موت کا لفظ اور اُس کی کیفیات اردو زبان میں مختلف انداز میں مستعمل ہیں۔ جب جسم کے اعضاء بے حس و حرکت ہو جائیں۔ زندگی کی کوئی رمق باقی نہ رہے ۔ طبیعات کا نظام درہم برہم ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ فلاں انسان یا شے کی موت واقع ہو گئی۔ موت کا وقوع ایک عظیم واقعہ ہے۔ اس واقعے کودنیا کے مختلف خطوں میں مختلف انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ ہم مر جاتے ہیں۔ فوت ہو جاتے ہیں۔ ہمارا انتقال ہو جاتا ہے۔ مرگ ہو جاتی ہے۔ رحلت ہو جاتی ہے۔ وصال ہو جاتا ہے۔ اجل ہمیں آ لیتی ہے۔ کام تمام ہو جاتا ہے۔ روح پرواز کر جاتی ہے۔ زندگی کا چراغ گُل ہو جاتا ہے۔ کہانی ختم ہو جاتی ہے۔ قید سے رہائی مل جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ہر خطے میں ہر سطح پر ہر روپ میں موت کا تصور موجود ہے۔ فنا موجود ہے۔
تمام مذاہب و ادیان میں، تہذیبوں میں، سماجوں میں اور طبقات میں کسی نہ کسی حوالے سے موت کا کوئی نہ کوئی تصور موجود ہے۔ جہاں دین و مذہب کے جو بھی رائج تصورات و نظریات ہیں، تعلیمات ہیں یا فہم و ادراک کی جو بھی سطح ہے وہاں موت کا ترجمہ و تشریح اُسی انداز میں موجود ہے۔ جہاں عقائد کی جو بھی شکل ہے وہاں بہرحال کسی نہ کسی حوالے سے موت متشکل ہے۔ اسلام، عیسائیت، یہودیت، ہندومت، بدھ مت سمیت تمام مذاہب و ادیان میں حیات بعد الموت کا تصور موجود ہے۔ موت سے پہلے زندگی اور موت کے بعد زندگی کے تصورات میں تنوع کے باوجود سب اس بات پر متفق ہیں کہ ہر شے فانی ہے۔ جو دین و مذہب کے ماورائی تصور کے قائل نہیں وہ بھی بہرحال موت کی حقیقت سے انکاری نہیں۔ بہت سے نامور سائنسدانوں کے نزدیک موت اجزائے جسمانی کی تحلیل کا نام ہے۔ جو بھی ہے بہرحال حقیقتِ حال یہی ہے کہ جو دین کے قائل نہیں، وہ بھی مر رہے ہیں۔ دین والے بھی اسی موت کا ذائقہ چکھ رہے ہیں۔
موت ایک حقیقت ہے۔ اس سے فرار ممکن نہیں۔ جسم کی موت جسمانی سانحہ ہے۔ جسم فانی ہے اس کا ہر سانحہ فانی ۔ جسم کے روگ جسم کی طرح عارضی ۔ جسم مٹی ہوا تو سب روگ مٹی ہو گئے۔ سب پریشانیاں خاک میں مل گئیں۔ کہیں ناکارہ جسم کو جلا دیا جاتا ہے ۔ کہیں اسے کسی پہاڑ کی چوٹی پر رکھ دیا جاتا ہے۔ کہیں غسل دے کر اور کفن پہنا کر سپردِ خاک کر دیا جاتا ہے۔ بحری سفر کے دوران کئی مردہ اجسام کو سمندر کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ خلاؤں میں کئی مردہ جسم تیر رہے ہیں۔ تاریخ میں بارہا ایسا ہوا جب بڑے بڑے اژدہے انسانوں کو نگل گئے ۔ جنگلی جانوروں نے کئی مسافروں اور شکاریوں کو اپنی خوراک سمجھ کر ہڑپ کر لیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کہیں یہ جسم دوسرے جسم کا محافظ ہے اور کہیں یہی جسم اپنی بقا کے لئے دوسرے جسم کو مار رہا ہے۔ سب کے پاس ہر طرح کا جواز موجود ہے۔ خوراک کا جواز ہو کہ لباس کا، زندگی کی بقا کا جواز ہو کہ موت سے فرار کا جواز، جسم نے جسم کی دنیا میں اپنے جسم کی بقا کے لئے دیگر اجسام کے ساتھ ہمیشہ مقابلہ کیا ہے۔ سروائیول آف دی فٹیسٹ روزمرہ کا مشاہدہ ہے۔
فالج اک ایسی جسمانی حالت کا نام ہے جب جسم کے کسی مخصوص حصے یا حصوں کی طبیعی موت واقع ہو جائے۔ جذبات کی دنیا میں زندگی اور موت کا یہی کھیل جاری ہے۔ کسی خاص جذبے کی موت یا حیات کے ہمارے اوپر مخصوص اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ افراد اور قوموں کی عقلیں بھی مرتی ہیں اور جیتی ہیں۔ بعض اوقات یہ موت جزوی طور پر وقوع پزیر ہونے والا واقعہ ہے اور بعض اوقات یہ کُلی موت کے طور پر بھی ہمارے سامنے آتی ہے۔ زندگی کے بہاؤ میں عارضی تعطل دراصل عارضی موت ہے ۔ جب تعطل مستقل ہو جائے اور جس مرحلے پر یہ استقلال موجود ہو وہاں موت بھی مستقل حقیقت ہے۔ جہاں زندگی کے سگنلز نہ رہیں وہ ایک ڈیڈ زون ہے۔ ڈیڈ زون سے باہر حیات ہے۔
زندگی کے سانچوں میں موت کے دائمی پیٹرن جلوہ گر ہیں۔ موت کا ہر پیٹرن زندگی کے نئے سانچوں کی نوید بن کر انسانی فکر و شعور کو تحریک دیتا ہے۔ زندگی موت کی خوراک ہے اور موت زندگی پر پلتی ہے۔ انڈہ فنا نہ ہو تو چوزے کا ظہورمشکلات سے دوچار ہو جائے ۔ بیج فنا ہوتا ہے تو اُس میں موجود ان گنت بیجوں کا سفر شروع ہوتا ہے۔ بیج کا سینہ چیر کر جب زندگی کی کونپل سانس لیتی ہے تو بیج کی فنا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے۔ اب وہ مر کر بھی زندہ ہے لیکن اب اُس زندگی کا نام کونپل پے۔ کلی ہے۔ چوزہ ہے۔ ہر مرحلے پر فنا ہے۔ جو فنا سے پہلے کسی دوسری ہیئت میں یا کسی دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا وہ اُس مرحلے پر بقا کا راز پا گیا۔ جو بیج بوری میں رکھے رکھے مر گیا، وہ واقعی مر گیا۔ جو انڈہ چوزے میں تبدیل ہوئے بغیر مر گیا، گندہ انڈا کہلایا۔ گندگی جب ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو گندگی نہیں رہتی۔ ہم نطفے کو نہیں چوم سکتے لیکن اُسی نطفے کی ارتقائی شکل کا ظہور ہمارے لاڈ کو بوسوں کی شکل میں ڈھالتا جاتا ہے۔
زندگی جب ظاہر ہونا چاہتی ہے، موت پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ موت ظاہر ہونا چاہے تو زندگی کی کیا مجال کہ موت کا واقعہ وقوع ہونے سے رک سکے؟ زندگی اور موت کی یہی کشمکش کل مخلوقات کی حقیقتِ کبریٰ ہے۔ اور اس کہانی کا تانا بانا اک ایسے خالق سے ہی جا کر جُڑتا ہے جسے نیند نامی عارضی موت یا کوئی مستقل موت قابو نہ کر سکے۔ اُسی کے قبضے میں ہے زندگی اور موت کی یہ کشمکش لیکن اس کے باوجود وہ خود اس کشمکش سے باہر ہے۔ اُسے نیند آتی ہے نہ اونگھ۔ وہ ہر دم زندہ ہے۔ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ خالق کے علاوہ کُل مخلوقات نیند والی ہیں یا ہمیشہ قائم رہنے والی نہیں ہیں۔ کل من علیھا فان ۔
زندگی کے آئینے میں موت جلوہ گر ہے اور موت کے آئینے میں زندگی اپنا چہرہ دیکھتی ہے۔ اپنے آپ کو سجاتی سنوارتی ہے۔ جہاں جو تصور میلا ہو گا، وہاں تصویر میلی ہو گی۔ تصور کا میل کچیل یا تصویر کی آلائشیں کسی فانی مصور کا تصور اُبھارتی ہیں۔ المصور بہرحال ان تمام آلائشوں سے پاک ہے۔ اُس کا تصور اور اُس کی بنائی ہوئی تصویر کثافتوں سے پاک ہے۔ زندگی کی کثافتیں موت کی لطافتوں کی منتظر ہیں۔ موت کی کثافتیں زندگی کے لطیف پہلوؤں کے انتظار میں بیٹھی ہیں۔
زندگی کا تفکر موت کی فکر سے کنارہ کش نہیں ہو سکتا۔ موت کے جہان میں زندگی کی فکر جلوہ گر ہو کے رہتی ہے۔ جہاں یہ تفکر داخلی کشمکش سے آزاد ہو جائے، وہ ابدیت ہے۔ اور ابدیت بہرحال اس دنیا کا اسلوب نہیں۔ یہاں کشمکش ہے۔ تضاد ہے۔ یہاں ڈر ہے، خوف ہے، حزن ہے۔ اور جہاں یہ سب کچھ ہو گا وہاں فنا ہو گی۔ جب انسان اس کشمکش سے باہر نکلیں گے تو فنا بھی فنا ہو جائے گی۔ موت کی بھی موت واقع ہو جائے گی ۔اور وہاں لا خوف علیھم ولا ھم یحذنون ہو جائے گا اُس ہائیر ورلڈ کو جنت و جہنم کہا جاتا ہے جہاں زندگی اور موت کی کشمکش بہرحال ختم ہو جائے گی۔ جہنم والے موت مانگیں گے اُنہیں موت نہیں آئے گی۔ جہنمیوں کے نزدیک موت اُس عالم میں ایک نجات دہندہ ہو گی لیکن اُنہیں ھم فیھا خٰلدون کے الوہی اصول کے تحت ہمیشہ ہمیشہ اُسی عالم میں رکھا جائے گا۔ یہ اُصول صرف یہاں ہی نہیں ہو گا۔ یہ ابدیت جنت والوں کا بھی مقدر ہے۔ موت وہاں بھی مر جائے گی بس فرق صرف اتنا ہو گا کہ وہ اُس حیات پر شاکر ہوں گے۔ مسرور ، تروتازہ، شادباد، شاداں و فرحاں۔
زندگی اور موت کی کشمکش، پرت در پرت، طالبِ علم کے لئے نئی معنویت کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ وہ ہر قدم پر حقیقتِ کبریٰ کے جلوے دیکھتا ہے۔ ہماری دنیا میں سب سے پہلی پرت اس جسم کی ہے جو مسلسل فنا ہو رہا ہے۔ ہر لمحہ، زندگی اور موت کا کھیل جاری ہے۔ جب سے دنیا کا وجود ہے، حیات و موت کے فلسفے ایک دوسرے کا تعاقب کر رہے ہیں۔ جس لمحے اس دنیا نے طبیعی آنکھ کھولی، طبیعات کی موت نے بھی انگڑائی لئ۔ آج کے دن تک وہی ایک لمحہ پھیل رہا ہے۔ عہد در عہد، نسل در نسل، مخلوق در مخلوق ۔ فنا اور بقا کی اس کشمکش میں ہر قدم پر کوئی مر رہا ہے کوئی پیدا ہو رہا ہے۔ مرنے سے پہلے جس نے جس حد تک دائمی حیات کا راز سمجھ لیا، وہ اُسی حد تک واصلِ بقا ہو گیا۔ جس نے جس قدر اپنی حدود میں فنا کی بے ثباتی کا اعتراف کر لیا، بقا اُسی قدر اُس کی معترف ہو گئی۔
جسم کی پرت، جسم کی زندگی اور موت کی کشمکش سے دوچار ہے۔ جذبات کی دنیا، جذبوں کی حیات و موت کا دبستان ہے۔ عقل کے جہاں میں مٹ جانے اور امر ہو جانے کی الگ تفسیریں ہیں۔ وجدانیات اور روحانیات میں ہجر و وصال کے اور ہی نغمے سنائی دیتے ہیں۔
ہم ہر روز دیکھ رہے ہیں۔ انسانی بستیوں میں موت کا لمحہ کس طرح ہنستے بستے گھرانوں کو یکدم اُداس کر دیتا ہے ۔ کہیں کسی کی موت ہزاروں لاکھوں انسانوں کو سوگوار کر رہی ہے تو کہیں اسی موت پر خوشیاں بھی منائی جاتی ہیں۔ جانی دشمن کی موت آپ کی زندگی کی بقا کی ضامن ہے ۔ وہ نہ رہا تو اس کا مطلب آپ رہ گئے۔ وہ رہا تو آپ خطرات کی زد میں ہیں۔ اور جہاں خطرہ موجود ہو گا وہاں ڈر ہوگا، خوف ہو گا، حزن ہو گا۔ اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں۔ وہ جانی دشمن کسی کا جگری دوست بھی تو ہو گا؟ آپ کا جانی دشمن ہی نہیں گیا، کسی کا جگری دوست بھی بچھڑ گیا ۔ اب جس بات پہ آپ مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں، اُسی بات پہ کہیں صفِ ماتم بچھی ہے۔ واہ رے زندگی! واہ رے موت! فریب ہی فریب۔ یہ دنیا ہے ہی دارالفریب ۔ یہ کھیل تماشے کا جہان ہے۔ یہاں کشمکش رکھی گئی ہے۔ کشمکش ہی کسی میزان کو جسٹیفائی کر سکتی تھی۔ خیر و شر میں کشمکش ہی نہ ہوتی تو الوہی عدل پر سوال اُٹھ جاتے۔ اور کوئی نہ بھی کرتا تو دہریئے یہ سوال ضرور کرتے۔
جسم کی موت کا عمل جسم کی زندگی کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔ دنیا کی طبیعات کی طبیعت میں فنا اور بقا کا امتزاج نت نئی دریافتوں کا جہان آباد کر رہا ہے۔ ہر نیا جہان پرانے جہان کو دفنا رہا ہے۔ ہر پرانی تعمیر کی جگہ نئی تعمیرات ، قدیم زبانوں کی جگہ جدید زبانیں، پرانے تصورات کی جگہ نئے تصورات ۔ کتنا کچھ بدل رہا ہے ہماری طبیعی دنیا میں۔ ہمارے جذبوں کی کائنات نت نئے جذبات کی زندگی اور موت سے متعارف ہو رہی ہے۔ عقل والے ماضی میں قائم کردہ اپنی ہی عقل کے تصورات سے انکاری ہو کر نئے تصورات کے مبلغ بن رہے ہیں۔ آنے والے زمانوں میں نئے مبلغین پیدا ہوں گے۔ جو آج جدید ہے وہ آنے والے کسی کل قدیم ہو گا۔ جو آنے والے کل جدید ہو گا وہ بھی کبھی قدیم ہو گا۔ جدید و قدیم کی یہ بحث بھی فنا و بقا کی طرح مخلوقات کی ڈومین میں ہے۔ خالق، جدید ہے نہ قدیم ہے۔ وہ بس ہے۔ جب سے ہے۔ وہ ان محدود تنازعات سے ماورا ہے ۔
ہم جسم کی موت کا ماتم بھی جسم کی دنیا میں کرتے ہیں۔ اور اس ماتم کے لئے ہمارے جذبات، عقل اور روح ہی ہمارا ساتھ دیتی ہے۔ ہم جسم کی زندگی کی خوشیاں بھی جسم کی دنیا میں مناتے ہیں اور خوشیوں کا یہ اظہار ہمارے جذبات، عقل اور روح کے ساتھ ہی ہمارے لطف و کیف کو دوبالا کرتا ہے۔ جسم کی کوئی حرکت اگر بے دھیانی میں ہوتو وہ یقینی طور پر اُس لذت سے محروم ہو گی جو مکمل دھیان سے طبیعی ڈومین میں ہوئی ہو گی۔ جسم کی بہت سی حرکات لذت و سرور کے لئے نہیں ہوتیں۔ وہ بس ہوتی جاتی ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلجینس والے یہی کوشش کر رہے ہیں کہ مشین اس لذت و کیف کو خود محسوس کرنے کے مقام پر فائز ہو سکے ۔
واصف علی واصف کے نزدیک ’’زندگی صرف نیوٹن ہی نہیں، زندگی ملٹن بھی ہے۔‘‘ اس اختصاریئے میں نیوٹن طبیعات کی علامت ہے۔ ملٹن جذبات کی علامت ہے۔ مشینیں آج کے دن تک نیوٹن تو ہیں لیکن کوشش کی جا رہی ہے اُنہیں ملٹن بنایا جا سکے۔ ملٹن کی شہرہ آفاق نظم پیراڈائز لاسٹ اُس کی پہچان ہے۔ نیوٹن کو سائنس کا ہر طالب علم اس لئے جانتا ہے کہ نیوٹن بہرحال سائنس میں ایک اتھارٹی ہے۔ جو جہاں جس پرت پر جس حد تک اتھارٹی ہے، وہی مستند حوالہ ہے۔ ہر پرت پر حوالے بدل جاتے ہیں۔ حوالوں میں بھی کشمکش ہے۔ یہی کشمکش تحقیق و تنقید کے جہان میں وسعت پیدا کر رہی ہے۔
ہر نئی تحقیق اور ہر نئی تنقید ایک طرف جہاں نئے جہانوں کی وسعت کا نام ہے وہیں بہت سے پرانے جہانوں کے معدوم ہو جانے کا بھی نام ہے۔معدومیت، فنا کا ہی ایک روپ ہے۔ جو معدوم ہو گیا وہ کسی اور روپ میں موجود ہے۔ ہمیں اُس کے وجود کی اُسی وقت سمجھ آ سکتی ہے جب ہم بھی معدوم ہو کر اُس جہان میں چلے جائیں۔ جب تک ہم کسی خاص فریکیوئنسی میں ہیں، ہمیں دیگر فریکوئینسیز کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ ہو بھی جائے تو اظہار ممکن نہیں۔ اظہار بھی ہو جائے تو ابلاغ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور اگر ابلاغ بھی ہو جائے تو اس کا مطلب جو سمجھ رہا ہے وہ بھی اُسی فریکئوینسی پر پے جہاں سے قال و ارشاد کی نشریات جاری ہیں۔ شہید زندہ ہیں اور اُنہیں رزق مل رہا ہے۔ اب اس فریکیوئنسی پر کیا نشریات جاری ہیں؟ یہ جاننے کے لئے شہادت کی فریکئوینسی سے کمتر فریکیوئنسی کیا شعور رکھے گی؟ اور کیا دعویٰ کرے گی؟
جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہمارے اندر ہو رہا ہے۔ باہر تو صرف پھیلاؤ ہے۔ داخلی دنیا کی ساری کشمکش پھیل کر خارجی کشمکش کا روپ دھار لیتی ہے۔ خارجی دنیا کا پھیلاؤ سمجھنے کے لئے سائنسدان طبیعات کے خارجی مظاہر کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ تجربات کر رہے ہیں۔ دلائل و براہین سے اپنے اپنے مقدمے پیش کئے جا رہے ہیں۔ تن کی دنیا سب کے سامنے ہے، اُسے ثابت کرنا آسان ہے۔ جو من میں ہے، اُسے من والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ تن کے سائنسدان، من کی دنیا کے سائنسدانوں کو مسکرا کر دیکھ رہے ہیں ۔ من کے سائنسدان تن کی دنیا کے سائنسدانوں کو مسکرا کر دیکھتے ہیں۔ یہ مسکراہٹیں معنی خیز ہیں۔ پرت در پرت، مسکراہٹیں پھیل رہی ہیں۔ جو اندر سے ہو کر باہر نکلا یا جو باہر سے ہو کر اندر پہنچا وہ یہی کہہ رہا ہے، ھو الاول، وھو الاٰخر۔ ھو الظاہرُ و ھو الباطن۔
اب کون فانی رہا اور کس نے بقا پائی؟ اس کے لئے ہمیں دور جانے کی ضرورت نہیں ۔ ہم اپنی پیدائش پر جتنا غور کریں گے، اُسی قدر بقا کے قریب تر ہوتے جائیں گے۔ ہم جس قدر قبرستانوں کے پھیلاؤ اور آبادیوں کے پھیلاؤ پر غور کریں گے ہمیں عدم اور وجود کی سمجھ آتی جائے گی۔ ہمارے ارد گرد فنا و بقا کی علامات پھیلی ہوئی ہیں۔ نشانیاں ہی نشانیاں ہیں۔ خود ہمارے اپنے وجود میں وہ سب نشانیاں موجود ہیں جو خارجی دنیا کے پھیلاؤ میں موجود ہیں۔ ہمیں بس غور کرنا ہے۔ دیکھنا ہے کس طرح ہم سے پہلے والے ایک ایک کر کے غائب ہوتے گئے۔ ہمیں سوچنا ہے وہ کیا اعمال تھے جن کی بدولت جانے والے جا کر بھی ہمارے درمیان موجود رہے۔ ہر سطح پر فنا ہے۔ ہر سطح پر بقا ہے۔ جب تک ہم اُس سطح پر ہیں جہاں فنا و بقا کی کشمکش ہے، ہمیں اسی کشمکش سے بہرحال دوچار ہوتے رہنا ہے۔
جن افراد اور قوموں نے ترقی کی ہے، اور جس قدر کی ہے، اُن کی زندگیوں پر غور کیا جائے تو ہمارے سامنے یہ حقیقت کھلتی ہے کہ جس نے جس قدرجس سطح پر راسخ حقیقتِ کبریٰ کو تسلیم کر لیا، اُس کی تحقیق اور تنقید اُسی قدراُس سطح پر نکھرتی چلی گئی۔ فنا کی حقیقت فنا کے ساتھ ہی فنا پو جاتی ہے۔ بقا کی حقیقت بقا کے ساتھ ہی باقی رہتی ہے۔ ہم حقیقت کے جس مرحلے پر موجود ہوں، وہاں ویسا ہی جہد درکار ہے۔ فانی دنیا کی کشمکش میں فنا کے مراحل خوش اسلوبی سے طے کرنے کے لئے اک ایسا جُہد ناگزیر ہے جو اگرچہ فنا کی حدود میں ہو لیکن اُس مرحلے کی حقیقت بھی ہو۔ مسلسل کشمکش میں جہدِ مسلسل ہی ناگزیر ہے۔
جن افراد اور طبقات نے جُہدِمسلسل کیا، وہ اس مرحلے پر فلاح پا گئے جس مرحلے کے لئے جدوجہد کی گئی۔ کسی مرحلے پر جُہد سے انکار دراصل اُس مرحلے کا فرار ہے۔ مفرور افراد یا قومیں بہرحال کسی مرحلے کے اُفق پر کبھی نمایاں طور پر نہیں اُبھریں۔ جہاں طبیعات کو سمجھنے اور اس سے طبیعی فوائد حاصل کرنے کے لئے جس قدر جُہد ہوا، اُسی قدر طبیعات سودمند رہی۔ جہاں جذبات کو سمجھنے کی کوششیں ہوئیں وہاں معتدل رویوں کی فصلیں کاشت ہوئیں۔ جہاں عقلی مجاہدے ہوئے وہاں افراد اور قوموں نے عقلوں کو حیران کر دینے والی ایجادات کیں۔ جہاں روحانی علوم کا ملکہ حاصل کیا گیا، وہاں روحانی ترقی نے نسلوں کو مہکا دیا۔
ہمیں دراصل زندگی کے ہر مرحلے پر جُہد کرنا ہے ۔ ہم میں سے ہر کوئی انسانی پیدائش کی کہانی میں رحمِ مادر تک پہنچنے والا وہ خوش نصیب نطفہ ہے جس نے ہار نہیں مانی۔ ہار ماننے والوں کا اب کہیں کوئی ذکر نہیں۔ وہ مٹ چکے۔ ہم باقی ہیں۔ ہر مرحلے پر جیتنے والے ہی اگلے مراحل میں داخل ہوتے ہیں۔ یہی زندگی کا عظیم درس ہے۔ انسانی جسم کا ہر عضو، ہر جذبہ، عقل کا ہر زاویہ اور روح کی ہر لطافت مرحلہ وار کارکردگی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ جہاں یہ سلسلہ رُکا، وہاں اُس عضو یا زاویے کا اختتام ہو گیا۔ جو اعضاء یا زاویے جس قدر کامیاب ہوتے چلے جائیں گے، اُسی قدر امر ہوتے جائیں گے۔ مثالی کارکردگی پر جسم، جذبہ، عقل اور روح بھی مثالی عطا ہو گی۔ جہاں جسمانی، جذباتی، عقلی اور روحانی عارضے ہوں گے وہاں ویسے ہی منطقی نتائج نکلیں گے جو رک جانے کی صورت میں نکلتے ہیں۔
خودی، فنا کے مراحل میں اک ایسی جدوجہد کا نام ہے جو ہر اُس مرحلے پر باقی رہے جسے فنا ہونا ہے۔ من عرف نفسہ کا نصاب فنا و بقا کی کشمکش کے اسرار و رموز سے بھرا ہوا ہے۔ جو جس مرحلے کا راز سمجھ گیا، فلاح پا گیا۔ فانی فلاح فنا کے دائروں میں فانی جدوجہد کے نصاب کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ دائمی فلاح بہرحال ایک ایسے صراط مستقیم ﷺ پر چل کر ہی ممکن ہے جو ہمیں کسی ایسی منزل تک پہنچا دے جہاں فنا نہیں ۔ اب یہ ہمارا انتخاب ہے کہ ہم جسم، جذبہ، عقل اور روح کی دائمی بقا چاہتے ہیں یا اک ایسی فنا جو کسی خاص مرحلے تک پہنچ کر دم توڑ جائے۔ جو کامیابی کسی مرحلے پر ساتھ چھوڑ جائے، وہ اُس مرحلے کی کامیابی تو ہے لیکن حقیقی و دائمی کامیابی بہرحال نہیں کہلا سکتی۔
کاش ہم اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کی معنویت سے اپنی زندگیاں سنوارلیں ۔ اس میں زمانے کی تینوں حالتوں کا ذکر ہے۔ یہ کلمہ ایک عظیم حقیقت کی جانب اشارہ کرتا ہے ۔ بے شک ہم اللہ کے ہیں۔ ہم مانیں یا نہ مانیں۔ ہیں تو اُسی کے ہیں۔ تھے، تو اُسی کے تھے، جب ہم نہیں ہوں گے تو اُسی کے ہوں گے ۔ ہمارا ماضی بھی اُس کا تھا۔ حال بھی اُسی کا ہے اور ہمارا مستقبل بھی اُسی کا رہے گا۔ ہم آئے بھی اُسی کے حکم پر تھے ۔ جب تک یہاں ہیں اُسی کے روبرو ہیں اور چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ہم نے جانا بھی ، اُسی کے حکم کے عین مطابق، اُسی کے روبرو ہے۔ جو جس انداز میں وہاں پہنچا، اُس کے ساتھ ویسا ہی حساب کتاب ہو گا۔ رحم کا معاملہ الگ ہے لیکن اُسے بھی یہ کہہ کر مشروط کر دیا گیا کہ اگر تم دوسرے انسانوں پر رحم نہیں کرو گے تو تم پر رحم نہیں کیا جائے گا۔ رحم بھی رحم والوں کے لئے مختص وہ کوٹہ ہے جس سے اعمال و افعال کی کمی کو بہرحال پورا کر دیا جائے گا۔
 
اللہ اکبر ۔