انسانی نفس، آمیزش کرنے کے فن میں یکتا ہے۔ اصل کی ہو بہو نقل تیار کرنے میں انسان کا کوئی ثانی نہیں۔ کرہ ارض پر موجود تمام تر مخلوقات میں سب سے زیادہ ملاوٹ انسانی آبادیوں نے متعارف کروائی ہے۔ بلکہ ملاوٹ کا تصور ملتا ہی وہاں ہے جہاں انسان آبادہوتے ہیں۔ انسانی شعور کو ودیعت کردہ اختیارات خلیفۃ الارض کے ہیں۔
اور خلفائے ارض اپنی اپنی اغراض کی پٹیاں آنکھوں پر باندھے نقل تیار کرنے میں ایک دوسرے سے ہمیشہ سبقت لے جاتے رہے ہیں۔ اصل کی ہو بہو نقل۔ خالص مال میں ملاوٹ۔ الوہی پیغام میں انسانی آمیزش۔ ایسا کیوں ہوتا رہا ہے؟ کون کرتا ہے؟ کس کے کہنے پر نقل تیار ہوتی ہے؟ کون جعل سازی پر اُکساتا ہے؟ ان سوالات کے جوابات ڈھونڈنے والے پر الوہی حقائق منکشف ہوتے ہیں۔ انسانی رویوں کی لازوال داستان میں تکبر اور اناء کی خون آشام بلائیں بھی ہیں اور تسلیم و رضا کی پر بہار فضائیں بھی۔ یہ داستان، ضد، تعصب، گھٹن، حبس، حسد، منافقت، نافرماں برداری سے بھی بھری پڑی ہے اور اسی داستان میں صبر و شکر، محبت، خلوص، دوستی، ایثار و قربانی اور کامل اطاعت کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ جہاں جہاں انسانی نفس اپنے حقیقی خالق و مالک سے جس قدر بغاوت کرتا رہا وہاں وہاں آمیزش بھی ہوئی، ملاوٹ بھی دھاندلی بھی اور جعل سازی بھی۔ جھوٹ دراصل جھوٹے خوف کی پیداوار ہے۔
الہامی کتابوں کے اصلی الفاظ میں ردوبدل یا ترمیم اس لئے ممکن نہ تھی کہ اُس کی حفاظت کا ذمہ بذات خود خلفائے ارض کو تخلیق کرنے والے نے اپنے ذمے لے رکھا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ آہستہ آہستہ خلفائے ارض نے اپنی اپنی اغراض کے تحت اور سابقہ زبانوں کے رفتہ رفتہ معدوم ہو جانے کے بعد تراجم، تفاسیر اور تشریحات کے ذریعے اصل کی نقل تیار کرنا شروع کر دی۔ مقابلے کی اس فضا میں سب ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر آگے نکلنے کی کوششوں میں اس قدر مصروف نظر آئے کہ الہامی کتابوں کی اصل کہیں کھو کر رہ گئی۔
جب تک الہامی کتابیں اپنی اصل حالت میں موجود رہیں، بس دو فرقوں کا وجود دکھائی دیتا تھا۔
ایک وہ جو ایمان لے آتے تھے۔ دوسرے وہ جو کفر کرتے تھے اور الوہی پیغام کو نہیں مانتے تھے۔ الوہی پیغام لے کر دنیا میں جب برگزیدہ ہستیاں تشریف لاتیں تو پیغام کا نکھار اور اُجلا پن اس دور میں نور کی فتح کے جھنڈے گاڑ دیتا۔ پھر یوں ہوتا کہ رفتہ رفتہ اُن شفاف پانیوں میں انسانی نفس کی شرانگیزیاں گل کھلانے لگتیں۔
اصل کی نقل تیار ہوتے ساتھ ہی فرقے بننا شروع ہوجاتے۔ انسانی آمیزش ایسے ایسے گُل کھلاتی کہ مستقبل میں پیدا ہونے والے خلفائے ارض پیدا ہوتے ساتھ ہی الجھنوں کا شکار ہو جاتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ثقافتیں، زبانیں اور رسوم و رواج تبدیل ہوتے جاتے اُن میں بھی آمیزش ہوتی جاتی۔ نئی زبانیں ، نئی اصطلاحات، نئے اندازمتعارف ہونے لگتے۔ پرانی زبانی آہستہ آہستہ مکمل طور پر روپوش ہو جاتیں یا نئی زبانوں کی دھند میں کھو جاتیں۔ پھر یوں ہوتا کہ نئی زبانوں میں تراجم ہوتے قدیم الوہی پیغامات کو جدید زبانوں میں ترجمہ کرتے وقت انسانی نفس ڈنڈی مارے بغیر نہ رہتا۔ اس ساری صورتحال پر تین قسم کے اثرات مرتب ہوتے۔ فرعونیت، قارونیت اور ہامانیت والے اثرات۔ خلافت کا الوہی پیغام آہستہ آہستہ ملوکیت کے غبار میں کھو جاتا۔ زمین پر طاقت، معاش اور مذہب کے کرتا دھرتا کائناتی پیغام کے اجلے پانیوں میں اپنی اپنی مرضی کے رنگ گھولتے چلے جاتے اور یوں اصلی پیغام کی ہیئت ہی تبدیل ہو کے رہ جاتی۔ اصلی پیغام کی اصل انسانی آمیزش سے ماورا ہے۔ ترجمے اور تشریحات چونکہ انسانی اختیار میں ہیں اس لیئے ہر دور نے تراجم اور تشریحات کا سہارہ لیا ہے۔
آمیزشوں کے اسی دور میں ایک اور الہامی کتاب کا نزول ہوا۔ ایک حتمی ذکر کا نزول جس کی حفاظت کی ذمہ داری خالق و مالک نے اپنے ذمے لے رکھی تھی۔
قرآن کریم، الہامی کتابوں میں سب سے آخری کتاب۔ انسانی رشد و ہدایت کا سب سے آخری نصاب۔ پھر وقت آگے بڑھا۔ خلافت کی جگہ ملوکیت متعارف ہو گئی۔ وہی فرعونیت، قارونیت اور ہامانیت کا غلبہ لوٹ آیا۔ جنگیں ہوئیں۔ انسانی لاشوں کے انبار لگا دیئے گئے۔ تراجم ہوئے۔ تفاسیر لکھی گئیں۔ تشریحات ہوئیں۔
کیا عرب کیا عجم۔
قرآن کے الفاظ میں آمیزش ناممکن تھی۔ یہ کسی انسان کے بس کا روگ ہی نہیں تھا کہ وہ قرآن کے الفاظ کو تبدیل کر سکتا۔
لیکن انسانی اختیار میں تراجم، تفاسیر اور تشریحات کے ذریعے آمیزشیں کرنا شامل ہے۔
اور پھر وہی ہوا۔
جب تک قرآن کا کوئی انسانی ترجمہ نہ ہوا تھا۔ دو گروہ دکھائی دیتے تھے۔ مومن اور کافر۔
باقی سب درجہ بندیاں تھیں۔ منافقت بھی کفر کا بدترین درجہ ہے۔
انسانی آمیزش سے اب بہت سے گروہ بن گئے۔ ہر فرقہ اور گروہ اُس پر خوش ہے جو اُس کے حصے میں آیا ہے۔ اور وہ اپنے حصے کی صداقت اور دوسروں کے حصے میں آئی معرفت کے کذب کا پرچار کرنے میں ہمہ وقت مصروف ہے۔ آج کے دور میں ہزار ہا الجھنیں ہیں۔ فرقے ہیں۔ حد بندیاں ہیں۔
الوہی نظام کی شفافیت کتاب کی اصلی شکل میں آج بھی موجود ہے۔ برقرار ہے۔ لیکن خلفائے ارض کی تیار کردہ نقول میں انسانوں کی محدودیت شامل ہو چکی۔
ہر فرقہ اللہ کی رسی کو تھامنے کا دعوے دار۔ ہر فرقہ کتاب اللہ کو سمجھنے کا دعوے دار۔ ہر فرقہ اپنے آپ کو ناجی کہتا ہے اور دوسروں کو جہنمی یا گمراہ۔ ہر فرقہ اُس پر خوش ہے جو اُس کے پاس ہے اور اُس سے ناخوش جو دوسرے کے پاس ہے۔
خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
پھر جب انسانی آمیزش ہوا کرتی ہے تو انسانی نفس کی شرانگیزی بھی کھل کر میدان میں آتی ہے۔ پھر ملوکیت کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ پھر خلفائے ارض پر بادشاہوں کی حکومت قائم ہو جاتی ہے۔ اور خلفائے ارض اپنی خلقی اہمیت کو بھلا کر غلام گردشوں میں دھکے کھانے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔
اور یوں ہوا اکھڑ جاتی ہے۔ معیشت تنگ ہو جاتی ہے۔ شرک عام ہو جاتا ہے۔ آمیزشیں عام ہو جاتی ہیں۔ کفر کے فتوے عام ہو جاتے ہیں۔
اور پھر دنیا میں سب سے زیادہ قتل عام مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا ہی ہونے لگتا ہے۔ جب یورپ اپنے سیاہ ترین دور سے گزر رہا تھا تو ان کے سوچنے والے دماغوں نے سوچا تھا کہ اس ساری صورتحال سے کیسے باہر نکلا جائے۔ اُس وقت مسلمان دنیا بھر میں چھائے ہوئے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں سے سبھی راز لے لیئے۔ اور ہماری صفوں میں تکبر، اناء، ضد، حسد کی وجہ سے نااتفاقی عود کر آئی۔ ہم ٹوٹتے چلے گئے۔ کٹتے چلے گئے۔ صراط مستقیم سے ہٹتے چلے گئے۔ اور اب یہ عالم ہے کہ ہماری ہوا مکمل طور پر اُکھڑ چکی۔ ہمارا نظام تعلیم، نظام عدل، نظام معیشت سبھی کچھ اپنے مرکز سے کٹ چکا۔ عدم برداشت، نفرتیں، قتل و غارت، دین کے نام پر تکفیریت کا سلسلہ عروج پر یہی زوال کے زمانوں کا زیور ہے یہی ہم پہننے پر مجبور ہیں۔ اور جب تک امت مسلمہ کسی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو کر اس زیور کی کانٹ چھانٹ کی ہمت نہیں کرتی ہمیں یہ زیور بہرحال پہننا ہی پڑے گا۔ نینشل ایکشن پلان میں سوچ یہی تھی۔ لیکن عمل، انسانی آمیزش کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ جس معاشرے میں الوہی پیغام پر فرقے بن سکتے ہیں وہاں انسانوں کے لکھے ہوئے قوانین کی تشریحات چہ معنی دارد؟
اللہ اکبر –