مسئلہ یہ نہیں کہ چال ظالم تھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے چال چلن ہی ظالموں کو اپنی چالیں چلتے رہنے کی ہمت اور حوصلہ دیتے ہیں۔
سازشوں اور مکروفریب کی گہرائی زیادہ نہیں ہوتی بس ہم کوتاہ قامت، کوتاہ ہمت نکلتے ہیں۔
مکتی باہنی سے آج تک، ہر دشمن کی کامیابی دراصل ہماری ناکامی ہے۔
اور اس پر سب سے بڑا ظلم وہ لوگ کرتے ہیں جو اپنی ناکامیوں کا پردہ چاک ہی نہیں ہونے دیتے۔
جب تک ناکامیوں کا بڑا آپریشن، ہارڈ سرجری نہیں ہوتی، تب تک وطن عزیز پاکستان کے دشمن کامیاب ہوتے رہیں گے۔
اور ہم کب تک دشمن کی کامیابیوں کا رونا روتے رہیں گے؟
دشمن چال چلتے ہی رہتے ہیں۔ اسی کا نام دشمنی ہے۔
ہمارے چال چلن حب الوطنی والے کیوں نہیں؟
ہم ہر مرتبہ کسی بھی چال کو کامیاب کیوں ہونے دیتے ہیں؟
ہماری اپنی صفوں میں ایسے نام نہاد تجزیہ کار بیٹھے ہیں
جو ہر وقت دشمن کی کامیاب چالوں کا سحر پھونکتے رہتے ہیں۔
بہانے بہانے سے
ہماری سوچ اور شعور کو
دشمن کی کامیابیوں کی جانب موڑ دیا جاتا ہے۔
اور ہمیشہ کی طرح ہماری اپنی ناکامیاں
ہماری نظروں سے اوجھل ہی رہتی ہیں۔
 
دشمن کی چال گہری تھی۔
ہماری بصیرت کہاں تھی؟
ہمیں اپنی بصیرت اور آگہی پر محنت کرنا ہو گی۔
کامیاب ہونے والے کامیاب ہو جاتے ہیں۔
ہمیں سوچنا ہے کہ ہم کیوں ناکام ہوتے ہیں۔
 
اور جب سرپھرے لوگ اپنی ناکامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں
تو دشمن کی کامیابیوں سے مرعوب سستے لوگ
مفتی بن کر میدان میں نکل آتے ہیں۔
 
اب یہ نہیں کہ ہم بہترین نشانے باز نہیں۔
بس نیتوں میں فتور ہے۔
جان بوجھ کر غلط جگہ نشانہ باندھا جاتا ہے۔
شیر، ہرن کا شکار کر لیتا ہے۔
اور لومڑیاں ہرنوں کے ٹولے کو ہی آپس میں لڑوا دیتی ہیں۔
یہ لومڑیاں ہماری اپنی صفوں میں ہیں۔
جب کوئی شخص
آپ کو دشمن کی کامیاب چال کا حوالہ دے
اور اپنی ناکامیوں کا پردہ چاک نہ کرنے دے
تو سمجھ جائیں وہ لومڑی ہے۔
چالاک اور عیار لومڑی۔
وہ جانتی ہے کہ جب ہم اپنی ناکامیوں کو دیکھنا شروع کر دیں گے
تو ہم ناکامیوں سے بچنا شروع کر دیں گے۔
 
یہی حال دین کے ساتھ ہو رہا ہے۔
لومڑیاں ہماری صفوں میں موجود ہیں
جو ابلیس کی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹتی رہتی ہیں۔
اور وقت آنے پر ابلیس کے ہی دفاع میں اُٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔
 
ابلیس کا کام ہے ابن آدم سے کھلی دشمنی۔
اس میں کس کو شک ہے؟
ابن آدم اور بنت حوا کی ہمت کو کیا ہوا؟
کفر کی چال گہری تھی۔
یا ایمان کی گہرائی ہی کم تھی؟
سوچنا ہو گا۔
 
یہ جو لومڑیاں اور بڑے بڑے لومڑ اور لگڑبگڑ ہماری صفوں میں موجود ہیں
یہ ظلم میں برابر کے حصے دار ہیں۔
 
میں نوجوانوں سے کہتا ہوں
اپنی اپنی تعلیمی، سماجی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی ناکامیوں کا ہر روز محاسبہ کریں۔
کون ہے جو خود بن جاتا ہے آپ کو توڑ کر؟
کون ہے جس کی اولاد ترقی کر جاتی ہے اور آپ کی اولاد کو زوال دے جاتی ہے؟
کون ہے جو آپ کو لایعنی باتوں اور بے تکے کاموں میں مصروف رکھتا ہے؟
کون ہے جو آپ کو آپ کی ناکامیوں کے شعور سے دور لے جا کر
دشمن کی کامیابیوں کی تسبیح دے جاتا ہے؟
 
اپنی ناکامیوں پر نظر کریں۔
دشمن کامیاب ہو جائے تو
قصور ہمارا۔
اپنا اپنا قصور
اپنے اپنے گریبان میں جھانکنے سے دکھائی دیتا ہے۔
لومڑیاں
اور لومڑ
ہمیں اپنے اپنے گریبان میں جھانکنے ہی نہیں دیتے۔
کیونکہ یہ لومڑیاں، لومڑ اور لگڑ بگڑ جانتے ہیں
کہ کامیابی اور ترقی کا راز اپنے اپنے گریبان میں جھانکنے سے ملتا ہے۔
اور دشمن کی کامیابیوں کا ماتم
دشمن کو مزید ہمت اور حوصلہ دیتے ہیں۔
اور یہ لومڑیاں دشمن کو کامیاب ہی دیکھنا چاہتی ہیں۔
 
اسی لیئے قرآن کی راہ سے دور لے جاتی ہیں۔
قرآن کی بنیادی تعلیم ہے اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا۔
اپنے نفس پر غور کرنا۔
اپنی اوقات پر غور کرنا۔
اور جب تک قوموں کے اپنے اندر تغیر پیدا نہیں ہوتا
تبدیلی نہیں آیا کرتی۔
 
لومڑیاں، لومڑ اور لگڑبگڑ آپ کا قیمتی وقت ضائع کرتے رہیں گے۔
کچھ نام نہاد لوگ آپ کو دشمن کی کامیابیوں کی تسبیح پر مجبور کرتے رہیں گے۔
کچھ لوگ آپ کو نبی اکرم ﷺ سے زیادہ اسلام سکھاتے نظر آئیں گے۔
یہ سب لومڑیاں ہیں۔
 
ہم پر ہمارا دین مکمل کر دیا گیا ہے۔
وہ دین سب کے لیئے ایک جیسا تھا۔ ہے اور رہے گا۔
 
لیکن لومڑیوں، لومڑوں اور لگڑبگڑوں کا لایا ہوا دین
میرے لیئے الگ
آپ کے لیئے الگ
امیر کے لیئے الگ
غریب کے لیئے الگ
 
شیر کے لیئے الگ
ہرن کے لیئے الگ
 
یہ اسلام نہیں۔
یہ پیشوائیت ہے۔
یہ وہ راہ ہے جو کلیسائی ہے۔
اسلام اپنے اپنے گریبان میں جھانکنے
اور سعی کرنے کا نام ہے۔
اسلام اپنے اپنے اعمال کا جواب دہ ہونے کی بات کرتا ہے۔
اسلام احساس ذمہ داری کا نام ہے
وقت کی اہمیت کو سمجھنے کا نام ہے ۔
اتنا فی الدنیا حسنہ و فی الاخرہ حسنہ کا نام اسلام ہے۔
 
اللہ اکبر –