محمد آفاق کے سوال کا جواب:
’’Osho, Sandeep, Iqbal, Bulay Shah, Mansoor, Galib, Sadhguru, Gotam Budh , or kafi saray muslim sufiaaa……………. mujay in sab me 1 hi cheez dikhti hai ….. mujay lgta hai ye sab hi apnay asal ko jantay hain …… lakin hazam ye nahi hota k osho, sandeep or budh asal k peechay q nai jaa rhay waha hi q khatam kar dia safar inho ne …… Quran to apni asal se peechay bi gaya hai aap ki zubani …… bohot confused mahol chal raha ….. ab me seedhay seedhay alfaaz ka muntazir hoon‘‘
جواب:
یہاں ایک بنیادی اور انتہائی لطیف نکتہ سمجھنا لازمی ہے۔۔۔۔
سب مذاہب میں، سماجوں میں کسی نہ کسی حقیقت کو معبود سمجھ کر اُس کی پوجا کی جاتی ہے۔
وہ حقیقت، اُن کے نزدیک حقیقت ہے۔ وہ کوئی پتھر کا بت ہی کیوں نہ ہو ۔ اور ہر انسان کی حقیقت، کسی دوسرے انسان کو واہمہ لگ سکتی ہے۔ مغالطہ لگ سکتی ہے۔ ہے نا؟
تو گویا حقیقتوں کے مختلف ادراک، کیا مختلف حقیقتقوں کے ترجمان ہیں؟
دراصل یہی شرک ہے کہ ہم بہت سی حقیقتوں پر ایمان لے آئیں۔
حقیقت ایک ہی ہے۔ واحد۔ الصمد۔ جو انسان اُس حقیقتِ کبریٰ تک پہنچا ، جیسے پہنچا، جہاں سے پہنچا، اُس نے مان لیا۔
اب جب مان لیا، تو اُس حقیقت کا اظہار اُس نے کیسے کیا؟
وہ حقیقتِ کبریٰ کہیں مادے میں اظہار پا گئی۔ کہیں روح میں۔ کہیں لفظوں میں تو کہیں سُروں میں۔
حقیقت ہر دور میں ایک ہی رہی ہے، اسی لئے تو وہ حقیقت ہے۔
باقی یہ جو قدم قدم پر حقیقیتیں ہیں یہ دراصل حقیقتِ کبریٰ تک پہنچنے کے مراحل ہیں۔ حقیقت کا ہر مرحلہ ایک حقیقت ہوتا ہے۔ بیج سے درخت تک ہر مرحلے پر ایک حقیقت کارفرما تھی۔
شرط صرف یہ ہے کہ ہم اُس حقیقتِ کبریٰ تک پہنچ جائیں جو اصل حقیقت ہے۔ یا جو حقیقت کی اصل ہے۔ اب اصل حقیقت یا حقیقت کی اصل تک کوئی کیسے پہنچ سکتا ہے؟ ذیل کی سطور میں اُسی کا اظہار ہے۔
حقیقتوں کے اظہار چونکہ محدود دنیاؤں میں ہوتے ہیں اس لئے اُس اظہار پر رائج ماحول، اسلوب، زبان و بیان اور دیگر پابندیوں کے اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسے عالم میں پھر علامتی انداز اختیار کیا جاتا ہے۔ جبر کے ماحول میں حقیقتوں کا اظہار ڈھکے چھپے الفاظ میں ہو گا۔ اور یہی ہوا۔ جب کسی رائج نظام میں حقیقتوں کا اظہار سرعام کیا گیا تو پتھر برسائے گئے۔ آگ میں ڈال دیا گیا۔ ہجرت پر مجبور کر دیا گیا۔ بعض اوقات تو قتل کر دیا گیا۔
اور یہ بھی ہم دیکھتے آ رہے ہیں کہ کسی ایک دور کی حقیقت بس اُسی دور تک زندہ رہی۔ یہ بھی ہم دیکھتے آ رہے ہیں کہ کسی خاص دور میں ہمیں جو حقیقت کامل دکھائی دیتی تھی، آنے والے ادوار میں وہی حقیقت نامکمل بن کے رہ گئی۔ اور جو نامکمل ہو، وہ حقیقتِ کبریٰ نہیں ہو سکتی ۔
تاریخ کے ہر طالب علم کو معلوم ہے کہ ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب پیغمبروں کی ضرورت نہ تھی ۔ پھر جب انسان ایک ہی حقیقت کو مختلف انداز میں بیان کرنے لگ گئے تو اس بات کی ضرورت پیدا ہوئی کہ کہیں ایک ہی حقیقت کے مختلف اظہاریئے لوگوں کو مختلف حقیقتوں کی موجودگی پر قائل نہ کر دیں۔ چونکہ اگر کائنات میں حقیقتیں دو ہوتیں تو کائنات کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔
پس پیغمبر آئے۔ ہر دور میں
ایک ہی حقیقت کا اظہار کرنے۔ لا الٰہ الا اللہ
اور اُس حقیقت کبریٰ تک راہنمائی کے لئے جو پیغمبر وحی کے ساتھ آئے وہ کلمے کا حصہ بنتے چلے گئے۔ آدم صفی اللہ ہو گئے۔ ابراہیم خلیل اللہ ہو گئے۔ اسمعایل ذبیح اللہ ہو گئے ۔ موسیٰ کلیم اللہ ہو گئے۔ عیسیٰ روح اللہ ہو گئے اور محمد رسول اللہ ہو گئے علیھم السلام
جیسا دور تھا۔ جو زبان و بیان کا اسلوب تھا۔۔۔ ایک ہی حقیقت کا اظہار اُسی قالب میں ڈھلا۔ حقیقتِ کبریٰ ہر دور میں ایک ہی رہی بس اظہار مختلف رہا۔ ہر سطح پر مختلف اظہار۔
ہر ذی روح نے ایک ہی حقیقتِ کبریٰ کا اظہار کیا۔ چرند پرند، حشرات الارض، انسان، ملائکہ، جنات سب ایک ہی حقیقتِ کبریٰ کے احاطے میں رہے۔ ہردور میں۔
کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبینِ نیاز میں
حقیقت غیر متبدل ہے۔ اسی لئے حقیقت ہے۔ جو بدل جائے، وہ حقیقتِ کبریٰ نہیں۔ اگرچہ وہ حقیقت کبریٰ تک پہنچنے کا ایک حقیقی مرحلہ ہو سکتی ہے۔
ہر دور کے پیغمبر نے بذریعہ وحی حقیقت کی وحدانیت کا پرچار کیا۔ لوگوں کی سمت درست کی۔ نظریات کو دھارے دیئے۔ فکر و شعور اور انسانی آگہی کو صراط مستقیم دیا۔ تا کہ ہم اور ہماری زمینی عقلیں حقیقتِ کبریٰ کے بجائے چھوٹی چھوٹی نام نہاد حقیقتوں میں نہ اُلجھ کے رہ جائیں۔ بقول اقبال
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گُم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اُس میں ہیں آفاق
اگر ہم کسی پیغمبر اور وحی کے بغیر حقیقت کا اعلان کر دیں تو وہ دراصل حقیقت کبریٰ نہیں ہو گی۔ حقیقتِ کبریٰ کیا ہے؟ جو اللہ اکبر کبیرا کا مفہوم سمجھا دے۔ جس کے بعد اور کسی بڑائی کا تصور موجود نہ ہو۔ جس کے آگے اور کوئی حقیقت نہ ہو، وہی حقیقت، دراصل، حقیقتِ کبریٰ ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر وہ حقیقت کبریٰ نہیں۔ وہ حقیقت کا ایسا ترجمہ ہے، تفسیر ہے یا تشریح ہے جو ہم نے کی ہے۔ اور ہم چونکہ محدودیت کا شکار ہیں۔ اس لئے ہماری حقیقتوں کا اظہار بھی اُسی محدودیت کا شکار ہو جاتا ہے۔
اب ظاہر ہے ۔۔۔۔ جب کسی پیغمبر یا وحی کے بغیر ہم کسی حقیقت کا اظہار کریں گے تو اُس اظہار کے لئے رائج ماحول کی علامات کا سہارہ لیں گے۔ وہی اسلوب، وہی انداز بیان جو وہاں کی مقامی آبادیاں سمجھ سکیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور کے دانشور نے جب اپنی بات کرنا چاہی تو دراصل اُس میں ایک نقص رہ گیا۔ وہ بات حقیقت کی ہی تھی لیکن اُس میں سقم یہ تھا کہ اُس کو پیغمبرانہ شعور اور وحی کی روشنی میسر نہ تھی ۔ پس وہ حقیقت اصل سے وصل نہ کر سکی۔ لیکن جہاں حقیقتیں پیغمبر و وحی سے ہمکنار ہوئیں وہاں کنارے مل گئے ۔
سائنس تجربات و مشاہدات سے حقیقت کے بہت قریب آ جاتی ہے۔ لیکن چونکہ پیغمبر و وحی سے محروم رہتی ہے اس لئے اُس کی حقیقتیں ہر دور میں بدل جاتی ہیں۔ مادے کے تصورات جو انیسویں صدی میں تھے اب بدل چکے ہیں۔ اب مادہ بھی توانائی کی ہی ایک شکل ہے۔ جو ریسرچ انیسویں صدی میں تھی، تب حقیقت اور تھی، اب اکیسویں صدی میں حقیقت اور۔ تو جو بدل جائے وہ حقیقت نہیں۔ اور یہی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ:
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
یہ جتنے بھی نام آپ نے گنوائے ہیں، انہوں نے حقیقتوں کا سفر طے کیا ہے۔ لیکن جس نے جہاں بھی پیغمبر و وحی سے استفادہ نہیں کیا، اُسی قدر وہ حقیقتوں کے اظہار میں پیچھے رہ گیا۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی باتیں مبنی بر حقیقت ہیں لیکن بہت سی باتوں سے ہم اُلجھ جاتے ہیں۔ جہاں اُلجھنیں ہوں گی وہاں پیغمبر اور وحی کی مدد سے ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ اور کوئی راستہ نہیں۔ ہم اگر ایسا نہیں کرتے تو پھر ہم بت بنا لیں گے اور وہ بچھڑا ہی ہماری حقیقت بن جائے گا۔ اگر فرعون کے دربار میں عصائے موسیٰ نے اژدھا کی شکل اختیار نہ کی ہوتی تو جادوگروں کی شعبدہ بازیاں اور سنپولیئے حقیقت بن کر مصریوں پر چھا جاتے۔ حقیقتِ کبریٰ عدم ہو جاتی ۔ اوجھل ہو جاتی ۔ عصا لازمی ہے۔ اور عصا پیغمبر و وحی کا آلہ ہے۔ صراطِ مستقیم ہے۔تا کہ حجابات دور ہو سکیں۔ تا کہ صنم ٹوٹ سکیں۔
انسانی عقل اگر اپنی مدد آپ کے تحت حقیقتوں تک پہنچنے کی کوشش کرے گی تو بہت کچھ پا لے گی ۔ لیکن بہت کچھ نہیں بھی پا سکے گی۔ یہ ادھورا پن دراصل ایک بڑی حقیقت کے اظہار کا ادھورا پن ہے۔
فزکس کی حقیقتیں فزکس کا ثبوت ہیں۔
کیمسٹری اور بیالوجی کی حقیقتیں وہیں تک محدود ہیں جہاں تک ان مضامین کی وسعت ہے۔ انسانی سوچ اور خیال بھی اگر پیغمبرانہ شعور اور وحی سے استفادہ نہ کرے تو وہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت میں بہرحال محدود رہے گا۔ محدودیت سے باہر نکلنے کا نام ہی اتباع ہے۔ سمجھ رہے ہو نا آپ؟
علامہ اقبال ہمیں پیغمبرانہ شعور اور وحی کے ساتھ جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ قدم قدم پر قرآنی بحر میں غوطہ زن ہوتے ہیں۔ ہمیں تلقین کرتے ہیں۔
انسانی تصانیف وقت گزرنے کے ساتھ Obsolete ہو جاتی ہیں۔ Extinct ہو جاتی ہیں۔ ان کے جدید ایڈیشن جدید اضافوں اور ترامیم کے ساتھ منظر عام پر آ جاتے ہیں۔ انسانی تحریف ہمیشہ فانی ہوتی ہے۔ کلمات اللہ باقی ہیں۔ ہر دور میں باقی۔ انسانی تحریفات کی ایک خاص طبیعی عمر ہوتی ہے۔ اگرچہ تحریف کسی مخصوص زمانے میں حقیقت کا پرتو ہی کیوں نہ ہو وہ بہرحال حقیقتِ کبریٰ نہیں ہو گی۔ توجو عدم ہو جائے وہ حقیقت کیا اور اُس کا وجود کیا؟ حقیقت موجود ہے، وہی اول وہی آخر۔ اور اُس کی موجودگی کسی اور حقیقت کی محتاج نہیں ۔ اسی لئے وہ احد ہے، لم یلد ہے ولم یولد ہے اور کفوا احد ہے۔
میں اسی لئے ہر قدم پر آپ نوجوانوں کو آگاہ کر رہا ہوں ۔۔۔
اگر پیغمبر اور وحی کو درمیان سے نکال دیا جائے تو انسانی عقل جن حقیقتوں تک پہنچے گی اُن میں حقانیت کی اعلیٰ و ارفع معراج نہیں ہو گی۔
انسانی شخصیت کی نشوونما پر دنیا بھر میں نادر کتب موجود ہیں۔ آپ کو طے کرنا ہے آپ فانی منزلوں تک تعمیر چاہتے ہیں کہ باقی منزلوں تک ۔ یہی چوائسز یا انتخاب کی آزادی پیغمبرانہ شعور اور وحی کی عطا ہے۔
اگر زندگی محض اسی دنیا میں جینے کا نام ہے جیسا کہ Atheism میں ہم دیکھتے ہیں تو پھر ہماری ساری حقیقتیں اسی دنیا کے ساتھ فنا ہو جائیں گی۔ اور جو فنا ہو جائے وہ کیسی حقیقت؟ حقیقت یہ ہے کہ کل من علیھا فان ہو جائے اورپھر بھی حقیقت باقی رہے۔ حقیقت کبریٰ کی یہی بقا دراصل فانی حدود میں مختلف اظہاریوں میں ڈھلتی ہے۔ جسے پیغمبر و وحی کی راہنمائی میسر آ گئی، وہ امرہ، لوامہ کی حقیقتوں سے آگے بڑھ کر مطمئنہ کی منزل تک جا پہنچا۔ اور حقیقت کبریٰ نے پکارا۔۔۔۔
سلام قول من رب الرحیم
دہریہ ہو جانا دراصل پیغمبر اور وحی کی ضرورت سے انکارکر دینا ہے۔ جب یہ وسیلہ نہ رہا تو پھر انکار ہی انکار ۔ پھر یہی لا کسی Atheist کی سب سے بڑی حقیقت بن کر اظہار کے قالب میں ڈھلتا ہے۔ وہ حقیقت ہی کیا جو غروب ہو جائے۔ جو بجھ جائے۔ جو مر جائے۔ جو فنا ہو جائے۔ جو محدود ہو۔ جو عام انسانی شعور میں سما جائے وہ حقیقت کا خاکی پہلو ہے ۔۔۔۔ جو پیغمبرانہ شعور اور وحی کے ساتھ ہماری زندگیوں میں شامل ہو جائے وہی ظلمتوں سے نور تک حقیقتوں کا پھیلاؤ ہے۔
یہ جتنے نام آپ نے گنوائے ہیں۔ ان کے ملفوظات کا مطالعہ کر دیکھیں۔
جو جس قدر کسی پیغمبر یا وحی سے منسلک تھا، اُسی قدر سالک بنا۔ اُسی قدر سلوک کی منازل طے کرتا ہوا حقیقتِ کبریٰ تک پہنچا۔اور اُسی قدر اُس کے ملفوظات ہر دور میں روشن رہے۔ یاد رکھیں! ہر سطح پر حقیقتِ کبریٰ تک پہنچنے کا ایک مرحلہ ہے۔ اور وہ مرحلہ مکمل ہوتا ہے تو اگلے مراحل نصیب ہوتے ہیں۔ جو پیغمبر اور وحی سے پہلے رک گیا، گویا اُس نے اپنی ذات کی تکمیل سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اب اُسے وہیں تک ملے گا جو ملے گا۔ اس لئے کہ بہرحال اُس نے کسی خاص مرحلے تک حقیقتوں کا سفر ضرور طے کیا۔
جن قوموں نے فزکس کی حقیقتوں کو سمجھ لیا، وہ فزکس پر چھا گئیں۔ اب مسلمان اگر اس مرحلے پر ناکام ہیں تو وہ ظاہر ہے مغلوب ہوں گے۔ ہم سماج میں رہتے ہیں۔ اور سماج کی حقیقتیں جانے بغیر ہم حقیقتِ کبریٰ تک پہنچنے کے دعوے دار ہیں۔ اسی لئے ہمارے سماج مسلسل زوال کا شکار ہیں۔ انسانوں کو ہر سطح پر حقیقتِ کبریٰ کی راہنمائی درکار ہے۔
اس کمی کو پورا کرنے کے لئے انسانوں نے پیغمبر بننے کی بھی کوشش کی۔ یہاں تک کہ خود ہی خدا بننے کی بھی کوشش کی۔ لیکن پیغمبر اور وحی کوشش سے ہاتھ نہیں آتے۔ یہ کسبی کام نہیں، یہ وہبی ملکہ ہے۔ یہ عطا ہے۔ و عبادہ الذین الصطفیٰ ۔۔۔ وہ بندوں کا انتخاب کر لیتا ہے۔
آپ یہ طے کر لییں کہ آپ کو حقیقتِ کبریٰ تک کیسے جانا ہے۔
بذریعہ پیغمبر و وحی یا بذریعہ عقل و شعور
انسانی عقل و شعور اگر وحی کی راہنمائی کے بغیر حقیقتوں کی کھوج کے سفر پر نکلے گی تو قدم قدم پر گمراہی اور غضب کا شکار ہو گی۔ کہیں رک جائے گی۔ کوئی ایسا سوال پیدا ہو گا جہاں انسانی عقل و شعور کے پر جلتے ہیں ۔ تو کیا ہو گا؟ حقیقتوں کے مفاہیم بدل جائیں گے۔ ہم ہار مان جائیں گے اور کہہ دیں گے بس حقیقت یہی ہے جہاں تک میں پہنچا ہوں یا جہاں تک انسانی عقل و شعور کی رسائی ہے۔ لیکن جب انسانی عقل و شعور وحی کے تابع ہو جائے تو پھر
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برھان
ہمارے لئے بہترین راہنما نبی پاک ﷺ ۔ جو اُن ﷺ کی اُنگلی تھام کر بڑھے گا، اُس کی حقیقتوں کا اظہار کسی موسم میں ماند نہیں پڑے گا۔ نوجوان تحقیق کر دیکھیں۔ سب بزرگوں کے ملفوظات پڑھ دیکھیں۔ دو ہی راستے ہیں یا آپ خالق کے لئے ہر شے کا لا کر دیں تو الا اللہ تک پہنچ جائیں۔ یا آپ لا کی منزل پر خالق کا ہی لا کر دیں اور وہیں دہریہ بن کر فنا ہو جائیں۔ اور بے شک جو فنا ہو گیا وہ حقیقت کبھی تھا ہی نہیں۔
اللہ اکبر۔
السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ و برکاتہ