دیکھو کیسے درد کا بستر درد جگائے رکھتا ہے
گہری چپ کی خوشبو سےپر پل مہکائے رکھتا ہے
درد کا لمس بھی درد ہی دے گا
درد کی لذت درد ہی دے گی
درد عبادت
درد۔عنایت
درد حقیقت
درد شفاعت
درد طریقت
درد شریعت
دیکھو کیسے درد کی بانہیں
درد کا تکیہ بنتی ہیں
دیکھو کیسے درد کے گھنگھرو
درد کی چھم چھم کہتے ہیں
دیکھو کیسے درد کے آنسو
بن کے زم زم بہتے ہیں
تیری خوشبو کا احساس
مجھے جب چھو کر گزرے گا
میں درد کی لذت پا لوں گا
میں اپنی محبت پا لوں گا
میں عین عبادت پا لوں گا
میں حرف شفاعت پا لوں گا
درد کے لمس نمو کی خاطر
میری رگ رگ درد بھری ہے
لیکن پھر بھی میری کہانی
تیرے سکوں سے ایسے بھری ہے
جیسے گہرے پانی کا ہر راز ہی گہری چپ میں ہو
جیسے درد کہانی کا ہر ساز ہی گہری چپ میں ہو
دیکھو کیسے درد نے کروٹ بدلی درد کی بانہوں میں
دیکھو کیسے درد ملا ہے درد کو درد کی راہوں میں
لیکن پھر بھی کیسا سکوں ہے
عجب مقدس جذب دروں ہے
درد کی سانسیں حدت والی
دھڑکن دھڑکن شدت والی
حجرہ درد سے روشن تر ہے
درد مکیں ہے درد مکاں ہے
درد ہی سویا درد ہی جاگا
درد خوشی ہے، درد فغاں ہے
دیکھو کیسے درد کا۔بستر
درد جگائے رکھتا ہے
گہری چپ کی خوشبو سے
ہر پل مہکائے رکھتا ہے