک اور واٹس ایپ کے استعمال کی بابت ضرور استفسار ہوگا۔
دنیا میں وہی اقوام ترقی کر رہی ہیں
جو انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ترقی کر رہی ہیں۔
جن تعلیمی اداروں میں آج بھی
پتھر کے زمانے والی سہولیات ہیں
وہاں ترقی کی رفتار بھی پتھر کے زمانے جیسی ہی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ شاید اسلام
کسی عہد یا زمانے کی ٹیکنالوجی سے ہٹ کر کوئی راستہ دے گا۔
ایسا نہیں ہے۔
بقول #اُستادمحترم جناب واصف علی واصف دریا پہاڑوں سے سمٹ کر اور میدانی علاقوں میں پھیل کر گزرتا ہے۔
جیسا دور ہو گا
جیسے تقاضے ہوں گے
اُسی میں خیر کی مشعلیں روشن ہوں گی۔
بدقسمتی سے
ہمارے سرکاری اداروں کی ویب سائٹس
اور ایڈورٹائزنگ کا انداز وہی پرانا۔
دور بدل گیا۔
گائوں کی سطح تک انٹرنیٹ پہنچ رہا ہے۔
ہمیں نظر ثانی کرنا ہو گی۔
ہر ایم این اے اور ایم پی اے کو آج کے دور میں
سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ بننا ہو گا۔
ہر اُستاد کو
انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سہولیات سے فائدہ اُٹھانا ہو گا۔
سنت کسی خاص دور کی پابند نہیں۔
احیائے سنت کی پیروی فیس بک پر کس قدر ہے؟ یہ سوالات ہوں گے۔
جہالت بھری پوسٹیں
یہ گالم گلوچ
یہ نفرتیں
یہ تعصب
یہ جھوٹا پراپیگنڈا
یہ سب ریکارڈ ہو رہا ہے۔
آج بھی
ہوبہو اُسی طرح
جیسے ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔
کاش آپ سمجھ جائیں
میں کیا کہہ رہا ہوں۔
اللہ اکبر –