قرآنی کہانی میں
جب مالک کائنات نے ابلیس سے سوال کیا کہ تمہیں کس شے نے سجدہ کرنے سے روکا؟

تو جانتے ہو اُس کا جواب کیا تھا؟

اُس نے مٹی کا ذکر کیا تھا۔ حقارت سے اور تکبر سے۔

یہ مٹی ہماری پہچان ہے۔ اس مٹی کو سمجھنا لازمی ہے۔
اس مٹی کی روحانیت اس کے جسمانی پیکر سے کہیں زیادہ معتبر، افضل، مقدس اور گہری ہے۔

یہ مٹی ابلیس کے لئے حقارت کا باعث تھی۔
اُس نے توہین کی تھی مٹی کی۔
کبھی غور کیا ہے اس پہلو پر؟

مٹی تکبر کو پسند نہیں کرتی۔
متکبر انسان کو اس زمین نے ہمیشہ آن دبوچا ہے۔
اور یوں کہ پسلیاں آپس میں جُڑ جاتی ہیں۔

وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ ۔۔۔ والی آیت پڑھی ہے نا؟
سورہ فرقان دیکھنا ۔۔

اللہ کی زمین پر رحمان کے بندے
عاجزی سے رہتے ہیں
اور جب اُن کی گفتگو، اُن کا تخاطب جاہلوں سے ہوتا ہے
تو وہ کہتے ہیں السلام علیکم۔۔۔
رحمان کے بندے
متکبر نہیں ہوتے
اور وہ شریر لوگوں کے جوش دلانے پر
آپے سے باہر نہیں ہوتے
وہ گالم گلوچ نہیں کرتے۔

یہ جو مٹی ہے نا ۔۔۔ اسے سمجھنا لازمی ہے ۔۔۔

اس مٹی کی سرگوشیاں سنا کرو ۔۔۔۔

یہ خاک جو انسانی جسم میں ڈھل گئی ہے یہ کس کا انتخاب ہے؟
اللہ کا انتخاب ہے یہ مٹی ۔۔۔

یہ ہارڈویئر کمال ہارڈویئر ہے ۔

اور پھر اس ہارڈویئر میں
کمال سافٹ ویئر علم آدم الاسماء ۔۔

وہ جو مقدس توانائی پھونکی گئی ہے نا اس میں
وہ کمال توانائی ہے ۔۔۔

جانتے ہو، رقت کیا ہے؟
یہ راتوں کو جاگنے والے
نالہ شبگیر والے کرتے کیا ہیں؟
یہ مٹی کو بھگو کر رکھتے ہیں۔

مٹی بھیگی رہے
تو مسکینی قائم رہتی ہے۔
مٹی سخت ہو جائے
تو تکبر کا شکار ہونے میں دیر نہیں لگاتی۔
اس مٹی کو خوب بھگویا کریں۔
رات کی تنہائیوں میں
جب آنکھوں سے چھما چھم آنسو بہتے ہیں
تو مٹی اس قدر نرم ہو جاتی ہے کہ اُس پر
اللہ کی رحمتوں کے مقدس پھول کھل اُٹھتے ہیں۔

رقت والے ہو جائو ۔ یہ بڑی معراج ہے ۔۔

دیکھو! میرے اور آپ کے کریم آقا ﷺ ہمارے لئے
انسانی آبادیوں کے لئے
رویا کرتے تھے
تڑپا کرتے تھے۔
پہلو بدل بدل کر ۔۔۔

کائنات میں سب سے زیادہ اگر کوئی رویا ہے
کائنات کے لئے تو وہ
میرے اور آپ کے کریم آقا ﷺ ہیں۔

مٹی کو سمجھیں ۔۔۔

اس مٹی سے ابلیس کی جنگ ہے ۔
وہ اس مٹی کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اشرف المخلوقات کہلائے ۔

اسی لئے وہ ایسا نظام وضع کرتا رہتا ہے جہاں
انسانی ذات کی نشوونما نہ ہو سکے ۔
جسمانی طور پر بھی مٹی مر جائے
اور روحانی طور پر بھی ۔

یہی وجہ ہے کہ وہ سب سے پہلے جب کسی انسان کا شکار کرتا ہے
تو اُسے انعام کے طور پر تکبر میں مبتلا کر دیتا ہے ۔

یہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر
تہجد کی ساعتوں میں
مصلے بھگونے والے
اپنی مٹی کو تروتازہ رکھتے ہیں۔

اسی لئے دن بھر اُن کی عاجزی اور مسکینی
کے پھولوں سے
بھینی بھینی خوشبو
ہمارے آس پاس پھیلی رہتی ہے۔

اور جانتے ہو درود شریف کی اتنی فضیلت کیوں ہے؟

درود شریف وہ دوائی ہے
وہ نسخہ ہے
جس سے
انسانی ذات میں موجود تکبر
ختم ہو جاتا ہے
درودشریف انسانی مٹی اور روح کو تروتازہ رکھتا ہے۔
اُسے مسکین بنائے رکھتا ہے۔
اُسے ابلیس کے وساوس سے بچائے رکھتا ہے ۔

السلام علیک ایھاالنبی ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
یا حی یا قیوم
اللہ اکبر –