الوہی حقیقت کا متن ایک ہے ۔ وہ متن حیات کے جس دور میں داخل ہوا، جس سطح کے زمان و مکان پراُس کا ظہور ہوا، ویسا ہی ترجمہ ہو گیا۔ بیکٹیریا سے لے کر ڈائنوسارس تک، قطرے سے لے کر قلزم تک، حقیقت ایک ہی رہی۔ ہمیشہ۔ ہر دور میں۔ بس ہوا یوں کہ جب لامحدود حقیقت کسی محدود پیمانے میں چھلکی تو اُس کا اسلوب تبدیل ہو گیا۔ محدود عقل نے لامحدود حقیقت کو سمجھنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن ہر مرتبہ کہیں نہ کہیں، کچھ نہ کچھ رہ گیا۔ زبان و بیان کی محدودیت آڑے آتی رہی اور حقیقت کے اظہار میں تحریف ہوتی چلی گئی۔
پھول ایک حقیقت ہے ۔ شاعر و ادیب کے لئے اس حقیقت کا اظہار وہ نہیں جو کسی ماہرِ نباتات و جمادات کا ہو گا۔ پھول سے رس چوسنے والی شہد کی مکھی کے لئے پھول اور ہی طرح کی حقیقت ہے ۔ لیکن کیا یہ اختلاف حقیقت کے مختلف ہونے پر دلالت کرتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ حقیقت کا متن ایک ہی رہا ہے۔ ہمیشہ ، ہر دور میں۔ جب، جہاں، جس نے اُسے پایا، جس قدر پایا، اُس نے اُسی قدر اپنی موجودہ علمی و فکری اور کسبی و وہبی سطح سے اُس کا اظہار کر دیا۔
کسی لا دین کی سند لادینیت ہے۔ کوئی دیندار اُس لا دین کو اُس وقت تک کسی دینی سند سے قائل نہیں کر سکتا جب تک لادینیت کا نفسیاتی پیٹرن موجود ہے۔ یہ اظہر من الشمس ہے کہ اگر کتاب و حکمت کا مآخذ الوہیت نہ ہو تو تراجم و تفاسیر کی صحت و سند پر ہزار ہا اعتراض کئے جا سکتے ہیں۔ لادینیت کی حکمت لادینیت ہے ۔
روشنی ایک حقیقت ہے ۔ لیکن اسی روشنی کے ہزارہا ترجمے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہم سب اپنے اپنے ترجموں اور تفسیروں کے ساتھ فکر و شعور کے جہان کو محدود کرتے جاتے ہیں۔ جبر کے دائروں میں مجبور اظہار کو راستہ ملتا ہے اور الوہی حقیقت تحریفات کے حجابات میں چھپ جاتی ہے۔ محدود حجابات طویل عرصے تک الوہی حقیقت کو نہیں چھپا سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور کے بعد ایک ایسا دور آتا ہے جب پرانے توہمات اور تفکرات کو یکسر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ نئے بشری تراجم سر اُٹھانے لگتے ہیں۔
ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ حقیقت کا کوئی مخصوص ترجمہ غالب طبقات کا اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے ۔ پھر وہی ہوتا ہے جو غالب طبقات کیا کرتے ہیں۔ وہ دیگر حقیقتوں کو مغلوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ سب و شتم کے ذریعے ہو، جسمانی و ذہنی تشدد کے ذریعے ہو یا کفر و ظلم کے ذریعے ۔ مغلوب طبقات کی حقیقت کے سبھی تراجم و تفاسیر اُس وقت تک مغلوبیت کی سطح پر رہتے ہیں جب تک الوہی حقیقت خود اپنا آپ آشکار نہ کرنا چاہے۔
قدیم زمانے کی تاریخ بھی انہی نفسیاتی پیٹرنز سے بھری ہوئی ہے۔ ہر بادشاہ نے الوہی حقیقت کے من چاہے ترجمے کو بزورِ طاقت رعایا پر مسلط کیا۔ جس نے اُس ترجمہ شدہ حقیقت سے انکار کیا، وہ باغی کہلایا۔ نمرود بھی اک ایسا ہی بادشاہ تھا۔ فراعینِ مصر بھی ایسے ہی بادشاہ تھے ۔ عرب کے سردار بھی اُسی نفسیاتی پیٹرن کے مطابق الوہی حقیقت کے خلاف اکٹھے ہو گئے تھے۔
آج بھی حقیقت کا متن ایک ہی ہے لیکن اُس کے بشری تراجم اور تفاسیر نے بنی آدم کو فرقوں میں بانٹ رکھا ہے۔ جس کے پاس حقیقت کا جو بھی ورژن موجود ہے، وہ اُسی پر خوش ہے ۔ اور سمجھتا ہے کہ حقیقت کی اصل وہی ہے جو اُس کے پاس پے ۔ جس کے پاس غلبہ ہے، اُس کی حقیقت کو اصلی نہ سمجھنے والوں کے لئے مسائل ہی مسائل ہیں۔ جو مغلوب ہیں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اُن حقیقتوں کے غالب تراجم اور تفاسیر کو ماننے پر مجبور ہیں۔
تناسخ یا آواگون کا نظریہ ایک الوہی حقیقت ہے لیکن اُس کا ترجمہ ہندومت میں کسی اور طرح ہوا۔ یہودیت، نصرانیت اور اسلام میں اُس کا ترجمہ کسی اور طرح ہوا۔ مسلمانوں کے نزدیک اگلا جنم برزخ سے ہوتا ہوا جنت و دوزخ میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس نظریئے پر تحقیق کی جائے تو Reincarnation ایک الوہی حقیقت کے واحد متن کے ساتھ سب پر آشکار ہو جائے۔ خواب میں روشنی دیکھ کر دہریہ کسی اور طریقے سے تعبیر کرے گا۔ عیسائی کسی اور طرح ، ہندو کسی اور طرح اور مسلمان کسی اور طرح۔ روشنی ایک حقیقت ہے لیکن ہندو کو اُس روشنی میں اپنا بھگوان یا رام دکھائی دے گا۔ مسلمان کے لئے وہ روشنی کوئی اور معانی رکھتی ہے۔ کوئی نصرانی اُسی روشنی کو Jesus سمجھ سکتا ہے۔ یہ سب الوہی حقیقت کے تراجم ہیں۔ جو جہاں ہے۔ جس لسانی، جغرافیائی، زمانی، مکانی، فکری اور روحانی سطح پرموجود ہے، حقیقت کا ترجمہ بھی ویسا ہی ہو گا۔
اگر ہم انسانوں کو ایک ہی حقیقت تک پہنچنا ہے تو پھر ہمیں کسی ایک نکتے پر متفق ہونا ہو گا۔ اور یہ اتفاق ہی دراصل ابلیسی طاقتوں کو ہضم نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہر تحریک میں، مذہب میں ، دین میں اور نظریئے میں فرقہ واریت دکھائی دیتی ہے۔ بشری ضد اور تعصب ایندھن ہے ۔ جب نفرتوں کی آگ پھیلتی ہے تو پھر انسانی بستیاں ایک ایک کر کے خاکستر ہوتی جاتی ہیں۔
ابلیسی قوتیں کبھی نہیں چاہتیں کہ بنی آدم الوہی حقیقت کا راز پا لے۔ کسی مخصوص فرقے کو چلانے والے دماغ کب چاہیں گے کہ اُن کے فرقے کا ترجمہ حقیقت ثابت نہ ہو؟ پس، یہ شعبدہ بازی جاری رہتی ہے۔ ہم سب ایک ایک کر کے مر جاتے ہیں۔ پیچھے رہ جانے والے بھی مقررہ مدت تک حقیقت سے نظریں چراتے ہیں اور پھر وہ بھی منظر سے غائب ہو جاتے ہیں۔ جو غائب ہو گئے، اُن کی الوہی حقیقت کا متن بھی ایک ہی ہے ۔ لیکن ہندومت میں اُس کا ترجمہ اور اور باقی ادیان میں اور ۔ اب حقیقت کا وہی ترجمہ ایک سند ہے ۔ یہ سند ہر اُس جگہ مستند ہے جہاں جہاں پہلے ہی اُس ترجمہ شدہ حقیقت کو تسلیم کیا جا چکا۔ اب جو اُس رائج ترجمے کی حدود سے باہر نکلے گا، اُسے تیر و تفنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جسے ہم انتہا پسندی کہتے ہیں وہ دراصل کیا ہے؟ الوہی حقیقت کے کسی مخصوص ترجمے کو سچ سمجھنے والے اُس ترجمے سے انکاری ہر شخص، طبقے اور قوم کے لئے متشدد انداز میں سامنے آتے ہیں۔ اس متشدد ماحول میں جو پیدا ہو گیا، جو ترجمہ اُسے موروثی طور پر مل گیا، بس وہی حقیقت کی اصل ہے۔ باقی سب نقل ۔ جو اسے مانے گا نجات پائے گا۔ جو انکار کرے گا، مار دیا جائے گا۔ ایسے انتہاپسند ہر خطے میں موجود ہیں۔ ہمیشہ رہے ہیں۔ ان انتہاپسندوں کو بھی بادشاہوں نے بارہا استعمال کیا ہے۔ تاریخ میں ایسے بے شمار ہولناک سانحات ہیں جو بادشاہوں نے انتپاپسندوں کی مدد سے بپا کئے۔
مرنے کے بعد ہم کہاں جاتے ہیں؟ الوہی حقیقت کا متن ایک ہے ۔ لیکن ہر مذہب کے پیروکار وہی ترجمہ کرتے ہیں جو اُن کے نزدیک درست ہے۔ Afterlife کے متعدد تراجم اور تفاسیر ہمارے سامنے ہیں۔ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ ہم کہیں جاتے ضرور ہیں۔ لیکن کہاں جاتے ہیں؟ اس کے اُتنے ہی ورژن موجود ہیں جس قدر بشری ترجمے اور تفسیریں موجود ہیں۔ اب جو یہاں سے چلے گئے، اُنہوں نے وہاں سے بذریعہ خواب خبر دی جو دی۔ اب جسے خواب آیا، اُس نے الوہی حقیقت کا وہی ترجمہ کیا، جو اُس کے رائج پیٹرنز کے عین مطابق تھا۔ ہندو کے لئے ہندوانہ اصطلاحات ہیں مسلمان کے لئے مسلم اصطلاحات ۔ اب اس بات پہ کوئی کسی کے ساتھ کیا بحث کرے جب ہر جگہ حقیقت کے ترجمے کو ہی الوہی حقیقت سمجھ لیا جائے؟
تو پھر کیا کیا جائے؟
میں طویل عرصہ اس سوال پر غور کرتا رہا۔ میں اس سے پہلے حقیقتِ کبریٰ میں بتا چکا ہوں کہ الوہی حقیقت تک پہنچنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے آپ کو خالی کرنا پڑے گا۔ لا کرنا پڑے گا۔ ہر تحریر مٹے گی تو الوہی تحریر اُبھرے گی۔ اگر ہم ترجمے اور تفسیریں سامنے رکھ کر الوہی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کریں گے تو ہم حقیقت تک کبھی نہیں پہنچ سکتے۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا تب جا کر مجھ پر ایک معیار منکشف ہوا۔
الوہی حقیقت وہی ہے جو تبدیل نہ ہو۔ کسی زمانے میں، کسی حال میں۔ کوئی اُس میں شریک نہ ہو، کوئی اُسے تبدیل نہ کر سکے۔ اُس میں کوئی نقص نہ ہو، سقم نہ ہو۔ اُس کی کوئی مثال نہ ہو۔ اُس کا کوئی ہمسر نہ ہو۔ اُس کا کوئی اور روپ نہ ہو۔ بس وہ ایک ہو، واحد، یکتا، بے نیاز۔ اُسے کوئی بشری علم رد نہ کر سکے ۔ کوئی اُس حقیقت کو Manipulate نہ کر سکے ۔ کوئی اُس میں زیر، زبر یا پیش کا اضافہ یا کمی نہ کر سکے ۔ یہ وہ لمحات تھے جب میں فطرت پر غور شروع کر دیا تھا۔ فطرت میں الوہی حقیقت ہے ۔ درخت جھوٹ نہیں بولتے۔ پرندوں کو منافقت نہیں آتی۔ مچھلیاں ، ریاکار نہیں ہوتیں۔ پس میں نے غور کرنا شروع کر دیا۔ بیکٹیریا سے بڑے بڑے جانوروں تک، نطفے سے انسان تک، بیج سے پودے تک، قطرے سے قلزم تک۔
میں نے اس سفر کے دوران ایک ہی پیٹرن دیکھا۔ ہر جزو میں۔ ہر کُل میں۔ ہر شے مربوط ہے ۔ سب مخلوقات مل کر ایک ہی کہانی بیان کر رہی ہیں۔ یہ عالمین کا تنوع، ایک ہی سمت اشارہ کر رہا ہے۔ ڈی این اور جینز کی کہانی مزید کھل رہی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب حقیقتِ کبریٰ لمن الملک الیوم کا سوال کرے گی ۔ للہ الواحد القہار جواب ہو گا۔ سب ترجمہ کرنے والوں اور ان تراجم و تفاسیر کے مطابق جھگڑا کرنے والوں کو بتا دیا جائے گا کہ اصل حقیقت یا حقیقت کی اصل کیا تھی۔ تب ہر وہ انسان پچھتائے گا، جس نے فطرت کا مشاہدہ نہ کیا۔
آخر کہیں سے تو شروع کرنا ہی ہے نا؟
تو کیوں نہ عرفانِ نفس سے ہی آغاز کر دیا جائے؟ ہر شے توانائی کا اظہار ہے ۔ وہ مادہ ہی کیوں نہ ہو۔ توانائی مرتی نہیں۔ جسم جب مرتے ہیں تو وہ کہاں جاتے ہیں؟ توانائی، زمین کی توانائی میں حل ہو جاتی ہے۔ اسے ہم ڈی کمپوز کرنے کا عمل کہہ لیں، کچھ بھی کہہ لیں۔ جو چلے گئے وہ بھی یہاں ہی ہیں۔ اسی مٹی میں۔ ہمارے آس پاس ۔ کہیں درختوں کی صورت، کہیں کسی اور انداز میں۔ بس ہم چونکہ ابھی توانائی کے بشری پیکر میں ہیں، اس لئے ہم اپنی Dimension میں ہی سمجھیں گے جو سمجھیں گے اور جتنا سمجھیں گے ۔
ہاں البتہ، اگر ہم وحی سے مدد لے لیں تو ہماری توانائیاں اُن سوالوں کے جوابات تلاش کرنے میں ضائع نہیں ہوں گی جو جوابات وحی کی صورت دیئے جا چکے ۔ جہاں وحی روک دے، وہاں رک جانے میں ہی توانائی کی بچت ہے۔ میں اسی لئے درمصطفیٰ ﷺ پہ بیٹھ گیا ہوں ۔ یہاں بڑی بچت ہے۔
السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ و برکاتہ
اللہ اکبر ۔