چار خاندان تھے۔ مسلم، مسیح، ہندو، سکھ۔
چاروں خاندانوں کا اپنا نظام تھا۔ ہر ایک کا اپنا عقیدہ اور اپنی نظریاتی بنیاد تھی۔
چاروں خاندانوں کو اولاد نصیب ہوئی۔ مسلم خاندان نے اپنے بچوں کا نام مسلمانوں والا رکھا۔ ہندو نے ہندوئوں والا، مسیح نے مسیحیوں والا اور سکھ خاندان نے سکھوں والے نام کا انتخاب کیا۔ ظاہر ہے ایسا ہی ہونا تھا۔ چاروں خاندانوں کی بچوں کی پیدائش پر خوشی دیدنی تھی۔ ۔مسلم بچوں کو اذان، قرآن اور کلمے سے متعارف کرایا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ سچے دین کے پیروکار ہیں باقی سب جھوٹ ہیں۔ ہندو بچوں کو رامائن، گیتا اور بھجن سے متعارف کروایا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ وہ راہ حق پر ہیں باقی سب راہ باطل کے مسافر ہیں۔ مسیح بچوں کو خداوند یسوع مسیح، انجیل مقدس اور بی بی مریم کے بارے میں بنیادی تعلیم و تربیت دی گئی اور انہیں بتایا گیا کہ بس وہی ہیں اس خداوند کے محبوب باقی سب گناہگار ہیں۔ سکھ بچوں کو بابا گرو نانک اور گرو گرنتھ سے متعارف کرایا گیا اور تعلیم دی گئی کہ خیر والا حشر تو بس بابا جی گرو نانک والوں کا ہے۔ اور یوں چاروں خاندانوں نے اپنے تیئیں اپنے اپنے بچوں کو تعلیم و تربیت دی۔ اور پروان چڑھایا ۔ میں اور آپ بھی اسی طرح پلے بڑھے ۔۔۔! ماں باپ کا جو مذہب ہوتا، اُسی کی چھاپ لگتی جاتی۔ ہر پیغمبر علیہ السلام نے مبعوث ہو کر سب سے پہلا کام جو کیا وہ تھا اُس وقت کے مروجہ دینی شعار سے انسانی آلائشوں کو باہر نکالنا۔ بت شکنی کرنا، لوگوں کو ایک اللہ واحد کا راستہ دکھانا۔ اور انسانوں کو دین فطرت کے قریب تر کرنا۔ ہر قسم کی انسانی آلائش سے پاک دین ۔ وہ دین جس میں فطرت کی وسعتیں ہوں، الوہی برداشت ہو، حلم ہو، تازگی ہو جس میں سب کو رزق ملے سب کو تحفظ ملے سب کو مہلت ملے۔ میں اکثر اُلجھ جاتا تھا کہ دین فطرت کیا ہے پھر نوجوانی کی تحقیق کے دور میں مری کے پرفضا مقام پر ایک اللہ کے مسکین بندے نے دین فطرت کی سمجھ عطا فرمائی بس اتنا پوچھا تھا انہوں نے قدرتی غذا اور مصنوعی غذا میں فرق معلوم ہے، نا؟ میں نے اثبات میں سر کیا ہلایا، بس نفی اثبات کی گتھی سلجھ گئی۔ دین فطرت میں جھول نہیں۔ کثافتیں نہیں۔ ریاکاری اور منافقت نہیں۔ ظلم اور کفر نہیں۔ لیکن چاروں خاندانوں نے بچوں کو مصنوعی طریقے سے پروان چڑھایا۔ سب نے فطرت کو اپنے اپنے مزاج کا لباس پہنایا۔ ماں باپ نے دین فطرت پر پیدا ہونے والے بچوں پر اپنی چھاپ لگا دی اور اس بات کا خصوصی اہتمام کیا کہ چھاپ گہری ہوتی جائے اب عالم یہ ہے کہ دین فطرت پر تحقیق کوئی کرنے ہی نہیں دیتا بچوں کو۔۔۔ جس نے ذرا ہمت کی وہ کافرو مرتد ٹھہرا۔ یہاں تک کہ واجب القتل بھی۔ مسلم خاندان کے نزدیک اگر قرآن کتاب حق ہے تو مسلم خاندان کو اس بات کا لحاظ بہرحال کرنا ہو گا کہ ہندو، سکھ اور عیسائی خاندان میں پرورش پانے والوں کو بھی بہرحال یہی بتایا گیا ہو گا کہ گیتا، گرنتھ اور انجیل مقدس کتاب حق ہے ۔ دین کوئی زورزبردستی کا سودا ہوتا تو پھر دنیا کے طاقتور ملکوں کو یہ حق حاصل ہوتا کہ وہ تمام غریب ممالک کو اپنے مذہب کی جانب بزور بازو مائل کرتے۔ یہ ضد، تعصب، اناء کہاں سے آیا مذہبی حلقوں میں؟ اس کے پیچھے انسانی ذات کا شر ہے۔ ابلیسی شر۔ اس چھاپ کے ڈانڈے خاندان میں موجود اُس گہری چھاپ کے نظام سے جا ملتے ہیں جو مکمل طور پر پھیل چکا۔ غالب آ چکا۔ تحقیق سے نابلد ہونے کا سب سے زیادہ نقصان مسلمان بچوں کو ہوا۔ ان کے جدید مسائل کا حل انہیں کہیں نہیں دکھائی دیتا۔ سب متنجن ہے۔ چمچوں میں رنگ پہلے سے ہوتے ہیں۔ بچوں کا پانی اس چمچ میں ڈالا جاتا ہے اور بچوں کا وہی رنگ ہو جاتا ہے۔ جسے بچپن میں ہی بتایا گیا کہ شیعہ کافر ہیں وہ اس بات پر ڈٹ جاتا ہے۔ جسے بچپن میں بتایا گیا کہ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خلافت کا حق نہیں ملا وہ اسی پر لڑتا مرتا ہے۔۔جسے بچپن میں ہی بتا دیا گیا کہ فلاں ایسا ہے اور فلاں ایسا ہے تو وہ مجبور ہو گا کہ وہی کلمات دہراتا چلا جائے۔ اور اپنے کلمات کو سچ اور دوسروں کے تمام تر کلمات کو باطل کہتا چلا جائے۔ سب نے اپنے اپنے حصے کی تاریخ پر اپنی اپنی چھاپ لگا رکھی ہے۔ سب کے پاس ایسی کتب موجود ہیں جن کے مطابق وہ سچے اور باقی سب جہنمی ہیں۔ ہر طرف کثیر تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو اندھا دھند اُس راہ پر چلتے ہیں جس کی منزل کا انہیں ادراک ہے نہ شعور۔ نظریات اور عقائد بچپن میں اس طرح راسخ ہو جاتے ہیں کہ انسان بس انہی بھول بھلیوں میں کھو کر رہ جاتا ہے۔ یوں ایک نظریاتی بھنور بنتا چلا جاتا ہے جس میں برداشت کی کشتیاں ڈولنے لگتی ہیں۔ نبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا تھا کہ ہر بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ میں اکثر سوچتا تھا کیا ہے دین فطرت؟ بتایا گیا کہ اسلام ، دین فطرت ہے۔ بتایا گیا کہ انسانی آلائشیں کس طرح الوہی نظریات کے صاف و شفاف پانیوں میں اپنے حصے کا میل کچیل ڈالتی ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے ( میں چونکہ مسلم خاندان میں پلا بڑھا ہوں اس لیئے میں سمجھتا ہوں کہ بس اسلام ہی دین فطرت ہے اور یہی میرا ایمان ہے۔ ظاہر ہے ہونا بھی چاہیئے) لیکن دوسرے خاندان والوں نے بھی تو اپنے بچوں کو یہی بتایا ہو گا نا کہ ان خاندانوں میں جو نظریات تھے دراصل وہی برحق نظریات تھے؟ اُن کے نزدیک میں باطل ہوں میرے نزدیک وہ باطل۔ تو پھر مرکزی راستہ، اور صراط مستقیم کون سا ہے؟ وہ جس پر میں اور آپ چل رہے ہیں؟ تو پھر ہر ایک کو حق پہنچتا ہے کہ وہ جس راستے پر گامزن ہو اُسے صراط مستقیم کہے۔ یا حق کہے ۔ پھر اس کا انجام؟ جس کے پاس منوانے کی دنیاوی طاقت ہو وہ ظلم و ستم کرے؟ بم پھاڑے؟ قتل کرتا پھرے؟ ہر ملک اقلیتوں کو قتل کر دے؟ تو پھر کیا ہو گا؟ ہر جگہ کوئی نہ کوئی اکثریتی مذہب اقلیتی ہوتا ہے۔ پھر کیا ہو گا؟ فساد پھیلے گا۔ یہی وہ تنگ نظری ہے جس کا شکار ہمارا عالمی گائوں ہے۔ دین تو خیر بڑا معاملہ ہے مسلکی اختلافات اس قدر بھیانک صورت اختیار کر جاتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔ شعب ابی طالب گھاٹی اس کا استعارہ ہے۔ بنی اسرائیل کو بھی یہی گھمنڈ تھا کہ وہ اسپیشل ہیں۔ اللہ کریم کے نزدیک (قرآن کے مطابق) وہی اسپیشل ہے جس کا تقویٰ سب سے اچھا ہے۔ اسلام دین فطرت ہے جب وہ ہر قسم کی فرقہ واریت سے پاک اور منزہ ہو۔ قرآنی آیات کی غیرفطری تشریحات نے بہت گڑبڑ کر دی ہے۔ یہ جو سپلنٹر گروپ ہوتے ہیں یہ دراصل کیا ہوتے ہیں؟ یہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے والے کون ہیں؟ ہر دین و مذہب میں گروہ بنتے چلے جاتے ہیں۔ اسلام کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ یہ جو ہوا اُکھڑنا ہے یہ دراصل کیا ہے؟ قرآن کیوں فرقوں میں بٹ جانے کی مخالفت کرتا ہے؟ قرآن کیوں عالمگیریت کی تعلیم دیتا ہے؟ ہمیں سوچنا ہو گا۔ سب کو سوچنا ہو گا۔ ہر خاندان کو دین فطرت پر غور کرنا ہو گا۔ ہم سب انسان دراصل آدم کی اولاد ہیں۔ اور آدم و اولاد آدم کا حوا اور حوا کی بیٹیوں کا ایک ہی کھلا دشمن ہے ابلیس ۔ ابلیس متکبر تھا۔ سرکش تھا۔ ہر متکبر اور سرکش انسان دراصل ابلیسی ہے اس کا تعلق کسی خاندان سے ہو کسی دین و مذہب سے۔ وہ جہاں ہو گا، ابلیس کا ہمنوا ہی ہو گا۔ یہ ہے فطرت۔ جھوٹا مسلمان، جھوٹا ہندو، جھوٹا عیسائی، جھوٹا سکھ کیا برابر نہیں ہوں گے؟ زانی و شرابی مسلم، زانی و شرابی ہندو، زانی و شرابی سکھ، زانی و شرابی عیسائی کیا برابر نہیں ہوں گے؟ مسلم بادشاہ ظالم ہو، ہندو بادشاہ ظلم کرے، عیسائی بادشاہ قہر توڑے یا سکھ بادشاہ مخلوق خدا کا جینا دوبھر کرے تو کسے بہتر جائے اور کسے بدتر؟ قرآن کتاب ہدایت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں سوال یہ ہے کہ قرآن پر ایمان والے کس قدر ہدایت والے ہیں؟ یہی حال دیگر مذاہب کی کتب کا ہے۔ کون سا مذہب کرپشن کی تعلیم یا اجازت دیتا ہے؟ لڑکیوں کو زندہ جلا دینا یا قبر میں دفنا دینا ایک جیسا ہی ہے۔ کرپٹ مسلمان، کرپٹ ہندو، کرپٹ عیسائی یا کرپٹ سکھ ایک محفل میں ہوں تو اللہ کا کرم کس پر نازل ہو گا؟ بھگوان کی کرپا کس پر ہو گی؟ خداوند کی مہربانیاں کس پر اتریں گی؟ یا بابا گرونانک کے چہرے پر کس کے لیئے مسکان آئے گی؟ عالمی گائوں کو تحقیق بچا سکتی ہے۔ سب مل کر تحقیق کریں۔ دین فطرت کی تلاش کریں۔ تحقیق کہیں نہیں۔ فتوے ہر طرف ہیں۔نوجوان کہاں جائیں؟ سب کے پاس دوائیاں ہیں۔۔۔۔علاج کے نسخے بھی ہیں۔۔۔مرض ہے کہ بڑھتے جاتے ہیں۔۔۔تحقیق کہیں نہیں۔۔۔۔ اجتہاد کے دروازے بند ہیں۔ عقل و بصیرت والے مزاکرات ہوتے نہیں۔۔۔جس کے ہاتھ جو نظریہ لگ گیا وہ اسی کو حق سمجھتا ہے۔ اسی کے لئے لڑتا ہے۔ دین فطرت کو کون جانے گا؟ اللہ کریم کے نظام کو کون مانے گا؟اور جو دہریہ ہے۔۔۔جو اللہ کو مانتا ہی نہیں۔۔۔۔اسے بھی تو شاید یہی بتایا گیا ہو گا۔۔۔۔ بچوں کا کیا قصور۔۔۔۔ وہ وہی بنتے ہیں جو ان کا ماحول انہیں بناتا ہے۔۔۔ والدین، اساتذہ، مذہبی پیشوا اور دوستوں کی کھوکھلی شخصیات۔۔۔بچوں کو کھوکھلا بنا دیتی ہیں۔تحقیق کہیں نہیں۔۔۔۔۔ مسجدوں پر بورڈ آویزاں ہیں۔ دور سے ہی بتا دیا جاتا ہے کہ خبردار یہ فلاں مسلک کی مسجد ہے۔ مخالف مسلک والا نہیں آ سکتا ۔ دیگر مذاہب کا تو پوچھو مت۔ فطرت دروازے بند نہیں کیا کرتی۔ فطرت رزق پر پابندی نہیں لگاتی۔ یہ غیر فطری رویے ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں۔ یہی غیرفطری مزاج دراصل فساد کی جڑ ہے۔ خطبہ حجتہ الوداع کیا تھا؟ کسی گورے کو کالے پر کسی کالے کو گورے پر کوئی فوقیت نہیں۔ کسی عجمی کو عربی پر کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں۔ ہمارے ہاں فوقیت اور فضیلت ماپنے کے پیمانے ہی الگ الگ بنا لیئے گئے ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے ۔ یہ میرے ایمان کا حصہ ہے۔ میں اسی لیئے تحقیق کرتا رہتا ہوں۔ تحقیق اسلامی طریقہ ہے۔ تحقیق فطری راستہ ہے۔ میں نے کم و بیش ہر مذہب و مسلک پر تحقیق کے بعد ایک راہ پر رخت سفر باندھا ہے یہ راستہ دشوار گزار ہے۔ لیکن میرا ایقان ہے اور ایمان ہے کہ جب اسلام کو دین فطرت کہا گیا تو ایسے ہی نہیں کہا گیا۔ خالص دودھ میں پانی یا مرچوں میں برادہ ملاوٹ ہے دین فطرت میں انسانی آلائشیں بھی ملاوٹ ہیں۔ خالص دین کی راہ کے لیئے انسانوں کو اپنے اپنے کنویں سے باہر جھانکنا ہو گا۔ دلائل و براہین اور تحقیق کی راہ اختیار کرنا ہو گی۔ میں اپنے دوستوں اور بچوں کو بھی فطری راستہ دینا چاہتا ہوں تا کہ وہ خود تحقیق کریں۔ آپ کی جو بھی الہامی کتاب ہے تحقیق کریں فطرت کا مشاہدہ کریں سوچا کریں صراط مستقیم کیا ہے مل جائے گا۔ تلاش کا سفر کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ آپ مسلم ہیں تو قرآن کو پڑھیں۔ غوروفکر کے ساتھ ۔ قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار آپ خود کہہ اُٹھیں گے کہ دین فطرت تو دراصل ہے ہی انسانی آبادیوں کے لیئے باعث رحمت۔ اور کائنات کی رحمت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شعور عالمگیریت والا ہے۔ اسے کسی ایک مسلک سے جوڑنے والے رحمت کے دریا کو اپنی اپنی ذات کے تنگ و تاریک کوزے میں بند کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ اکبر ـ