میں جب سیمنٹ، سریے اور ریت کے بنے مکانوں سے تھک جاتا ہوں تو تھوڑی دیر کے لیئے کسی ایسی کھلی جگہ چلا جاتا ہوں جہاں سے میرا اور آسمان کا آمنا سامنا ہو سکے۔ ون آن ون۔
رات کے وقت یہ کیفیت اور بھی مزہ دیتی ہے۔
تہجد کے مقناطیسی لمحات کے تو خیر کہنے ہی کیا۔
ہر طرف سکون ہی سکون۔
اسلام آباد میں اگرچہ اب رات گئے بھی اکا دکا گاڑیاں گزرتی رہتی ہیں۔ تاہم ایک وقت تھا جب رات کے پچھلے پہر مکمل خاموشی ہوتی تھی۔
تہجد کی خاموش ساعتیں مقدس گفتگو کے فن کی ماہر ہیں۔
آسمان کے ساتھ ون آن ون ملاقات روحانی کیف و سرور والی ہوتی ہے۔
ظاہری آنکھیں جہاں تک دیکھ سکتی ہیں وہاں تک فزکس دکھائی دیتی ہے۔
پھر ایک اور بھی دنیا ہے۔ روحانی دنیا۔ اُس دنیا کی سیر کے لیئے سر پر پھیلا آسمان کافی نہیں۔
لیکن ان تمام روحانی حجابات کے اندر کشف کے روزن ہیں۔
جسم جس قدر ہلکا پھلکا ہوتا جائے گا
سکون کی منزل میں داخل ہوتا چلا جائے گا۔
روح جس قدر لطیف ہوتی جائے گی
روحانی لطائف سے بہرہ مند ہوتی چلی جائے گی۔
سیمنٹ، سریے اور ریت کے بنے مکانات ہماری جسمانی ضرورت ہیں۔
لیکن روحانی ضروریات کسی اور ہی جہان میں پایہ تکمیل کو پہنچتی ہیں۔
انسانی سوچ اور شعور جب اس منزل میں داخل ہوتا تھا تو رہبانیت کی داغ بیل پڑ جاتی تھی۔
لوگ تارک الدنیا ہو جاتے تھے۔
فنا اور بقا کے گہرے راز سمجھنے والے ان تمام کیفیات سے گزرتے ہیں۔
ہمارے لیئے دنیا بھی حسین اور دین بھی حسین ہونے کا حکم آ گیا۔
جب تک اس دنیا میں ہیں، حسن ہماری ضرورت ہے۔
اگلے جہان کے لیئے بھی حسن کی ہی ضرورت ہے۔
سر پر پھیلا آسمان حسن کا دبستان ہے۔
بنا کسی ستون کے کھڑا قدرت کا یہ عظیم شاہکار الوہی کبریائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ہم بچپن میں سونے سے قبل تارے گنا کرتے تھے۔
یہ ہمارا محبوب ترین مشغلہ ہوا کرتا تھا۔
شہروں میں مہینوں آسمان کو تکنے کی یاد ہی چھن گئی ہے۔
اس لذت کو دوبالا کرنے کے لیئے میں اکثر اوقات سب سے چھپ کر، کٹ کر تھوڑی دیر کے لیئے جب آسمان سے ون آن ون ملاقات کرتا ہوں تو اپنے سارے غم، سارے دکھ، ساری پریشانیاں اور تفکرات سے آزاد ہو جاتا ہوں۔
ایک ماں پاس ہو تو انسان اُس کی گود میں سررکھ کے سب کچھ بھول جاتا ہے۔
جب بہت جی بوجھل ہو
اور انتہائی بے بسی کی کیفیت دبوچ لے
آپ کو محسوس ہو کہ آپ دنیا میں بے یارومددگار ہو گئے ہیں
تو اپنا آپ ون آن ون اللہ کریم کے سپرد کر دیں۔
انتہائی عاجزی اور گریہ کے ساتھ تصور اسم ذات سے لپٹ جائیں۔
آپ کے دکھ بانٹ لیئے جائیں گے۔
آپ کی گریہ و زاری قریب ہو کر سن لی جائے گی۔
آسمان اُسی ملاقات کا دبستان ہے۔
آسمان کی نیلگوں وسعتوں میں اور تاروں بھری جھلملاہٹوں میں کبھی کبھار کھو جانا بھی سنت ہے۔
نبی اکرم ﷺ اکثر ایسا کیا کرتے تھے۔ ون آن ون آسمان کا نظارہ۔
آپ بھی کیا کریں۔
تھک جاتا ہے انسان بعض اوقات۔
کمزور ہے نا۔
لیکن ایک ماں غم بانٹ لیتی ہے
اللہ کریم تو پھر سب کے خالق و مالک ہیں۔
بس اپنا آپ سونپ دیا کریں۔
رو پڑا کریں۔
بچوں کی طرح ۔
ہچکیاں لے لے کر
لاڈیاں کر کے
دامن پھیلا دیا کریں۔
جو جی میں آتا ہے کہہ دیا کریں
مانگ لیا کریں
اُس عظیم بارگاہ میں شرمانا منع ہے۔
لپٹ جایا کریں
اور جب تک سکون نازل نہ ہو
چھما چھم آنسوئوں کی لڑی بناتے رہا کریں۔
اس میں بھی مزہ ہے۔
اسی میں لذت ہے۔
دنیا کے ہر مکروفریب پر
آسمان کی سادگی غالب آ جاتی ہے۔
انسان کی ہر بے بسی پر
اللہ کریم کا بس چلتا ہے۔
بس کبھی کبھار
سیمنٹ ، سریے اور ریت کے بنے جہان سے کٹ جایا کریں۔
تاروں میں کھو جایا کریں۔
چاند کی سیر کو نکل جایا کریں۔
بادلوں کے ساتھ ساتھ محو پرواز ہو جایا کریں۔
یہی لطافتیں ہیں۔
یہی لذات حسنہ ہیں۔
اللہ اکبر –
یا حی یا قیوم
السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ وبرکاتہ