جنم جنم کا میل چڑھا تھا
ذکر کے صوفی سوپ سے اپنی
روح کا برتن مانجھ رہا ہوں

سوچ رہا ہوں

رگڑ رگڑ کے میل اتاروں
اپنی روح کو ایسے نکھاروں

اس کی چمک سے وقت کی مادی الماری میں
رکھا نفس کا ہر اک برتن روشن ہو کر
آتے جاتے لمحوں کو یوں راغب کر لے
ہر لمحہ موجودہ لمحہ ہو جائے
کن نگری میں واہ واہ ، واہ واہ ہو جائے

روح کا برتن مانجھ رے ڈھولن
تو ہی حتمی سانجھ رے ڈھولن