فطرت اصل ہے ۔ اس اصل تک پہنچنے کے کے لئے ہمیں نقالوں سے ہوشیار رہنا ہے۔ وہ نقال عادات کی شکل میں ہوں یا جبلتوں کی شکل میں۔ یوں سمجھیں کہ حجابات در حجابات ہیں۔ ایک Puzzle ہے۔ بہت بڑا Jigsaw Puzzle جیسے بچے کھیلتے ہیں۔ مختلف ٹکڑوں کو جوڑ کر ہم نے وہ سانچہ بنانا ہے جو دراصل ’’اصل سانچہ ہے‘‘۔ فطرت وہ اصلی سانچہ ہے۔ پزل ہمارے سامنے ہے۔ ہم جس ماحول میں پیدا ہوتے ہیں وہاں پہلے سے اس Puzzle کو حل کرنے کے مختلف طریقے پائے جاتے ہیں۔ ہم یا تو اُسی طرح ٹکڑے جوڑیں یا پھر اصلی سانچے کو سمجھیں اور جہاں جس حصے نے لگنا ہے وہیں لگائیں۔ فاطرِ ہستی نے اس Puzzle کو حل کرنے کی کتاب بھی ہر امت کو دی ۔ ہمارے لئے وہ کتاب قرآن مجید ہے۔ پھر نبی پاک ﷺ نے خود یہ سانچہ بنا کر دکھایا۔ عملی طور پر۔ ہم نے صرف اُن پورنوں پر تختی لکھنی ہے جو پہلے سے موجود ہیں۔ سانچہ ایک ہی ہے۔ سب کے لئے یہی عدل کا تقاضا ہے۔ اب جو جتنے فیصد بنا لے گا، فلاح پائے گا۔ اسی لئے کلام الہیٰ میں تحریف ہوتی رہی کہ انسان اصلی سانچے کو بنانے میں کامیاب نہ ہو جائے۔ انسان جس قدر اصل کے قریب ہوتا جاتا ہے، ابلیسی قوتیں متحرک ہو جاتی ہیں۔ فطرت ایک اصلی سانچہ ہے۔ ہمارے پاس مختلف حصے ہیں۔ اسی لئے دنیا دار الامتحان ہے۔ سب نے فیکٹریاں کھول رکھی ہیں۔ دین کے نام پر کاروبار ۔۔۔۔ ایک سے بڑح کر ایک Puzzle Solver اور سانچہ ہے کہ بگڑتا اور الجھتا جا رہا ہے۔ فطرت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم یہ دیکھیں ۔۔۔۔ کن افراد اور اقوام نے درست سانچے بنائے ۔۔۔۔ کون اصل کے کتنا قریب ہوا ۔۔۔ اور یہ گُر ماسوائے پیغمبر ﷺ کے اور کوئی سکھا سکتا ہی نہیں یا وہ جو جن کی نسبت پیغمبر ﷺ سے ہوگی۔ فطرت اصلی سانچہ ہے۔ باقی جبلتیں، خصلتیں، طبیعتیں، عادتیں ، حرکتیں ۔۔۔ یہ سب حجابات ہیں۔ جوں جوں انسان حجابات سے آگے بڑھتا ہے، اصل فطرت کا سانچہ نمایاں ہوتا جاتا ہے۔ ہم دراصل حجابات کا لا نہیں کرتے۔ اس لئے سانچے کا الا نہیں کر پاتے۔ ہمیں ان حجابات کی اصل کا کھوج لگانا ہے ۔۔۔۔ کوئی عادت کیوں بن گئی؟ جبلتوں میں کیا راز ہے؟ نیک خصلتیں اور بد خصلتیں کن سانچوں کے تحت بنتی چلی جاتی ہیں۔۔۔۔ جوں جوں ہم تفکر کرتے ہیں ۔۔۔۔ من عرف نفسہ کی منزل پر ۔۔۔۔ ہم فطرت کے قریب ہوتے جاتے ہیں ۔۔۔۔ جو جبلت کی سطح پر مارا گیا، وہ جانوروں کی موت مرا ۔۔۔کوئی اُس سے بھی بدتر جیا اور بدتر مرا ۔۔۔۔ آسمان در آسمان رفعت درکار ہے تب عرش ملا کرتا ہے ۔۔۔۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ فطرت انسانی پہچان کی معراج ہے ۔۔۔۔۔ جہاں تک پہنچنا ہی مقصود ہے ۔۔۔۔ جو فطرت کی اصل تک پہنچتا ہے ۔۔۔وہی فاطر کا راز پاتا ہے ۔۔۔۔۔ جسے اس گیم پلان کی سمجھ آ گئی، وہی خلیفہ ۔ باقی سب بس آئے۔۔۔ زندہ رہے۔۔۔ مر گئے ۔۔۔۔ بچے جانور بھی پیدا کرتے ہیں۔۔۔۔ بھوک حیوانات کو بھی لگتی ہے۔۔۔۔ لڑائی جھگڑا یہ سب معاملات جنگلوں میں بھی ہیں ۔۔۔۔ جانور بھی ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔۔۔۔ لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ وہ جیسے پیدا ہو گئے ۔۔۔ ویسے ہی رہے ۔۔۔۔ تھوڑی بہت ماحولیاتی مطابقت کے تحت تبدیلیاں ہوئیں ۔۔۔لیکن وہی جبلتیں۔۔۔خصلتیں۔۔۔۔ اب انسان چونکہ اشرف ہے۔۔۔ اس لئے اُس کے سامنے وسیع اماکانات روشن ہیں۔۔۔۔ Choices ہیں وہ اپنی مرضی سے اصل فطرت تک پہنچے۔۔۔۔ کوئی زور زبردستی نہیں۔۔۔ وقت مقررہ تک۔۔۔ جیسا چاہو پرچہ دو۔۔۔ جو چاہو لکھو۔۔۔ پھر وقت پورا ہو گیا تو جس قدر سانچے پر کام ہوا تھا۔۔۔ اب قلم روک دو۔۔۔کہانی ختم۔۔۔۔ Time is up فقد عرف ربہ انعام ہے ۔۔۔۔۔ اور جب وہ منزل نصیب ہوتی ہے تو بندوں میں داخل کر دیا جاتا ہے جنتوں کی بشارت ملتی ہے خوف اور حزن دور کر دیا جاتا ہے۔ فطرت کی اصل تک پہنچنے کے فارمولے کتاب میں موجود ہیں۔۔۔۔ ہم نے بس ڈھونڈنے ہیں اور تلاش و جستجو کے اس سفر میں ہمارے سامنے تین طبقات ہیں: ۱۔ انعام یافتگان ۲۔ گمراہ ۳۔ مغضوب اب ہم نے اس Puzzle کو جوڑنے کا عمل کہاں سے سیکھنا ہے۔۔۔۔ اس سے پتہ چلے گا۔۔۔ہمارا حشر کیسا ہو گا۔۔۔ میں اسی لئے نوجوانوں سے کہتا ہوں سرکار نبی پاک ﷺ سے سیکھو اصل مال ملے گا ۔۔۔ سانچے بن جائیں گے اور انسانی روح لطیف سانچوں میں رحمتوں کے مزے لوٹے گی السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ و برکاتہ
فطرت کتاب مبین میں درج ہماری اصل ہے۔ ہم نے اُس اصل تک پہنچنا ہے ۔ اصل سے وصل نقل سے بچا لیتی ہے۔ اصل کی نقل بہت ہے یہی وجہ ہے کہ کثیر تعداد اصل سے محروم رہتی ہے۔ بہت تھوڑے ہیں جو نوح علیہ السلام کے بیڑے میں سوار ہوئے۔ ہر دور میں کثیر تعداد نے ماحول میں موجود نقلی طریقوں کو Promote کیا۔ اسی سے جبر و کراہ پھیلا۔ قرآں نے کہا لا اکراہ فی الدین دین میں کوئی جبر نہیں۔ لطیف روحوں کو مکروہ اعمال و افعال سے کراہت ہوتی ہے۔ ضرار نامی ایک عمارت خود کو مسجد کہہ کر میدان میں کود پڑی ۔ وہ جگہ ہی مکروہ قرار پائی۔ وجہ کیا تھی؟ وہاں اصل کا وجود عدم تھا۔ اصل بس درمصطفیٰ ﷺ کے توصل سے عطا ہوتی ہے۔۔۔ جو اصل کا واصل ہو گا ۔۔۔۔ وہ نقالوں کا ساتھی نہیں ہو گا۔۔۔۔ جو نقالوں کا انتخاب کرے گا، وہ نقل تک ہی پہنچے گا۔ اور نقل کبھی اصل کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ فطرت اصل ہے۔ باقی سب گیم پلان ہے ۔۔۔۔ اصل تک پہنچنا ہے ۔۔۔ فطر الناس ۔۔۔۔۔ ہمارے اندر اصل موجود ہے۔۔۔۔ سب نقالی ظاہری ہے ۔۔۔۔ ہم اندر من میں ڈوبیں گے تو اصل سراغ ہاتھ آئے گا السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ و برکاتہ