سُن !ڈھولن آنکھ کی پتلی میں جو
درد کا دریا رہتا ہے
وہ کہتا ہے
مجھے بہنے دے
خاموش کہانی کہنے دے
میں کب تک اُس کو روکوں گا؟
میں کب تک راز کو بھگتوں کا
سُن! ڈھولن آنکھ کی پتلی میں
جو راز بسیرا کرتے ہیں
وہ بات بھی تیری کرتے ہیں
وہ ذکر بھی تیرا کرتے ہیں
میں کب تک اُن کو روکوں گا
میں کب تک چپ کو بھگتوں گا
مجھے کہنے دے جو کہنا ہے
اسے بہنے دے جو بہنا ہے
سُن ڈھولن! آنکھ کی پتلی میں
ہر وقت ہی محشر برپا ہے
جو ہونا ہے وہ ہونے دے
ہر درد کو کھل کر رونے دے
مجھے پانی پانی ہونے دے
مجھے اپنا آپ ڈبونے دے
سُن! ڈھولن کب تک ساحل پر
میں چپ کی باڑ لگاؤں گا
میں کب تک گونگے رازوں کی
خاموش صدائیں گاؤں گا
اب لہروں والا رقص کرا دے
ڈھولن! مست ملنگ بنا دے
دھڑکن دھڑکن عشق جگا دے
زندہ، قائم ذکر کی مالا
آنکھ کی پتلی، درد حوالہ
ڈھولن! آجا! موج کرا دے
اپنا مست ملنگ بنا دے