عرفانِ نفس کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ آپ کی ذات کا وہ آئینہ مصفیٰ ہو جاتا ہے جہاں سے فطرت کا اسلوب، منشور اور نصاب جھلکتا ہے۔ جب تک آنکھوں میں دھندلا پن رہتا ہے، منظر دھندلے دکھائی دیتے ہیں۔ بینائی ہماری کمزور ہوتی ہے اور ہم الزام نظاروں کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ انتخاب ہمارا غلط ہو اور ہم راستوں کو کوسنا شروع کر دیں کہ وہ ہمیں منزل مقصود تک نہیں پہنچاتے۔ قصور ہمارا ہو اور ہم اُنگلیاں دوسروں کی جانب اُٹھانے لگ جائیں تو کسی مسئلے کا کبھی کوئی حل نہیں نکلتا۔
یاد رکھیں! تشخیص کئے بغیر علاج کی کوششیں سازش تو ہو سکتی ہیں، علاج کا چارہ نہیں۔ آئینے کا اُجلا پن ہماری اصل ہے۔ اگر ہم متعصب ہیں تو قبل اس کے کہ ہم کسی فرد، نظریئے، طبقے یا سماج کے بارے میں کوئی بیان دیں، ہمیں اپنے تعصب کا پہلے بندوبست کرنا پڑے گا۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو پھر ہمارا ہر بیان ہمارے تعصب سے ہو کر گزرے گا اور متعصب ہوتا جائے گا۔ ہماری ہر خبر پر ہمارے تعصب کی چھاپ لگ جائے گی۔ ہمارے ہر بیان پر ہماری تعصب کا غلاف چڑھ جائے گا۔
اگر ہم ماحول میں رائج منافقانہ طرزِ فکر کے سانچے میں ڈھل گئے تو پھر ہمارے انداز، ادائیں، حرکات و سکنات، مناظرے اور مباحثے اُسی سانچے کے عین مطابق اظہار کی دنیا میں داخل ہوں گے۔ قول و فعل کا تضاد انہی سانچوں کی پیداوار ہے۔ اگر ہم جزوقتی مفاد کے قائل ہو کر کسی سے تعلق قائم کریں گے تو ہمارے تعلقات مفاد کے حصول تک برقرار رہیں گے۔ عارضی سہارے کبھی مستقل خوشیاں نہیں دے سکتے! مستقل خوشیوں کا استقلال مستقل مزاجی سے وابستہ ہے۔ ہم کسی کے نہیں تو کوئی ہمارا کیوں ہو؟
ہم جہاں سے دیکھتے ہیں، جس علمی و فکری سطح پر ہم موجود ہوتے ہیں، ہم وہیں سے دیکھتے ہیں اور ہمارا اظہار بھی اُنہی سانچوں میں ہوتا ہے جو سانچے ہمارے آباؤ اجداد، ماحول یا تعلیم و تربیت سے بن چکے ہوتے ہیں۔ اندر کا بخار خارجی منظرنامے کو پیلاہٹوں کے سپرد کر دیتا ہے ۔ اسی بات کی جانب اُستاد محترم واصف باصفا نے اشارہ کیا تھا کہ جب انسان اندر سے ٹوٹ جائے تو تعمیرِ حیات کی کتابیں مدد نہیں کر سکتیں۔ جب انسان کی بنیادیں ہی کھوکھلی ہو جائیں، تو اس پر کیسے کردار کی عمارت اُستوار ہو گی؟ ہو بھی گئی تو اک ذرا گرم ریت یا سیلابی ریلے نے سب کچھ اپنے ساتھ بہا لے جانا ہے۔
جو انسان جس قدر اپنے نفس کا ادراک کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، اصلی کامیابی اُسی قدر اُس کے قریب آ جاتی ہے۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان اپنی اصل کا ادراک کر لے اور یہ مرحلہ جان پہچان اور گیان سے ہی طے ہو سکتا ہے ۔ جان پہچان کا عمل سوال سے مشروط ہے۔ جن معاشروں میں سوال کرنے پر پابندی ہو وہ معاشرے منجمد رہنے کے پابند ہوتے ہیں۔ جہاں علمی و فکری انجماد ہو گا وہاں ترقی و خوشحالی کے سبھی خواب جم جاتے ہیں۔ جمے ہوئے خواب اس وقت تک تعبیر سے ہمکنار نہیں ہوتے جب تک سوال کا سورج تحرک پیدا نہ کرے۔
ہماری اصل کیا ہے؟ کہاں ہے؟
ہماری اصل شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ ہم اس کا روایتی ترجمہ کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ نحن اقرب الیہ من حبل الورید ۔ شہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک یہ قربتیں ہمیں ہماری اصل سے روشناس کرنے کا الوہی انتظام ہیں۔ ولقد یسرنا القرآن لذکر فھل من مدکر ۔۔۔ ہم نے قرآن کو ذکر کے لئے آسان کر دیا ہے تو کوئی ہے جو نصیحت پکڑے؟ آسانیاں ہی آسانیاں ہیں ہمارے آس پاس۔ ہمیں بس آئینہ ذات کو مصفیٰ کرنا ہے۔ آئینے کو ہر قسم کے میل کچیل سے صاف کئے بغیر ہمیں جو دکھائی دے گا وہ اصل ہے نہ حقیقت ۔ لیکن ہم اُسے ہی اصل حقیقت سمجھنے پر بضد ہیں چونکہ اگر ہم اسے نقل سمجھیں گے تو ہمیں بہرحال مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خارجی سطح پر موجود جاہلانہ ضد اور عناد نقل کو اصل بناکر پیش کرنے پر بضد رہے تو افراد اور معاشرے کبھی اپنی اصل کے واصل نہیں ہو سکتے! آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ فلاں شخص سطحی باتیں کرتا ہے۔ یا فلاں کی شخصیت بہت سطحی اور پست ہے ۔ تو ہم ایسا کیوں کہتے ہیں؟ ہم اپنے آپ کو جس سطح پر موجود پاتے ہیں یا موجود ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں توہمیں لگتا ہے کہ کہنے والے نے وہ بات کی ہے جو بات حیوانی شعور کی سطح پر تو اہم ہو سکتی ہے لیکن انسانی سطح پر وہ بات فضول بات ہے۔ جس ماحول میں جبر ہو گا وہاں شعور کو ماپنے کے پیمانے بھی اسی جبر کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔ وہاں نقاد جبری طور پر تنقید پر مجبور ہوتے ہیں۔ وہاں بے ادبی کو ادب کہہ کر پیش کرنے کا جبر بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں شعر کا شعور کے ساتھ بھی جبر والا تعلق ہی قائم ہو۔
جبر کے عالم میں کوئی کیسے صادق عالِم بن سکتا ہے؟ یہ سوال اہم ہے۔ اگر اس سوال پر ہی پابندی ہو گی تو صادق علم محض ایک واہمہ ہے۔ تن کی دنیا ابوجہل کے زیر اثر ہو تو طائف کے نوجوان پتھر اُٹھائیں گے اور بغیر کسی تحقیق کے باشعور ہستیوں پر برسائیں گے۔ معاشرے جب شعور و آگہی سے محروم ہو جائیں تو اُن کی محرومیوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ ایسے عالم میں صادق عالِم بستیوں سے دور کسی ’’غارِحرا‘‘ میں فکر و شعور کی تسبیح رولتا ہے۔ تفکر کرتا ہے۔ Jigsaw Puzzle کو حل کرنے کے لئے یکسوئی ناگزیر ہے۔ طلب لازمی ہے۔ جب خارجی ماحول میں جبر نے فکری انحطاط کے جال بچھا رکھے ہوں تو گوشۂ تنہائی ہی واحد صراط مستقیم ہے۔
من میں ڈوبنے والے ہی گہری حقیقتوں تک پہنچتے ہیں۔ اور یہ ڈوبنا آسان کر دیا گیا۔ ولقد یسرنا القرآن لذکر فھل من مدکر۔۔۔ ساتھ دعوت دی گئی۔ بار بارمدعو کیا گیا۔ الوہی پیام بر نے بار بار پکارا۔ فھل من مدکر ۔ تو کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے؟ اصل ہمارے اندر موجود ہے ۔ لیکن ہمارے خارج میں موجود نقلی حقیقتوں اورداخلی سطح پر موجود اصلی حقیقت تک ہمیں مجاہدے کی منزل سے گزرنا پڑتا ہے۔ قرآن اسی مجاہدے کی تلقین کرتا ہے۔ والذین جاھدوا فینا لنھدینہم سبلنا ۔ جو ہماری راہ میں، نظام میں، ہم میں مجاہدہ کرے گا، جہد کرے گا ۔ اُسے راہ دکھائی جائے گی۔ اُسے راستہ ملے گا۔ جب الوہیت کوئی راہ دکھائے تو وہ مستند صراط مستقیم ہے۔ مجاہدہ لازمی ہے اور جو ایسا کرے گا، اُسی کے لئے سبیل یعنی راستے کی ہدایت ہے۔
ہم نے بس صادق نیت سے اصل کی جانب سفر کا آغاز کرنا ہے۔ منزل خود چل کر ہمارے پاس آ جائے گی۔ منزل ضرور قریب آتی ہے۔ بلکہ منزل کہیں دور ہے نہیں۔ نحن اقرب الیہ من حبل الورید۔ کاش ہم الوہی قربت کو محسوس کر سکیں۔ دیکھ سکیں۔ ہم اُسی وقت دیکھ سکیں گے اور محسوس کر سکیں گے جب آئینہ ذات مصفیٰ ہو گا۔ سورہ انعام کی آیت نمبر ۱۰۳ میں اسی قربت کی جمالیات کا ذکر ہے : لاَ تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ
عرفانِ نفس کا پراسیس
کمہار کیا کرتا ہے ؟ مٹی جمع کرتا ہے۔ خاص مٹی۔ اُس میں سے کنکر نکالتا ہے۔ اُسے اچھی طرح گوندھتا ہے ۔ جیسے مائیں بہنیں بیویاں اور خواتین آٹا گوندھا کرتی ہیں۔ مٹی جب ایک خاص سطح تک پہنچ جاتی ہے تو اُسے شکل دی جاتی ہے، جو بھی دی جاتی ہے۔ پھر اُسے کچھ دیر ہوا میں سوکھنے کے لئے رکھ دیا جاتا ہے۔ پھر اُسے بھٹی میں ڈالا جاتا ہے۔ مٹی کو اس سارے پراسیس سے گزارے بغیر بھٹی میں ڈال دیا جائے تو مٹی جما ہوا پتھر بلکہ کھنگر بن کر بھٹی سے نکلے گی۔ بھٹی کا کام ہے تپانا اور پکانا۔ شکل جو بن گئی بھٹی میں اُترنے سے پہلے، وہی پکے گے اور وہی تپے گی۔ تونبہ بجتا ہے لیکن جب چمڑی کسی خاص شکل میں ڈھلتی ہے، تپتی ہے، پکتی ہے، جڑتی ہے ۔۔۔ ساز یونہی نہیں پیدا ہوتے بانسریا میں ۔۔۔۔۔ بانس سے جدائی ۔۔۔۔ پھر چھید۔۔۔پھر پھونکیں۔۔۔۔ ھو۔۔۔ھو۔۔۔۔ھو۔۔۔۔۔۔۔ پھر انگلیوں کی حرکات و سکنات۔۔۔۔مختلف پیٹرن مختلف سُر۔۔۔۔ گائے بھینس بکری نے چارہ کھایا۔ پانی پیا۔ جگالی کی۔ دودھ بنا۔ دودھ مرکب ہے۔ اُس کی ترکیب میں بہت کچھ ہے۔ پھر دودھ کو پکایا گیا، تپایا گیا۔ اُس پر ملائی آ گئی۔ یہ بالائی ایک پراسیس کے بعد آئی۔ پھر اسی بالائی سے مکھن نکلا۔ لسی تیار ہوئی ۔ دیسی گھی بنا۔۔۔ شکلیں ہی شکلیں۔۔۔ مرکبات کی دنیا ۔۔۔۔۔ ہر مرکب میں ترتیب ہی ترتیب ہے۔ ترتیب ہی صراط مستقیم ہے۔ جو اُس راہ پر مرتب ہو گئے ، کامیابی کے راکب ہو گئے۔ ہر ہر مرحلے پر مجاہدہ ۔۔۔ ایک پراسیس ۔۔۔۔۔۔ ایک ترتیب سرکار نبی پاک ﷺ، کا ذکر ہمیں ہر مرحلے پر خاص شکلوں میں ڈھالتا ہے تپاتا ہے پکاتا ہے ہمیں ہر مرحلے میں ایک نیا پیٹرن عطا ہوتا ہے۔۔۔۔ یہاں تک کہ جب ہم سرکار نبی پاک ﷺ کو اپنے نفسوں سے بھی زیادہ عزیز سمجھنے لگ جاتے ہیں تو پھر ہمارے نفوس بھی خاص شکل میں ڈھل جاتے ہیں ۔۔۔۔ ہماری جانیں، ذکر جاناں ﷺ سے مہک اُٹھتی ہیں۔۔۔ ہم ہر قدم پر کچھ بنتے جاتے ہیں۔۔۔۔ پھر اگلا مرحلہ پھر اگلا پراسیس۔۔۔۔۔ اگلی ترتیب ۔
جو لباس میں نے اور آپ نے اس وقت پہن رکھا ہے، اُسے زیب تن کرنے کی ایک ترتیب ہے۔ پھر اُس لباس کے بنانے کی ایک ترتیب تھی ۔ دھاگے ہی دھاگے ۔ مرکبات کی دنیا۔ ترتیب ہی ترتیب ۔ ہر مرحلے پر، ہر قدم پر ۔ اک ذرا ترتیب آگے پیچھے ہو جائے تو لباس عیب دار ہو جاتا ہے ۔ صراط مستقیم نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ اللہ کرے کبھی کسے کے مجاہدے ترتیب سے محروم نہ ہوں۔ یہ گمراہی بہت بڑی آزمائش ہے۔ عرفانِ نفس ایک مخصوص ترتیب کا نام ہے۔ امارہ، لوامہ، کرتے کرتے ہم نفس مطمئنہ کی منزل تک جب پہنچتے ہیں تو ہماری اس وقت کی شکل دیکھ کر کہا جاتا ہے۔۔۔ داخل ہو جاؤ میرے بندوں میں ۔۔۔۔ داخل ہو جاؤ میری جنتوں میں۔۔۔۔ تمہاری ترتیب وہی ہے جو فاتبعونی سے عطا ہوتی ہے۔ اب تمہیں محبتوں میں شامل کر لیا جائے گا۔ جو اس ترتیب سے آگے نہیں بڑھتے، اُنہیں کہا جاتا ہے۔ واپس جاؤ۔ فاتبعونی کرو۔ ان یحببکم اللہ ۔ پھر محبتیں ملیں گی ۔ اللہ نہ کرے کہ ایسا اُس وقت سننے کو ملے جب واپسی کی راہیں مسدود ہو چکی ہوں۔ مسجد ضرار، بے ترتیب ہو گئی ۔ مٹی کا کھنگر بن گئی ۔۔۔۔۔ بلکہ کھنڈر بن گئی ۔۔۔۔ جو پراسیس کو توڑے گا ۔۔۔۔ ترتیب کا لحاظ نہیں رکھے گا، اُس کا کوئی لحاظ نہیں ۔ ان شانئک ھو الابتر
کپڑے میلے ہو گئے ہیں۔ کیا کروں؟ اچھا دھوبی کے پاس جاؤ۔ ڈرائی کلینر سے رابطہ کرو۔۔۔۔ خود دھو لو ۔۔۔ ماں بہن بیوی کو کہہ دو۔۔۔ گھر کی نوکرانی یا خادمہ سے کہہ دو۔۔۔ کسی کو بھی کہہ دو۔۔۔۔ کہ وہ کپڑے دھو دے کپڑے دھل جائیں ۔۔۔ بس یہی چاہتے ہو نا تم ۔ تو ترتیب کا خیال رکھو ۔ دھونے کے لئے پانی درکار ہے ۔ پراسیس درکار ہے۔
دانت میں درد ہے؟ تکلیف ہو رہی ہے؟ کسی پل چین نہیں آ رہا؟ تو ڈاکٹر کے پاس جاؤ۔۔۔ اور طبیب دانتوں والا ہی ہو یا دانتوں کے درد کی دوائی لے لو کسی حکیم صاحب سے کوئی پُڑی لے لو۔ کچھ کرو لیکن جو بھی کرو اُس میں ترتیب ہو۔ دانت کا درد اُسی وقت تک ہے جب تک دانت تمہارے پاس ہے۔ دانت ہی نہ رہا تو کیسی تکلیف؟ کیسی ترتیب؟ اب دانت تو مٹی میں مٹی ۔ جو مرض ہے، جہاں کا مرض ہے، وہاں کے طبیب سے ملو ہر مرحلے کا طبیب ہے ڈاکٹر ہے حکیم ہے Solution Provider ہے۔ ہر مضمون کا اُستاد ہے۔۔۔ ایکسپرٹ ہے ماہرین سے پوچھو ۔۔۔۔ اچھی عادت ہے۔۔۔۔ سوال کی ترتیب سے انسان مرتب ہوتا جاتا ہے۔ یہ سب جسم کی دنیا کے امراض ہیں ان کا علاج کوئی بندہ کرے تو شرک نہیں ۔۔ کوئی ممانعت نہیں۔
مسئلے کا حل تلاش کرنا شرک نہیں۔ بدعت نہیں۔ یہ فزکس ہے کیمسٹری ہے بیالوجی ہے ریاضی ہے انگریزی ہے وغیرہ وغیرہ ماہرین سے پوچھو ۔۔۔ یہ شرک نہیں ۔۔۔
فزکس کے اُستاد کا فزکس پر عبور ہے ۔ تو جب جہالت کے جنگلوں کو عبور کرنا ہو تو فزکس کا اُستاد ہی پار لگائے گا۔ کسی اسلامیات والے اُستاد کو اس میں شریک نہ کرنا ورنہ طبیعات بگڑ جائے گی ۔ طبیعات کا بگاڑ ہو کہ طبیعت کا، بگاڑ تو بگاڑ ہوتا ہے نا! روح کا طبیب کون ہے؟ روح کو کون پکائے گا؟ تپائے گا؟ اسے بھلا چنگا کر دے گا کون ہمیں اس قابل کرے گا کہ ہم اللہ کے بندے بن جائیں؟ یہاں شرک شرک کے نعرے لگانے والے دل کے مریض ہیں۔
جو کہتے ہیں کہ اللہ سے پوچھو، وہ دراصل کچھ نہیں جانتے۔
فزکس کی بات فزکس کے اُستاد سے پوچھنا ہی اللہ کی اطاعت ہے ۔ اس میں شرک کہاں سے آگیا؟ روح کے روگ کا ایک علاج ہے بس ایک ہی ہستی ﷺ بس جانِ جاناں ﷺ عصری اُستاد ، روحانی اُستاد یہ سب راہنما ہیں ہرہر مرحلے کے ہر پیشہ ور اپنے پیشے کا ماہر ہے۔ ایک خاص ترتیب کا ماہر۔
الیکٹریشن کو آواز دے کر بلانا شرک نہیں۔ وہ ماہر ہے ۔ اُسے بلاؤ۔
ہر کام کا ایک ماہر ہوتا ہے ۔ ہر پیشے کا ایک صراط مستقیم ہے۔ ہر مخلوق کا ایک صراط مستقیم ہے۔ انسانوں کے لئے بھی صراط مستقیم ہے۔ منزل تک پہنچنے کے لئے کسی گاڑی میں سوار ہونا شرک نہیں ۔ نکلو باہر ایسے مباحثوں سے ۔ طبیعات کی دنیا کی طبیعت الگ ہے۔ روحانیت کی طبیعت الگ ۔ ہر آسمان کی طبیعت الگ ہے، عرش کی طبیعت الگ ۔ عالمین کی الگ الگ طبیعتیں ، پھولوں کے مختلف رنگ، مختلف مخلوقات، یہ سب مظاہر ہیں۔ نظارہ ایک ہی ہے ۔ وہی اللہ ، وحدہ لا شریک ۔ بس یہ کبھی مت کہنا کہ تم نے ان مظاہر کو پیدا کیا ہے۔ پیدا کرنے والا ایک ہی ہے۔ وہی معبود برحق ہے ۔ وہی زندگی دیتا ہے۔ وہی مارتا ہے۔ لیکن زندگی کے پراسیس جدا جدا ہیں۔ ہر مرحلے پر راہبر و راہنما کی ضرورت ہے۔
مٹی سے برتن بنائے جانے تک ہر ہر مرحلے کا الگ اُستاد یا ایک ہی اُستاد کے الگ الگ روپ
سرکار نبی پاک ﷺ فرش تا عرش کے اُستاد ﷺ اُنہی ﷺ کی اُنگلی تھامے فطرت کے قریب تر ہوتے جانا ہے۔
توحید کے اصلی نغمے آپ ﷺ کے در کی سوغات ہے ۔ اصل کا وصل کرنا ہے۔ جو راستہ مخلوق کو خالق کے قریب کر دے وہ مشرک نہیں ہو سکتا۔ مشرک وہی ہیں جو انسانوں کو معبود سے دور کر دیں۔ رزق اللہ دیتا ہے لیکن روٹیاں تو ماں بنا کر کھلاتی ہے۔ ماں جب ایسا کرتی ہے تو کسی پراسیس سے ایسا کرتی ہے۔ وہ شریک نہیں ۔ یہ ممتا کی ترتیب ہے ۔
درمصطفیٰ ﷺ کے کسی زاویے کو کبھی شرک سے مت جوڑنا۔ راندۂ درگاہ ہو جاؤ گے۔ ماہرین کی مہارت کا اقرار شرک نہیں۔ وہیں سے ملے گا جو ملے گا وہ قاسم ﷺ ہیں السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ و برکاتہ