اپنے والدین کے نام
جن کی دعائیں زندگی کے ہر مرحلے پر
عظیم روحانی توانائی بن کر مجھے جینے کا حوصلہ دیتی ہیں
اور میں ہارتے ہارتے جیت جاتا ہوں
روتے روتے ہنس پڑتا ہوں
میری امید
میرا یقین
میرا ایمان
میرا سب کچھ
میرے والدین کی دعاؤں سے جڑا ہے
میں اقرار کرتا ہوں کہ
میری ذات کا ہر خیر میرے والدین کی عنایت ہے
اور میرا ہر شر میری اپنی دریافت ہے
میرا ایمان ہے کہ تمام جہانوں کی رحمت ﷺ کا شعور
مجھے میرے والدین کی بدولت ملا، جس قدر ملا
میں خوش ہوں اور اپنے خالق و مالک کا شکر گزار کہ اُس نے مجھے
وہ گود عطا فرمائی جس سے قرآن فہمی کی راہیں آسان ہوتی چلی گئیں
اور مجھے اُس انسان کا بیٹا بنایا جس کی شرافت اور خلوص کی گواہی
ایک زمانہ دیتا ہے۔
میں ہر سانس کے ساتھ بارگاہ صمدیت میں
شکر بجا لیتا ہوں کہ مجھے قدم قدم پر
ایسے اساتذہ، گرو، ہادی اور پیشوا ملے
جن کی راہبری نے مجھے راستہ بھولنے ہی نہیں دیا۔۔۔!
ایسے دوست ملے جو فکر شناس تھے ۔۔۔۔ ذکر شناس تھے۔۔۔۔

فیس بک اور فاصلے ۔۔۔۔۔۔!

شام بخاری

پہلا باب
اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ فیس بک نے فاصلے ختم کر دیئے ہیں تو یہ تمہاری بھول ہے!‘‘ اُس نے ہمیشہ کی طرح میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا”

“فاصلے پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں ! بہت زیادہ ۔ ‘‘
اور میں ہمیشہ کی طرح چُپ سادھے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ مجھے کیا سمجھانا چاہ رہا ہے۔

فاصلے جغرافیائی پیمانوں سے ترتیب نہیں پاتے ۔ انسانی لمس کا باریک ریشمی دھاگہ انہیں پروتا ہے ۔۔ انہیں مرتّب کرتاہے ۔ جذبات، کیفیات، اور رجحانات فاصلوں کا تعین کرتے ہیں۔ معصوم شرارتیں اور مقدّس شوخیاں اِن فاصلوں میں رنگ بھرتی ہیں ۔ کیا ہے تمہاری فیس بک کے دامن میں؟ یہ تو کسی فقیر کے کشکول کی طرح آپ خالی ہے۔ ایک دم تہی داماں۔ مصنوعی اور عارضی غبار ۔۔۔ اور بس ۔

اُس نے کچھ دیر توقف کیا۔ ٹھنڈی چائے کی چسکی لی اورچھپر ہوٹل میں بیٹھے دوسرے گاہکوں کو دیکھنے لگا۔

یہ ہے دنیا ۔ ہماری دنیا ۔۔۔ جہاں ہم ایک دسرے کے اتنے قریب ہیں کہ فضا میں ہر طرف رواں دواں انسانی لمس کی طاقتور لہریں ہمیں زندگی کی گہما گہمی کا احساس دلاتی ہیں۔ میں جس کا چاہوں لہجہ چُھو لوں ۔ جتنا چاہوں کسی کی سانسوں سے اپنی دنیا بسا لوں، تمہاری فیس بک کی دنیا ۔۔۔انسانی لمس سے محروم دنیا ۔۔۔ کیا جانے لمس کس عظیم توانائی کا نام ہے

وہ ہمیشہ ایسی ہی باتیں کرتا تھا، اسی لہجے میں۔ سچی، کھری مگر مشکل اور کڑوی باتیں۔بہت سے لوگ اُسے فلسفی کہہ کر آگے بڑھ جاتے تھے۔بہت سوں کے نزدیک اُس کی باتیں ارشادات کا درجہ بھی رکھتی تھیں۔ سب اپنے اپنے ظرف اور شعور کے مطابق اُس کی تفہیم کا حق محفوظ رکھتے تھے۔ شایدہر دور کی طرح ہمارے دور کا مزاج بھی ایسا ہی ہے ۔۔۔ سچائی کے سبھی کلمات مشکل اور بیکار لگنے لگے ہیں۔ جو بات ہم سننا یا سمجھنا نہیں چاہتے، ہم اُسے فلسفہ کہہ کر اپنی جان چھڑا لیتے ہیں ۔

کائنات میں پھیلا کوئی بھی سچ کبھی بھی کسی کی بھی جان نہیں چھوڑتا۔ وہ اپنا آپ منوا کر ہی دم لیتا ہے۔ آپ اُسے بظاہر فراموش بھی کر دیں توبھی وہ آپ کی باطنی دنیا میں اپنے بھرپور وجود کے ساتھ موجود رہتا ہے۔آفاقی سچ کی بازگشت کبھی نہیں مرتی۔ یہ ہمہ دم گونجتی رہتی ہے۔ ولن تجد لسنتہ اﷲ تبدیلا ۔۔۔ وہی تاریخی پیٹرن، نسل در نسل جاری و ساری ہے۔ کردار بدل جاتے ہیں۔ مقامات تبدیل ہو جاتے ہیں، لیکن مرکزی خیال آج بھی وہی۔ وہی ثنویت، وہی تقابل، وہی حق و باطل کی معرکہ آرائی۔وہی پیمانے، قاعدے ۔۔۔ سب کچھ وہی صدیوں سے رائج۔۔۔

چائے کی پیالی میز پر رکھتے ہوئے وہ آگے بڑھا اور میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولا ’’یہ ہے اصل ٹیگنگ ، حقیقی شیئرنگ۔۔۔ میرے وجود کی ساری توانائی اس وقت دوستی کی برقی لہروں میں تبدیل ہو کر تمہارے وجود کا حصّہ بنتی جا رہی ہے۔ تمہاری دوستی کے سارے سچے رنگ اس وقت میری روح کے کینوس پر بکھرتے جا رہے ہیں۔ اسے کہتے ہیں قربت ۔ قربتیں جغرافیائی پیمانوں سے ترتیب نہیں پاتیں ۔ انسانی لمس انہیں مرتّب کرتا ہے ۔ جذبات، کیفیات، اور رجحانات قربتوں کا تعیّن کرتے ہیں ۔ معصوم شرارتیں اور مقدّس شوخیاں اِن قربتوں میں رنگ بھرتی ہیں ۔ اور یہ رحمتیں اور برکتیں فیس بک کے دامن میں نہیں۔تمہاری فیس بک نے انسان کی انسان سے دوری کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔اور جانتے ہو کیوں؟ انسانی لمس، خلوص بھری صداقتوں کو ماپنے کا پیمانہ تھا۔ اور تمہاری فیس بک کے پاس یہ پیمانہ نہیں ہے۔تصویر پر کسی کو ٹیگ کرنا اور دل کے کینوس پر بنی محبتوں بھری تصویر پر کسی کو ٹیگ کرنا دو مختلف باتیں ہیں
’’ چارپائی پہ ساتھ لیٹے وجود اگرچہ انسانی لمس کی معراج کا استعارہ ہیں ۔۔ لیکن یہ بھی تو ممکن ہے نا کہ دونوں وجود ایک دوسرے کے اس قدر قریب ہو کر بھی ہزاروں میل کی دوری پر ہوں؟‘‘ میں نے اپنی دانست میں زبردست بات کی تھی ۔

’’یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ مصنوعی قربتیں، قربتیں نہیں ہوا کرتیں ۔ سراب آخر دم تک سراب ہی رہا کرتے ہیں۔جغرافیائی فاصلے قربتوں کا تعین کرتے ہیں۔ نیت اور خلوص پیمانہ ہے۔ لمس پیمانہ ہے ۔۔۔ جذبات، کیفیات اور رجحانات قربتوں کا تعین کرتے ہیں ۔ہم ایک دوسرے سے ہزاروں میل کی دوری پر ہو کر بھی آس پاس ہوسکتے ہیں۔اور آس پاس ہو کر بھی ہزاروں میل کی مسافت ہمارے درمیان حائل ہو سکتی ہے۔۔۔انسانی لاشعور میں نیت جنم لیتی ہے اور پھر شعوری سطح پر اسی نیت کا خلوص اور صداقت انسانی جسم کے لمس کے ذریعے جذبات و احساسات کی منتقلی کا عمل سرانجام دیتا ہے۔ لمس۔۔۔۔ جانتے ہو۔۔۔۔ سچ اور جھوٹ کی پرکھ کا زبردست پیمانہ ہے۔۔۔‘‘

اُس نے چائے کا خالی کپ میز پر رکھا اور میری جانب دیکھ کر دھیرے سے مسکرا دیا۔ وہ جب بھی چائے کا کپ رکھتے ہوئے مسکراتا تھا ، میں سمجھ جاتا تھا کہ چائے کا ایک اور دور چلنے والا ہے۔دوستی، خفیہ کوڈورڈز اور علامات کے اظہار کا ایک الگ دبستان رکھتی ہے۔بہت سے اشارے جو بظاہر دنیا والوں کے لئے معنی نہ رکھتے ہوں، دوستوں کے لئے اُن میں مطالب و مفاہیم کا ایک جہان آباد ہوا کرتا ہے۔۔۔۔

وہ چاہتا تو اسلام آباد کے مہنگے ترین ہوٹلوں کا رُخ کر سکتا تھا۔ لیکن عجیب دماغ تھا اُس کا بھی ۔۔چھپر ہوٹلوں کی چائے اُسے بہت اچھی لگتی تھی۔ گندے مندے میز، ٹوٹی پھوٹی کرسیاں، مرجھائے ہوئے لوگ ، چائے کی پیالیوں پر حملہ آور مکھیاں اور چائے پینے والے کا دفاعی انداز۔۔۔ یہ سب اُسے بہت اچھا لگتا تھا۔ ’’چائے پینی ہو تو پھر ایسا کھوکھا ڈھونڈو جہاں چائے کا مقام و مرتبہ سمجھنے والا ماحول ملے‘‘ عجیب فلسفہ تھا اُس کا چائے کے بارے میں۔ وہ ایسے کھوکھوں پر صرف اسی لئے آیا کرتا تھا کہ یہاں جو کچھ موجود ہوتا ہے وہ اصلی ہوتا ہے۔ کوئی نقل نہیں۔ کوئی بناوٹ نہیں۔ کوئی نمود ونمائش نہیں۔کوئی اجنبیت نہیں۔ سب کچھ اصلی۔ اور اگر کچھ نقلی بھی ہوتا تو بے ضرر ہوتا۔۔۔۔ بالکل بے ضرر۔۔۔۔ نمودونمائش سے خداواسطے کا بیر تھا اُس کا۔ چائے کا شوقین تھا اور اس شوق کی تکمیل چائے والے کھوکھے سے بہتر کہیں ہو ہی نہیں سکتی تھی۔

جس گاؤں یا شہر میں جاتا ، اُس کی متلاشی نظریں سب سے پہلے چائے والا کھوکھا تلاش کرتیں۔ اور مجھے ہمیشہ اُس کے ساتھ جانا پڑتا۔ اس لئے نہیں کہ چائے والے کھوکھے میری ضرورت تھے۔ بلکہ اس لئے کہ وہ میری سب سے بڑی ضرورت بن چکا تھا۔ وہ میرا نشہ تھا شاید۔ اُس کی باتیں ہمیشہ مجھے مخمور کر دیتیں۔ اُس سے ملنے کے بعد میں جب بھی گھر لوٹتا ، اپنے کمرے میں جا کر بند ہو جاتا۔ اُس کی باتیں دیر تک میرے اندر سرگوشیاں کرتی رہتیں۔

ہماری پہلی ملاقات بھی ایک چائے والے کھوکھے پر ہوئی تھی۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ ساون کا مہینہ تھا۔میں پسینے میں شرابور اردو بازار کی تنگ گلیوں کی خاک چھان رہا تھا۔ مجھے اپنے چھوٹے بھائی کے لئے کتابیں اور کاپیاں خریدنا تھیں۔ میں بار بار پتلون کی جیب سے رومال نکالتا، چہرے پر سر سے ٹپکتا پسینہ پوچھتا ۔بلا کی گرمی اور شدید حبس۔ خیر،کتابیں اور کاپیاں خرید کر ابھی میں اردو بازار سے نکل ہی رہا تھاکہ اچانک آسمان پر کالے سیاہ بادل چھا گئے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے خوش کن فرحت کا احساس دلایا۔ لاہور کی جان لیوا گرمی اور حبس میں یہ کالی گھٹائیں کسی نعمت سے کم نہیں ہوتیں۔ ابھی میں اس خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہو ہی رہا تھا کہ اچانک موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ میں کتابوں اور کاپیوں کو بچانے کے لئے ایک چائے والے کھوکھے میں داخل ہو گیا۔ چند لمحوں میں ہی بارش نے اردو بازار کی زندگی کا نقشہ بدل کے رکھ دیا تھا۔

گرمی ہو کہ سردی، لاہور میں چائے کے کھوکھے بند نہیں ہوتے۔ زندہ دلی، واقعی اس شہر کا خاصہ ہے۔ جب میں نیا نیا اپنے گاؤں سے پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آیا تو لاہور کی ہر چیز مجھے پرائی لگتی تھی۔ لیکن لاہور عجیب محبتوں بھری نگری ہے، کسی شفیق ماں کی طرح ہر پردیسی کو اپنے دامن میں سمیٹ لینے والی نگری۔سب میں برابر محبتیں بانٹتی یہ نگری تعصب سے پاک اور تنگ نظری سے بہت دور تھی۔۔۔ میں واقعی زندہ دلان لاہور میں گھل مل گیا تھا۔ شاید، محبتوں کی یہی فراوانی سخت گرمی اور حبس میں جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔انسان کا انسان سے انسیت کا یہ رشتہ اگر یہاں نہ ہوتا تو لاہور جیسے گنجان آباد شہر میں زندگی کا دم گھٹ جاتا۔۔۔

میں نے کرسی پر بیٹھتے ساتھ ہی جیب سے رومال نکال کر ہاتھوں اور چہرے کو صاف کیا۔ کتابیں اور کاپیاں بارش کے پانی سے محفوظ رہی تھیں۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ ’چائے والے کھوکھے میں آکر بیٹھو اور چائے نہ پیو تو یہ خلاف تہذیب ہو گا‘ میں نے تھوڑی دیر سوچا اور اور ملازم لڑکے سے ایک گرما گرم دودھ پتی لانے کو کہا۔پھر حسب عادت چائے پیتے لوگوں پر اچٹتی سے نظر ڈالی۔سب اپنی اپنی دنیا میں مگن۔۔۔ اپنے اپنے انداز میں چائے پی رہے تھے۔۔۔ میری نظریں ایک میری ہی عمر کے نوجوان پر آکر ٹِک گئیں۔ وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ایک کتاب میں گم تھا۔

میں جتنی دیر وہاں بیٹھا چائے پیتا رہا، میری نظریں بار بار اُس کی جانب اٹھتیں رہیں۔اس قدر شور اور گھٹن کے عالم میں محویت کا عالم دلچسپ بھی تھا اور انفرادی بھی۔۔۔ میں وقفے وقفے سے غیر ارادی طور پر اُسے دیکھنے لگ جاتا۔

آخر ایسا کیا تھا اُس میں؟ سیاہ رنگ کی جینز اور ہلکے سبز رنگ کی ٹی شرٹ پہنے، واصف علی واصف کی ’حرف حرف حقیقت‘ کے مطالعے میں گم اُس نوجوان کے چہرے میں عجیب کشش تھی۔لاہور اور وہ بھی اردو بازار جیسے مصروف ترین بازار کے ایک چھوٹے سے چائے والے کھوکھے میں کوئی عام شخص اتنی محویت کے عالم میں مطالعہ کر سکتا ہے، ناممکن۔مگر وہ حقیقتاََ کتاب میں گم تھا (اگرچہ مجھے بہت بعد میں پتہ چلا کہ کتاب اُس میں گُم تھی ) ۔
اگر میں مصور ہوتا تو ایک یادگار منظر تخلیق کر سکتا تھا۔ ایک ایسا منظر جو شاید مونا لیزا کی عالمی شہرت تک جا پہنچتا۔ انہماک، من موہنی مسکراہٹ اور عجیب چمک تھی اُس کے چہرے پر۔

بجلی چمکی ،بادل زور سے گرجے ، لیکن اُس نے ایک لمحے کیلئے بھی کتاب سے نظریں نہ ہٹائیں۔ ’کوئی سائیکو کیس ہے‘ میں بے اختیار یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا۔ اور ابھی میرے دل میں اُس کے سائیکو کیس ہونے کا خیال جڑ پکڑ ہی رہا تھا کہ اُس نے اچانک کتاب سے نظریں ہٹائیں اور میری جانب دیکھا ۔ میں اُس کے اس طرح اچانک دیکھنے پر ہڑبڑا سا گیا۔ میری اِس کیفیت کو دیکھ کر اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری۔ میں بھی مسکرا دیا۔
خاموش مسکراہٹ کا یہ تبادلہ ہماری لازوال دوستی کا پہلا روشن ستارہ تھا جو الوہی کائنات کے منظر نامے میں خاص ہمارے لئے نمودار ہوا تھا۔ہم سمجھتے ہیں کہ رشتے ہم جوڑتے ہیں۔ تعلقات کی ابتدا ہمارے انسانی اعمال و افعال کا منطقی نتیجہ ہوا کرتی ہے،ہمارا میل جول ہماری مرضی کے تابع ہے، لیکن شاید ایسا نہیں۔ ہم ایک لمحے کے لئے اس حقیقتِ کبریٰ کو شاید فراموش کر دیتے ہیں کہ ہمارے خاکی پیکروں میں دھڑکنے والے دل کے نغمے کی تان کے سبھی تانے بانے ایک ایسی روحانی دنیا سے جا ملتے ہیں جہاں ’الست بربکم‘ کے نغمۂ جان فزا کی گونج آج تک سنائی دیتی ہے۔مسکراہٹوں کا یہ تبادلہ ایک روحانی اشارہ تھا۔ ایک ڈیوائن سیکرٹ کوڈ، ایک عظیم راز۔ یا شاید یہ دستک تھی۔۔ ایک ایسی دستک جو اجنبی خاکی پیکروں کوہمیشہ ایک دوسرے کے بہت قریب لے آتی ہے۔

’میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں‘ میں خیالات کی دنیا میں محو پرواز تھا کہ ایک آواز مجھے واپس چائے والے کھوکھے میں لے آئی۔ وہ کتاب ہاتھ میں پکڑے میرے سامنے کھڑا تھا۔ ’یا الٰہی، اس شخص سے میرا کیا رشتہ ہے۔ کیا میں اسے جانتا ہوں۔ کیا ہم بچپن کے بچھڑے ہوئے دوست ہیں جو اتنے سالوں بعد اچانک ایک دوسرے کے سامنے آ گئے ہوں۔‘ میں تو خود اُس کے پاس جا کر بیٹھنا چاہ رہا تھا۔ لیکن اُس نے پہل کر لی۔ وہ ہمیشہ ایسے ہی ہر معاملے میں مجھ سے سبقت لے جاتا رہا ہے۔ جو میں سوچ رہا ہوتا تھا وہ اُس کی شکل میں عملی سانچے میں ڈھل چکا ہوتا تھا۔ وہ میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ ’ایک ایک کپ چائے ہو جائے‘ اور میں انکار نہیں کر سکا۔ میں انتظار کرتا رہا کہ وہ اپنا تعارف کروائے گا۔ بتائے گا کہ وہ کون ہے، کہاں رہتا ہے، کیا کرتا ہے۔۔۔ یا مجھ سے میرے بارے میں پوچھے گا ۔۔۔ ہم ایک گھنٹہ وہاں بیٹھے رہے اور اس دوران اُس نے تین مرتبہ مجھ سے ایک ہی سوال پوچھا ’چائے ہو جائے؟‘۔ بارش رک چکی تھی۔ وہ اٹھا ، کاؤنٹرکی جانب بڑھا۔ کوئی آواز گونجی ’’ ــچھ کپ اُستاد جیـ‘‘ اُس نے بل ادا کیا۔اور بغیر سلام دعا کئے کھوکھے سے باہر نکل گیا۔ ’واقعی سائیکو کیس ہے‘ ، میں نے پھر سوچا۔

’میں نے جاتے وقت تمہیں سلام کیا تھا؟‘ ابھی میں اپنا سامان اٹھا ہی رہا تھا کہ مجھے پھر اُس کی آواز سنائی دی۔

اُس کی وہ ادا میں آج تک نہیں بھلا سکا۔عجیب معصومیت تھی اُس کے لہجے میں ۔ میں بے ساختہ مسکرا دیا۔ ہم دونوں ایک ساتھ باہر نکلے۔ موسم خاصا خوشگوار ہو گیا تھا۔ گرمی اور حبس سے بے حال مرجھائے ہوئے چہرے دوبارہ کِھل اُٹھے تھے۔

’’اگر تمہیں زیادہ جلدی نہیں تو داتا صاحب کے پاس چلیں؟‘‘ اُس کے اچانک پوچھنے پر میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا جواب دوں۔’ ’در اصل میں درباروں پر جانا پسند نہیں کرتا‘ ‘ اُس کی شخصیت میں کوئی طلسماتی پہلو ضرور تھا کہ میں چاہتے ہوئے بھی اُس سے جھوٹ نہیں بول سکا۔ اُس نے بڑے غور سے میری جانب دیکھا۔ میں اپنی ذاتی رائے کا اظہار کر کے شرمندگی سی محسوس کرنے لگا تھا۔

’میں نے کب کہا کہ داتا دربار چلتے ہیں‘ ۔ اُس نے واقعی داتا دربار چلنے کا تو کہا ہی نہیں تھا۔

’داتا دربار چلیں اور داتا صاحب کے پاس چلیں، دو مختلف باتیں ہیں۔ دو مختلف رویے، سوچ کے دو مختلف زاویے‘ ‘ وہ ایک مشکل انسان ثابت ہو رہا تھا۔ اُس کی ہر بات اسرار و رموز کے ریشمی دھاگوں سے پروئے لباس زیب تن کئے اُس کے لبوں سے باہر نکلتی اور میری سوچ کی حیران آنکھیں پہلے سے اور زیادہ حیرت کا شکار ہو جاتیں۔ میں نے کبھی اس انداز میں سوچا ہی نہیں۔’ داتادربار چلیں اور داتا صاحب کے پاس چلیں‘ یہ دو الگ باتیں بھی ہو سکتی ہیں، میں نے کبھی اس بات پر غور ہی نہیں کیا تھا۔ اُس کے لہجے کی سچائی اس بات کا مظہر تھی کہ وہ جو کہہ رہا ہے اُس پر کامل یقین رکھتا ہے۔ اور اسے اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ داتا دربار جانے اور داتا صاحب کے پاس جانے میں کیا فرق ہے۔

میں یہ فرق سمجھنا چاہ رہا تھا کہ اچانک مجھے یاد آیا میرا آج رات کا کھانا خالہ کے ہاں ہے۔ اور انہوں نے مجھے کہا تھا کہ سورج غروب ہونے سے پہلے ہی گرین ٹاؤن پہنچ جاؤں۔میں نے اُس سے معذرت کی تو وہ مسکرا دیا۔’’جمعرات کو فارغ ہوئے تو داتا صاحب کے پاس آجانا۔ عشاء کے بعد۔ میں تمہیں وہیں ملوں گا‘‘یہ کہہ کر وہ پیدل ہی داتا صاحب کی طرف چل پڑا۔
میں کچھ دیر وہیں کھڑا رہا۔ خالہ کی ناراضگی کا ڈر نہ ہوتا تو میں یقیناََ اُس کے ساتھ داتا دربار (داتا صاحب کے پاس) چلا جاتا۔

دوسرا باب
گزشتہ 17 برس سے میں اُس کے ساتھ ہوں۔ اب تو ہم دونوں کے خاندان بھی ہماری دوستی کی مثال دیتے ہیں۔ یہ اور بات کہ وہ میرے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہے اور میں اُس کے بارے میں آج بھی لا علم ہوں۔ وہ ہمیشہ مجھ سے میرے بارے میں پوچھتا رہا ہے۔لیکن اُس نے اپنی ذات کو چاروں اطراف سے ایک مضبوط حصار میں چھپا رکھا ہے۔ مجال ہے جو کوئی اندر چھپے رازوں تک رسائی حاصل کر سکے۔اچھی خاصی صحت ہوا کرتی تھی اُس کی۔اب سوکھتا جا رہا ہے۔ کوئی ایسا روگ ضرور ہے جو اندر ہی اندر اُسے دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔میں نے کئی مرتبہ جاننے کی کوشش کی۔ وہ ہمیشہ مسکرا کر کہتا ’’ میری فکر مت کیا کر۔ مجھے کیا ہونا ہے اچھا خاصا تو ہوں‘‘۔ لیکن وہ اچھا خاصا نہیں تھا۔۔ وہ میرے سامنے ریزہ ریزہ بکھر رہا تھا۔ لمحہ لمحہ مر رہا تھا۔

محفلوں کی جان ہے، ہر بزم میں ہوتا ہے وہ
ہاں مگر میں جانتا ہوں، کس قدر تنہا ہے وہ
ریت ہی میں گاڑ دی ہے آخر اُس نے اپنی چونچ
ہائے بے چارہ پرندہ کس قدر پیاسا ہے وہ

وہ کبھی بھی کسی کی بھی زندگی میں عام کردار کی طرح ہر گز نہیں رہا۔ اُس کی سوچیں، خیالات، تصورات کبھی بھی عامیانہ نہیں رہے۔میں اُسے 90 کی دہائی سے جانتا ہوں۔میرا اور اُس کا ساتھ اُس وقت سے ہے جب ابھی موبائل فون ہمارے رابطے کا واحد ذریعہ نہیں بنے تھے۔ میری اُس سے شناسائی فیس بک کا سورج طلوع ہونے سے بہت پہلے سے تھی۔ ہماری دوستی کی ابتدا اُن لمحوں میں ہوئی تھی جب خط و کتابت کے سلسلے ہر گھر کی دہلیز تک پھیلے ہوئے تھے۔وہ اُس وقت بھی محفلوں کی جان تھا۔ وہ آج بھی اسی شان و شوکت سے دلوں پر راج کر رہا ہے۔بدلتے ہوئے روز و شب میں وہ بالکل بھی نہیں بدلا۔سب کچھ ویسے کا ویسا ہی ہے۔ہاں، اُس کی چپ آج بھی میری لئے اجنبی ہے۔ وہ اپنی گہری چپ کا بھید کسی پر آشکار کرتا ہی نہیں تھا۔وہ اکثر چپ کر جاتا۔۔۔۔ بالکل چپ۔۔۔ یوں جیسے وہ موجود ہی نہ ہو۔۔۔ اُس کی ذات کی اتھاہ گہرائیوں میں کتنے راز دفن ہیں، میں کوشش کے باوجود نہیں جان پایا۔

’کیا وہ محبت کا ستایا ہوا عام سا مجنوں ہے‘ میں نے کئی مرتبہ اٹکل پچو سے کام لیتے ہوئے قیاس آرائیاں کیں۔ ’کیا اُسے کسی کی محبت کا روگ قسطوں میں مار رہا ہے ‘ میں نے اندازے لگائے۔ لیکن گزشتہ دو دہائیوں پر محیط دوستی کے اس لازوال سفر میں وہ میرے لئے ہمیشہ ایک معمہ بنا رہا ہے۔ میں چاہتے ہوئے بھی اُس کی خاموشیوں کا پردہ چاک نہیں کر سکا۔ہاں اتنا ضرور جان پایا کہ وہ کبھی بھی کسی بھی حال میں عام شخص نہیں رہا۔ اُس کا روگ ’محبتوں کا مشہور عام روگ ‘ بھی نہیں۔ اُس کے دل پر کسی بے وفا کے جوروستم کا کوئی نشان بھی نہیں۔ وہ کسی کی یاد میں تڑپ تڑپ کر جینے کو’وقت برباد‘ کرنا کہتا تھا۔

میری آنکھوں میں سلگتے ہوئے سوالات کا جواب وہ ہمیشہ مسکراکر دیتا۔’’محبت ایک خوبصورت جذبہ ہے لیکن افسوس ہم اس کے حسن کو مسخر ہی نہیں کر سکے۔ہم محبت کے معاملے میں مشرکانہ عقائد کے پیروکار ہیں۔ ہمارے محبوب ہمارے لئے فقط بت ہیں۔۔۔بُت۔۔اور کچھ نہیں۔ ان بتوں کی پوجا، حیاتیاتی تقاضوں کی تکمیل کا راستہ ہے۔خواہشات کی آلودگی ان بتوں پر چڑھاوا چڑھاتی ہے۔سُنو! نفس خودسر کی موجودگی میں فنا اور بقا کے مابین حائل محبت کے پل صراط پر چلنا ناممکن ہے۔تم سمجھتے ہو میں محبت کا مارا ہوں۔ ارے نہیں یار، محبت روگ دے ہی نہیں سکتی۔ یہ تو مرہم ہے۔محبت کو عام مت کرو۔ کسی خاکی انسان کی یہ جرأت کہاں کہ وہ راہِ بقا کے مسافر کا ارتکاز ختم کر سکے!‘‘
وہ ہمیشہ ایسی ہی باتیں کرتا تھا۔ میرے سب اندازے ایک ثانیے میں غلط ثابت کرنے میں اُسے کمال حاصل تھا۔

’’سُنو!‘‘ وہ ہمیشہ مجھے مخاطب کر کے کہتا۔’’ جو افراد اور قومیں، پیغمبروں کے لائے ہوئے الوہی پیغامات میں ترمیم کر سکتی ہیں۔ وہ محبت میں اپنی مرضی کا ردو بدل بھی کر سکتی ہیں۔ ہم وحی کو جھٹلا دیتے ہیں، محبت کیا چیز ہے ۔ محبت ایک مقدس صحیفہ تھی۔ ہم لوگ اس کا ترجمہ نفس خودسر کی مرضی سے کرتے رہے ہیں۔محبت وہ نہیں، جو ہے۔ اور جو ہے وہ محبت نہیں۔بت کو خدا کہنے سے بت خدا نہیں بن جاتا۔ اور خدا کو بت سمجھنے سے خدا ، بُت کا روپ نہیں دھار لیا کرتا۔ جو ہے وہ ہے۔ اور جو نہیں، وہ نہیں۔ محبت کا اصلی صحیفہ پڑھا کرو۔ ترمیم شدہ ایڈیشن بہت ہیں دنیا میں‘‘

’’محبت کا اصلی صحیفہ ‘‘ ’’ترمیم شدہ ایڈیشن ‘‘ ۔۔۔اُس کی باتیں میری سوچ کے گنبد میں ارتعاش پیدا کرتی رہتیں۔میں الجھتا رہتا۔ کئی کئی پہر اُس کی ان مشکل باتوں میں چھپے معانی تلاش کرتا رہتا ۔وہ کتنی آسانی سے یہ سب کہہ دیتا تھا۔وہ نہایت مہارت سے میرے ہر سوال کی ناؤ کا رخ اُن جزیروں کی طرف موڑ دیتا جہاں اُس کی ذاتی زندگی کا کوئی بھی راز منکشف ہونے کا امکان تھا ہی نہیں ۔میں ہر مرتبہ ایک نئے عزم سے اُس کی کھوج میں نکلتا، وہ ہر مرتبہ اپنی انہی مشکل باتوں سے مجھے الجھا دیتا۔میرے بہت زیادہ اصرار پر اُس کی مسکراہٹ ہمیشہ اور زیادہ معنی خیز ہو جایا کرتی تھی۔

میں جانتا تھا اُس کی پیدائش سے لے کر اب تک کے وہ سارے حالات جو سب کے سامنے تھے۔ وہ کہاں پیدا ہوا، کہاں پلا بڑھا، کہاں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔۔۔اور اس جیسی دیگر سرکاری معلومات ، جو پبلک پراپرٹی تھیں اور جن تک سب کی رسائی تھی میرے لئے کافی نہ تھیں۔میں جانتا تھا کہ بنوں میں پیدائش سے لے کر گجرات میں ابتدائی تعلیم تک کی کہانی بھی کوئی عام کہانی نہ تھی۔اُس نے عظیم محبتوں کی گود میں آنکھ کھولی تھی۔۔۔اُس کے عالم شیر خوارگی کے واقعات انتہائی دلچسپ تھے اور وہ اکثر مزے لے لے کر مجھے وہ واقعات سنایا کرتا تھا۔۔۔ شیر خوار بچوں کی حرکتیں تو ویسے بھی ہر ملک اور ہر سماج میں زندگی کا ثبوت بن کر روش رہتی ہیں۔۔۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ وہ اپنے بچپن کے بارے میں بتا رہا تھاکہ کس طرح شام ڈھلے گاؤں میں موجود گھر کے صحن میں چارپائیاں بچھا دی جاتی تھیں۔ اور پھر کس طرح رات کو ماں جی پہاڑے سنتی تھیں۔ کلمے سنتی تھیں۔ اور پھر سبھی بہن بھائی باری باری اپنا سبق سنا کر سو جاتے تھے۔
ایک رات کو معمول کے مطابق جب سب بہن بھائی اپنا اپنا سبق سنا رہے تھے اور یہ تاروں بھرے آسمان میں کھویا اپنی باری کا منتظر تھا کہ اچانک ماں جی نے قیامت کے بارے میں بتانا شروع کر دیا۔ ماں جی بتاتی جا رہی تھیں اور اس کا معصوم دل اﷲ کے خوف سے اس کے سینے میں زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اُس نے بتایا کہ وہ اُس رات سو نہیں سکا۔وہ سچ مچ جہنم سے ڈر گیا تھا۔ ایک مرتبہ تندوری میں لگی روٹی کو نکالنے کا تجربہ کرتے ہوئے اُس کا ہاتھ جلا تھا۔۔۔اور وہ جانتا تھا آگ کی جلن شدید ہوتی ہے۔بہت شدید۔۔۔ رات کے پچھلے پہر وہ قیامت کے ڈر سے باقاعدہ ہچکیاں لے لے کر رو رہا تھا کہ ماں جی کی آنکھ کھل گئی۔انہوں نے گھبراہٹ میں اس سے پوچھا کہ کیا ہوا اور اس کا جواب سن کر ماں جی شفقت سے مسکرائیں اور پھر وہ اس کے ساتھ ہی اس کی چارپائی پر لیٹ گئیں ’’بیٹے، تم تو معصوم سے بچے ہو۔اپنا سبق یاد کرتے ہو۔۔۔میری بات مانتے ہو۔۔۔ قیامت کے دن توبدمعاشوں کی پکڑ ہو گی۔اور تم کوئی بدمعاش تھوڑا ہی ہو؟ بچے کوئی گنہگار تھوڑا ہی ہوا کرتے ہیں۔سکون سے سو جاؤ۔ اﷲ کریم بچوں سے بہت محبت کرتے ہیں۔‘‘ ماں جی اُس کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیرتیں اُسے بتاتی رہیں اور نہ جانے وہ کب سکون کی وادیوں میں اترگیا۔۔۔۔اُس نے مجھے بتایا کہ وہ رات آج بھی اُس کے ذہن میں ایک ایسی یاد بن کر رہتی ہے جو بہانے بہانے سے اُس معصوم بچے کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔جو اُسے بدمعاش نہیں ہونے دیتی۔۔۔جہنم کی آگ ۔۔۔ واقعی شدید آگ ہو گی۔۔۔تندوری کی آگ برداشت نہیں ہو سکتی تو جہنم۔۔۔۔ وہ جب بھی یہ واقعہ سناتا، کانپ سا جاتا۔۔۔۔

میں یہ بھی جانتا تھا کہ وہ بچپن سے متجسس ہے۔آسمان میں چمکتے تارے اُس کے لئے بڑے بڑے سوال بن کر رات کو ٹمٹمانے لگتے۔۔۔ سیلابی پانی میں ڈبکیاں لگانا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔وہ پانی میں ڈوب جاتا اور جب تک سانس روک سکتا، پانی کے اندر ہی اندر تیرتا رہتا۔۔۔بعض اوقات کوشش کرتا کہ آنکھیں کھول کر پانی کے اندر جھانک سکے۔۔۔ لیکن سیلابی پانی میں آنکھیں کھولو تو بس ہلکے زرد رنگ کی مٹی کی تہہ ہی کسی پردے کی طرح آنکھوں کے آگے آ جاتی۔۔۔اور وہ کچھ بھی نہ دیکھ سکتا۔۔۔ اس طرح آنکھیں کھول پانی میں تیرنے سے اکثر اُس کی آنکھیں لال سرخ ہو جاتیں اور ماں جی کی ڈانٹ کے ڈر سے وہ نلکے کے پانی سے آنکھیں دھوتا رہتا۔۔۔

وہ سوچنے والا لڑکا تھا۔ چھوٹی سی عمر سے بڑے بڑے سوال اُس کے ذہن میں رینگتے آئے تھے۔ وہ ہر سوال کا جواب پا لینے کی دھن میں سب سے الگ تھلگ ہو جاتا۔ ماں جی جنوں کی کہانیاں سناتیں تو وہ آسمان کی جانب دیکھتا۔ جنوں سے ہمکلام ہونے کی خواہش لئے نیند کی وادیوں میں کھو جاتا۔جنوں کو دیکھنا چاہتا۔ اُن سے باتیں کرنا چاہتا۔

ماں جی حضرت بلال حبشی ؓ کے قصے سناتیں تو یہ اُن کے تصور میں ڈوب جاتا۔ اُن کو خواب میں دیکھنے کی حسرت لئے وہ سوجاتا۔ سب سے زیادہ اس کا لگاؤ جبریل امین ؑ کے ساتھ ہو گیا تھا۔ ماں جی اکثر بتایا کرتیں کہ روح القدس ہر پیغمبر ؑ کے پیغام بر تھے۔کس طرح وحی لاتے تھے۔ اور کیسا جلال تھا اُن کا۔ اوریہ بھی کہ وہ ہر درود پڑھنے والے کا درود گنبد خضریٰ تک پہنچانے پر آج بھی مامورہیں۔

وہ بعض اوقات باقاعدہ جبریل امین ؑ کو پکارتا۔آہستہ آہستہ زیر لب درود شریف پڑھتا اورجبریل امین کومحسوس کرنے کی کوشش کرتا۔اُن کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ، اُن کی موجودگی کا لمس، اُن کی خوشبو۔۔۔ اُس کی دنیا کے رنگ انوکھے تھے۔۔۔ جبریل امین سے باقاعدہ جپھی ڈالنے کی معصوم آرزو لئے وہ اکثر چھت پر اکیلا کھڑا ہو کر آسمان میں جھلماتے تاروں کو دیکھا کرتا اور چپکے چپکے درود شریف پڑھتا۔۔۔

اُس کے لڑکپن اور عنفوان شباب کی کہانیاں مجھے ازبر تھیں۔وہی سرکاری کہانیاں جو سب کی پہنچ میں ہوتی ہیں۔پبلک پراپرٹی بن کر۔۔۔ لیکن میں اُس پرائیویٹ کہانی کی تلاش میں تھا جس نے اس کے وجود کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وہ کہانی جس نے اس کو اتنا گہرا، اس قدر تلخ اور اس قدرپراسرار بنا دیا تھا۔میں اُس فائل تک پہنچتا تھا جس پرٹاپ سیکرٹ لکھا ہوا تھا۔

’’ میرے بارے میں اتنے متجسس کیوں رہتے ہو یار؟کیا جاننا چاہتے ہو میرے بارے میں؟ سب کچھ تو ہے تمہارے سامنے ؟ ‘‘ وہ بت شکن بن کر میرے ابھرتے ہوئے سوالوں کے سارے بت پاش پاش کر دیتا تھا۔ لیکن ایک بات پر وہ مجھے کبھی قائل نہیں کر سکا کہ ’وہ، وہی ہے جو ہے ‘۔جب میں اُس کے بارے میں کچھ زیادہ ہی متفکر ہونے لگتا تو وہ چڑ سا جاتا۔ کئی کئی روز اُسے ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا۔ فون بند۔فیس بک پر خاموشی۔ یہاں تک کہ گھر پر بھی اُس کی موجودگی کا دورانیہ پہلے سے بہت کم ہو جاتا۔گہری چپ کے سمندر میں ڈوب کر اﷲ جانے وہ کیا تلاش کرتا تھا۔۔۔میں اُس کی تلاش میں کبھی گولڑہ شریف کا چکر لگاتا تو کبھی بری امام کا رخ کرتا۔لیکن یہ آنکھ مچولی جاری رہتی۔ گھر سے پتہ چلتا کہ دامن کوہ کی طرف گیا ہے۔ دامن کوہ جاتا تو اس کا نام و نشان تک نہ ملتا۔ جب تک اُس کا چڑچڑا پن قائم رہتا وہ مجھے کبھی نہیں ملتا تھا۔اور پھر ایک دم اچانک خود مجھ سے رابطہ کر لیتا ’’ چائے کا موڈ ہو رہا ہے، آ جاؤ۔ کہیں چلتے ہیں‘‘ اُس کی آواز سن کر میری جان میں جان آجاتی۔کوئی وضاحت نہ صفائی۔ زندگی میں یوں چپکے سے داخل ہوتا کہ لگتا جیسے کبھی گیا ہی نہ ہو۔اور غائب ہوتا تو یوں جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔

’’یار بتا تو دیا کرو کہ کہاں ہو کس حال میں ہو۔۔۔ پتہ ہے تمہیں کہاں کہاں تلاش کیا ہے میں نے؟‘‘ادھر میرے شکوے شروع ہوتے اُدھر اُس کی مسکراہٹوں کا سلسلہ ۔ میرے بے تکے سوالوں اور اُس کی معنی خیز مسکراہٹوں کا بھی ایک گہرا تعلق بن چکا ہے۔اُس نے آج تک مجھے خبر نہیں ہونے دی کہ وہ اچانک کہاں غائب ہو جاتا ہے۔ ’’مت رہا کرو میری ٹوہ میں۔جتنا جانتے ہو اُس پر قناعت کرو۔‘‘ چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے وہ میری آنکھوں کے راستے میرے دل میں اتر کر سرگوشیاں کرنے لگتا ’’میں اچھا خاصا ہوں یار۔ نہ پریشان ہوا کر۔ بس حالت سفر میں ہوں۔اور مسافروں کا کوئی نگر نہ ٹھکانہ ۔ ‘‘

’موبائل تو آن رکھا کرو‘‘ میں شکوہ کرتا۔اور اس کے چہرے پر وہی مانوس سی مسکراہٹ پھیل جاتی۔’’آئی ہیٹ یور سمائیلز‘‘ میں دل ہی دل میں سوچتااور میرے چہرے ابھرتی تحریر کو پڑھ کر اُس کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ کے سمندر میں بھنور پڑنے لگتے۔
دوستوں کی دنیا بھی عجیب ہوا کرتی ہے۔تمام جملہ حقوق بحق دوستی محفوظ ہونے کے باوجودکہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی حجاب ضرور رہتاہے۔ضروری نہیں کہ آپ اپنے دوست کو مکمل جان لیں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ اُسے آپ کے پل پل کی خبر ہو۔میں بھی اُس کی صفات کی حد تک اُسے جانتا تھا۔ ہاں، اُس کی ذات میں شریک ہونا چاہتا تھا۔کامل ذات میں۔۔۔اور شرک سے اُسے چڑ تھی۔ شدید چڑ۔

خاندان بھر میں اس کے بارے میں کئی کہانیاں مشہور تھیں۔ ہر کوئی اپنی اپنی حیثیت اور بساط کے مطابق اس کے بارے میں ایک رائے قائم کر چکا تھا۔ہر کوئی مطمئن تھا کہ وہ اس کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے۔ لیکن سچ یہی ہے کہ ان سب کہانیوں کا وہ مرکزی کردار تھا ہی نہیں۔ وہ خاندان بھر میں مشہور ہو جانے والی کہانیوں سے بہت دور کسی اجنبی دیس میں لکھی جانے والی کہانی کا پراسرار کردار تھا۔ایک ایسا کردار جس نے اپنے ارد گرد ایسے فرضی کرداروں کے ٹیڑھے میڑھے زاویے کھینچ رکھے تھے جس سے اس کی شخصیت کی جیومیٹری کو من و عن سمجھنا آسان نہ تھا۔

کم از کم ،میں اس معاملے میں نہایت وثوق سے دعویٰ کر سکتا تھا۔ کہانیاں میں نے بھی سن رکھی تھیں۔ اس کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی درجن بھر ڈائریوں کو الف سے ی تک کئی مرتبہ پڑھ بھی چکا تھا۔لیکن میں جانتا تھا کہ یہ سب کہانیاں اس نے کسی حکمت عملی کے تحت لوگوں میں بانٹ رکھی تھیں۔ہر کہانی ایک ڈائیورژن تھی۔ ایک سراب تھا۔
’’ یہ کائنات ایک بہت بڑا ریڈیو سیٹ ہے۔جس میں ہر پل نشریات چلتی رہتی ہیں۔ہر کوئی اپنی اپنی پسند اور ذوق کے مطابق ایک خاص فریکیوئنسی پرباتیں سننا چاہتا ہے، سمجھنا چاہتا ہے۔جس کا جو چینل ہو اسے وہی سناؤ، وہ مطمئن ہو جائے گا، جس کی جو ویولنتھ ہو اُسے اُسی کے مطابق ڈیل کرو۔ انسان تجسس کے ہاتھوں مجبور ہے۔ جب اسے اس کے تجسس کے مطابق کہانی مل جاتی ہے تووہ مزید سوال کرنے سے باز آجاتا ہے۔‘‘ اُس نے ایک مرتبہ نیلے آسمان میں اڑتے بادلوں میں کھو کر مجھے مخاطب کیا تھا۔

اس کے بارے میں مشہور ہر کہانی مختلف تھی۔ اس کی ہر ڈائری پر کھینچا جانے والا ہرنقشہ الگ الگ منزل پر پہنچاتا تھا۔لیکن میں اس منزل تک پہنچنا چاہتا تھا جہاں اس کی ذات موجود ہو، خالص اس کی ذات۔میں اس سے اصل کہانی سننا چاہتا تھا۔وہی پرائیویٹ کہانی۔۔۔میں بھی ایک عام سا انسان تھا ، اپنے تجسس کی تسکین چاہتا تھا۔شرک سے اسے نفرت تھی لیکن میں مشرک بن کر جینا چاہتا تھا۔ میں یہ جسارت کرنا چاہتا تھا۔ میں جانتا تھا وہ مجھے ہر گز گناہگار نہیں ہونے دے گا۔ لیکن میں یہ بھی جانتا تھا کہ اس کی سنائی ہوئی کوئی عام سی کہانی یا ڈائری پر کھینچا ہوا کوئی عام سا زاویہ مجھے اپنی جانب مائل نہیں کر سکے گا ۔ شاید اسی لئے وہ مسکراتا تھا۔اس سے بہتر میری فریکیوئنسی کو بھلا کون سمجھ سکتا تھا!

ہاں، البتہ مجھے یہ ڈر ضرور تھا کہ کہیں میرے بہت زیادہ اصرار پر وہ مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اجنبی مداروں میں اکیلا گردش کرنے کی سزا نہ دے دے۔ میں ہمیشہ محتاط رہا کرتا۔ جب میرے اصرار کی محبتیں شدت کی راہ پر چل نکلتیں تو وہ چڑ جاتا اور پھر وہی عارضی گمشدگی۔ وہی چند روزہ سناٹا، وہی گہری چپ، وہی ظالم خاموشی جو میرے لئے ہمیشہ آزمائشوں سے بھرپور ہوا کرتی تھی۔

تیسرا باب
ٖفیس بک کے دور میں محبتوں اور نفرتوں کے پل پل بدلتے روپ اور سماجی رابطوں کے لحظہ بہ لحظہ بدلتے بہروپ اس بات کا مظہر ہیں کہ عالمی گاؤں کے باسی بھاگ رہے ہیں۔ جلدی میں ہیں۔ بہت کم وقت میں وہ سب کچھ کر لینا چاہتے ہیں ، وہ سب کچھ جس کے لئے پرانے وقتوں میں ایک طویل عرصہ اور سخت محنت درکار تھی۔اکیسویں صدی کے ربع اول میں جدید ذرائع ابلاغ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے مسابقت کوخطرناک حد بڑھا دیا تھا۔۔۔لمحاتی رجحانات پانی کے بلبلے بن کر منظر عام پر آتے اور پھر غائب ہو جاتے۔ہر روز ایک نیا ٹرینڈ۔ ایک نئی بریکنگ نیوز ۔ ایک نیا سیاپا۔گویا زندگی نہ ہوئی رولر کوسٹر ہوئی۔یوں جیسے موت کے کنویں میں چکر لگاتا موٹر سائیکل انسانی آنکھ کو دائروں میں گھما دے۔اضطراب ہی اضطراب۔۔۔ چکر ہی چکر۔۔۔

’’سوشل میڈیا کا انقلاب روحانی نہیں، کاروباری ہے اور روح کا جسمانی کاروبار سے کیا تعلق؟‘‘ اس کے دلائل کو رد کرنا کم از کم میرے لئے نا ممکن تھا۔
’’فیس بک کسی بزرگ کے دربار کے احاطے میں اگا وہ درخت ہے جس پر ہر وقت چڑیوں کی چہکارتو سنائی دیتی ہے لیکن سب اپنی اپنی چہکار کے چکر میں ہیں۔کوئی کسی کی بات کم ہی سنتا ہے اور اگر سنتا بھی ہے تو صرف اس لئے کہ اس کی چہکار کو بھی سنا جا سکے۔تم میری تصویر لائیک کرو، میں تمہاری۔اور بس۔ہم ہر وقت ایک دوسرے سے رابطے میں رہنے کے باوجود مسلسل دور ہوتے جا رہے ہیں۔ کبھی سوچا ہے کیوں؟ ہم انسانوں کی انسیت کا دارومدار لمس پر تھا۔ جب لمس نہ رہاتو انسیت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔فیس بک نے انسانی لمس کوناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ناقابل تلافی نقصان۔‘‘

وہ اکثر لمس کی باتیں کرتا تھا۔ اس کے نزدیک انسانی لمس رابطے کی اولین اور مقدس ترین منزل تھی۔وہ اکثر زندگی کی جمالیاتی اقدار پر گفتگو کرتا۔۔۔ وہ جمالیاتی اقدار جو ہمارے کلچر کی اصل قوت تھیں ۔۔۔ ہمارے معاشرے کا حسن تھیں۔۔۔۔

’’فیس بک نے ہم سے مصافحے کی لذت چھین لی، دوستوں کی ایک دوسرے سے گلنے ملنے کی حسین روایت کو تباہ کر دیا ۔ ماں باپ کے احترام کی پوسٹیں تو بڑھ گئیں لیکن والدین اس انتظار میں بیٹھے رہے کہ کب اولاد فیس بک کے مصنوعی، لمس سے محروم ، ادب کی دنیا سے باہر نکلے اور حقیقی معنوں میں ان کے ساتھ بیٹھے، ان کا حال احوال پوچھے۔بس رسمی اور واجبی سا مدر ڈے اور فادر ڈے اور بس۔ غریب اس انتظار میں بھوکے سو گئے کہ انسانی ہمدردی کے نام پر بننے والے پیجز اور فورمز پر گرما گرم بحث کرنے والے کب ان کے لئے ڈجیٹل فوڈ کے بجائے تندور میں لگی گرما گرم روٹیاں لے کر آئیں گے۔ یو نو واٹ! ہم انسان ایک دوسرے سے لاتعلق ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم سب مفرور ہیں۔ حقیقی دنیا کے مصائب سے گھبرا کر ہم ایک ایسی دنیا میں پناہ گزیں ہیں جسے سوشل میڈیا کہا جاتا ہے۔جہاں ہر سال ٹیچر ڈے پر اساتذہ کے احترام کی پوسٹیں تو دکھائی دیتی ہیں لیکن عملی زندگی میں اساتذہ کا ادب و احترام کم ہوتا جا رہا ہے! ‘‘

وہ جب بھی باتیں کرتا اس کے چہرے پر عجیب کرب پھیل جاتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں تیرتے آنسو اس بات کی غمازی کرتے تھے وہ کس قدر دکھ اور کرب میں مبتلا ہے۔اکیسویں صدی کی یہ برق رفتار رت ہم سے ہمارے ہونے کا جمالیاتی احساس ہی چھینتی جا رہی ہے۔۔۔

’’مہینوں بعد خط آتا تھا۔ اس خط کے انتظار میں ایک کیفیت سے ہم گزرتے تھے اور جب کسی اپنے رشتے دار یا دوست یارکے لکھے لفظوں پر نگاہ پڑتی تھی تو یوں محسوس ہوتا تھا گویا فاصلے سمٹ گئے ہوں۔ وہ حقیقی ٹچ سسٹم تھا۔ اصلی خالص انسانی لمس سے بھرپور ٹچ سسٹم۔ انسان، انسان کے اصلی ٹچ سے محروم ہو کر ایک مرتبہ پھر ٹچ سسٹم کی طرف آ تو گیا ہے لیکن اب اس لمس میں محبتوں کی حدتیں باقی نہیں رہیں۔ رشتے سردمہری کا شکار ہو گئے۔ ہم گوشت پوست کے بنے لوگ جذبات و احساسات سے زندہ رہتے ہیں۔اب سارے رشتے ناطے ڈیجیٹل ہوتے جا رہے ہیں۔ انسانی لمس کے سب خوبصورت نظارے بائنری کوڈز کی قبر میں دفن ہوتے جا رہے ہیں۔اور تم کہتے ہو سوشل میڈیا نے انسانی رابطوں میں انقلاب برپا کر دیا ہے؟‘‘

’’لیکن کی بورڈ پر ٹائپ کئے ہوئے لفظ بھی تو کسی اپنے، کسی یار دوست کے ہی ہوا کرتے ہیں، نا؟ لفظ کسی قلم سے نکلیں یا انگلیوں سے۔۔۔ کاغذ پر تحریر ہوں یا موبائل اور کمپیوٹر کی سکرین پر دکھائی دیں۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘ میں نے سوشل میڈیا کا اپنی دانست میں بھرپور دفاع کرتے ہوئے جلدی جلدی کہا۔

’’ نہیں، تم سمجھ نہیں رہے۔ میں یہ ہر گز نہیں کہہ رہا کہ سوشل میڈیا پر لکھے جانے والے الفاظ بدنیتی پر مبنی ہیں۔ یا اُن میں خلوص کی کمی ہے۔میں فقط اُس کیفیت یا اُس محبتوں بھری حرارت کا حوالہ دے رہا ہوں جو کہیں گم ہوتی جا رہی ہے۔یار۔۔۔ اب انتظار کی لذت نہیں رہی۔وصل میں چاشنی ہے نہ فراق میں لذت۔۔ پیغام پر پیغام، پوسٹوں پر پوسٹیں۔ انگلیاں ہیں کہ تھکنے کا نام نہیں لیتیں۔ آنکھیں ہیں کہ بس سنتی جاتی ہیں، سنتی جاتی ہیں۔اور اس سارے عمل میں لمس کہا ں ہے؟ ہے کسی کو فکر کہ ہم انسان دراصل ایک دوسرے سے عملی طور پر دور ہوتے جا رہے ہیں؟ مصنوعی رفتار ہم سے ہماری حقیقتوں کو چھین رہی ہے۔‘ہم سب مصنوعی گھوڑوں پر سوار ایک ایسی منزل کی جانب کھنچے چلے جا رہے ہیں، جہاں گہری کھائیاں ہیں۔‘‘ میرے ذہن میں اُس کی باتیں ہل چلایا کرتی تھیں۔ وہ اتنی آسانی سے سمجھ آ جاتا تو شایدمجھے اُس کی اور اُس کی گہری چپ کی سمجھ آ جاتی۔
’’فیس بک کی دنیا کیا جانے کہ چائے کے کھوکھے پر بیٹھنے اور دوستوں سے گپ شپ لگانے میں کیا لذتیں پنہاں ہیں؟‘‘ اور اس کی یہ بات سن کر میں ہمیشہ مسکرا دیا کرتا تھا۔
وہ جدت کا قائل تھا۔جدید زمانے کی ٹیکنالوجی کا مداح تھا۔ لیکن وہ انسان کی انسان سے دوری کے غم میں مبتلا تھا۔وہ ٹھیک کہتا تھا کہ رشتوں کا احترام اور اعتماد ٹھہراؤ کا متقاضی ہے۔ ہانپتے کانپتے برق رفتار محبتوں اور نفرتوں کے اظہار کس کام کے ؟ اس کے نزدیک سائبر دنیا کی قربتیں بانس کی طرح کھوکھلی تھیں۔ وہ اکثر گنے اور بانس کی مثال دیتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ انسانی رشتے اگر لمس کے میٹھے رس سے محروم ہو جائیں تو وہ بانس کی طرح کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔وہ اکثر رحمان بابا کے ایک شعر کا اردو ترجمہ سنایا کرتا تھا۔ شاید اُس نے کہیں پڑھا تھا۔
نااہل سے وفا کی تمنا نہ رکھ کبھی
گنے کا رس نصیب کہاں خشک بانس کو
اُس کے نزدیک سوشل میڈیا کا انقلاب خشک بانسوں کی تعداد میں اضافے کا سبب تو ہو سکتا ہے لیکن رس بھرے گنے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ رس کا لمس سے گہرا رشتہ ہے۔ لمس نہ ہو تو سب رشتے بے رس۔ اس کے پاس خطرناک اور قائل کر لینے والے دلائل تھے۔ لیکن وہ اچھی طرح سمجھتا تھا کہ جدید دور کی ٹیکنالوجی کو نظر انداز کرنے والے افراد اور قومیں ترقی کی دوڑ میں ہمیشہ پیچھے رہ جایا کرتی ہیں۔ وہ جن خطرات کی نشاندی کرتا رہتا تھا، وہ سب میری آنکھوں کے سامنے ایک ایک کر کے آتے جارہے تھے۔ وہ عجیب قسم کے خوف میں مبتلا تھا۔

سوشل میڈیا کے مثبت پہلوؤں پر بھی اس کی گہری نظر تھی۔ وہ جانتا تھا کہ بچپن میں جب پانی کا نلکا لگایا جاتا تھا تو کافی دیر تک پانی گدلا ہی نکلتا رہتا ۔ اسے معلوم تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ پانی صاف ہوتا جائے گا۔ لیکن اُسے ڈر تھا کہ اس جانب توجہ ہی نہیں دی جا رہی۔ سب جدید ٹیکنالوجی کی چکاچوند میں اس قدر بوکھلائے پھرتے ہیں کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا۔ ٹھہراؤ نصیب ہو گا تو گہرائی نصیب ہو گی۔نکھار آئے گا۔ اعمال کا نکھار درحقیقت افکار کے نکھار سے مشروط ہے۔ سوچ مہک جائے تو عمل کے وجود سے خوشبو کے سفر کا آغاز ہو جاتا ہے۔زمین کی گردش کی رفتاراُسی حد تک رہتی ہے جس حد تک انسانی حواس برداشت کر سکیں۔تیزی سے گھومنے والی اشیاء انسانی دماغ کو چکرا کر رکھ دیتی ہیں۔مہذب قومیں ان رجحانات کو دور سے سونگھ لیتی ہیں اور مستقبل کے معماروں کوسنجیدہ طرز فکر دینے کی پیشگی منصوبہ بندی کر لیتی ہیں تا کہ سیلاب آنے سے قبل حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔لیکن ہمارے ہاں ہر سال سیلاب آنے کے بعد منصوبہ بندی ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم ہر سال اربوں ڈالر کا میٹھا پانی ضائع کر دیتے ہیں۔

ہمیں مستقبل میں پیش آنے والے حالات کو آج دیکھنا ہو گا۔ خطرات کو آج سونگھنا ہو گا۔ منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ جدید ذرائع ابلاغ کے استعمال کے مہذب طور طریقے بہت چھوٹی عمر سے بچوں کو سکھانا ہوں گے۔فیس بک کے لئے شاید ابھی ہم تیار نہ تھے۔ عین ممکن ہے ایک طویل عرصہ ہم اس عظیم پلیٹ فارم کو فکری و نظریاتی اور ادبی و تحقیقی ضروریات کے لئے استعمال کرنے کے قابل نہ ہو سکیں۔منیر نیازی کے بقول ہم ہمیشہ دیر کر دینے والی قوم بنتے جا رہے ہیں۔ ’بعد‘ کا لفظ ہماری زندگیوں کو گھن کی طرح کھائے چلا جا رہا ہے۔ سیلاب کے ’بعد‘، دھماکے کے ’بعد‘، کسی چھ سالہ معصوم کلی کی آبروریزی کے ’بعد‘ ، ناحق قتل کے’ بعد‘، سقوط ڈھاکہ کے ’بعد‘ اور اسی طرح بہت سے ’بعد‘ ہمیں گھیرے ہوئے ہیں۔ ہمیں ’بعد‘ کو ’ قبل از وقت‘ سے بدلنا ہو گا۔

’’یہ سوشل میڈیا کا انقلاب کسی روز نفرتوں اور تعصبات کو اس قدر بڑھا دے گا کہ شاید ہم سب اپنے اپنے گھروں میں مقید ہو کر رہ جائیں۔‘‘

ایک روز اس نے واقعی مجھے ڈرا دیا تھا۔ میں سرتاپا لرز گیا تھا اس کی باتیں اور اس کا لہجہ سن کر۔ وہ جب بولتا تھا تو اس کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ مجھے عجیب روحانی دنیاؤں کا فری ویزہ دے کر رخت سفر باندھنے پر مجبور کرتا تھا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس نے مجھ سے میرا موبائل لے کر اپنے موبائل کے ساتھ جوڑ کر میز پر رکھ دیا۔
’’یہ انسانی ایجاد رابطے کا ذریعہ ہے نا؟‘‘ اس نے مجھ سے عجیب سے لہجے میں پوچھا۔
’’ دونوں موبائل ساتھ ساتھ رکھے ہیں۔ بظاہر ان میں کوئی فاصلہ نہیں۔ لیکن کیا تم اسے سائنسی بنیادوں پر قربت کہہ سکتے ہو؟کیا اس چھوٹی سی مشین میں تمہیں کوئی انسانی کیفیت دکھائی دیتی ہے؟ کوئی جذبہ؟ کوئی احساس؟ نہیں نا؟‘‘ اور میں ہمیشہ کی طرح دم بخود اسے سن رہا تھا۔ ہمہ تن گوش ہو کر۔

اس نے اپنے موبائل سے میرا نمبر ڈائل کیا۔ چند ہی ثانیوں کے بعد میرے موبائل پر اس کی کال آنا شروع ہو گئی۔

’’کتنی دیر لگی ہے کال آنے میں؟ بمشکل ایک دو سیکنڈ؟ اور اگر تم امریکہ چلے جاؤ تو کتنی دیر لگے گی؟ دو چار سیکنڈ؟ موبائل ساتھ رکھے ہوں یا سینکڑوں میل کی دوری پر کال کے آنے جانے میں کوئی زیادہ وقت نہیں لگتا۔اسی طرح ایس ایم ایس اور ای میل خط سے کہیں زیادہ برق رفتار ذریعہ ہیں۔ فیس بک اور ٹوئٹر کے ذریعے آپ کہیں بھی کسی بھی وقت رابطہ کر سکتے ہیں۔یہ سب انسانی ترقی کی روشن مثالیں ہیں۔ اور میں ان کی اہمیت سے انکار کر ہی نہیں سکتا۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا زمانہ انسانی رشتوں کو بہت پیچھے چھوڑتا جا رہا ہے۔ انسانی لمس سے محروم ہوتا جا رہا ہے ہمارا عہد۔یاد رکھو!لمس کی دوری ہی دراصل حقیقی دوری ہے۔باتیں زیادہ ہوتی جاتی ہیں اورلمس سے محرومی فاصلوں کو بڑھاتی جاتی ہے۔ ہر وقت باتیں ہو رہی ہیں لیکن فاصلے ہیں کہ بڑھتے جاتے ہیں۔۔۔ ‘‘

’’لیکن آواز کا لمس بھی تو ہوتا ہے۔ لفظ بھی تو انسانی جذبات و احساسات کی عکاسی کرتے ہیں۔‘‘ میں نے سوال پوچھنے کی جسارت کی۔

’’بالکل ایسا ہی ہے۔اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے بھلا؟ لیکن روٹی کو کاغذ پر لکھ دیا جائے تو اس سے بھوک ختم نہیں ہوتی۔ پانی کا ایس ایم ایس پیاس نہیں بجھاتا۔ پیاس ٹھنڈے ٹھار پانی سے بجھتی ہے۔۔۔آئی لو یو کہنے کو تو لفظ ہی ہیں نا۔ انہیں کیفیت سے جدا کر کے دیکھو؟ یہ لکھنے والی چیز نہیں۔ محبتیں اگر لفظوں تک محدود ہو کر رہ جائیں تو سمجھو سب بیکار۔‘‘

’’زیادہ دور مت جاؤ! پاکستان کی مثال لے لو۔ تمہیں نہیں لگتا کہ سوشل میڈیا نے ہم سے ہماری محبتیں، بھائی چارے کے لطیف احساسات، اتفاق و اتحاد کے خوبصورت رنگ چھین لئے ہیں؟ رابطے کے اس تیز ترین زمانے میں ہم ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں یا دور، بہت دور ہوتے جا رہے ہیں؟تعلقات میں مٹھاس بڑھی ہے کہ تلخی؟ رشتے گنے کی طرح رس سے بھرے ہوئے ہیں یا بانس کی طرح سوکھے اور کھوکھلے؟ تہذیب و تمدن کی دنیا میں نکھار آیا ہے یا بگاڑ پیدا ہوا ہے؟
مذہبی تعصب اور مسلکی اختلاف کو انسانی لمس نے معتدل رکھا تھا۔ جب لمس نہ رہا تو پھر باقی کیا رہا؟‘‘
اس کی بات میں بہت وزن تھا۔ گہرائی تھی۔ سچائی تھی۔میں یہ سب اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ کیسے انکار کر دیتا کہ ایسا نہیں ہے۔فیس بک اور ٹوئٹر نے بھائی کو بھائی سے لڑا دیا ہے۔ مشرقی قربتوں کو عجیب و غریب فرقتوں میں بدل کے رکھ دیا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں معلومات تک رسائی حیرت ناک حد تک بڑھ گئی ہے تاہم انسان کی انسان سے محبت کی پختہ دیواریں ریت کی دیوار بنتی جارہی ہیں۔ ہر نئی پوسٹ اور ہر نئی ٹویٹ کے ساتھ مزید کچھ ریت ہاتھوں سے پھسل جاتی ہے۔

’’ انسانی تاریخ میں انسان اتنا زیادہ بے بس شاید ہی کبھی ہوا ہو جتنا آج کل ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے رشتے کمزور پڑتے جا رہے ہیں اور ہم کچھ بھی نہیں کر پا رہے۔ انسانی لمس کے بغیر رشتے اس کمزور تنکے کی طرح ہو جاتے ہیں جسے زمانے کی ہوائیں ایک جگہ سے دوسری جگہ اڑائے پھرتی ہیں۔ہمارے تعلقات کی مضبوط بنیادیں مسلمہ انسانی جذبات و احساسات پر رکھی گئیں تھیں۔ لیکن فیس بک نے ہماری بنیادوں کو انتہائی کھوکھلا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اظہارو اقرار کو پر لگ گئے ہیں لیکن قرار چھِن گیا ہے۔معلومات میں بے انتہا اضافہ ہو گیا ہے لیکن علم کم ہوتا جا رہا ہے۔رابطے کی سہولیات زیادہ ہیں لیکن ربط کم ہوتا جا رہا ہے۔‘‘

اس کی باتیں سن کر مجھے کبھی بوریت نہیں ہوتی تھی۔ وہ زمین پر رہ کر زمین کی مثالیں دیتا تھا۔ اس کے نزدیک ’’انسانی لمس کی سائنس‘‘ سائنس کی تمام اقسام سے بلند تر اور افضل تھی۔ اُس کی باتیں میرے لئے مشکل نہ تھیں۔۔۔ بس مشکل تھا تو اُس کو ڈی کوڈ کرنا۔۔۔اُس کی گہری چپ کا راز پا لینا۔۔۔۔

’’گوگل کی بالشت برابر سرچ بار نے دنیا کی ہر قسم کی معلومات تک رسائی دے دی ہے۔ جب چاہو جو چاہو پڑھ لو، دیکھ لو، سن لو۔ لیکن پھول کی خوشبو سے اپنی روح کو معطر کرنے کے لئے تمہیں آج بھی حقیقی دنیا میں پھولوں کے پاس جانا پڑے گا۔نرم و نازک کونپلوں کی نزاکت کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے محسوس کرنے کے لئے تمہیں اصلی ہیومن ٹچ چاہیے ہو گا۔تم اپنے آئی فون، آئی پیڈ یا کمپیوٹر کی سکرین پر تتلی کے خوبصورت پروں کو دیکھ تو سکتے ہو لیکن ان پروں کا لمس کیا ہے؟ کیسا ہے؟ اس کے لئے تمہیں حقیقی دنیا میں موجود کسی باغ میں جانا پڑے گا۔‘‘

اُس کا منطقی انداز، اُس کے دلائل ہمیشہ مجھے قائل کر لیتے تھے۔ کبھی محبتوں کی بات آجاتی تو وہ بے تکان بولتا چلا جاتا ۔یوں جیسے اُس نے محبتوں میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہو۔ اور جب وہ محبتوں کا ذکر کرتا تو اُس کی آنکھوں میں درد کے جگنو ٹمٹمانے لگتے تھے۔اور یہی کرب میرے تجسس کو بڑھاتا تھا۔ کچھ ایسا ہے ضرور جو اُسے پل پل ڈستا ہے۔ لیکن وہ کوئی سراغ ہاتھ آنے ہی نہیں دیتا تھا۔ اُس کی باتیں محبتوں کا عمومی جائزہ لیا کرتی تھیں اور میں شاید خاص اُس کی ذات پر ڈھائے جانے والے محبتوں کے ستم یا اُس پر ہونے والے محبتوں کے خاص کرم کی کھوج لگا رہا تھا۔میں اُس کی گہری چپ کی دنیا میں جھانکنا چاہتا تھا۔۔۔

وہ اکثر کہتا ’’ہمارے جسم جس عہد میں زندہ ہیں، وہ محبتوں کی توہین کا عہد ہے۔ محبتوں کی رسوائی کا عہد ہے۔ محبتوں کی بے بسی کا عہد ہے۔
ہم ایک دوسرے سے رابطے میں ہونے کے باوجود باہم مربوط نہیں۔ ہمارا ازلی روحانی الحاق اور ربط کہیں اور ہے۔ ہمارا جسمانی الحاق کہیں اور۔
ہمارے جسم جس عہد میں زندہ ہیں، وہ عہد عجیب و غریب نفسیاتی ہیجانات سے بھرپور عہد ہے۔ محبتوں کی شفافیت ہر لحظہ مشکوک ہوتی جا رہی ہے۔ رشتوں کے احترام کی تختیوں پر کھوکھلی اغراض کی بے نوک قلم سے خواہشات کی آڑھی ترچھی لکیریں کھینچی جاتی ہیں۔ ہم تبدیلی کے خواہشمند ہو کر بھی خود کو نہیں بدلنا چاہتے۔
اور میں سوچ رہا ہوں کہ یہ عہد اپنی ذات میں تو ہمیشہ غیر جانبدار رہتا ہے۔ پھر اس کا یہ سلوک ہمارے ساتھ کیوں؟
زمانہ تو ہمیشہ سے غیرجانبدار رہتا آیا ہے۔ جو کرتے آئے ہیں ، ہم کرتے آئے ہیں۔ تو پھر ہمارے جسم جس عہد میں زندہ ہیں، وہاں محبتوں کی توہین چہ معنی دارد؟
ہم نے کہاں سے سیکھ لئے تعصب کے گھناؤنے کھیل؟ ہمیں کہاں سے آ گئیں نفرتیں کرنی؟
ہم سب کا کوئی نہ کوئی محبوب ہے۔ ہم سب کسی نہ کسی کے یا تو محبوب ہیں یا محب ہیں۔
لیکن پھر بھی ہم سب محبتوں کی توہین کے کسی نہ کسی حد تک مرتکب کیوں ہو تے جاتے ہیں؟
یا تو ہم محبتوں کے آفاقی قوانین سے ہی آگاہ نہیں یا ہم محبتوں کی کتاب میں اپنی مرضی کے باب داخل کرنا چاہتے ہیں۔
یہ ساری جنگیں، یہ لڑائیاں، یہ فساد، یہ تعصب، یہ شورشرابا ۔۔۔ یہ سب محبتوں کی توہین نہیں تو اور کیا ہے؟
اور فیس بک کے دامن میں اس وقت نفرتیں زیادہ اور محبتیں کم ہوتی جا رہی ہیں ۔۔ تم دیکھتے نہیں ، کس قدر محبتوں کی توہین ہو رہی ہے؟‘‘

میں انہماک سے اُس کی باتیں سُن رہا ہوتا اور اس کے اچانک سوال پوچھنے پر میں ہمیشہ ہڑبڑا جاتا تھا۔ میں چونکتا تو اُس کے چہرے پر وہی مانوس سی مسکراہٹ ایک دو ثانیئے کے لئے اُبھرتی اور وہ پھر دور خلاؤں میں گم ہو جاتا ’’قرآن تو کہہ چکا، میری محبتیں میرے لئے۔ تیری محبتیں تیرے لئے۔ میرا انتخاب میرے لئے، تیرا انتخاب تیرے لئے۔ پھر نفرتیں کیسی؟ پھر گالیاں کیسی؟ پھر تعصب کیسا؟ہمارے جسم جس عہد میں زندہ ہیں۔ اْس عہد میں محبتوں کی ہولناک توہین ہوئی ہے۔ میں کسی کے محبوب کو گالیاں دوں تو وہ میرے محبوب کو بدلے میں احترام دے گا؟
ہر محبوب کا دوسرے محبوب سے نظریاتی اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیکن کسی کے محبوب کی توہین مجھے کس نے سکھائی؟
میں کون ہوتا ہوں کسی کی محبتوں کی توہین کرنے والا؟ میں کسی کے محبوب کو گالیاں دوں گا، تو کوئی میرے محبوب کو کیا دے گا؟ اسی طرح کوئی کون ہوتا ہے میری محبتوں کی توہین کرنے والا؟
میں اپنے محبوب کے احترام کی خاطر ، ہر انسان کے محبوب کا احترام کرتا ہوں۔ میں صرف اس وجہ سے کسی کے محبوب کی ذاتیات پر بات نہیں کرتا، کہ میرے محبوب کی بھی ذات ہے۔ اگر مجھے تکلیف ہوتی ہے اپنے محبوب کے بارے میں نازیبا الفاظ سْن کر تو سب کو ہوتی ہوگی یہی تکلیف اپنے اپنے محبوب کے حوالے سے ۔ نہیں؟‘‘

وہ بولتا جا رہا تھا اور میں اُس کے محبوب کی کھوج کی آس لگائے ہمہ تن گوش تھا۔
’’اگر میرا انتخاب امام عالی مقام امام حسین علیہ السلام ہیں، تو مجھے اسی پر قائم رہنا ہے۔میں یزید کو ماں بہن کی گالیاں دینے کا مجاز نہیں۔ ہو سکتا ہے یزید سے محبت کرنے والے میری محبتوں کی شان میں گستاخی کر دیں؟ نظریاتی سچ، ادب و احترام سے لبریز ہوتا ہے۔ ذاتیات کے پیمانے میں گالم گلوچ کی تاریکیاں ہمارا منہ چڑاتی ہیں۔
محبتوں کی توہین غلط ہے۔یہ پل صراط ہے ہمارے عہد کا۔ہم سب کسی نہ کسی حوالے سے غیر سنجیدہ طرزفکر کے حامل ہو جاتے ہیں۔
اپنے اپنے محبوب کو مصر کے بازار میں کھڑا کر کے ہم خود ہی بولیاں لگاتے ہیں۔ہم اپنے اپنے محبوب کو پراڈکٹ بنا کر اْس کی خوبیاں بیان کرتے ہیں اور کسی دوسرے کو یہ حق بھی نہیں دیتے کہ وہ اپنی پراڈکٹ کی خوبیاں بیان کرے۔ہم محبتوں کی توہین سے باز آ جائیں تو عالمی گاؤں میں امن ہو جائے۔اور جانتے ہو فیس بک نے فساد فی الارض کی رفتار بھی دوگنا کر دی ہے۔ آلودگی میں بے تحاشا اضافہ ہونے لگا ہے۔ نفرتوں اور تعصبات کی آلودگی میں۔‘
’’نفرتوں اور تعصبات کی آلودگی؟‘‘ میں پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
’’ ایک جسم کی دنیا ہے۔ اُس کا ماحول ہے۔ اور اُس کی آلودگی کو ماحولیاتی آلودگی کہتے ہیں۔یہ شور، دھواں، کاٹھ کباڑ، درختوں کا کاٹنا، صنعتی فضلہ یہ سب ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا سبب ہیں۔ اب تصور کرو کہ اینٹوں کا ایک بھٹہ آلودگی میں اضافہ کرتا ہے تو اگر اُسی ماحول میں اینٹوں کے چار پانچ درجن بھٹے تعمیر ہو جائیں جو ہر وقت فضاؤں میں دھواں چھوڑتے ہوں تو اندازہ کرو آلودگی کی رفتار کا۔فیس بک نے نفرتوں اور تعصبات کے بھٹے لگانے کی عام اجاز ت دے دی ہے۔‘‘
’’لیکن فیس بک نے محبتوں کے باغ اُگانے کی بھی تو اُسی طرح اجازت دی ہے نا؟‘‘ میں نے اپنی دانست میں ایک زبردست نکتہ اُٹھایا تھا۔
وہ مسکرایا ۔
’’تو باغ کیوں نہیں لگائے جا رہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ نفرتوں اور تعصبات کے بھٹے زیادہ مقبول ہیں؟‘‘
اُس کے جوابی حملے نے مجھے چاروں شانے چت کر دیا۔ وہ ہمیشہ ایسے ہی کرتا تھا۔ بعض اوقات اُس کے لہجے کی تلخی اس قدر بڑھ جاتی کہ میں سرتاپا لرز جاتا ۔
’’ ہم سب مجرم ہیں ۔ کسی نہ کسی حد تک ۔کسی نہ کسی حوالے سے ۔ہم سب بدتمیز ہیں ۔دراصل ہمیں محبتوں کی الف ب کا بھی علم نہیں۔
محبت، احترام سکھاتی ہے، دلائل عطا کرتی ہے، علم بانٹتی ہے، جبکہ نفرتیں ۔۔۔ تعصب اور تنگ نظری بانٹتی ہیں ۔سراسر جہالت، تاریکی اور توہین کا کاروبار کرتی ہیں۔ اور اکثریت کا کاروبار روزاول سے یہی رہا ہے۔ نفرتوں اور تعصبات کے کاروبار نے ہر دور میں پزیرائی حاصل کی ہے۔ اور اکثریتی کاروبار کو جتنا بڑا پلیٹ فارم میسر ہو گا، کاروبار بھی اُسی قدر تیزی سے پھیلے گا۔ فیس بک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے۔ بہت بڑا ۔لیکن یہاں بھی اکثریتی کاروبار نفرتوں اور تعصبات والا ہی ہے۔انسانی سرشت میں موجود شر کواظہار و ابلاغ کے برق رفتار ذرائع مل گئے ہیں۔۔۔ محبتوں کے باغ اُگانے والے بھی ہیں۔لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر۔ انتہائی سست رفتاری سے محبتیں آگے بڑھ رہی ہیں۔۔۔بیماری ڈیجیٹل ہو جائے تو علاج بھی ڈیجیٹل ہی ہونا لازمی ہے۔۔۔میں نے کہا نا ۔۔ ۔ ہم ہمیشہ سے محبتوں کی توہین کرتے آئے ہیں۔محبتوں کا برق رفتار نہ بنانا توہین نہیں تو اور کیا ہے؟۔۔۔۔‘‘

وہ تھوڑی دیر سانس لینے کے لئے رُکا اور پھر گویا ہو ا ’’اپنے محبوب کی محبتوں میں ڈوب جاؤ لیکن کسی دوسرے کو بھی یہ حق دوکہ محبتیں زورزبردستی کا سودا نہیں ہوا کرتیں۔ جس کا جیسا انتخاب، جس کا جیسا محبوب، اْسے مبارک۔بس اتنا کافی ہے۔ قرآن کہہ چکا اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل لے آؤ۔ سچی محبتیں، رگوں کو پھلا پھلا کر بولنے کا نام نہیں۔ تحمل، بردباری، برداشت اور وسعت قلب سے محبتوں کی تشکیل ہوتی ہے۔ محبتیں کرو۔ خوب کرو لیکن محبتوں کی توہین سے باز آ جاؤ۔ اپنے اپنے محبوب کی توہین سے باز آ جاؤ۔ کسی کے بھی محبوب کی توہین سے باز آ جاؤ ۔باز آ جاؤ۔ نظریاتی اختلاف کرو۔ دلائل کے ساتھ کرو۔ افکار سے کرولیکن ذاتیات پر کبھی مت اترو کہ ہر محب کو اپنے محبوب کی ذات میں ہمیشہ خوبیاں ہی دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن جانتے ہو فیس بک پر ہو کیا رہا ہے؟ فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ ہر کسی کو دوسرے میں خامیاں ہی خامیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ہر کوئی اپنی اپنی دانست میں اپنی اپنی محبتوں کا وکیل بن کر اپنے اپنے انداز میں اپنا اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جس کا منطقی نتیجہ یہی نکلے گا کہ نفرتوں اور تعصبات کی آلودگی اس بڑھ جائے گی کہ انسانی احساسات اور محسوسات اپنی موت آپ مر جائیں گے۔‘‘

چوتھا باب
اُس کی فیس بک وال پر بھی اُس کا وہی لب و لہجہ تھا۔ وہی درد، وہی سوز، وہی انداز جو چائے کے کھوکھے پر ہوا کرتا تھا۔ اُس کی خواہش تھی کہ فیس بک اور حقیقی زندگی میں بڑھتے فاصلے کسی طرح کم کئے جا سکیں۔ وہ انسانوں کو انسانوں سے جُڑے رہنے کی باتیں کرنے کا خُوگر تھا۔ وہ ہر لمحہ پھیلتی نفرتوں اور تعصبات کی آلودگی کے بارے میں رات رات بھر لکھتا رہتا۔ وہ محبتوں کا قائل تھا۔ امن کا داعی تھا۔ انسانی لمس کا کھوجی تھا۔وہ فیس بک سے بھی اچانک غائب ہو جایا کرتا۔ہفتوں گزر جاتے اُس کی پروفائل اُس کی طرح گہری چپ کے ساگر میں ڈوبی رہتی۔۔۔ ایک دم گونگی۔۔۔چپ چاپ۔۔۔۔جیسے موجود ہی نہ ہو۔۔۔۔ لمس کی تلاش میں نکلا یہ مسافر اپنی ذات میں بہت گہرا تھا۔اُس کو فرقہ واریت سے سخت چڑ تھی ۔ مجھے یاد ہے ایک رات میں نے اُس سے بس اتنا پوچھا تھا کہ کون سا والا اسلام مانا جائے گا؟ اور وہ رات بھر اس کا جواب دیتا رہا ۔ یوں جیسے کسی آتش فشاں پہاڑ سے لاوہ بہہ نکلا ہو۔

’’کون سا اسلام مانا جائے گا؟ یہی انداز بدلنا ہے ہمیں۔ اسلام ایک ہی ہے۔ اس کے احکامات مستند ہیں۔ ان مستند احکامات کے بارے میں جمہور علماء کا اتفاق ہے۔ ہم دراصل ایک دوسرے کو منوانے کے چکر میں محبتوں کی راہ کھو بیٹھے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو نہیں مانتے۔ کافر ہمیں نہیں مانتے۔

ہم سب اپنی اپنی محبتوں کے فہم اور ادراک کی جنگوں کے غازی ہیں۔ ہم فقہی معرکوں کے شہید ہیں۔ ہم سپہ سالار اعظم ﷺ کی مرضی و منشاء کے بغیر وہاں وار کرتے ہیں جہاں وار کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔ ہم دراصل جن سے محبت کرتے ہیں اْن کی بھی مکمل اتباع نہیں کرتے۔ سپہ سالار اعظم ﷺ کی اتباع تو ہے ہی بہت بڑی منزل۔

ہم اپنے گاؤں کے مولوی صاحب کی بس انہی باتوں کو ماننا چاہتے ہیں جو ہماری طبیعت کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں۔ خلاف طبیعت مواد سے ہم دور بھاگ جانا چاہتے ہیں۔ ہم ملکی قوانین میں سے بھی بس انہی پر عمل کرنا چاہتے ہیں جن سے ہمیں بظاہر منفعت کی امید ہو۔
ہم اپنے تعلیمی میدان میں چور دروازوں سے علم کی منزل تک پہنچنے کے خوگر بنا دیئے جاتے ہیں۔ وقت کی اہمیت کا احساس ہمیں اْس وقت ہوتا ہے جب وقت گزرچکا ہوتا ہے۔”کون سا والا اسلام” اور “کون سی والی محبت” ہی دراصل فساد کی جڑ ہے۔

“اسلام” اور “محبت” کا ایک ہی روپ ہے۔ بازار میں قرآن پاک کے ہزارہا تراجم اور تفاسیر بھی دستیاب ہو جائیں تو قرآن کا متن ایک ہی رہے گا۔ محبتوں کی حفاظت کے الوہی قوانین ہر وقت، محبتوں کے نصاب میں تبدیلی کی خواہش رکھنے والوں کا محاسبہ کرتے رہتے ہیں۔ کسی کی کیا مجال کہ حقیقی متن میں کوئی ترمیم کر سکے۔
اسلام کا ایک ہی روپ ہے۔ محبتوں کا ایک ہی روپ ہے۔ محمدی ﷺ روپ۔ اس کے علاوہ اور کوئی روپ نہیں۔ جس پر محمدی ﷺ روپ چڑھ گیا اْس کا روپ ہی اصل روپ ہے باقی سب بہروپئے۔ محمدی روپ ﷺ کی سب سے بنیادی پہچان ہی محبتیں ہیں۔ ادب ہے۔ احترام ہے۔ وسعتِ قلبی ہے۔ برداشت ہے۔ تحمل ہے۔ اتفاق ہے۔ یکسوئی ہے۔ بردباری ہے۔

نبی اکرم ﷺ جب محبتوں کے پیغام کو عام کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے مختلف اقوام کے سرداروں کو محبت نامے ارسال کئے۔ آپ ﷺ نے سب بادشاہوں کو محبتوں کی راہ کا مسافر بننے کا کہا۔ جس نے مانا، محبتیں اْس کا نصیب بن گئیں۔ جس نے نہ مانا، وہ محبتوں سے محروم کر دیا گیا۔
وطن عزیز میں “کون سا والا اسلام” کی سوچ اس لئے پیدا ہوئی کہ یہاں رائج نظام آدھا تیتر، آدھا بٹیر کے مصداق تھا۔ ٹیکس بھی دو، زکوٰۃ بھی دو۔ یہ انگریزی میڈیم ہے۔ وہ اردو میڈیم ہے۔ یہاں حکمرانوں کے بچے پڑھیں گے۔ وہاں حکمران بنانے والوں کے بچے پڑھیں گے۔یہاں بادشاہوں، شہزادوں اور شہزادیوں کا علاج ہو گا اور وہاں غریبوں اور مساکین کو دوائیاں دی جائیں گی۔ یہ فیصل آباد کے ایک نواحی قصبے کی چھوٹی سی مسجد کا مولوی ہے۔ اور یہ پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کے مولانا صاحب ہیں۔ جانتے ہو، غریب بستیوں کے امام بھی دراصل غریبی کے سارے ظلم و ستم سہتے ہیں۔ امیر بستیوں کے امام بھی امیر بستیوں کی آسائشوں میں شریک ہوتے ہیں۔

وی وی آئی پی علاقوں میں مولوی نہیں ہوتے۔ وہاں جناب مولانا صاحب ہوتے ہیں۔ اور وہ جناب مولانا صاحب اس لئے ہوتے ہیں کہ وہ ایک وی آئی پی علاقے کی جامع مسجد کے خطیب ہیں۔ اْنہیں کوئی “او مولوی” کہہ کر نہیں بلاتا۔ غریب بستیوں کی کھٹارا بسوں میں سواریوں کو کھچاکھچ بھرتا کنڈیکٹر باریش انسان کو”او مولوی” کیوں کہتا ہے؟ یہی سوچ سمجھنے والی ہے۔

ہم نے اسلام کو اور محبتوں کو سماجی دھڑے بندیوں کا شکار کر دیا ہے۔
دنیا کے سبھی ادیان و مذاہب کا یہی حشر کیا ہے ہم انسانوں نے ۔ ہر دور کے فراعین انسانوں کو تقسیم کئے رکھتے ہیں تا کہ اُن کی جھوٹی خُدائی قائم رہے۔ ہمیں آئیڈیالوجی یہی دی جاتی ہے کہ “ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز” لیکن حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ مساجد کے باہر پہرے لگ چکے۔ کسی مزدور کی کیا مجال کہ وزیراعظم کے شانہ بشانہ نماز ادا کر سکے؟ یہی حال دیگر ادیان و مذاہب کا ہے۔

کسی عام محلے کی مسجد کے مولوی صاحب کی کیا مجال کہ وہ ایسا خطبہ دیں جو اْس محلے کے چوہدری صاحب، پیر صاحب، یا لمبڑدار صاحب کی مرضی و منشاء کے خلاف ہو؟ آخر مولوی صاحب نے مسجد میں نہیں رہنا؟ یہی حال عیسائی پادریوں کا ہے۔ ہندو پنڈتوں کا ہے۔ تمام ادیان و مذاہب میں دراصل سماجی تقسیم کارفرما ہے۔ سماجی مجبوریاں اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ ہم محبتوں کی صرف وہی بولی بولتے ہیں جو سامعین برداشت کر سکیں۔سماج برداشت کر سکے۔
محبتوں کی بولی، ایک ہی ہے۔ جابر حاکم ہو کہ بے بس رعایا، بولی ایک ہی چلے گی۔

“کون سا والا اسلام” دراصل نظام کے کھوکھلے پن کا آئینہ دار ہے۔ ہم جن گھرانوں میں پیدا ہو جاتے ہیں، اْن گھرانوں کو ہماری پیدائش سے پہلے ہی مختلف طبقاتی حوالوں سے بری طرح تقسیم کیا جا چکا ہوتا ہے۔ بری طرح منقسم طبقات اپنے منتشر خیالات کے ذریعے آنے والی نسلوں کو باہم متصادم کئے رکھتے ہیں۔ اسے انگریزی زبان میں ڈیوائیڈ اینڈ رول کہتے ہیں۔

“کون سا والا اسلام” کی سوچ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم کہیں کون سا والا رب؟ رب سب کا ایک ہے۔ ایک ہی پیغمبر ﷺ، ایک ہی کتاب، ایک ہی امت۔ محبتوں کا نصاب ایک۔ جنت ایک، جہنم ایک۔ پھر یہ ساری تقسیم، یہ انتشارکہاں سے آیا؟ دراصل ایک دوسرے کو منوانے کے لئے ہم نے منوانے کے انفرادی پیمانے وضع کر لئے۔ میرا رونا اجتماعی ہے۔ محبتوں کے جہان میں ہمہ گیریت ہوا کرتی ہے۔ قلزم میں قطروں کی انفرادیت کے متلاشی دراصل اپنے اصلی جوہر ملکوتی سے ہی آگاہ نہیں۔محبتوں کے نصاب میں نفرتوں کے باب شامل کرنے والوں کا ہر مکر، واﷲ خیرالماکرین کی تلوار کے ایک وار سے ریزہ ریزہ ہوتا رہا ہے۔ ہوتا رہے گا۔‘‘

میں نے شاید کسی خاص لمحے میں سوال پوچھ لیا تھا۔ بعض اوقات وہ کئی کئی روز تک غائب ہو جاتا تھا۔ گم ہو جاتا تھا۔ گہری چپ کی بُکل مارے کسی اور ہی دنیا میں روپوش ہو جاتا تھا۔ لیکن جب کبھی وہ ’’ہماری‘‘ دنیا میں واپس آتا تو خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا۔ اُس کے پاس ہمیشہ نئے سے نیا درد ہوا کرتا تھا۔ اُس کے بقول ’’درد سب سے قیمتی ہیرا ہے‘‘ ۔ اور وہ اپنے درد کے ہیرے فیس بک پر مفت تقسیم کرتا رہتا تھا۔ کوئی لے نہ لے، وہ اپنا مال بہرحال سجا کر رکھ دیتا تھا۔ خاص کر اُن لمحوں میں جب وہ درد کی مخصوص کیفیت میں ہوتا، وہ کچھ زیادہ ہی بولتا تھا۔ لکھتا تھا۔

شاید اُس رات وہی کیفیت تھی۔ اور وہ بولتا جا رہا تھا۔ لکھتا جا رہا تھا۔

’’یہ “کافر کافر” کا کھیل ہم سب ہی کھیلتے ہیں۔ہم اپنے محبوب کو نہ ماننے والوں کو ہمیشہ کافر کہتے آئے ہیں۔ اسی طرح دوسروں کے نزدیک ہم کافر بنے رہتے ہیں۔ اور یوں محبتیں آپس میں گتھم گتھا رہتی ہیں۔

میں پیدائشی سنی بریلوی ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ باقی سب مسالک والے بیوقوف ہیں؟ عقل کے اندھے ہیں؟ صراط مستقیم پر نہیں؟ ناجی فرقہ نہیں؟ تو پھر دوسرے مسلک والوں کے ہاں پیدا ہونے والوں کو بھی اتنا ہی حق ہے کہ وہ میرے بارے میں اسی تنگ نظری سے سوچیں۔میں پیدائشی شیعہ ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ میرا آل رسول ﷺسے زیادہ گہرا رشتہ ہے اور باقی سب جہنمی ہیں؟ تو پھر دوسروں کو بھی حق پہنچتا ہے کہ وہ میرے بارے میں اسی تنگ نظری سے سوچیں۔میں اہل حدیث ہوں یا دیوبندی ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ بس میں راہ ہدایت کا مسافر ہوں جبکہ باقی سب گمراہ ہو چکے؟ تو پھر دوسری راہوں پر چلنے والوں کا بھی حق ہے کہ وہ مجھے گمراہ سمجھیں۔ مغضوب سمجھیں۔
اور اگر میں اْٹھوں اور مخالف فرقے یا مخالف مذہب والوں کو قتل کرتا پھروں تو پھر اْن کو بھی حق ہے مجھے قتل کرنے کا۔
ہم دراصل ہوتے کون ہیں جنت یا جہنم کا فیصلہ کرنے والے؟ ہم کائنات کے رب نہیں۔ ہم عادل سے کوسوں دور۔ عدل سے کوسوں دور۔ ہمیں تو اپنے نطفے کی مکمل آگاہی نہیں تو پھر ہمارے اندر یہ جسارت کون پیدا کرتا ہے کہ ہم کائنات کے مالک بن کر جس کو چاہیں اْسے کافر کہتے پھریں؟
یہ جسارت، مشرکانہ جسارت ہے! محبتوں میں توحید کا عنصر غالب نہ رہے تو محبتیں بدترین شرک کی جانب دھکیل دیتی ہیں۔
ہر شخص کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں اپنے محبوب سے رشتہ قائم رکھے۔ لیکن کسی انسان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کے محبوب کو گالیاں دے۔ اور جو ایسا کرتے ہیں وہ دراصل محبتوں کی توہین کرتے ہیں۔ کسی دوسرے کے محبوب کی توہین، درحقیقت ہمارے اپنے ہاتھوں ہمارے اپنے محبوب کی توہین ہوا کرتی ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہم سب کو تنگ نظر کہہ دیں لیکن کوئی ہمیں تنگ نظر نہ کہے؟ ہماری خواہش ہے کہ ہم دوسروں کے محبوب کی ماں بہن ایک کر دیں لیکن باقی سب ہمارے محبوب کا نام بھی احترام سے لیں؟
نہیں! ہم دراصل محبت ہی نہیں کرتے اپنے محبوب سے۔ ہمیں بس اپنے نفس سے محبت ہے۔
محبتیں ، ذمہ داری کا کام ہیں۔ جب محبت ہو جائے تو محبوب کی گلی کا کتا بھی اچھا لگنے لگتا ہے۔ محبتیں انسان کو تکبر سے بچاتی ہیں۔ اگر آپ مغرور ہو رہے ہیں تو آپ دراصل “میں” سے محبت کرتے ہیں “تْو” سے محبت ابھی آپ سے کوسوں دور ہے! “میں” سے محبت دلائل و براہین سے تہی داماں ہوا کرتی ہے۔ “تْو” سے محبت کی منزل دلائل کی منزل ہے۔

محب کو محبوب سے محبت کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں پڑتی۔ لیکن جب تقابلی جائزے کی نوبت آ جائے تو دلائل لازمی ہو جاتے ہیں۔ قرآن کہہ چکا “لے آؤ تم بھی اپنے محبت کرنے والے، اور میں بھی لے آتا ہوں اْن کو جن سے میں محبت کرتا ہوں اور جو مجھ سے محبت کرتے ہیں”
اسی کا نام مناظرہ ہے۔ محبوب کا مقدمہ لڑنا اور بات ہے۔ مخالف وکیل کو اور اس کے مدعی کو گالیاں دینا ایک اور بات اور انتہائی گھٹیا بات۔
محبتوں کی کھوج لگائیں۔ محبتوں کو سمجھیں ۔ محبتیں عرفان عطا کرتی ہیں ۔۔ محبتیں، معراج عطا کرتی ہیں ۔ محبتیں وسعت قلب سے نوازتی ہیں ۔۔
اگر آپ تنگ نظر ہیں، تو آپ نے دراصل محبت کا فقط لیبل لگا رکھا ہے! فقط لیبل اور کچھ نہیں۔ اور یہی لیبل ہیں فیس بک پر جا بجا بکھرے ہوئے۔ ہم اپنی اپنی محبتوں کے تنگ کنویں میں قید ساتھ والے کنویں میں موجود قیدی پر فتویٰ لگاتے ہیں۔ پھر ساتھ والے کنویں سے بھی جوابی وار ہوتا ہے۔ پھر اُس کے ساتھ والے کنویں سے۔ پھر اُس کے ساتھ والے کنویں سے۔ اور یوں نام نہاد محبتوں کے اس شور شرابے میں نفرتوں اور تعصبات کی آلودگی مزید بڑھتی جاتی ہے۔‘‘

میرا سوال تھا ’’کون سا والا اسلام مانا جائے گا‘‘ اور میرا سوال ٹھیک وقت پر ٹھیک نشانے پر لگا تھا۔ اُس کا جواب ابھی نامکمل تھا ۔ اُس نے براہ راست مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا ۔’’ یہ جو تم ہر وقت ’’میری ٹوہ‘‘ میں رہتے ہو ۔ متجسس رہتے ہو کہ میں اپنے ماضی کے قلعوں میں تمہیں لے جاؤں اور وہاں بنے یادوں کے مزارات کا حال احوال تمہیں سناؤں۔ اور تمہیں ’’محبت‘‘ کی وہ روایتی کہانی سناؤں جو تم سُننا چاہتے ہو۔ اور تمہارے ہر سوال پر میں مسکرا دیتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں تم سے کچھ چھپاتا ہوں۔ نہیں۔ محبتیں چھپانے والی شے نہیں ہوا کرتیں۔ جسمانی تعلق چھپا کر رکھا جاتا ہے۔ محبتیں تو سرعام اظہار مانگتی ہیں۔
محبتوں کو زمان و مکان کی قید سے آزاد د ہو کر سمجھنا لازمی ہے۔ محبتوں کا کیلنڈر آفاقی ہے۔ الوہی ہے۔ محبت، کبھی کبھار کرنے والا تو سودا ہے ہی نہیں۔ جو کبھی کبھار ہو وہ بھی بھلا کوئی محبت ہوئی؟ ہم اپنے اپنے مسلک کی طرح، دراصل، محبتوں میں بھی فرقہ بندی کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔ محبتیں، فرقہ بندی سے پاک ہیں۔ یہ ہوتی ہیں تو بس ہوتی ہیں۔ نہیں ہوتیں تو نہیں ہوتیں۔
میں رب کا خالق نہیں۔ میرا رب میرا خالق ہے۔ محبت، میری تخلیق نہیں۔ محبت، میرے رب کی تخلیق ہے۔ کل مخلوقات میرے رب کی پیداکردہ ہیں۔ حلال بھی، حرام بھی ۔۔۔ میرے حصے میں انتخاب آیا ہے۔ الوہی شاپنگ مال میں داخل ہونے والے اپنی اپنی مرضی کا مال اْٹھاتے چلے آئے ہیں ۔قرنہا قرن سے انتخاب کا عمل جاری ہے! میرا انتخاب “محبتیں” ہیں۔ میرا نصاب “محبتیں” ہیں۔ میں “محبت” کرنے والوں سے محبت کرتا ہوں۔ میں نفرت کرنے والوں کو “دعا” دیتا ہوں کہ شاید وہ بھی کبھی محبتوں کو سمجھ سکیں۔

محبتیں، میرا جنون ہیں۔ میرا جنون ہی میری محبت ہے۔ اور میرے جنون کی کہانی کا ہر لفظ محبوب آقا ﷺ کی زلفوں کا مرہون منت ہے۔ جو اْن زلفوں کے اسیر ہو گئے وہ میرے لئے محترم ہو گئے۔ جو اْن زلفوں سے محروم ہو گئے، وہ میرے لئے مستحق دعا ہو گئے۔محبتیں منتخب کرو۔ محبتوں والوں کا انتخاب کرو۔ جسم فنا ہو جائیں گے! فیس بک ختم ہو جائے گی۔ جسم کی دنیا ختم ہو جائے گی۔ خواہشات ختم ہو جائیں گی لیکن محبتیں ختم نہیں ہوں گی۔ اور جہاں محبتوں والے پھر ملیں گے ۔۔۔اْن لمحات کا تصور ہی میرا جنون ہے۔ ایسی ہستیوں کا لمس ہی میری توانائی ہے۔اور کائنات میں پھیلی رحمتوں بھری عظیم توانائی ﷺ منتظر ہے کہ ہم اُس لمس سے بہرہ مند ہوں۔‘‘

میں نے گذشتہ دو دہائیوں میں ایک بات شدت سے محسوس کی تھی۔ وہ جب بھی پیغمبر اکرم ﷺ کا ذکر کرتا تو اُس کا لب و لہجہ ہی تبدیل ہو جاتا۔ اُس کا انداز اس قدر لاڈلا ہو جاتا کہ میں بے اختیار اُس کے ہاتھوں کو تھام لیا کرتا۔ میں محسوس کرتا تھا کہ جب وہ ’’لاڈ‘‘ کی اس کیفیت میں ہوتا تھا تو اُس کے وجود سے نکلنے والی محبتوں کی لہریں مجھے سرتاپا ایک نیا جوش، ایک نیا ولولہ دے دیا کرتی تھیں۔ اُس کا لاڈلاپن منفرد تھا ۔ وہ جب بھی نبی اکرم ﷺ یا کسی بھی پیغمبر علیہ السلام کا ذکر کرتا تو اُس کے انگ انگ سے لاڈ کا اظہار ہوتا۔ لیکن یہ کیفیت زیادہ دیر تک برقرار نہ رہتی۔ وہ جب بھی اس کیفیت سے آگاہ ہوتا ، واپس لوٹ آتا ۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا جب میں اُس کے بارے میں مزید متجسس ہو جاتا۔ وہ کیوں اس قدر پراسرار ہے؟ میں اکثر سوچتا رہتا۔۔۔کیا چھپاتا ہے مجھ سے؟ کیوں خائف ہے گہری چپ کے بند دروازے کھولنے سے؟ میرے ذہن میں ان گنت سوالات پیدا ہونے لگتے۔۔۔

’’وہ زیادہ دیر تک اُس کیفیت کو منظر عام پر کیوں نہیں رکھنا چاہتا؟ ‘‘ میں سوچتا رہتا۔ قیاس آرائیاں کرتا رہتا ’’آخر کیا وجہ ہے کہ وہ ’’اپنے لاڈ‘‘ کو خفیہ ہی رکھنا چاہتا ہے۔؟‘‘ میرے ذہن میں عجیب و غریب سوالات اُٹھتے لیکن مجھے شاید ابھی انتظار کرنا تھا۔ میں اس اُمید میں ہمیشہ اُس کے آس پاس منڈلاتا رہتا کہ شاید کسی روز کسی خاص کیفیت میں وہ مجھے ’’اس لاڈ بھری کیفیت‘‘ کی گہرائی میں اتار دے ۔ لیکن اب تک اُس نے مجھے اس راز کی ہوا تک نہیں لگنے دی تھی۔ اُس رات میرے سوال پوچھنے پر وہ کچھ زیادہ ہی دیر تک اُس ’’لاڈ والی کیفیت ‘‘ میں رہا اور میں اُس کے ساتھ تہجد تک جاگتا رہا کہ شاید کسی مبارک لمحے میں وہ ’انکشاف‘ کر دے۔ اور لاوہ ابھی بہہ رہا تھا ۔۔۔

’’یوفون کی سم استعمال کرنے والا وارد کی سم استعمال کرنے والے کو زیادہ سے زیادہ اپنے پیکجز کے بارے میں بتا کر قائل کر سکتا ہے۔ لیکن یوفون والے کو یہ اختیار نہیں کہ وہ وارد والے کو صرف اس جرم میں قتل کر دے کہ وہ یوفون کی سم استعمال نہیں کرتا تھا یا یوفون والا وارد والے کو واجب القتل قرار دے اُس کی گردن اُڑا دے۔یہ محبتوں کی توہین ہے۔ یہ پیغمبر اکرم ﷺ کی تعلیمات کے ساتھ کھیلا جانے والا گھناؤنا کھیل ہے۔
آپ کے پیکجز اچھے ہیں۔ تو آپ حکمت کے ساتھ تبلیغ کریں۔ تعلیم دیں۔ شعور پیدا کریں۔ آپ نے وارد والے کو گالیاں دیں تو یوفون والے کو بھی گالیاں ہی سننے کو ملیں گی۔

اب یوفون اور وارد کو ، دو انسانوں کی تنگ نظری کی بھینٹ چڑھانا کہاں کی دانشمندی ہے؟ ادیان و مذاہب اور مسالک و مکاتب فکر کا بھی یہی دستور ہے۔ جو جس ماحول میں پیدا ہوتا ہے، اْسے اسی ماحول کی سم ملتی ہے۔ اْسی ماحول کے پیکجز ملتے ہیں۔ آپ کے دین و مذہب یا مسلک و مکتبہ فکر کے پیکجز اچھے ہیں تو آپ حکمت سے کام لے کر شعور پیدا کریں۔ قائل کریں۔ اپنی سم کی خوبیاں عملی طور پر دکھائیں اور بس ۔۔
وما علینا الاالبلاغ المبین ۔ بلغ ما اْنزل علیک ۔ اس سے آگے لااکراہ فی الدین کا اسپیڈ بریکر ہے۔
آپ جبر کریں گے، قتل کریں گے، تنگ نظری سے متشدد رویوں کو فروغ دیں گے تو آپ کی کمپنی سے لوگ نفرت ہی کریں گے۔جس نے سم خریدنی ہے وہ بھی ارادہ ترک کر دے گااور جو سم استعمال کر رہے ہیں وہ بھی سوچ میں پڑ جائیں گے کہ یہ کیسی سم والی کمپنی ہے جو کسی اور سم کا وجود ہی برداشت نہیں کر سکتی۔ ہاں! اگر ایک سم والا آپ پر جنگ مسلط کر دے تو پھر آپ کو حق پہنچتا ہے کہ آپ ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کریں۔
لیکن جانتے ہو فیس بک پر اکثریت اپنی سم کی خوبیاں اور کسی دوسرے کی سم کی بس خامیاں گنوارہی ہے۔ اور بات یہیں پر ختم ہو جاتی تو شاید نظریاتی آلودگی پر قابو پانا ممکن ہوتا۔ بات اس سے آگے بڑھتی ہے۔ گالم گلوچ تک پہنچتی ہے۔ واہیات و خرافات تک پہنچتی ہے۔ اور پھر فتوے ہی فتوے ۔ نفرتوں اور تعصبات کی آلودگی میں اس قدر تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہ عین ممکن ہے سانس لینا ہی دشوار ہو جائے۔
محبتوں کے جگنو اور تتلیاں عدم برداشت کے ماحول میں مر جایا کرتی ہیں۔ محبتوں کے پھول نفرتوں کی دھوپ سے کملا جاتے ہیں۔ میں اسی لئے کہتا ہوں کہ ’’کون سا والا اسلام‘ اور ’کون سی والی سم‘ پر بحث مباحثے کرنے والے فیس بک پرنظریاتی آلودگی کواس قدر تیزی سے فروغ دے رہے ہیں کہ احساسات و محسوسات کی دنیا ہر روز آلودہ ہوتی جا رہی ہے۔ ہر روز۔ ہر نئی پوسٹ کے ساتھ مزید نفرتیں اور مزید تعصب ۔۔ اور کچھ بھی نہیں۔ جانتے ہو اس کا انجام کیا ہو گا؟‘‘
یہ براہ راست سوال ہمیشہ میرے لئے ہوتا تھا۔ میں فیس بک کو شاید اس قدر گہری بصیرت کی نگاہ سے دیکھتا ہی نہیں تھا جس قدر گہری اُس کی نظر تھی۔ وہ فیس بک کی اہمیت پر گھنٹوں بولتا رہتا تھا۔ اُسے بس ڈر تھا کہ یہ عظیم پلیٹ فارم نفرتوں اور تعصبات کی آلودگی پھیلانے والوں کے لئے زیادہ مؤثر ہے اور محبتوں کے پھول اُگانے والوں کے لئے ہر پلیٹ فارم کی طرح شاید یہ پلیٹ فارم بھی ’بانجھ‘ ہی رہے۔اکثریت نے ہر دور میں خیر کی راہ روکی ہے۔۔۔ شر کو جواز فراہم کیا ہے۔۔۔۔

وہ اس بات کا شدید قائل تھا کہ فیس بک کو محبتوں کے فروغ کے لئے استعمال ہونا چاہیئے۔ اور اس مقصد کے لئے وہ جب بھی کچھ لکھتا یا کسی سوال کا جواب دیتا تو کم از کم سوچنے والے دماغ اُس کی باتوں سے ہمیشہ تحریک پاتے۔ اُس کا انداز عام مصنفین کی طرح کا نہیں تھا۔ وہ لکھنے کے بھیس میں باتیں کرتا تھا۔ یا باتوں کا روپ دھار کر لکھا کرتا تھا۔ اُسے اپنے کو مصنف کہلانے سے خوف آتا تھا۔۔۔۔ وہ چاہتا تھا لوگ اُس کی باتوں کا درد سمجھیں ۔۔۔ داد نہ دیں۔۔۔ سبحان اﷲ اور ماشاء اﷲ لکھ کر تبصرے کا گلا نہ گھونٹ دیں بلکہ فکر و شعور کی وادیوں میں اپنے حصے کی نظریاتی تازگی کے پھول کھلائیں۔۔۔ اُسے روایتی مشاعروں اور مجلسی تقریبات میں گونجتی ’واہ واہ‘ سے چڑ تھی ۔۔۔وہ ذاتی تحسین کے لئے لکھنے کو فضول کہا کرتا تھا۔۔۔۔ وہ سرتاپا ایک مخلص طالبعلم بن کر علم کی راہ پر چلتا اور اُس کی ہمیشہ یہی آرزو ہوتی کہ لوگ غوروفکر کے عادی ہو جائیں۔۔۔ تحقیق کے خوگر ہو جائیں ۔۔۔ ورثے میں ملنے والے نظریات کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیں۔۔۔ اور قوت ممیزہ سے حق و باطل میں امتیاز کریں۔۔۔ اور اپنی دانست میں بہترین انتخاب کے ذریعے زندگی کا سفر طے کریں۔۔۔۔ وہ ٹھیک کہتا تھا کہ ہمارا اجتماعی شعور تحقیق سے نابلد ہوتا جا رہا تھا۔۔۔ ہم اپنی صف میں کھڑے لوگوں کی تحسین اور مخالف صف میں کھڑے لوگوں کی تحقیر سے آگے بڑھیں گے تو ہمیں منطقی جمالیات کا ادراک ہو گا۔۔۔۔

’’رانجھے سے پوچھیں کہ ہیر اچھی ہے یا لیلیٰ تو اْس کا جواب کیا ہو گا؟ ہیر۔ مجنوں سے یہی سوال پوچھیں گے تو اْس کا جواب ہو گا لیلیٰ ۔
اسی طرح آپ کسی تبلیغی جماعت والے بھائی سے پوچھیں گے کہ علم کا سمندر کون ہے : ڈاکٹر طاہر القادری صاحب یا مولانا طارق جمیل صاحب؟ تو اْس کا جواب کیا ہو گا؟ مولانا طارق جمیل صاحب۔
اسی طرح منہاج القرآن سے وابستہ ہر فرد کا جواب ہو گا ‘ڈاکٹر طاہرالقادری’۔اور فیس بک پر ہونے والے زیادہ تر ‘سروے’ اسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ کپتان کے چاہنے والے، جناب نواز شریف کو کپتان پر ترجیح کیوں دیں گے؟ اسی طرح جناب نواز شریف کے چاہنے والے، کپتان کو کوئی لفٹ کیوں کرائیں گے؟ ایسے تمام تر ‘سروے’ کبھی غیر جانبدار نہیں ہوتے۔یہ کاروباری ہتھکنڈے اور مادی خواہشات ہوا کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر چند لائیکس کی خاطر ایسے ‘سروے’ عام طور پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔اس قدر آسان نہیں ہوتا اپنے موجودہ نظریات سے ہٹ کر کوئی نظریہ اختیار کرنا۔
اب تم خود سوچو کہ کہ جب کسی دور میں کسی سرزمین پر پیغمبر علیہ السلام آیا کرتے تھے تو وہاں کے باسیوں کا اْن کے ساتھ رویہ کس قدر ‘غیر جانبدار’ یا ‘جانبدار’ ہوتا ہو گا؟
بہت مشکل ہے تعصب کے کنویں سے باہر نکل کر غیر جانبداری سے حالات کا جائزہ لینا۔ ہم سب دراصل اپنی اپنی ذات اور نظریات میں قید رہنا چاہتے ہیں۔ ہم جس ماحول میں جس دین و مذہب کے زیر اثر پیدا ہو جاتے ہیں، ہم اْس کو ہی برحق سمجھنے کی روش اختیار کر لیتے ہیں۔اور ہمارے نزدیک بس وہی ماحول ‘ایمان والا’ ہوتا ہے جس ماحول میں ہماری پیدائش یا ہماری پرورش ہوئی ہوتی ہے۔ دوسرے ‘ماحول’ میں پیدا ہونے والا بھی یہی سمجھتا ہے۔ پھر یہ حبس اور گھٹن، تنگ نظری کو جنم دیتی ہے۔ ہم دوسروں کو برداشت نہیں کرتے۔ دوسرے ہمیں برداشت نہیں کرتے۔یوں میری نظر میں وہ کافر اور اْس کی نظر میں میں کافر۔ اور پھر نفرتوں اور تعصبات کی آلودگی ہی آلودگی ۔۔۔پھر قتل و غارت۔۔۔ پھر تنگ نظری عروج پر۔۔۔اگر دین کے نام پر قتل کسی ایک دین میں جائز ہے تو پھر دوسرے دین والے بھی قتل کا اتنا ہی حق رکھتے ہیں۔
جس کے پاس جس قدر قدرت ہو گی، اْسی قدر خدائی کا دعوے دار ہو گا۔ اور جہاں کوئی قادر نہیں ہو گا وہاں گالم گلوچ اور فتوے زیادہ ہوں گے۔
فتوے ہمیشہ محرومیوں کے شکار معاشروں میں زیادہ سرعت سے فروغ پاتے ہیں۔ فتوے ہمیشہ سماجی طور پر محروم لوگوں کے ہاں زیادہ دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔محرومیاں، انسانی آبادیوں کو انتہاپسند اور تنگ نظر بنا دیتی ہیں۔۔۔
لائق طلباء ، فتوے نہیں لگاتے۔ محنت کرتے ہیں۔ دلائل و براہین کے ساتھ جینے کے انداز سیکھتے ہیں لیکن تعلیمی اداروں کے بگڑے ہوئے نالائق طلباء زبردست قسم کے مفتی ہوتے ہیں۔ اپنی ذاتی زندگی میں چھپ چھپا کر ذاتی گناہ کرنے والے ، شراب پینے والے، حرام کھانے والے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر فیس بک پر آکر گالیاں دیں گے تو اسلام کی کون سی خدمت کریں گے؟ محبتوں کا کون سا حق ادا کریں گے؟
بات بات پر فتوے ، گالیاں، لعن طعن ۔۔ یہ سب انسان کی تباہ حال شخصیت کی عکاسی کے لئے کافی ہے۔اور جانتے ہو فیس بک پر نفرتوں اور تعصبات کی آلودگی میں اضافہ کرنے والے اپنی اپنی زندگی کی گاڑیوں کو کس طرح چلاتے ہیں؟ کبھی غور کرنا اس نقطے پر۔ جو جس قدر محرومیوں کا شکار ہو گا، جس قدر نفسیاتی عوارض کا شکار ہو گا یا جس قدر خالص اور حقیقی محبتوں سے محروم ہو گا وہ اُسی قدر خطرناک فیس بکی مفتی ہو گا۔ ’نام نہاد مفتی ‘ ۔
یہ نفسیاتی الجھنیں ان کرتوتوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، جو نفس کی شرانگیزیوں کی بدولت انسان کے ارد گرد خیمہ زن رہتی ہیں۔تحقیق لازم ہے۔ دلائل لازم ہیں۔ بصیرت لازم ہے۔ ورنہ پھر میں بھی رانی، تو بھی رانی ۔ کون بھرے گا گھر کا پانی۔۔۔‘‘

اُسے اس بات پر شدید تکلیف ہوتی تھی کہ لوگ صرف داڑھی والے انسان کو ہی ’ملا‘ کہتے ہیں۔ اُس کے نزدیک ’’ملّا‘‘ کا تعلق داڑھی سے نہیں، انسانی کردار سے ہوتا ہے۔ وہ اکثر کہتا ’’ دیکھو! دنیا عالمی گاؤں بن چکی ہے۔ جب تک دنیا یا پاکستان ملاؤں کی زد میں رہے گا، بلاؤں کی زد میں رہے گا۔ ملا ایک استعارہ ہے۔ یہ ایک مخصوص روپ ہے۔ اس کا داڑھی، مونچھوں یا کلین شیو کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
اس کا دین و مذہب یا سیاست کے ساتھ بھی کوئی تعلق نہیں۔ ملا، مسجد میں بھی ہو سکتا ہے مندر میں بھی۔ مے خانے میں بھی اور چائے کے کھوکھے پر بھی۔ کسی داڑھی والے انسان کو خوامخواہ ملا کہنے پر مصر لوگ دراصل خود ایک ملا ہوتے ہیں۔ملاازم ایک تنگ نظر ازم ہے۔ بہت سے سیاستدان ملا ہیں۔بہت سے وردی والے ملا ہیں۔ شاید میں اور آپ بھی کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی حد تک ملا ہیں۔ملا کا تعلق نیکی کے ساتھ بھی اتنا ہی ہے جتنا گناہ کے ساتھ۔ ملا کی نسبت کسی ایک مخصوص فرقے کے ساتھ نہیں۔
یہ ہر فرقے میں پایا جاتا ہے۔ ہر قوم میں ہوتا ہے۔ گاؤں گاؤں، قریہ قریہ، ملا کی موجودگی ہے۔یہ کسی کالج کے لیکچرار کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے اور کسی یونیورسٹی کے پروفیسر صاحب کی صورت بھی موجود ہو سکتا ہے۔
ہر وہ ماحول جہاں فتوے زیادہ ہوں وہاں دراصل ملا راج ہوتا ہے۔ ہر وہ خطہ زمین جس پر تنگ نظری کو فروغ حاصل ہو، وہاں ملاازم کے پیروکار زیادہ ہوتے ہیں۔ اسلام، ملائیت کے سخت خلاف ہے۔عیسائیت، ملائیت کے سخت خلاف ہے۔ کوئی الہامی دین اپنی ہیئت میں ملا نہیں ہوتا۔جب، جہاں دین میں انسان اپنی مرضی کی تبدیلیاں کرنا شروع کر دیتا ہے وہاں ملائیت کا رواج چل نکلتا ہے۔ اﷲ کے دین میں انسان کی نفسانی خواہشات سے بھرپور تبدیلیاں دراصل ملائیت کو جنم دیتی ہیں۔
مْلا دراصل اپنی ذات اور نظریات کے کنویں میں قید ہر اْس شخص کو کہا جائے گا جس کے نزدیک دوسرے کنویں میں ٹرٹر کرتا مینڈک کافر ہے۔مْلا، داڑھی والا ہو، مونچھوں والا ہو، کلین شیو ہو، غریب ہو یا پیسے والا ہو، مْلا، مْلا ہوتا ہے۔

بعض اوقات سیاستدان، مْلا بن کر فوج کو دیکھتے ہیں۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ فوجی جرنیل ملا بن کر سیاستدانوں کو دیکھتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بچوں کو تنگ نظری سکھانے والے ملاؤں نے دراصل نوجوان نسل کو بلاؤں کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔ روشن خیال ملا درحقیقت تنگ نظر ملا سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ روشن خیالی کی ذاتی تعریفات بدترین تنگ نظری ہوا کرتی ہیں۔ روشن خیال نام نہاد این جی اوز تنگ نظر ملاؤں سے زیادہ خطرناک ہیں۔ اسلام، میانہ روی کی تلقین کرتا ہے۔ دونوں انتہاؤں پر براجمان طبقات اسلام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایک طبقہ آپ کو برداشت نہیں کرتا تو وہ آپ کی نظر میں تنگ نظر ہے؟ تو جب آپ اْس طبقے کو برداشت نہیں کرتے تو آپ دراصل کیا ہیں؟ کیا آپ روشن خیال ہیں؟ کیا آپ معتدل مزاج ہیں؟
آپ کو لگتا ہے کہ ہر داڑھی والا ملا ہے؟ تو آپ دراصل خود ملا ہیں۔ ایوانوں میں بیٹھے اکثر ملا سیاستدان نوجوان سیاستدانوں کو سیاست میں آنے ہی نہیں دیتے۔ کھیل کے میدانوں میں بھی یہی ملاازم ہے۔ محراب و منبر کا یہی حال ہے۔ عام دفاتر میں بہت سے ٹائی کوٹ والے بابو ملا ہوتے ہیں۔جب تک پاکستان ملاؤں کی زد میں رہے گا، بلاؤں کی زد میں رہے گا۔جب تک عالمی گاؤں ملاؤں کی زد میں رہے گا، بلاؤں کی زد میں رہے گا۔ دیکھو! یہ جو ملاازم ہے نا، یہ محبتوں کی توہین ہے۔ نفرتوں اور تعصبات کی آلودگی میں اضافے کا سب سے خطرناک سبب یہی ملاازم ہے۔ آپ اگر کسی بھی حوالے سے مغلوب ہیں اور دوسروں کو برداشت بھی نہیں کر سکتے تو پھر جو غالب ہیں وہ آپ کو برداشت کیوں کریں گے؟ عدم برداشت کا آخرکار انجام کیا ہوتا ہے؟

کبھی تاریخ کی کتابیں کھول کر دیکھنا۔ خون ہی خون۔ فساد ہی فساد ۔ نفرتیں ہی نفرتیں۔

عالمی جنگیں ہو چکیں۔ اور ہر جنگ کی ابتداء نفرتوں اور تعصبات سے ہوا کرتی ہے۔ فیس بک نے نفرتوں اور تعصبات کی رینج کو بڑھا دیا ہے۔ اس میں بظاہر فیس بک کا کوئی قصور نہیں کہ وہ تو ایک پلیٹ فارم ہے لیکن یہ بھی تو دیکھو کہ اس پلیٹ فارم پر آنے والے اپنے ساتھ اپنے حصے کی نفرتیں اور تعصب لے کر ہی آتے ہیں۔ اور چونکہ اکثریت نفرتوں اور تعصبات کی راہ کی مسافر ہے اس لئے فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ محبتوں کی خوشگواریت پر نفرتوں کی ناگواریت غالب آ جائے تو آخر کار جنگ ہی ہوا کرتی ہے۔ اور اب جو جنگ ہو گی، وہ خطرناک جنگ ہو گی۔ اور ہر جنگ کی طرح اس میں بھی سب کا ہی نقصان ہو گا۔ انسانی آبادیوں کا اجتماعی نقصان۔ عالمی گاؤں کا اجتماعی نقصان۔‘‘

اُس کی نظر تھی عالمی سیاست پر ۔ وہ ہمیشہ متفکر دکھائی دیتا تھا ۔بعض اوقات تو اُس کے چہرے پر باقاعدہ ہوائیاں اُڑ رہی ہوتیں۔ اور جب کبھی اُس کے چہرے کی رنگت فق ہوتی وہ غائب ہو جاتا۔ منظر عام سے یکلخت غائب ۔ اور میں ہمیشہ کی طرح اُس کا منتظر رہتا ۔ دعاگو رہتاکہ وہ واپس آ جائے ۔ غم اُسے مسلسل کھا رہا تھا۔ درد کی جونکیں اُس کے وجود کے ساتھ اس طرح چپکی ہوئی تھیں کہ میں لاکھ کوشش کے باوجود اُن جونکوں کو اتارنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔
’’درد کو جونکوں کے ساتھ مت جوڑا کر‘‘ وہ اکثر مجھے کہا کرتا۔ ’’درد تو توانائی کا خزانہ ہے۔ جس کے پاس درد نہیں، وہ غریب ہے۔ کمزور ہے۔ ناتواں ہے‘‘
لیکن میں جانتا تھا کہ اس توانائی نے اسے دیمک کی طرح اندر ہی اندر کھا جانا ہے۔ اس درد نے اس کے وجود سے قطرہ قطرہ لہو نچوڑ لینا ہے۔ اور کسی روز اُس نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چپ سادھ لینی ہے۔ کامل چپ ۔میں متفکر تھا۔ اور جب کبھی میری اُس سے ملاقات ہوتی وہ ایک دو لمحے کے لئے میری آنکھوں میں موجود میرے تفکرات کو سمجھنے کی کوشش کرتا اور پھر وہی ’’چائے کے کھوکھے‘‘ پر جانے کا انداز ۔ وہی مخصوص مسکراہٹ۔ وہی پردے۔ وہی گہرائی ۔

’’جانتے ہو موت کیا ہے؟‘‘ وہ سوال کرتا اور میں چونک جاتا۔

’’ موت ، ملاپ ہے۔ بچھڑے ہوؤں سے ملاپ ۔ جو پہلے چلا گیا وہ پلیٹ فارم پر انتظار کرتا ہے۔ زندگی کی گاڑی میں ہر وقت مسافر سوار ہو رہے ہوتے ہیں اور ہر وقت اُتر رہے ہوتے ہیں۔ اپنے مقررکردہ پلیٹ فارم پر اُترنے سے کون ڈرتا ہے بھلا؟ بہت اچھے اچھے عظیم لوگ استقبال کے لئے آئے ہوں تو پلیٹ فارم پر اُترنے کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔ ہاں اگر دوران سفر ایسی حرکات و سکنات کی ہوں جس سے ڈر ہو کہ استقبال کے لئے پولیس والے کھڑے ہوں گے تو پھر ڈرنا فطری ہے۔ ‘‘

وہ میری آنکھوں میں چھپے تفکرات دیکھتا تو اُس روز اُس کی باتوں کا موضوع بھی وہی ہوتا۔ من و عن میرے تفکرات کی پرچھائیوں کی ترجمانی کرتا لہجہ۔ ’’ جانتے ہو، کتنی عظیم ہستیاں منتظر ہوں گی ہماری؟ بس کوشش کرو کہ سفر خوشگوار ہو۔ ساتھ والے مسافروں کا خیال رکھو۔ کوشش کرو کہ دوران سفر جس قدر محبتیں بانٹ سکتے ہو، بانٹو۔ کیا خبر کون کس وقت کس جگہ گاڑی سے اُتر جائے۔ کسی کو دوران سفر دھکا مت دو۔ گاڑی سے مت گراؤ۔ سب کچھ پلیٹ فارم پر پہلے ہی پہنچ جاتا ہے۔ سب کچھ۔ سفر کی مکمل واردات کا ریکارڈ۔ لمحہ بہ لمحہ مسافر کے پلیٹ فارم پر اُترنے سے قبل ہی پہنچ چکا ہوتا ہے۔ بس کوشش کرو کہ اچھا ریکارڈ آگے پہنچ سکے۔ یہ جو فیس بک کے ذریعے اکثریت آگے پہنچا رہی ہے نا یہ بہترین استقبال سے محروم کر دینے کے لئے کافی ہے۔ نفرتوں اور تعصبات کی آلودگی پھیلانے والوں کا ’’استقبال‘‘ جس طرح ہو گا، وہ نہ ہی پوچھو تو بہتر ہے۔‘‘

مجھے اُس کا چائے کی چُسکی لینے کا انداز بہت اچھا لگتا تھا۔ ہمیشہ سے۔ بعض اوقات وہ باقاعدہ چائے ’’شڑوکتا‘‘ تھا۔ایک روز وہ مخصوص کیفیت میں تھا اور میں نے عین اُسی لمحے اُسے فون کیا۔ فون اُٹھاتے ہی بولا ’’میں ابھی بس تمہیں ہی فون کرنے والا تھا ۔ چائے کی طلب ہو رہی ہے۔ کھوکھے پر آ جاؤ‘‘۔
میں فٹافٹ گھر سے نکلا اور کھوکھے پر پہنچ گیا۔ میں نے دور سے اُسے آتے دیکھا ۔ وہی دہائیوں پرانا انداز۔ہاتھ میں ڈائری ۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر تیز تیز قدم اُٹھاتا وہ میری جانب آ رہا تھا۔

کھوکھے والے بھی اُس سے مانوس تھے۔ اس حد تک مانوس کہ چائے بنانے والا اور چائے بانٹنے والا اُسے دیکھتے ہی مسکرانے لگتا۔ عجیب محبتیں بانٹ رہا تھا یہ۔ جہاں جہاں سے گزر رہا تھا اپنی بساط کے مطابق محبتیں بانٹ رہا تھا۔عام اور غریب انسانوں سے اس قدر عاجزی سے ملتا کہ پوچھو مت۔اُس پر نظر پڑتے ہی چائے کی دیگچی چولہے پر چڑھا دی جاتی۔ کھوکھے والے بھی اُس کے لئے خاص چائے بناتے تھے۔۔۔ بہت خاص۔۔۔ سلام دعا کے بعد وہ اپنی مخصوص کرسی پر براجمان ہو گیا۔ وہ ہمیشہ اس طرح بیٹھتا تھا کہ سڑک کی جانب اس کا رخ رہے۔ چائے کی چسکیاں اور آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھنا اُس کا محبوب مشغلہ تھا۔
چائے آئی اور اُس نے فوری طور پر اپنے کپ کو اُٹھا کر منہ کے ساتھ لگا لیا۔ یہ اُس کا عجیب انداز تھا۔ وہ ہمیشہ ایک دو چسکیاں گرم چائے کی بھرتا اور پھر وہ چائے کو بھول جاتا۔ اور یخ ٹھنڈی چائے آہستہ آہستہ پیتا رہتا۔ بعض اوقات آرام آرام سے اور بعض اوقات باقاعدہ شڑوک کر۔ وہ اکثر کہتا ’’ میں جب چائے کو اس طرح ’’شڑوکتا‘‘ ہوں تو مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے۔ کبھی کبھار بچپن کو یاد کرنا چاہیئے۔ بچپن کی یادیں معصوم ترین یادیں ہوتی ہیں۔ کبھی کبھار زندگی میں بھولی بسری معصومیت سے ناطہ جوڑنا چاہیئے۔ پھر انسان بوڑھا نہیں ہوتا۔ بنجر نہیں ہوتا۔یادیں انسان کو سیم و تھور کا شکار نہیں ہونے دیتیں۔جن کا بچپن سے رابطہ ٹوٹ جاتا ہے وہ جلدی مرجھا جاتے ہیں۔ دوران سفر اچھی اچھی یادوں کو یاد کرنا بہترین عمل ہے۔ اچھی یادیں مزید اچھی یادوں کو جنم دیتی ہیں۔ تلخ یادیں مزید تلخ یادوں کو ۔ اور تم میرے ماضی میں جھانک کر مجھے مزید تلخ کرنے کی بارہا کوشش کرتے ہو۔ مت کیا کرو ایسا۔ جو گزر گیا سو گزر گیا۔ بس یوں سمجھو کہ دوران سفر گاڑی ایک ایسے مقام سے بھی گزری جہاں کوئی مسافر تھا جسے دیکھ کر یوں لگا تھا کہ اب باقی ماندہ سفر اچھا گزرے گا۔ اور میں بھی سفر کے اُس حصے میں بھول گیا تھا کہ زندگی کی گاڑی میں اور مسافر بھی ہیں۔ نوجوانی کی محبتوں کا سفر اکثر و بیشتر خودغرض ہوا کرتا ہے۔ تنگ نظر بھی شاید۔ لیکن محبتوں کی شناسائی کا یہ ابتدائی مقام انسان کو بہرحال مزید عظیم حقیقتوں سے روشناس ضرور کرواتا ہیـ‘‘

’’میرے مولا! آج کا دن امر کر دے‘‘ میں اُس کے انداز سے سمجھ چکا تھا کہ آج وہ مجھے اپنی ذات میں شریک کرے گا۔ میں ایک لمحے کے لئے جیسے کانپ کر رہ گیا تھا۔ دو دہائیوں سے قائم اور مسلسل بڑھتا میرا تجسس آخرکار آج سرخرو ہونے والا تھا۔ آج کا دن اہم تھا۔ بہت اہم۔ آج ماضی کے قلعوں میں وہ مجھے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔ کم از کم اُس کے لب و لہجے سے میں یہی اخذ کر رہا تھا۔یا شاید آج وہ اس قدر نرم ہو چکا تھا کہ میرے ذرا سے اصرار پر گہری چپ کی دنیا میں کوئی کواڑ چپکے سے کھل جاتا۔۔۔۔

’’سفر کے اُس حصے کی کہانی دردناک ہے۔ یہ فزکس کے سوالوں کی طرح الجھی ہوئی اور مادی کہانی بھی ہے اور کسی ریل گاڑی کی طرح وقت کے عظیم دریا میں بہتے ماضی، حال اور مستقبل کی بوگیوں میں لکھی جانے والی ادھوری کہانی بھی ہے۔یہ الزامات اور بہتانوں کی کہانی ہے۔ شکوک و شبہات کی کہانی ہے۔ سازشوں اور چالاکیوں کی کہانی ہے۔ انسان کی خودغرضی اور بزدلی کی کہانی ہے۔ میں سفر کے اُس مقام پر بری طرح ٹوٹا تھا۔ بُری طرح۔ یا یوں سمجھ لو کہ مجھے توڑا گیا تھا۔ بری طرح توڑا گیا تھا۔ اور پھر جانتے ہو مجھے جوڑا کس نے؟ ماں باپ نے جوڑا مجھے۔ یہ آج جو کچھ بھی میں ہوں، یہ میرا دوسرا جنم ہے۔ یہ نئی تعمیر ہے۔ سفر کے اُس مقام پر ہونے والی تخریب کاری کے بعد میری ذات کے ملبے کو ماں باپ نے ہٹا کر مجھے پھر سے جنم دیا۔ ماں جو ہوتی ہے نا وہ اولاد کو جنم دینے کی ماہر ہوتی ہے۔ اور باپ کا تو ہم نطفہ ہوتے ہیں۔ نُطفہ۔ بس جس وقت مجھے توڑا گیا تھا۔ ناکردہ گناہوں کی سزا دی گئی تھی میں نے اپنا آپ مار دیا تھا۔ ختم کر دیا تھا میں نے اپنے آپ کو۔ ریزہ ریزہ کر دیا تھا میں نے آپ کو‘‘

آج پہلی مرتبہ اُس کا لہجہ کانپا تھا۔آج پہلی مرتبہ اُس کی آواز میں مخصوص کپکپاہٹ تھی ۔ میں نے اُس کا ہاتھ تھاما تو اُس نے ایک دو لمحے کے لئے میری آنکھوں میں اترے آنسو اور محبتوں کے موتی دیکھے اور وہ دھیرے سے مسکرا دیا۔ ’’ چلو! فاطمہ جناح پارک چلتے ہیں۔‘‘
کھوکھے کے کاؤنٹر پہ جا کر اُس نے بل ادا کیا۔ وہ ہمیشہ خود بل ادا کرتا تھا۔ ایک کپ چائے پی کر دو کپ چائے کی قیمت کے برابر ٹپ دینا اُس کا معمول تھا۔ لیکن وہ پیشہ ور گداگروں کے معاملے میں بہت سخت تھا۔ کہتا تھا ’’محنت کرنے والوں اور سفید پوش لوگوں کا خیال رکھا کرو۔ پیشہ ور گداگروں کو بھیک مت دیا کرو‘‘۔

بل ادا کر کے ہم سڑک پر آئے۔ ایک ٹیکسی والا ہمیں سڑک کنارے دیکھ کر آ گیا۔ اُس نے کھڑکی سے باہر سر نکالا۔ ہمیں دیکھا۔ اور ہمیشہ کی طرح یہ ٹیکسی ڈرائیور بھی اس کا شناسا نکلا۔ کرایہ طے کیا نہ منزل کا بتایا بس ٹیکسی کا دروازہ کھلا اور یہ ڈرائیور کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ پھر وہی سلام دعا۔ بال بچوں کی خیریت۔ راستے بھر وہ ڈرائیور سے اُس کی باتیں سُنتا رہا۔ مسکراتا رہا۔ وہ ہمیشہ ایسے ہی کرتا تھا۔ غریب لوگوں سے بے پناہ پیار تھا اسے۔ وہ کہتا تھا یہ اصل لوگ ہیں۔ حقیقی محبتوں والے لوگ۔ کوئی بناوٹ نہیں۔ کوئی غرض نہیں۔
ٹیکسی مین روڈ پر آئی تو اُس نے ڈرائیور کو فاطمہ جناح پارک کے بجائے بری امام جانے کا کہہ دیا۔ میں خاموشی سے بیٹھا رہا۔ ظاہر ہے وہ ہمیشہ سے ایسے ہی تھا۔ پراسرار۔
بری امام پہنچے ۔ اُس نے ڈرائیور کو رخصت کیا۔ ڈرائیور نے کہا بھی کہ وہ انتظار کر لیتا ہے۔ لیکن اُس نے اجازت دی اور کہا کہ آپ چلے جائیں۔ ہمارا آج لمبا پروگرام ہے۔

’’لمبا پروگرام‘‘ میرے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔ یا الٰہی ۔۔۔۔آج مجھے گہری چپ کا راز دے دے۔۔۔۔ لیکن میں ڈر بھی رہا تھا۔۔۔اندر ہی اندر۔۔۔ چپکے چپکے۔۔۔۔کیا میں برداشت کر پاؤں گا؟ کیا اُس کے ماضی کے قلعوں میں دفن درد کا خزانہ میرے ہاتھ لگے گا کہ نہیں؟ بس میں گومگو کی کیفیت میں اُس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ بری امام پہنچ کر ہم نے وضو کیا۔ احاطے میں داخل ہوئے اور وہاں موجود دیوار سے نکلے ہوئے برگد کے ساتھ بیٹھ گئے۔ وہ عام لوگوں کی طرح درباروں میں جا کر سلام دعا نہیں کیا کرتا تھا۔ بس وہ ایک نظر دربار کو دیکھتا۔ خاموشی سے پیغام رسانی کرتا۔ مسکراتا ہوا کسی کونے میں جا کر بیٹھ جاتا۔
راز ہی راز تھے ۔
وہ سرتاپا رازوں کا مرقع تھا۔ اُس کی پراسراریت تھی بھی کمال۔ وہ مربوط دکھائی نہ دے کر بھی ربط کی کیفیت میں رہا کرتا تھا۔
وہ بھی خاموش تھا۔ میں بھی خاموشی سے لیکن کن انکھیوں سے اُس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ اُس نے بری امام دربار کے اندرونی حصے کی جانب نظر اُٹھائی۔ کچھ دیر توقف کے بعد اُس نے گہری سانس لی۔دربار کے احاطے میں اگربتیوں کی مہک نے ماحول کو دیومالائی سا بنا رکھا تھا۔۔۔۔اُس نے روح میں اتر جانے والی نظروں سے میری جانب دیکھا اورپھر وہی مخصوص مسکراہٹ اُس کے چہرے پر بکھر گئی ۔

پانچواں باب

بری امام کے احاطے میں ہم رات گئے تک بیٹھے رہے۔ ایک دو مرتبہ چائے پینے کے لئے باہر نکلے۔ اس دوران وہ مسلسل ماضی کے قلعوں میں گھومتا رہا۔ لیکن اس مرتبہ میں اُس کے ساتھ تھا۔ قدم قدم پر اُس کے ساتھ۔ اُس کی اُنگلی تھامے۔ دھڑکتے دل اور بھیگی ہوئی آنکھوں کے ساتھ۔ بعض اوقات اپنی ہچکیوں پر قابو پاتے ہوئے میں اُس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامتا۔ اور بعض اوقات میرے آنسو بہہ نکلتے۔ وہ اپنے ماضی کے درد کے سُر اس طرح بکھیرتا چلا گیا کہ میں سرتاپا مدہوش ہو گیا۔ اتنا درد، اس قدر کرب۔ کہ پہاڑ لرز اُٹھیں۔ اور وہ پھر بھی تن تنہا اس درد کو اپنی توانائی بنائے زندہ تھا۔ چہک رہا تھا۔ محبتیں بانٹ رہا تھا۔ مسکراہٹیں بکھیر رہا تھا۔

کون سمجھ سکتا تھا کہ اس شوخ و چنچل انسان کا ماضی کس قدر پرسوز ہے۔ شاید کوئی نہیں۔ میں بھی بس قیاس آرائی کی حد تک جانتا تھا۔ لیکن بری امام کے احاطے میں اُس نے جو کہانی مجھے سُنائی اُس نے میری رگ رگ میں اُس کی محبتوں اور اُس کے احترام کو بھر دیا۔ وہ مجھے وہاں لے گیا تھا جہاں اُس کی ذات کی اتھاہ گہرائیوں میں مخصوص درد بستے تھے۔ جہاں غم کا اصل مرکز تھا۔ جہاں ملبہ گرا تھا۔جہاں اُس نے لمس سے محروم ہو کر زندگی سے ناطہ توڑنے کی کوشش کی تھی۔

چھٹا باب
بری امام میں اُس کے لہجے کا ارتعاش جاری تھا۔
’’محبتوں سے میری شناسائی صدیوں پرانی ہے۔ میں نسل در نسل منتقل ہوتا ہوا سفر کے اُس مخصوص مقام تک پہنچا تھا جہاں محبتوں کے اظہار کا نوجوان روپ اپنی تمام تر حشرسامانیوں کے ساتھ موجود تھا۔ میری محبتوں کی کہانی اُس وقت سے شروع ہوتی ہے جب عالم ارواح میں تمام ارواح کی تخلیق ہوئی تھی۔ جہاں الست بربکم کی بازگشت گونجی تھی اور جہاں قالوا بلیٰ کے سُر بکھرے تھے۔ مالک کائنات نے ملائکہ کو حکم دیا تھا کہ آدم کے آگے جھک جاؤ۔سجدہ ریز ہو جاؤ۔سب جھک گئے ماسوائے ابلیس کے۔اور پلک جھپکنے میں نہیں ہو گیا تھا یہ سب کچھ۔
فرشتوں نے بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔کہا تھا کہ یہ نئی پراڈکٹ، یہ نئی مخلوق جسے انسان کہا جا رہا ہے، فساد فی الارض کرے گی۔
خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔ سوالات اْٹھائے گئے تھے۔خدشات اور سوالات پر کسی زمانے میں کوئی ممانعت نہیں تھی۔
الوہی نظام میں تو بالکل بھی نہیں۔
بس فرق یہ تھا کہ جب اﷲ کریم نے کہہ دیا کہ آدم کو اسماء کا علم دیا گیا ہے۔تو فرشتوں کے تمام خدشات دور ہو گئے تھے ۔ اُن کے تمام سوالات کے جوابات اُنہیں مل گئے تھے۔
اور وہ بے ساختہ پکار اْٹھے ’’کہ اﷲ پاک ہے اور ہم بس اتنا ہی جانتے ہیں، جتنا ہمیں علم ہے۔‘‘
فرشتہ صفت ہونا اسی کو کہتے ہیں ۔ تسلیم کی خُو۔ مان لینے کی عادت۔ ایمان لے آنے کی عادت۔ دوسری جانب ابلیسی خدشات تھے۔ ابلیس کو بھی وہی دلائل دیئے گئے۔
علم آدم الاسماء۔ لیکن ابلیس متکبر ہو گیا۔ سرکش ہو گیا۔ایمان نہ لایا اور کُفر کی راہ کا انتخاب کر بیٹھا۔ ابلیسی خدشات دراصل متعصب ہوا کرتے ہیں۔ ہمیشہ سے۔
انسانی تاریخ میں سب سے پہلی حکم عدولی ابلیس نے کی۔ سب سے پہلا تکبر ابلیس نے کیا۔ سب سے پہلے آدم کی تکریم سے انکار ابلیس نے کیا۔
اور سب سے پہلے راندہ درگاہ بھی ابلیس ہی قرار پایا۔
اﷲ کریم جیسی بے مثل و اعلیٰ ذات کے حکم کو نہ مان کر ابلیس نے دراصل الوہی نظام سے بغاوت کی تھی۔اﷲ کریم چاہتے تو کہانی وہیں ختم ہو جاتی۔
لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کبھی سوچا ہے کہ ابلیس کو مہلت کیوں ملی؟ ایک خالق کا اپنی مخلوق پر اعتماد دیکھو۔ابلیس جو مخلوق تھا۔ خالق نے اْس کا چیلنج قبول کر لیا۔اْسے مہلت دی ۔اور کس لئے؟
کیونکہ اﷲ کریم نے آدم کی سرشت میں اسماء سمو دیئے تھے۔اسماء کا علم گہرائی والا ہے۔یہ اسماء کا علم دراصل محبتوں کا علم ہے۔بزرگی والا علم ہے۔
ابلیس کو آدم کا علم و فکر والا روپ اْس وقت پسند تھا نہ آج پسند ہے۔
ابلیس نفرتوں اور تعصبات کا استعارہ ہے۔اُس وقت سے ۔۔۔ جب سے اُس نے میری کہانی میں تکبر کیا تھا۔اور جانتے ہو انسانی تاریخ کا سب سے پہلا بدتمیز اور بدتہذیب ’ابلیس ‘کیوں قرار پایا؟ کیونکہ اُس نے اُس وقت حکم عدولی کی جب حکم ماننے کا عظیم لمحہ آن پہنچا تھا۔
اْس نے شرک نہیں کیا۔ اْس نے اﷲ کی وحدانیت سے انکار نہیں کیا۔ اْس نے منافقت بھی نہیں کی۔ وہ فاسق بھی نہیں تھا۔متقی تھا۔ زاہد تھا۔ پرہیزگار تھا۔توپھر اْس نے یہ بدتمیزی کیوں کی؟
یہ سوچ کا مقام ہے۔ اپنے اذہان و قلوب کو ایسی باتوں کی کھوج میں لگانے والے سمجھتے ہیں کہ اُس نے یہ بدتمیزی اور بے ادبی کیوں کی۔
ابلیس نے جانتے ہو کیا کہا تھا؟
فبعزتک لاغوینھم اجمعین ۔۔۔
پس تیری عزت کی قسم میں انہیں گمراہ کروں گا (سب کو۔۔۔جمع کا صیغہ تھا)
یہ ہے وہ چیلنج جو اﷲ کریم نے قبول کر لیا۔ابلیس کی کیا اوقات تھی کہ وہ چیلنج کرتا؟ لیکن علم آدم الاسماء کا سافٹ ویئر آدم کو سونپنے والی ذات کا علم ہر قسم کے علم سے ماورا ہے۔ بلند تر ہے۔
ابلیس کی اﷲ سے جنگ نہیں۔ وہ تو اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لئے بھی اﷲ کی قسم کھا چکا۔ ابلیس کی اولاد آدم سے جنگ ہے۔ وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ انسان اس قابل نہیں کہ اْسے نیابت فی الارض دی جا سکے کیونکہ وہ فسادی ہے۔ کیونکہ وہ حریص ہے۔کیونکہ وہ مٹی کا پتلا ہے اور مٹی حقیر ہے ۔۔۔
سمجھ آ رہی ہے نا ابلیس کے سارے کھیل کی؟ ابلیس مسلمانوں کو خرافات میں مبتلا کرے گا، فرقے بنوائے گا ۔۔۔ تنگ نظری اور انتہاپسندی کی جانب لے جائے گا، ہر وہ کام کرے گا ۔۔۔
جس سے ایک انسان دوسرے انسان کا گلا کاٹے۔ وہ محبتوں کے نصاب کو نفرتوں اور تعصبات کے نصاب سے بدلے گا۔
اور ہر وہ انسان جو بدتمیز ہو گا، بدتہذیب ہو گا، وہ اس نصاب کو پڑھ کر مزید نفرتوں اور تعصبات کو جنم دے گا۔ اور ہر وہ انسان جو ابلیس کے وسوسے میں آئے گا، وہ تکبر کرے گا، فساد کرے گا۔
اپنی تمام تر عبادات کے باوجود، اﷲ کی قسمیں اْٹھانے کے باوجود وہ آدم کی تکریم سے انکار کرے گا۔ علم و فضل والوں کی مخالفت کرے گا۔ علمائے حق کو سزائیں دینے والا نظام ابلیس کا بنوایا ہوا ہے۔
غریبوں کو سزا دینے والا اور طاقتوروں کو باعزت بری کرنے والا نظام ابلیس کا بنوایا ہوا ہے۔بدتمیزی، بدتہذیبی کو پھیلاتا نظام ابلیس کے اْس پلان کا حصہ ہے ۔۔۔ جب اْس نے کہا تھا
فبعزتک لاغوینھم اجمعین ۔۔۔
تم جاننا چاہتے ہو نا میری کہانی؟ میرے درد کا حقیقی راز؟ شریک ہونا چاہتے ہو نا میری ذات میں؟ تو پھر سن لو کہ میری کہانی کو سمجھنے کے لئے کہانی کے اس حصے کو سمجھنا لازمی ہے۔میری کہانی بھی ماضی بعید میں آخر کار اسی کہانی سے جا کر مل جاتی ہے۔ہم سب کی کہانیوں کا اس ایک کہانی سے گہرا تعلق ہے۔
محبتوں کی داستان ہو کہ نفرتوں کے قصے سب اسی ایک کہانی سے جا جُڑتے ہیں۔ یہ قدیم کہانی دراصل تمام کہانیوں کا قلزم ہے۔ باقی سب کہانیاں اس قلزم میں گرنے والے دریا ہیں۔ندی نالے ہیں۔
قرآن کریم ہمیں فقط اتنا بتاتاہے اور بار بار بتاتا ہے کہ ابلیس تمہارا کھلا دشمن ہے۔ قرآن میں ابلیس کا طریقہ واردات واضح طور پر بتا دیا گیا ہے۔
ہمارے تعلیمی اداروں اور پی ایچ ڈی کرنے والوں کو اس طریقہ واردات پر سائنسی حوالوں سے تحقیق کرنا ہو گی۔ابلیس عابد و زاہد تھا۔متقی تھا۔لیکن اْس کی تمام تر عبادات و مناجات کا انجام کیا ہوا؟ وہ متکبر ہو گیا۔
ملائکہ بھی عبادات و تسبیحات میں مصروف رہتے ہیں لیکن وہ ہمیشہ عاجزی و مسکینی کا پیکر رہتے ہیں ۔ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں ۔۔۔ یا ہم تکبر کریں یا ہم مسکینی اختیار کریں۔
ہر وہ انسان جو تکبر کرتا ہے، وہ دراصل ابلیس کو ووٹ دیتا ہے۔ اور ہر وہ انسان جو مسکین ہے اور متکبر نہیں۔ اْس کا ووٹ ملائکہ کے لئے ہے۔جی ہاں! وہی ملائکہ جنہوں نے ہماری بزرگی کو تسلیم کیا تھا ۔ ہمارے علم و فکر والے روپ کے آگے سجدہ ریز ہوئے تھے۔۔۔ ملائکہ علم و فکر والوں کا احترام کرتے ہیں ، ہر دور میں ۔۔۔۔
اہل علم و اولی الباب کا ناطقہ بند کیا گیا ۔ہر دور میں آدم کی تکریم سے انکار کرنے والے ابلیسی ووٹر پیدا ہوتے رہے۔ یہ نئی بات نہیں۔یہ نسلوں اور زمانوں پر محیط وہ کہانی ہے جسے ہر دور میں سنایا جاتا رہا، دہرایا جاتا رہا۔دوران سفر یہ کہانی بار بار دہرائی جاتی ہے۔
تکبر، ابلیس کا راستہ ہے ۔ عاجزی اور مسکینی ملائکہ کا شیوہ ۔۔۔ علم و فضل، آدم کا راستہ اور آدم کی کہانی کو غور سے پڑھیں تو یہ راز ہم پر ٓشکار ہو جائے کہ امت مسلمہ اس وقت علم و فضل میں کیوں پیچھے ہے؟
ہم جان پائیں گے کہ نظام عدل کیوں غیر فعال ہے۔ہم پر یہ عقدہ بھی وا ہو گا کہ علاج، تعلیم،صحت، ماحول، سہولیات کا نظام کیوں الگ الگ ہے۔
ابلیس نے چیلنج کیا تھا۔ پس وہ محنت کرتا ہے ۔۔۔ دن رات ۔۔۔ اپنے چیلنج میں سرخرو ہونے کے لئے ۔اور انسانی شکلوں میں موجود اْس کے حواری، اْس کے اس چیلنج کو بھرپور انداز میں سپورٹ کرتے ہیں۔
من الجنتہ والناس ۔۔۔ یہ جنگ ہے۔۔۔ اولاد آدم کے علم و فضل اور ابلیس کی سرکشی میں جنگ ۔
اولاد آدم جس قدر علم و فضل والی ہوتی جائے گی، ابلیس ہارتا جائے گا۔ ابلیسی نظام ہارتا جائے گا ۔
کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تونے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
اسلام علم و فکر کا دین ہے ۔۔ بصیرت کا دین ہے ۔۔۔ تحقیق کا دین ہے ۔۔۔ حکمت کا دین ہے ۔۔۔ امن کا دین ہے۔۔۔ جہاں کہیں علم و فکر نہیں ۔۔۔ وہاں ابلیس کامیاب ہو چکا۔
جہاں تحقیق نہیں وہاں ابلیس کامیاب ہو چکا ۔۔۔ جہاں حکمت نہیں، وہاں ابلیس کامیاب ہو چکا۔جہاں امن نہیں، وہاں ابلیس کامیاب ہو چکا ۔۔
علم و فکر کی خوشبو ابلیس اور اْس کے حواریوں کے لئے ناگوار بْو ہے۔ اسی طرح جہل، جہالت، اور جاہل افراد کے کرتوتوں کی سڑاند اولی الباب محسوس کرتے ہیں۔
یہ جنگ جاری ہے ۔۔۔ علم اور جہالت کی جنگ ۔۔۔ بیناؤں اور نابیناؤں کی جنگ ۔۔۔ جاننے والوں اور نہ جاننے والوں کی جنگ ۔۔۔
فرماں برداروں اور نافرمانوں کی جنگ ۔۔۔ نور والوں اور ظلمت والوں کی جنگ ۔۔۔ حسینیت والوں اور یزیدیت والوں کی جنگ ۔۔۔ اور مظلوم اور ظالم کی جنگ ۔۔۔
متکبر انسان ابلیس کا دوست ہے۔ ووٹر ہے، حواری ہے ۔۔۔ مسکین بندے ملائکہ کے دوست ہیں، محبوب ہیں ۔۔۔ علم و فضل والے اور جاہل لوگ کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔
ابلیس، آدم و حوا کے مابین وہ آزمائشی لمحہ ہے جو یا تو مفلحون کی منزل تک پہنچا دیتا ہے یا پھر خسرون کی منزل تک۔
ابلیس، تحقیق کا خوگر ہوتا تو اس کا شمار ماننے والوں میں سرفہرست ہوتا۔ تحقیق لازم ہے۔ ابلیس نے آدم کو جانے بغیر تنقید کی۔اعتراضات اُٹھائے ۔۔۔وہ اس خاک کے پتلے کی حقیقت جان لیتا تو سجدے میں گر جاتا۔ ابلیس نے اطاعت کے کینوس پر اپنی مرضی کے رنگ بکھیرنے چاہے اور خسرون میں سرفہرست قرار پایا۔
میری کہانی بھی اسی آزمائشی لمحے تک پہنچی تھی۔ وہ آزمائشی لمحہ جب میں سرتاپا خسرون بن گیا تھا اور مفلحون کی منزل کا راستہ بھٹک گیا تھا۔
اُس وقت ابلیس نے بھنگڑے ڈالے تھے۔ وہ خوش تھا کہ اُس نے مجھے میری محبتوں سمیت تباہ و برباد کر دیا ہے۔وہ سمجھتا تھا کہ اُس نے مجھے اس قدر توڑ دیا ہے کہ اب شاید میں اُس کی اطاعت کا دم بھر لوں گا۔
میری کہانی کے اُس مخصوص موڑ پر واقعی عظیم ترین تخریب کاری ہوئی تھی۔میں واقعی ٹوٹا تھا۔ ریزہ ریزہ ہوا تھا۔ اُس وقت زندگی واقعی عارضی طور پر ہار گئی تھی۔ محبتیں ہار گئی تھیں۔ نفرتیں اور سازشیں جیت گئی تھیں۔ میں ساری دنیا میں بالکل تنہا ہو گیا تھا۔ بالکل تنہا۔

نوجوانی کے اس نرم و نازک دور میں میرے سر پر بہتانوں کے ہتھوڑوں سے شدید ترین وار کئے گئے تھے۔ میں شاید نہ ٹوٹتا۔ لیکن ان ہتھوڑوں میں ایک ہتھوڑا اُس کے ہاتھ میں بھی تھا۔ جو جانتی تھی کہ میں بے گنا ہ ہوں۔ناکردہ گناہوں کی سزا شدید ترین ہوا کرتی ہے۔ جانتے ہو پل پل انسان مرتا ہے۔ بہتان انسان کو زندہ گاڑ دیا کرتا ہے۔ زندہ۔ اور میرے لئے بھی خطرناک گڑھا کھودا گیا تھا۔ اور ابلیس خوش تھا کہ اُس نے مجھے محبتوں کے کفن میں لپیٹ کر اُس گڑھے میں دفنا دیا ہے۔

اور سچ پوچھو تو میں واقعی دفنا دیا گیا تھا۔ زندہ دفنائے جانے کا عمل کس قدر ہولناک ہے، اﷲ نہ کرے کبھی تم اس تجربے سے گزرو۔جب دم گھٹتا ہے نا تو انسانی ذات کی ہڈیاں بھی چٹخ جاتی ہیں۔ جنت سے بے دخلی کا روگ عظیم ہے۔۔۔ اور شدتوں والا ہے۔۔۔میری کہانی کے اُس مخصوص مقام پرمیری عزت نفس مرگئی تھی۔۔۔۔ میری وفات ہو گئی تھی۔میں مرگیا تھا۔کچھ مٹی لوگوں نے ڈالی تھی۔ اپنے لوگوں نے۔ اور کچھ مٹی میں نے خود ہی ڈالی تھی اپنی قبر پر۔
اور جانتے ہو کیوں؟ تا کہ میرے کانوں میں مسلسل بہتان کا جوپگھلا ہوا سیسہ ڈالا جا رہا تھا کم از کم اُس سے تو نجات حاصل ہو گی۔
یہ جو بہتان ہوتا ہے نا، یہ بندے کو جیتے جی مار دیتا ہے۔ نوجوانی میں تو بالکل ہی مار دیتا ہے۔ اور میں اپنی اس کہانی کو آدم اور ابلیس کی ازلی کہانی کے ساتھ کیوں جوڑ رہا ہوں؟ یہ سمجھنا ضروری ہے۔
ہم پر جو بھی مصیبت نازل ہوتی ہے، قصور بہرحال ہمارا ہوتا ہی ہے۔ اور میں بھی قصوروار تھا اُس جنم میں۔دفن ہونے سے پہلے میں بھی نافرمان ہو چکا تھا۔ ماں باپ کا نافرمان۔ قدم قدم پر کوئی نہ کوئی ایسا حکم ضرور موجود ہوتا ہے جو ہمیں شجر ممنوعہ کے پاس جانے سے روکتا ہے۔۔۔۔ہم شاید بھول جاتے ہیں کہ حکم کو ماننا ہی ایمان ہے۔۔۔ یہی اصل آزمائش ہے۔۔۔۔
وہ لمحہ، نافرمانی کا لمحہ، ناکردہ گناہوں کی صورت میرے اُس جنم کے خاتمے کا سبب بنا تھا۔میں اسی لئے ابلیس کی کہانی سنا رہا ہوں کیونکہ اس ایک کہانی سے ساری کہانیاں جْڑی ہیں۔
میری ،تمہاری ۔ ہم سب کی کہانیاں ۔ کسی بھی دور میں لکھی جانے والی کوئی سی بھی کہانی اْٹھا کر دیکھ لو ۔۔۔تمہیں اْس کہانی میں بھی اسی قدیم کہانی کی جھلک دکھائی دے گی۔جو الہامی کتابوں میں بھی درج ہے ، آسمانی صحائف میں بھی۔
ابلیس نے آدم کو سجدے سے انکار کیا تھا۔ اﷲ کو سجدے سے انکار نہیں کیا اْس نے ۔۔۔ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔اﷲ کو سجدے کرنے والے جب اﷲ کا وہ حکم نہیں مانتے جو اْنہیں پسند نہ ہو یا جس سے اْنہیں اپنی شان میں کمی واقع ہوتی دکھائی دے تو وہ دراصل ابلیس کی سنت ادا کرتے ہیں۔بدتمیزی اور بدتہذیبی کی ابتداء ابلیس نے کی تھی ۔۔۔ دین میں پسند ناپسند کا نظام ابلیس نے شروع کیا تھا ۔۔۔
افتومنون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض ۔۔۔ابلیس دراصل اپنے تکبر کے ہاتھوں ہمیشہ رسوا ہوتا رہا ہے، ہوتا رہے گا ۔۔۔ اور ہر وہ انسان جو ابلیس کی آواز پر لبیک کہتا ہے اور تکبر کرتا ہے وہ آخرکار رْسوا ہوتا ہے ۔۔۔ ذلیل ہوتا ہے۔۔۔
سروری زیبا فقط اْس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بْتانِ آذری
ابلیسی نظام میں اولاد آدم کو جہالت کی جانب دھکیلا جاتا ہے یا اْنہیں علم کے بعض حصے دے دیئے جاتے ہیں اور بعض حصوں سے اْنہیں محروم رکھا جاتا ہے ۔۔۔ جسکا منطقی نتیجہ “نیم حکیم خطرہ جان، نیم ملا خطرہ ایمان’ ۔۔۔ ابلیس کی کامیابی کا اندازہ لگانا ہے تو مسلم دنیا میں پھیلی جہالت کا گراف دیکھ لو۔ مساجد بہت ہیں ۔۔۔ تعلیمی ادارے بے شمار لیکن جہالت ہے کہ ہر لحظہ بڑھتی جا رہی ہے۔تنگ نظری اور انتہاپسندی کا جہالت بھرے نظام سے گہرا ربط ہے ۔۔۔ علم و فضل کو ڈگریوں کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا۔ ڈگریاں تو پیسے دے کر بھی خریدی جاتی ہیں ۔۔۔
اگر کوئی جعلی پی ایچ ڈی ہو جائے تو وہ علم و فضل والا نہیں بن جاتا ۔۔۔ جعل سازی دراصل ابلیسی نظام کی غلام گردشوں کی ایک کڑی ہے۔
علم وہی جو خالص ہو۔ بازار میں ہر شے کی نقل دستیاب ہے۔علم کی بھی ۔۔۔ عمل کی بھی ۔۔۔ فضل کی بھی ۔۔۔ فیض کی بھی ۔۔لیکن سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ کون اپنا الو سیدھا کرتا ہے اور کون جسم و جاں کے ٹیڑھے پن کو سیدھا کرتا ہے۔
ہمارے تعلیمی نظام کو اسی لیئے نظر انداز کیا جاتا ہے کہ اگر تعلیم و تربیت کا نظام بہترین ہو جائے تو معاشرتی محرومیاں ختم ہو جائیں گی۔ اور معاشرے جب محرومیوں سے آزاد ہونے لگتے ہیں تو دراصل وہ حقیقی آزادی سے آشنا ہونے لگتے ہیں۔ اور حقیقی آزادی کا مطلب زمین پر فساد پھیلنا بند ہوجائے گا ۔۔۔ اور سنو! ابلیس یہ کیوں چاہے گا کہ فساد فی الارض نہ ہو؟ یہی تو اْس کا مقدمہ ہے ہمارے خلاف ۔۔۔ یہی تو وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ آدم و اولاد آدم اس قابل نہیں کہ اْنہیں اشرف المخلوقات کہا جائے۔اس لئے وہ اپنے حواریوں کے ذریعے ایسا نظام بنائے رکھتا ہے کہ زمین پر فساد پھیلا رہے۔
ابلیس کا گیم پلان مسلمانوں کے خلاف نہیں، انسانوں کے خلاف ہے۔یہ سمجھنا ضروری ہے۔اس کہانی کا یہ مرکزی نقطہ ہے۔
اور میں اپنی کہانی کے اُس مقام پر اس مرکزی نقطے سے روشناس ہوا جب میں قبر میں تھا۔ بہتانوں کی قبر میں تن تنہا دفن۔‘‘
اُس کی کہانی اور بری امام دربار میں پھیلی اگربتیوں کی خوشبو عجیب سماں باندھ رہی تھی۔میں انتہائی محویت کے عالم میں ہر درد چن رہا تھا۔ ہر وہ درد جو کپاس کا پھول بن کر انگڑائی لے رہا تھا۔ اُس نے ایک نظر آسمان کو دیکھا۔ پھر مجھے دیکھا۔ اُس کی آنکھوں میں موتی چمک رہے تھے۔ایک مرتبہ پھر وہ مجھے درد کی اسی دنیا میں واپس لے گیا جہاں آدم و ابلیس کی کہانی سے اس کی کہانی کے سرے ملتے تھے۔

’’ عجیب تخریب کاری تھی وہ بھی۔محبتوں نے پہلے ہی معرکے میں ابلیس سے بری طرح مات کھا لی تھی۔ابلیس اور اُس کے حواری کئی روز تک جشن مناتے رہے۔ اور میں اپنی قبر میں کروٹیں بدلتا رہا۔سوچتا رہا۔ فکر کرتا رہا۔ یہ جو ہر وقت تمہیں لگتا ہے نا کہ میں تفکر کی کیفیت میں رہتا ہوں، یہ کیفیت مجھے اُس قبر میں حاصل ہوئی تھی۔ بہتانوں کی قبر میں۔ جہاں میرے وجود پر محبتوں کا کفن لپٹا ہوا تھا۔ جہاں میری ہچکیاں سُننے والی صرف ایک ذات تھی۔ صرف ایک ذات۔ جہاں میرے آنسو بہہ بہہ کر خود میری قبر میں مجھے ڈبویا کرتے تھے۔
میں ایک طویل عرصہ اُس قبر میں دفن رہا تھا۔
بعض اوقات بچوں کی طرح دھاڑیں مار مار کر روتا۔ بعض اوقات روتے روتے میری آواز رندھ جاتی۔مجھ پر غشی کے دورے پڑتے۔ لیکن بہتانوں کی اُس قبر پر کوئی فاتحہ پڑھنے آتا نہ میرا حال احوال پوچھنے آتا۔ عجیب سیلن زدہ تھی بہتانوں کی قبر اندر سے۔جنت سے بے دخلی اور قبر کی تنہائی کا روگ ۔۔۔۔ کوئی انداز ہ کر سکتا ہے اس کرب کا؟ اس درد کا؟
میرے آنسوؤں سے قبر میں ہر وقت شدید حبس اور گھٹن کا ماحول بنا رہتا۔ اور وہاں اُس گھٹن زدہ ماحول میں اُس گہری، ٹھنڈی اور تاریک قبر میں ۔۔۔ جہاں محبتوں کے کفن میں میرا وجود لپٹا ہوا تھا۔ ایک رات اچانک روشنی کا ایک ہالہ سا نمودار ہوا تھا۔ اور پھر جانے کتنا عرصہ میں محبتوں کا کفن لپیٹے سجدے میں پڑا رہا ۔۔۔ ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔ ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔ ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔ میں سرگوشیاں کرتا رہتا۔ بچوں کی طرح سسک سسک کر بلک بلک کر پکارتا رہتا۔ ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔ ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔۔۔۔
جانتے ہو ! ابلیس، دراصل بنی آدم، بنی نوع انسان کا کھلا دشمن ہے۔
اس لئے وہ عالمی طاقتوں کو بھی استعمال کرتا ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بھی۔ تاریخ کے طالبعلم جانتے ہیں کہ ہر دور میں غریب انسانوں کو غلام بنائے رکھنے کے ہزار ہا جتن کئے جاتے رہے۔ بے بس انسانوں کو جہالت کی زنجیروں سے باندھ کر رکھا جاتا رہا ۔۔۔ پھر کوئی پیغمبر علیہ السلام آتے ۔۔۔ لوگوں کو بھولا ہوا پیغام یاد کراتے۔اْنہیں تعلیم دیتے ۔۔۔ تربیت کرتے۔ ظلمت سے نور کی جانب لاتے۔ ۔۔۔ عام لوگوں کی تعلیم و تربیت کا نظام ابلیس کی شکست رہا ہے۔ ہر دور میں ۔۔
یہاں تک کہ آخری پیغمبر ﷺ آئے۔ پہلا پیغام بھی علم آدم الاسماء تھا اور آخری پیغام کا ابتدائیہ بھی اقراء تھا ۔۔۔ عرب کے جہلاء نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ گالیاں، سنگ زنی، الزامات، بہتان، پراپیگنڈہ ۔۔۔ یہ سب جہل کے نظام کی باقیات ہیں۔
آج بھی علم و فضل والوں کے خلاف آج کے دور کے جہلاء نوجوانوں کو استعمال کرتے ہیں ۔۔۔ انہیں طائف کے نوجوانوں کی طرح گالیوں پر لگا دیتے ہیں ۔۔۔ لیکن ہر دور میں علم و فضل والوں پر اﷲ کا فضل رہتا ہے۔ اگرچہ ہر دور میں ابلیس کو وقتی فتح حاصل ہوتی رہی ہے ۔۔۔تاہم جہاں جہاں حق آتا تھا ، باطل کو آخر کار وہاں سے بھاگنا ہی پڑتا تھا ۔۔۔یہ جنگ جاری ہے کیونکہ ابلیس ابھی زندہ ہے ۔۔۔ اور اْس نے اپنے الفاظ ابھی واپس نہیں لیئے ۔
چیلنج کی زد میں بیٹھے ہوئے بنی نوع انسان جس قدر زیادہ تعلیم و تربیت کے منہاج سے وابستہ ہوں گے، وہ ابلیس اور ابلیسی نظام کے لئے اْسی قدر بڑا خطرہ بنتے جائیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ علمائے حق کو قتل کر دیا جاتا رہا ہے اور علمائے سوء پر ہمیشہ نوازشیں ہوتی رہی ہیں۔ یہ جنگ جاری رہے گی جب تک قیامت نہیں آ جاتی۔۔۔ ہمیں اس جنگ میں بہرحال علم وفضل والوں کے بیڑے میں سوار ہونا ہے۔ ہمیں فقط اْن کا انتخاب کرنا ہے جن کا انتخاب شعور ہے۔ بصیرت ہے۔ عاجزی اور مسکینی ہے۔
میں بھی بہتانوں کی قبر میں دفنایا گیا تھا۔ مجھے بھی میری محبتوں کی سزا دی گئی تھی۔ میرے ساتھ بھی ظلم ہوا تھا۔
لیکن میں نافرمان نہ ہو جاتا ۔۔۔حکم مان لیتا تو اس ظلم سے بچ جاتا۔ میرا گناہ وہ نہیں تھا جس کی پاداش میں مجھے زندہ درگور کر دیا گیا۔ میرا گناہ تو حکم عدولی تھا۔ ماں کی حکم عدولی۔شجر ممنوعہ کی قربت انسانی زوال کا پہلا سبب بنتی رہی ہے۔۔۔ ہر جنم کی کہانی کا یہی روگ تھا۔۔۔ازلی روگ۔۔۔۔ شجر ممنوعہ کی تسخیر کا روگ۔۔۔۔
جانتے ہو جب اولاد اپنے ماں باپ کی نافرمان ہوتی ہے تو جس قدر نافرمانی کی مرتکب ہوتی ہے اُسی قدر سزا کی مستحق ٹھہرتی ہے۔
میں نے بھی سفر کے ایک مخصوص مقام پر پہنچ کر نافرمانی کی تھی۔ بس ایک لمحے کی نافرمانی تھی میری زندگی میں۔ اور ایک لمحے کی نافرمانی بھی بعض اوقات سنگین نوعیت کی ہوتی ہے۔
میرے اوپر لگائے جانے والے تمام تر بہتان غلط تھے۔ لگانے والوں کو بھی اندازہ تھا اور قبر میں زندہ دفنائے گئے وجود پر تو بہرحال بہتانوں کے ہتھوڑے برسے ہی تھے۔ اور ان ہتھوڑوں میں اگرایک ہتھوڑا میری ’’حوا‘‘ کے ہاتھوں میں نہ ہوتا تو میں یوں ریزہ ریزہ نہ ہوتا۔
جب میری قبر پر مٹی ڈالی جا رہی تھی تو میں نے دیکھا تھا کہ میری قبر پر مٹی ڈالنے والوں میں وہ بھی شامل تھی جس کی خاطر میں حکم عدولی کر آیا تھا۔
ماں جی کی حکم عدولی۔
مٹی ڈالنے والے بہتانوں کی مٹی ڈال رہے تھے اور میں ماں جی کی نافرمانی کا سوچ سوچ کر دفن ہوتا جا رہا تھا۔
ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔
ابلیس کی کہانی کی بازگشت آج بھی کائنات کے کونے کونے میں سنائی دے رہی ہے۔ ابلیس آدم کو جنت سے بے دخل کروانے میں اُس وقت کامیاب نہ ہوا تھا جب تک نافرمانی نہیں ہوئی تھی۔
میں اسی لئے تمہیں ابلیس کی کہانی سنا رہا ہوں۔ میری کہانی کو سمجھنے کے لئے ابلیس اور آدم کی روایتی جنگ کو سمجھنا ضروری ہے۔
ہر دور میں انسانی آبادیوں کو دو انتہاؤں پر رکھا جاتا تھا۔ نظام تعلیم و تربیت کو ابلیس اور اس کے حواریوں نے ہمیشہ افراط و تفریط والا بنانے کی کوشش کی ہے۔
مذہب کو رہبانیت سے جوڑ دیا جاتا رہا۔ اور جو مذہبی ہوتے وہ دنیاوی امور سے ناطہ توڑ کر انسانی آبادیوں سے دور چلے جاتے۔ اور وہیں مر کھپ جاتے یا سرے سے دین و مذہب کو تسلیم نہ کرنے والا گروہ بھی وجود میں آ جاتا۔اور پھر وہ گروہ شترِ بے مہار بن کر اﷲ کی زمین پر تمام حدود کو توڑتا۔
ہر دور کے پیغمبر علیہ السلام نے انسانی آبادیوں کو میانہ روی کی تعلیم دی۔ قرآن نے مسلم امہ کو بھی یہی درس دیا کہ میانہ روی اختیار کرو۔ اسلام دو انتہاؤں کو یکسر
مسترد کرتا ہے۔ دین کے نام پر قتل و غارت ہو کہ مکمل لادینی صورتحال ۔۔۔ اسلام انسانی آبادیوں کو میانہ روی کے ساتھ رہنے اور خالق و مالک سے جڑے رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ انسانی تاریخ میں سب سے پہلے ابلیس نے انتہاپسندی کا مظاہرہ کیا۔ اْس نے اپنی سوچ اور عقل کو الوہی حکم پر فوقیت دی۔
اْس نے چاہا کہ اْس کے محدود ادراک کو لامحدود ادراک والے تسلیم کر لیں۔ لیکن یہ اْس کی خام خیالی تھی۔ وہ انتہاپسند ہوا اور تکبر کا شکار ہو گیا یا وہ متکبر ہوا اور انتہاپسندی کی جانب راغب ہو گیا۔
وہ دن اور آج کا دن ۔۔۔ ابلیس کا تکبر بھی قائم ہے، انتہاپسندی بھی ۔۔۔ جہالت بھی اورتعصب بھی ۔۔۔ ابلیس کے حواری متکبر ہوا کرتے ہیں ۔۔۔ ابلیس کے حواری انتہاپسند ہوا کرتے ہیں ۔۔۔ معتدل مزاجی، میانہ روی، تسلیم کی خْو دراصل ملکوتی صفات ہیں ۔۔۔ عدم برداشت، انتہاپسندی، وحشت و بربریت ۔۔۔ ابلیسی روییہیں۔
تکبر، دولت کا ہو ۔۔۔ علم کا ہو ۔۔۔ اولاد کا ہو ۔۔۔ رتبے کا ہو ۔۔۔ میراث کا ہو ۔۔۔ یا نسبت کا ۔۔۔ تکبر بری بلا ہے! اور تکبر کی سب سے بنیادی پہچان ہی یہ ہے کہ متکبر انسان اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق حالات و واقعات کو مسخ کرنا چاہتا ہے ۔۔۔ جانتے بوجھتے حکم عدولی کرتا ہے ۔۔۔ متکبر انسان بھی دراصل اﷲ کے سامنے اﷲ کی قسم اْٹھا کر کہہ رہا ہوتا ہے کہ وہ بنی نوع انسان کو گمراہ کرے گا۔ ابلیس ہر ممکن طریقے سے انسانی آبادیوں کو فساد کی راہ پرڈالتا ہے ۔۔۔ وہ جسمانی فساد ہو کہ روحانی ۔۔۔ معاشی کہ معاشرتی۔۔ عدالتی کہ تعلیمی ۔۔۔ ابلیس اور اْس کے حواری ۔۔۔ ہر دور میں ۔۔۔ فساد کو فروغ دیتے آئے ہیں۔ اور یہ دعویٰ بھی کرتے آئے ہیں کہ ہم اصلاح کرنے والے ہیں۔
ابلیس کے گناہ اور آدم کے گناہ میں فرق سمجھنا لازمی ہے۔ جب تک انسانی آبادیاں ابلیس کے اصلی جرم کو نہیں سمجھتیں اور آدم کی نافرمانی کے اسباب پر غور نہیں کرتیں ۔۔۔ وہ فساد کو نہیں روک سکتیں۔
وہ اس کہانی کو نہیں سمجھ سکتیں۔۔۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر صرف یہی پیغام لے کر آئے ۔۔۔ کہ اے بنی نوع انسان، اے جن و بشر۔۔۔ جہالت ، فساد کی ماں ہے۔۔۔۔علم کے نور سے بہرہ مند ہو جاؤ اور تکبر سے بچو۔ میں بھی جاہل تھا۔ متکبر جاہل ۔ جو سمجھتا تھا کہ ماں باپ پرانے وقتوں کے لوگ ہیں انہیں کیا خبر جدید زمانے کے تقاضے کیا ہیں؟
ہر دور کے انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں ۔۔۔ وہ جن پر انعام ہوا ۔۔۔ وہ جو گمراہ ہو گئے ۔۔۔ اور وہ جنہوں نے اﷲ کے غضب کو دعوت دی ۔ کثیر تعداد دو گروہوں کی ہے۔ انعام والے ہمیشہ تھوڑے ، قلیل تعداد میں رہے ہیں۔ اسی لئے آدم کی کہانی میں کبھی مکمل انقلاب ۔۔۔ کسی خطے میں نہیں آیا۔۔۔ بس جو مان لیتے، وہ ڈوبنے سے بچ جاتے ۔۔ فلاح پا جاتے ۔۔۔ اور وہ ہمیشہ قلیل تعداد میں ہی تھے۔ اکثریت ہمیشہ خسارے میں رہی ہے۔
ابلیس کو مہلت مل چکی۔ قیامت تک۔ مکمل انقلاب کبھی نہیں آئے گا۔ سارا معاملہ انتخاب کا ہے ۔۔۔ میرا اور آپ کا انتخاب کیا تھا؟ عاجزی یا تکبر؟
سرتسلیم خم یا آکڑ؟ ہم میانہ روی کے ساتھ زندہ رہے یا دوانتہاؤں پر براجمان رہے؟ بس انتخاب۔۔۔ عاجزی کا انتخاب ۔۔۔ مسکینی کا انتخاب ۔۔
علم و فکر کا انتخاب ۔۔۔ امن کا انتخاب ۔۔۔ غیرت کا انتخاب ۔۔۔ حکمت کا انتخاب ۔۔۔ بھائی چارے کا انتخاب ۔۔۔ تحقیق کا انتخاب ۔۔۔ رزق حلال کا انتخاب ۔۔۔ انتخاب اچھا تو انجام اچھا۔
میرا انتخاب غلط تھا۔ تب میرا نصاب غلط تھا۔
آدم اور ابلیس کی کہانی دراصل تمام انسانی تاریخ کا خلاصہ ہے۔ حقیقی جوہر ہے۔ یہ فقط ابلیس کے سجدہ نہ کرنے کی کہانی نہیں ۔۔۔ اس کہانی نے منہاج دے دیئے ہیں۔ انسانی آبادیوں کی تمام تر معلوم و نامعلوم کہانیاں آخرکار اسی ایک قرآنی کہانی سے جا ملتی ہیں۔ ابلیس کا آدم کو سجدہ نہ کرناایک واقعہ نہیں۔ ایک نظریاتی دبستان ہے۔ قرآن میں بیان کردہ قصائص اور کہانیاں ۔۔۔ عام قصوں یا کہانیوں سے بہت مختلف ہیں ۔۔۔ ہر لحاظ سے مختلف ، بلند تراور وسیع تر
۔۔۔ اس میں نشانیاں ہیں اولی الباب کے لئے۔ تفکر کرنے والوں کو عظیم مرتبے کیوں عطا ہوتے ہیں؟
غور و فکر کرنے والے انسانی آبادیوں کو نت نئی سہولیات کیوں فراہم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں؟ اہل علم اور اہل بصیرت کے لئے قرآن کس قدر خوبصورت تماثیل بیان کرتا ہے ۔۔۔ اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ الوہی نظام میں جہالت کی کوئی گنجائش نہیں۔
کبھی ابلیس بھی بلند مرتبت تھا۔ کبھی آدم بھی اپنی حوا کے ساتھ بہشت بریں میں تھے۔ پھر جانتے ہو جنت سے بے دخلی کیسے ہوئی؟
حکم عدولی نہ ہوتی تو دیس نکالا نہ ہوتا۔ جب اولاد اپنی ماں باپ کے کسی بھی حکم کو نہیں مانتی تو نقصان اُٹھاتی ہے۔ میں بھی قبر میں دفن تھا۔ محبتوں کے کفن سمیت۔ آنسوؤں کے ہار پروتے پروتے میری آنکھوں کے پپوٹے دُکھنے لگتے۔
محبتیں انسان کو گنہ گار نہیں ہونے دیتیں۔ میں بھی معصوم تھا۔ محبتوں کے معاملے میں بالکل معصوم۔
جانتے ہو؟ ایک مرتبہ کیا ہوا؟ وہ میرے لئے کھانا لے کر آئی تھی۔ روٹیوں کی چنگیر اُس کے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے میری اُنگلیاں اُس کی اُنگلیوں سے ٹکرا گئیں تھیں۔ ایک لمحے کے لئے ہم دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں۔ اور اُس ایک معمولی سے واقعے کے بعد ہم کئی روز شرمندہ سے رہے۔ وہ اپنی جگہ یہ سوچتی رہی کہ میں کیا سمجھوں گا کہ یہ کیا چھچھوری حرکت تھی۔ اور میں اپنی جگہ شرمسار رہا کہ وہ کیا سوچتی ہو گی کہ مجھے محبتوں کے ادب آداب ہی نہیں آتے۔ بس غیر ارادی طور پر اُنگلیاں ہی تو مس ہوئی تھیں۔ جانتے ہو اتنی شرمساری کیوں تھی؟
اس لئے کہ ہمارے عہد کی محبتیں سرتاپا روحانی اقدار والی محبتیں تھیں۔ محبتوں میں بھی حدود کا خیال رکھا جاتا تھا۔ اُس وقت محبوب کو چھوئے بغیر کرنٹ لگتا تھا۔ اور ہماری تو اُنگلیاں ایک دوسرے کو چھو چکی تھیں۔ محبتوں کا کرنٹ بڑے زور کا لگا کرتا ہے۔ یہ بجلی کے عام جھٹکے سے کئی گنا زیادہ طاقت کا حامل کرنٹ ہوتا ہے۔ کرنٹ اُسے بھی لگا تھا۔ کرنٹ مجھے بھی لگا تھا۔ اور اسی کرنٹ نے ہمیں شرمسار کئے رکھا ۔ کتنے دن ہم ایک دوسرے سے چھپنے کی کوشش کرتے رہے۔
میری کہانی کے اُس مخصوص مقام پر محبتیں اپنی اصلی اور حقیقی شکل میں میری ذات پر نازل ہوئی تھیں۔ اور جب محبتیں وحی بن جائیں ۔۔۔ تو انسان مشرک نہیں رہتا۔ اُنگلیوں کا غیر ارادی طور پر چھو جانا ہمارے لئے ’شرک‘ سے کم نہ تھا۔ یہ تھیں ہماری محبتیں۔سچی، سُچی، خالص اور معصوم محبتیں۔ ‘‘

میں محویت کے عالم میں اُس کی گہری چپ کے وجود سے پھوٹتیں شعائیں اپنی روح میں جذب کرتا جا رہا تھا۔۔۔۔ وہ تھوڑی دیر کے لئے رکا۔۔۔ بری امام کے روضہ مبارک کی جانب دیکھا۔۔۔۔ دو تین مرتبہ آنکھیں بند کیں۔۔۔کھولیں۔۔۔۔ اور پھر آدم و حوا اور ابلیس کی تکون کے زاویے میرے سامنے کھول کھول کر بیان کرنے لگا۔۔۔۔۔

’’لڑکپن سے جوانی کی حدود میں داخل ہوا تو قد کاٹھ اور مردانہ وجاہت میری انفرادیت بن کر خاندان بھر میں مشہور ہو گئی۔۔۔ میں چونکہ علمی میدان میں بھی ایک کامیاب طالبعلم تھا اور غیرنصابی سرگرمیوں میں بھی صف اول میں شمار کیا جاتا تھا اس لئے خاندان اور محلے کی لڑکیاں اکثر و بیشتر مجھے اُن نظروں سے دیکھتیں تھیں جن میں بے حد وارفتگی تھی۔۔۔ میں جب کالج سے واپس آتا تو اکثر محسوس کرتا کہ میری ایک جھلک دیکھنے کے لئے کھڑکیوں کے پردے سرکا کرتے تھے۔۔۔۔ لیکن میں شاید ان سارے جذبات و احساسات سے واقعی نابلد تھا۔۔۔ کالج میں سبھی لڑکے اپنے اپنے روایتی عشق کے قصے سناتے تو میں سوچ میں ڈوب جاتا کہ میرا کوئی قصہ کیوں نہیں ہے؟ میری بھی تو کوئی کہانی ہو جو میں دوستوں کے ساتھ شیئر کر سکوں۔۔۔۔ لیکن ماں جی کی تربیت نے شاید میرے اندر سے ایسی کسی بھی کہانی کو تخلیق کرنے کا ملکہ ہی چھین لیا تھا۔۔۔۔
لڑکیاں میرے ساتھ بہانے بہانے سے بات کرنا چاہتیں اور میں کنواری لڑکیوں کی طرح شرما جاتا۔۔۔
وہ میرا مذاق اُڑاتیں تو میں گنواروں کی طرح سوچ میں ڈوب جاتا کہ یہ میرا مذاق کیوں اُڑاتی ہیں۔۔۔۔۔
میرے اندر ایسی سرگوشیاں ضرور ابھرتیں کہ میں بھی عام لڑکوں کی طرح کسی سے محبت کر وں۔۔۔۔ محبت نامے لکھوں۔۔۔ دیدار کی تڑپ میں بار بار گھر کی چھت یا گلی میں جاؤں ۔۔۔ رات کو کسی کی یاد میں بے قراری سے کروٹیں بدلوں۔۔۔ لیکن یہ سب مجھے آتا ہی نہیں تھا۔۔۔۔ میں اکثر سوچتا شاید میرے اندر کوئی کمی ہے جو میں عام لڑکوں کی طرح زمانے میں رائج محبتوں کی راہ کا مسافر ہی نہیں بن پا رہا۔۔۔۔
عمر کے اس حصے میں جب کہانیاں خوامخوا لکھی جاتی ہیں، میرا قلم شرم و حیا کے ترانے اور مشرقیت کے خطبات لکھا کرتا تھا۔۔۔بعض اوقات مجھے غصہ بھی آتا کہ میں عام لوگوں کی طرح کیوں نہیں زندگی کو انجوائے کر سکتا ۔۔۔۔ لیکن بس ایسا ہی تھا میں۔۔۔۔ لاکھ کوشش کے باوجود میری شرم مجھے محبت کی کہانی کا ایک کردار بننے ہی نہیں دیتی تھی۔۔۔
میرے بچپن کے یار دوست میرا مذاق اُڑاتے ۔۔۔۔۔ اور اکثر مجھے چھیڑتے ۔۔۔۔’’ اپنا چیک اپ کرا۔۔۔ کہیں کوئی گڑبڑ تو نہیں‘‘ اور میں ہمیشہ اُن کی باتیں سن کر مسکرادیا کرتا۔۔۔۔ یہ جو ماں ہوتی ہے نا یہ واقعی عظیم قوت ہے اولاد کو قابو میں رکھنے والی۔۔۔۔ ماں جی نے مجھے اپنی تربیت کی شفیق حدود میں اس طریقے سے پابند کر دیا تھا کہ میرے نزدیک شادی سے پہلے کا کوئی رشتہ یا جذبہ شاید ہی کبھی مجھے اپنے دام میں گرفتار کر سکتا۔۔۔۔
وقت اسی طرح آگے بڑھ رہا تھا ۔۔۔۔ ایک روز میں کالج سے واپس گھر آیا تو ماں جی نے بتایا کہ ماسٹر غفور آئے تھے۔۔۔ کہہ رہے تھے گاؤں کی تین لڑکیاں اس سال میٹرک کا امتحان دے رہی ہیں۔۔۔ گاؤں میں کوئی ایسا انتظام نہیں کہ اُن کی ٹیوشن کا بندوبست کیا جا سکے۔۔۔ وہ تمہارا کہہ رہے تھے کہ تم کالج سے واپسی پر اُنہیں پڑھا دیا کرو۔۔۔۔میں نے ماں جی کے کہنے پر اُن تینوں لڑکیوں کو فزکس، کیمسٹری اور ریاضی کی ٹیوشن پڑھانے کی حامی بھرلی۔۔۔۔اور ساتھ ہی ماں جی کا یہ حکم بھی سن لیا کہ مجھے کوئی شکایت نہ آئے۔۔۔۔
خیر، اب میرا معمول تھا کہ میں کالج سے واپس آتا ۔۔۔۔ کھانا وغیرہ کھاتا۔۔۔۔ پھر ۴ بجے کے قریب وہ تینوں آجاتیں۔۔۔ اور میں انہیں پڑھایا کرتا۔۔۔ آہستہ آہستہ اُن میں سے ایک لڑکی نے بھی پڑھنا کم اور مجھے دیکھنا زیادہ شروع کر دیا۔۔۔۔ کچھ روز یہی معمول جاری رہا ۔۔۔۔ میں نے ایک دو مرتبہ اُسے ٹوکا تو وہ مسکرا دی ۔۔۔۔ اس کی سہیلیاں بھی اکثر کھی کھی کرتی رہتی تھیں۔۔۔۔ لیکن میں اس قدر گنوار اور ماں جی کا فرماں دار پتر کہ مجھے ’ہمیشہ شکایت نہ آئے‘ کا بورڈ میری آنکھوں کے سامنے روشن دکھائی دیتا تھا۔۔۔۔
میں مسلسل اُسے نظر انداز کرتا رہا۔۔۔۔
ایک روز میں معمول کے مطابق انہیں پڑھا رہا تھا۔۔۔میں نے محسوس کیا کہ وہ تینوں بار بار ایک دوسرے کی طرف دیکھتیں۔۔۔ دھیرے دھیرے مسکراتیں اور ایک دوسرے کو کہنیوں سے ٹہوکا دیتیں۔۔۔ وہ تقریباََ میری عم عمر ہی تھیں لیکن چونکہ میں اُستاد کے منصب پر براجمان تھا اس لئے میں نے انتہائی بارعب انداز میں انہیں تنبیہ کی کہ اُن کی سب حرکات میری نظر میں ہیں۔۔۔لہٰذا وہ اپنی کھی کھی بند کریں اور پڑھائی کی جانب توجہ کریں۔۔۔۔

جب کلاس ختم ہوئی تو وہ اپنی فزکس کی کاپی یہ کہہ کر میرے پاس چھوڑ گئی کہ مجھے ایک سوال کی سمجھ نہیں آرہی۔۔پلیز آپ کل مجھے وہ سمجھا دیں۔۔۔۔میں نے اُس پر نشان لگا دیا ہے۔۔۔۔ میں نے بغیر کسی تذبذب کے وہ کاپی لے لی تا کہ رات کو دیکھ سکوں کہ وہ کون سا سوال ہے جس کی سمجھ میری طالبہ کو نہیں آ رہی۔۔۔

اُس روز گھر میں مہمان آگئے اور مجھے یاد ہی نہ رہا کہ میں نے کاپی میں نشان لگائے ہوئے سوال کو دیکھنا ہے۔۔۔۔ صبح کالج جاتے وقت وہ کاپی میں نے ساتھ ہی رکھ لی تا کہ کالج میں کسی وقت اس پر نظر ڈال سکوں۔۔۔۔
کالج میں ایک خالی پیریڈ ملا ۔۔۔ میں نے سوچا چلو فزکس کا نمیریکل ہی دیکھ لیتے ہیں۔۔۔ جونہی میں نے کاپی کھولی اُس میں میرے نام کے ساتھ ایک کاغذ تہہ کیا ہوا رکھا تھا۔ ۔۔۔۔
میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ اُس کو کھولا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ سلام عشق‘‘ کا ابتدائیہ میری زندگی میں ساز بن کر گونج اُٹھا ۔۔۔۔میں جوں جوں خط (محبت نامہ) پڑھتا گیا، میری دل کی دھڑکن تیزہوتی چلی گئی ۔۔۔۔۔ محبت کا اظہار اور وہ بھی انتہائی فلمی انداز میں ۔۔۔۔ میری مسکراہٹ، میری ڈانٹ ڈپٹ، میرے لمبے لمبے ہاتھ ۔۔۔۔ میری خوشخطی ۔۔۔۔ اور اﷲ جانے کیا کیا اوصاف حمیدہ لکھے ہوئے تھے ۔۔۔۔ یہ بھی تحریر تھا کہ جب سے آپ یعنی میں موصوفہ کی زندگی میں آیا ہوں، اُن کی راتوں کی نیند اور دل کا قرار چھن گیا ہے۔۔۔۔
سچ پوچھو تو مجھے حیرت سے زیادہ خوشی کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔۔
یعنی میری بھی کہانی شروع ہو گئی تھی ۔۔۔ اور وہ بھی اس خوبصورت انداز میں ۔۔۔۔ فزکس کایہ سوال میرے دل کے تاروں کو چھیڑ رہا تھا۔۔۔۔میں نے تین چار مرتبہ وہ خط پڑھا ۔۔۔۔اور ہر مرتبہ اُس میں تحریر محبت بھری باتوں نے مجھے عجیب سکون و طمانیت بخشی۔۔۔۔

کالج سے واپس آتے وقت میرے ذہن میں مختلف خیالات نے اودھم مچا رکھا تھا۔۔۔ ایک طرف ماں جی کا حکم تھا ۔۔۔۔ اور دوسری طرف محبت کا معصوم اور والہانہ اظہار میرے جواب کا منتظر تھا ۔۔۔۔ عجیب کیفیت تھی میری ۔۔۔۔۔ گھر پہنچا تو ماں جی سے آنکھیں ملا کر بات کرنے کی جرأت ہی نہیں رہی تھی۔۔۔ یوں جیسے من میں بیٹھا چور آنکھوں کے راستے ماں جی کے سامنے بے نقاب ہو جائے گا ۔۔۔۔ کافی دیر تک یہی کیفیت برقرار رہی تاہم میں نے کسی نہ کسی طرح اپنی اس چوری کو ماں جی سے چھپا ہی لیا۔۔۔۔

آج میں اُن تینوں کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ بے چینی سے ۔۔۔۔ اور اُس کا بھی جس کا میں محبوب تھا ۔۔۔۔ انہی خوش کن تصورات میں گنگناتا آنکھیں بند کیئے چارپائی پر لیٹا ہوا تھا کہ اچانک وہ آگئیں ۔۔۔۔ معمول کے مطابق سلام دعا ہوئی ۔۔۔لیکن اُس نے کن اکھیوں سے میری جانب دیکھا ۔۔۔ ہماری آنکھیں ہم سے پہلے ایک دوسرے سے ہمکلام ہوئیں اور پھر ’سب اچھا ہے‘ کا پیغام پا کر میں استاد بن گیا اور وہ میری طالبات ۔۔۔۔ جب تک میں انہیں پڑھاتا رہا ، ذہنی طور پر خط کے سحر میں ہی مبتلا رہا۔۔۔۔ جاتے جاتے اُس نے بھی ایک ادا سے پوچھ ہی لیا ۔۔۔ ’’وہ آ۔۔آپ نے فزکس کا سوال حل کر دیا ہو تو میں اپنی کاپی واپس لے سکتی ہوں؟‘‘

میں دل ہی دل میں اُس کی اس معصوم چالاکی پر داد دیئے بغیر نہ رہ سکا ۔۔۔

میں نے اُسے کاپی واپس کر دی ۔۔۔۔ اور اُسے محسوس تک نہ ہونے دیا کہ میرے دل میں اس وقت کیسی اتھل پتھل جاری ہے۔۔۔۔
رات کے وقت میں اپنی ممکنہ محبت کی کہانی کا تانا بانا بن رہا تھا کہ اچانک مجھے یوں لگا جیسے میں ماں جی عدالت میں کسی مجرم کی حیثیت سے کھڑا ہوں اور ماں جی منصف بن کر غضبناک نظروں سے مجھے گھور رہی ہیں اور بار بار ایک ہی سوال کر رہی ہیں کہ میں نے کہا تھا مجھے کوئی شکایت نہ ملے ۔۔۔پھر یہ سب کیا ہے؟ کیوں ہے؟
میں ہڑبڑا کر اپنی چارپائی سے اُٹھا ۔۔۔۔صحن میں لگے نلکے سے جا کر ٹھنڈا ٹھار پانی پیا۔۔۔۔ اور چوروں کی طرح شرمسار سا ماں جی کی چارپائی کے پاس سے ہوتا ہوا اپنی چارپائی پر جا کر ڈھیر ہو گیا۔۔۔۔

رات کے کس پہر میری آنکھ لگی ، نہیں معلوم۔۔۔۔
لیکن میں بے سکون حالت میں سویا اور صبح یہی حالت کالج میں بھی برقرار رہی ۔۔۔۔
آخر میں نے ایک تہیہ کر لیا ۔۔۔۔ ماں جی میری دنیا ہیں۔ اُن کا ہر حکم سر آنکھوں پر ۔۔۔۔ مجھے محبت کی کہانی نہیں لکھنی ۔۔۔ مجھے عاشق نہیں بننا۔۔۔۔ ماں جی کہتی ہیں ’’تم عام نہیں ہو‘‘ ۔۔۔مجھے خاص بننا ہے ۔۔۔ عام حرکتیں مجھے زیب نہیں دیتیں ۔۔۔۔ بالاخر میں نے طے کر لیا کہ آج میں اپنی ممکنہ محبت کی کہانی کو خود ہی کوئی موڑ دے کر ختم کر دوں گا ۔۔۔۔۔

اور پھر میں نے بھی ایک کاغذ پر محبت کی کہانی کے نام دوٹوک لفظوں میں صاف انکار سے بھرا خط لکھا ۔۔۔۔ جب وہ ٹیوشن پڑھنے آئیں تو میں نے کسی بہانے اُس کی فزکس کی کاپی لے کر وہ تنبیہ نامہ اُس میں رکھ دیا ۔۔۔۔

اُس کے بعد کچھ روز رتک تو حالات نارمل رہے لیکن ایک ہفتے بعد فزکس کا ایک اور سوال میری آنکھوں کے سامنے تھا۔۔۔ اس مرتبہ سوال خاصا طویل اور مشکل تھا ۔۔۔۔۔ لیکن اس مرتبہ میں نے جواب یوں دیا کہ ماسٹر غفور سے یہ کہہ کر ٹیوشن پڑھانے سے معذرت کر لی کہ کالج میں میرے اپنے امتحانات قریب ہیں اس لئے اب میں وقت نہیں دے پاؤں گا ۔۔۔۔۔

اس عمر کی محبتیں عجیب و غریب ہوتی ہیں ۔۔۔۔ آج یہاں تو کل وہاں ۔۔۔۔ محبتوں کا شعور بھی آتے آتے ہی آتا ہے ۔۔۔۔’’ میرے جیسے گنوار کو تو شاید زندگی بھر محبت کی کہانی نصیب ہی نہ ہو‘‘ میں اکثر سوچ کر تلملا سا جاتا لیکن پھر ماں جی کی تابعداری کا خیال مجھے مطمئن کر دیتا اور میں ساری دنیا سے کٹ کر بس ماں جی کی مقرر کردہ حدود میں زندگی گزارنے لگ جاتا ۔۔۔۔۔

ایک آدھ مرتبہ وہ تینوں لڑکیاں کسی نہ کسی بہانے ہمارے گھر ضرور آئیں لیکن مجھ سے ملاقات نہ ہو سکی ۔۔۔خیر بات آئی گئی ہو گی۔۔۔اور محبت کی پہلی ممکنہ کہانی کا ہیولیٰ بھی آہستہ آہستہ ذہن سے محو ہوتا چلا گیا ۔۔۔۔۔ کبھی کبھار یہ سوچ ضرور ذہن میں آتی کہ شایدمیں نے انجانے میں اُسے دکھ پہنچایا ہے ۔۔۔ لیکن کبھی ملاقات ہوتی تو میں اُس کے چہرے سے جان پاتا۔۔۔۔کہ وہ کس حال میں ہے ۔۔۔۔۔

ایک روز میں کالج سے واپس گھر آیا تو ماں جی کے پاس دو چار محلے والی بیٹھی تھیں ۔۔۔۔ سلام دعا کے بعد مجھے پتہ چلا کہ میری ممکنہ محبت کی مرکزی کردار کسی اور کی محبت میں اس قدر پاگل ہو گئی تھی کہ اُس نے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنے محبوب کے ساتھ رات کی تاریکی میں کہیں دور جا کر اپنی الگ دنیا بسانے کی ٹھان لی تھی۔۔۔میں سرتاپا لرز کر رہ گیا ۔۔۔۔ ’’یہ کیا پاگل پن ہے!‘‘ ’’یہ کیسی محبتیں ہیں جو انسان کو ماں باپ کی نافرمان کر دیتی ہیں‘‘۔۔۔۔ میری عجیب کیفیات تھیں۔۔۔ غصہ بھی تھا۔۔۔۔ اور شاید ندامت بھی۔۔۔۔ یوں جیسے میرے انکار کی وجہ سے حالات ایسے ہوئے ہوں۔۔۔۔ خیر وقت کہاں رکتا ہے۔۔۔۔ یہ واقعہ بھی آہستہ آہستہ گاؤں والی کی باتوں کا مرکز نہ رہا۔۔۔۔ چار پانچ مہینوں بعد یہ خبر ضرور آئی کہ موصوفہ اپنا سب کچھ لٹا کر واپس تشریف لا چکی ہیں اور اپنی عزت کی خاطر ماں باپ نے اُس کی عمر سے تین گنا بڑے ایک رنڈوے کے ساتھ اُس کی شادی کر دی ۔۔۔۔۔اور یوں میری ممکنہ محبت شروع ہونے سے قبل ہی حادثاتی موت کا شکار ہو گئی ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدم کی کہانی میں دیس نکالا اس لئے ہوا تھا کہ وہ شجر ممنوعہ کے پاس نہ جانے کا الوہی حکم توڑ بیٹھے تھے۔ ۔۔ میری کہانی میں بھی حکم عدولی ہوئی تھی۔میں نے بھی زندگی میں اپنی مرضی سے کہانی لکھنے کی بہت کوشش کی۔ میں بھی مقرر کردہ حدود سے باہر نکل کر تیرنا چاہتا تھا۔
یہ نافرمانی ہی دراصل فساد کی اصل جڑ ہے۔ جانتے ہو ابلیس اہل علم بھی تھا۔جانتا تھا کہ حکم عدولی کی کیا سزا ہو گی۔ لیکن ایسا کیا ہوا کہ اْس نے حکم عدولی کر دی؟
صرف تکبر کی وجہ سے۔ جب کبھی تکبر آتا ہے تو علم و فضل رخصت ہو جاتا ہے ۔۔۔ یہی پیغام میرے اور آپ کے کریم آقا سرکار نبی پاک ﷺنے دیا تھا کہ کسی گورے کو کالے پر ۔۔۔ کسی کالے کو گورے پر ۔۔۔ کسی عربی کو عجمی پر ۔۔۔ اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ۔۔کوئی فوقیت نہیں۔ ماسوائے تقویٰ کے۔ اور تقویٰ مسکینی کی علامت ہے۔
نافرمانی، بدتمیزی، بدتہذیبی، حکم عدولی ۔۔۔ یہ سب تکبر کی نشانیاں ہیں۔ اولاد متکبر ہو جائے تو ماں باپ کی نافرمان ہو کر راندہ درگاہ ہو جاتی ہے۔
شاگرد متکبر ہو جائیں تو دنیا میں ذلیل و رسوا ہو جاتے ہیں ۔۔۔اتباع کا دم بھرنے والے جب اپنی مرضی سے بعض حکم مانتے ہیں اور بعض سے انکار کرتے ہیں اور پھر اْس پر ڈٹ بھی جاتے ہیں تو دراصل وہ ابلیس کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں۔ابلیس کو جاہل عابد و زاہد سے کوئی خطرہ نہیں۔ ابلیس کو غور وفکر کرنے والے عابد و زاہد سے سخت عداوت ہے ۔۔۔ ابلیس کی اصل دشمنی علمائے حق کے ساتھ ہے۔ علمائے سوء تو ابلیس کے حواری ہیں۔ ابلیس کو بدمعاشوں، منافقوں، فاسقوں، حرام مال کھانے والوں سے پیار ہے ۔۔۔ ابلیس ،شریف النفس لوگوں، حلال روزی کمانے والوں، سچ بولنے والوں، غور و فکر کرنے والوں اور تعمیری کام کرنے والوں سے سخت بیزار ہے ۔۔۔
آپ یوں سمجھ لیں کہ ابلیس سرتاپا تخریبی قوتوں کا حامل ہے ۔۔۔ فساد فی الارض کا سب سے مہلک ہتھیار تخریب کاری ہے۔
اسی لئے ابلیس ، اپنے حواریوں کے ذریعے فساد فی الارض کی راہ ہموار کرتا ہے۔ حالانکہ اْس کے پاس وسوسے سے زیادہ قدرت ہی نہیں پھر بھی دیکھو کیسے فساد پھیلا رہا ہے۔ وسوسے کو سمجھنا ضروری ہے۔ تا کہ اس کہانی کی بھرپور سمجھ آ سکے۔آپ یوں سمجھ لیں کہ انسانی نفس دودھ کا جگ ہے ۔۔۔ اور وسوسہ دہی کی جاگ۔ ابلیس ‘جاگ’ ٹپکاتا ہے اور دودھ کی ہیئت و ماہیئت بدل جاتی ہے۔ یا یوں سمجھ لیں کہ انسانی نفس بارود کا ڈھیر ہے اور وسوسہ اس بارودی ڈھیر کے لئے ایک چنگاری ۔۔۔
ابلیس اپنے حواریوں کے ذریعے کہیں جاگ لگاتا ہے تو کہیں چنگاریاں پھینکتا ہے ۔۔۔ باقی کا سارا کام انسانی نفس کر دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قیامت کے روز قرآنی مکالمہ ہو گا ۔۔۔ ابلیس اپنے ہی حواریوں سے کہے گا کہ بے شک میں تم پر قادر نہ تھا۔ تم دراصل خود ہی میرے جال میں پھنسنا چاہتے تھے۔ اب مجھے الزام نہ دو۔ میں تو اﷲ پر ایمان رکھتا ہوں۔ (قرآنی مکالمے پڑھے ہیں نا قرآن میں؟ آدم اور ابلیس کی کہانی بہت جامع ہے ۔۔۔بہت گہری۔ اس کی ڈھیروں پرتیں ہیں۔
اس کہانی میں ابلیس کے آدم کو سجدہ نہ کرنے کی منظر کشی عظیم ہے۔ اگر تم سارے مکالمے ایک ہی نشست میں پڑھو تو تم پر عظیم حقائق منکشف ہوں گے۔ کوئی الہامی دین کبھی مشکل نہیں تھا۔ دین کا تو کام ہی یہ ہے کہ وہ ابلیس کی پھیلائی ہوئی مشکلات کے جال سے انسانی آبادیوں کو بچائے ۔۔۔ انہیں آسانیاں دے ۔۔۔ یہ ساری الجھنیں ۔۔۔ یہ سب مشکلات ۔۔۔ یہ دکھ، درد، غم ۔۔۔یہ انسانوں کے اپنے انتخاب کی بدولت اس زمین پر اترے ہیں۔
میں نے بھی نافرمانی کا انتخاب کیا تھا۔ جب ماں جی نے کہہ دیا تھا کہ ان دنوں میں تمہارا وہاں جانا مناسب نہیں تو پھر مجھے نہیں جانا چاہیئے تھا۔ لیکن آدم کا بیٹا ہوں نا ۔ بس اُس وقت سمجھ نہیں آئی۔

محبتوں کا مقناطیس طاقتور ترین مقناطیس ہوا کرتا ہے۔ محبوب کی ذات مقناطیس کی طرح ہوتی ہے اور محب ایسے جیسے بے بس لوہے کے ذرات۔اور لوہے کے ذرات کے اختیار میں کب کچھ ہوتا ہے؟ یہ تو مقناطیس کا اختیار ہے سارے کا سارا۔ بس ماں جی کا حکم بھی لوہے کے ذرات کو نہ روک سکا۔اور میں کھینچا چلا گیا۔
نافرمانی، فساد فی الارض کا ابتدائی نقطہ ہے۔
ابلیس سب سے پہلے اولاد آدم کو بھی آدم کی طرح نافرمانی کی راہ پر دھکیلتا ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ محبتوں کو بھی استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے ہر دور میں دین کو بھی استعمال کرتا آیا ہے اور انسانی جذبات کو بھی۔ اور وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ کیونکہ فساد فی الارض کا الزام سچ ثابت نہ ہوا تو وہ جھوٹا کہلائے گا۔ اور ابلیس چیلنج کر چکا کہ وہ جیتے گا۔ اور اتنا بڑا چیلنج کہ قسم بھی اﷲ کی کھائی۔دراصل ابلیس کو اﷲ سے کوئی دشمنی نہیں ۔۔۔ اْس کی دشمنی آدم سے ہے، اولاد آدم سے ہے۔ وہ اﷲ کے مقابلے میں کسی اور معبود کی پوجا بھاٹ نہیں کرتا۔وہ توحید کا قائل ہے۔ ۔۔۔ اْس کی اصل دشمنی آدم سے ہے ۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ آدم، اشرف المخلوقات کہلائے جانے کا حقدار نہیں۔
اور وہ آج تک اسی الزام کو سچ ثابت کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ تم سادہ لفظوں میں یوں سمجھ لو کہ ابلیس کو توحید سے انکار نہیں لیکن وہ رسالت کا منکر ہے۔
وہ اﷲ کی ہر اس بات کو مانتا ہے جو اﷲ سے متعلق ہے ۔۔۔ لیکن اﷲ کی وہ بات نہیں مانتا جو آدم سے متعلق ہو۔ یا یوں سمجھ لو کہ حقوق اﷲ کے معاملے میں ابلیس ہمیشہ سے رضامند تھا، ہے اور رہے گا ۔۔۔ لیکن جہاں حقوق العباد کی بات آئے گی ۔۔۔ وہ فساد پھیلائے گا ۔۔۔ انتشار پیدا کرے گا ۔۔۔ تفریق پیدا کرے گا ۔۔۔ انسانی آبادیوں کو جنگوں پر اْکسائے گا ۔۔۔ ایسے ایسے نظریات کو فروغ دلائے گا جس سے ہمسایہ اپنے ہمسائے کے حقوق سے دستبردار ہو جائے ۔۔۔ جس سے حکمران اپنی رعایا کے حقوق سے غافل ہو جائیں ۔۔۔۔ جس سے والدین، بچوں کے حقوق سے اور بچے، والدین کے حقوق سے کنارہ کش ہو جائیں ۔ ابلیس دراصل حقوق اﷲ کی خلاف ورزی پر زیادہ نہیں اْکساتا۔
وہ اﷲ سے ڈرتا ہے۔ وہ اﷲ پر ایمان رکھتا ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ ابلیس اپنے آپ کو انسان کی شرپسندیوں سے بری کرنے کے چکر میں ہو گا۔ زمین پر فساد زمین والوں کی حق شکنی سے ہی پھیلتا ہے اور ابلیس اس راز کو جان چکا۔اور اْس کا تجربہ دیکھو۔ کتنی امتوں کو وہ گمراہ کر چکا۔ لڑوا چکا ۔۔۔ انسانی آبادیوں کو جہنم کا ایندھن بنا چکا۔
میں اورتم کس طرح اتنے تجربہ کار ابلیس کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ اس راز کو سمجھنا ضروری ہے۔
جب اولاد اپنے ماں باپ کی فرماں بردار ہونے لگتی ہے تو ابلیس ہارنے لگتا ہے ۔۔۔ جب شاگرد اپنے استاد کے ادب و احترام کا راز پانے لگتے ہیں تو ابلیس ہارنے لگتا ہے ۔۔۔ جہاں جہاں انسانی حقوق کا خیال رکھنے والا کوئی انسان پیدا ہوتا ہے ۔۔۔وہاں وہاں ابلیس ہارنے لگتا ہے ۔۔۔ ابلیس کا مسجد، مندر، گوردوارہ یا کسی بھی عبادت خانے میں آنا جانا منع نہیں۔ ابلیس تو ہر اْس جگہ جا سکتا ہے ، جہاں انسانی سوچ جا سکتی ہے۔ ابلیس ساتھ ساتھ رہے گا ۔۔۔ وسوسہ بن کر۔ ابلیس کے وساوس کے خلاف دفاعی نظام کیا ہے؟ غوروفکر۔ اولی الباب کی نسبت۔ بصیرت۔ کائنات میں پھیلی نشانیوں پر غور۔ اور کامل عبادت۔۔۔۔ وہ عبادت جو تکبر میں مبتلا نہ کرے، وہ ابلیس کی شکست ہے۔ اور ہر وہ عبادت جو انسان کو متکبر کر دے وہ ابلیس کی جیت ہے۔
محبت بھی تو عبادت ہی ہوا کرتی ہے۔ محبتوں کی راہ کے مسافر ہر لمحہ پل صراط پر چل رہے ہوتے ہیں۔ ایک طرف تو حید کا نور پھیلا ہوتا ہے تو دوسری طرف شرک کے گھٹا ٹوپ اندھیروں کے سیاہ ناگ پھنکار رہے ہوتے ہیں۔ نفرتوں اور تعصبات کے یہ کالے سیاہ ناگ ہر دور میں اولاد آدم کو ڈستے آئے ہیں۔ اور اولاد آدم کی سرشت ہی ایسی ہے کہ وہ تجربہ کرنے سے باز نہیں آتی۔
نسل در نسل سیاہ ناگوں کے ڈسنے کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ لیکن ہر نئی نسل نئے سرے سے تجربہ کرنا چاہتی ہے۔ خود کو انہی ناگوں سے ڈسواتی ہے۔ کثیر تعداد پر زہر کا اثر اس حد تک ہوتا ہے کہ وہ انہی ناگوں کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اور قلیل تعداد اُن کی بھی ہوتی ہے جو ربنا ظلمنا انفسنا کے تریاق سے اپنا علاج کر لیتے ہیں۔ زہر سے نجات حاصل کر لیتے ہیں۔ اور صحت مند ہو کر دوبارہ اسی محبتوں والے پل صراط پر سفر کرنے لگتے ہیں۔

میری زندگی کی کہانی کے سفر کے ایک مخصوص مقام پر میری کہانی بھی ادھوری رہ گئی تھی۔ میں نے بھی زخم سہے تھے۔ادھوری کہانی کی قبر کا مکمل مجاور بن کر زندگی گزارنا اذیت ناک تھا۔ بہت اذیت ناک۔ مجھے بھی بہتانوں کے سیاہ کالے ناگوں نے ڈسا تھا۔ میرا پور پور زہر آلود کر دیا تھا۔
میں دکھوں اور بہتانوں کی قبر میں تنہا لیٹا اس زہر کا تریاق کرتا رہتا۔ روتا رہتا۔ ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔ ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔ ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔
ماں جی نے منع کیا تھا۔شجرممنوعہ کی کہانی مت لکھنا۔قریب بھی مت پھٹکنا اس کے۔ میں ہی نہیں سمجھا۔ میں نے نافرمانی کی۔ ناگوں نے تو مجھے ڈسنا ہی تھا۔ سو ڈس لیا۔ اب قبر ہے۔ تنہائی ہے۔ سناٹا ہے۔ آنسو ہیں۔ آہیں ہیں۔ زور زور سے دھاڑیں مار مار کر رو لو۔ نافرمانوں کے لئے یہی تریاق ہے۔ ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔ محبتوں کے وجود میں اگر زہر داخل ہو جائے تو اسے نکالنے کا ایک ہی طریقہ ہے ۔۔۔
گڑگڑاؤ ۔ سجدے میں گر جاؤ ۔ ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔
اور اُس وقت تک مت اُٹھو جب تک زہر نکل نہ جائے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’پہلی ممکنہ محبت کی کہانی کی یاد بھی آہستہ آہستہ زندگی کے ظاہری منظرنامے سے غائب ہوتی چلی گئی۔دور بہت دور ذہن کے کسی ایسے حصے میں جہاں فالتو اور غیر ضروری مواد ذخیرہ ہوتا رہتا ہے۔۔۔پھر وہی شب و روز ۔۔۔۔ وہی ہنسی مذاق ۔۔۔ وہی کھڑکیوں کا کھلنا ۔۔۔۔ دوستوں کا چھیڑخانی کا انداز ۔۔۔۔ سب کچھ معمول کے مطابق چلنے لگا ۔۔۔۔ کالج کی تعلیم مکمل ہوئی تو والد محترم کے ساتھ ہم سب لاہور شفٹ ہو گئے۔۔۔وہ فوج میں تھے اور اُن کا تبادلہ چونکہ لاہور چھاؤنی میں ہو گیا تھا اس لئے باہمی مشورے سے یہی طے پایا کہ آئندہ مستقل بنیادوں پر لاہور ہی ہمارا مسکن ٹھہرے گا۔۔۔
اور یوں ہم سب لاہوریئے ہو گئے ۔۔۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہانی کا یہ حصہ میرے علم میں تھا۔ یہ معلومات پہلے ہی پبلک تھیں ۔۔۔لیکن اس مرتبہ اُس کا انداز منفرد تھا ۔۔۔۔ وہ مختلف دھاروں میں بہہ رہا تھا۔۔۔ایک کہانی آدم و حوا اور ابلیس کی تھی ۔۔۔۔ جو کائناتی کیلنڈر کے دوش پر بہہ رہی تھی اورجس کا سمجھنا اصل کہانی کو سمجھنے کے لئے از حد ضروری تھا اور ایک کہانی زمینی کیلنڈر کے مطابق متوازی رخ پر سفر کر رہی تھی ۔۔۔اُس نے بری امام کے روضے کی جانب ایک مرتبہ پھر دیکھا ۔۔۔۔ اُس کے چہرے پر انجان سے مسکراہٹ ابھری ۔۔۔اور ایک دم غائب ہو گئی ۔۔۔۔ میں مسلسل اُس کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ اور سمجھنے سے قاصر تھا کہ اس وقت اُس کے دل کی حالت کیا ہو گی ۔۔۔۔میں حیرت سے سوچتا جاتا تھا کہ کہاں وہ انسان ۔۔۔۔جو محبتوں کے معاملے میں اس حد تک گنوار تھا کہ اُس کے دوست اُس کا مذاق اُڑایا کرتے تھے ۔۔۔۔اورکہاں یہ میرے سامنے بری امام کے احاطے میں بیٹھا شخص ۔۔۔ جو محبتوں کا اصل سراغ پا چکا ہے۔۔۔۔اس قدر طویل سفر ۔۔۔۔ اس قدر بُعد ۔۔۔۔ راز ہی راز ۔۔۔۔ اُس کی آواز ایک مرتبہ پھر مجھے واپس اُسی گہری چپ کے جہان میں لے گئی جہاں میں قدم بہ قدم اُس کے کرب سے آشنا ہو رہا تھا ۔۔۔۔
’’لاہور محبتوں بھری سرزمین ہے ۔۔۔ یہاں جذبات ہیں ۔۔۔ خوشیاں ہیں ۔۔۔ خلوص ہے۔۔۔۔وسعت قلب و نظر کی حسین روایات کا امین یہ شہر ہر لحاظ سے فرد کی صلاحیتوں کو نمو بخشتا ہے۔۔اس شہر میں شاید ہی کبھی کوئی بھوکا سوتا ہو ۔۔۔ متلاشیان علم و آگہی کے لئے تو یہ سرزمین انتہائی قابل احترام اور معتبر ہے۔۔۔ہم بھی لاہور کیا آگئے دنیا ہی بدل گئی ۔۔۔زندگی کا اتنا توانا اور بھرپور کینوس ملے تو کوئی کافر ہی ہو گا جو کامیابی کے رنگ نہ بکھیرے ۔۔۔ہم سب بہن بھائی بھی ایک نئے عزم سے اپنے ماں باپ کی محبتوں کی ٹھنڈی چھاؤں تلے اپنے اپنے مدار میں گردش کرنے لگے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ پنجاب یونیورسٹی کے گیٹ سے قدم اندر رکھا تو میری کائنات میں رنگ ہی رنگ بکھر گئے ۔۔۔۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی اولڈ کیمپس کی رونقیں بحال تھیں ۔۔۔ اور نیو کیمپس نے ابھی مکمل طور پر طلباء و طالبات کو اپنے حصار میں نہیں جکڑا تھا ۔۔۔۔اولڈ کیمپس کی شاہانہ عمارت، اُس سے جڑی حسین یادیں، روایات ، اُن فضاؤں میں پھیلی محبتوں کی سچی اور سُچی خوشبو ہر آنے والے کا دل موہ لیا کرتی تھی ۔۔
ہم بھی اولڈ کیمپس سے نکلتے اور انارکلی بازار میں گھس جاتے ۔۔۔ کبھی کبھار کتابوں کی تلاش ہمیں اردو بازار تک بھی لے جاتی ۔۔۔ لاہور میں فٹ پاتھوں پر بھی کتابیں ہی کتابیں دکھائی دیتی تھیں ۔۔۔ ریڑھیوں پر رکھی کتابیں دعوت عام دیتیں اور ہم ہر مرتبہ پانچ دس کتابیں ضرور خرید لاتے ۔۔۔ بعض اوقات فٹ پاتھ پر لگے کسی ڈھیر سے توانتہائی مناسب قیمت میں بہت ساری نایاب کتابیں مل جایا کرتیں ۔۔۔ اردو بازار سے نکلتے تو بعض اوقات داتا دربار چلے جاتے (یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی داتا دربار جانے اور داتا صاحب کے پاس جانے کا فرق معلوم ہی نہیں تھا)۔۔۔۔ہفتے میں ایک آدھ چکر مفکر پاکستان کی آخری آرام گاہ کا بھی لگ جاتا ۔۔۔ بادشاہی مسجد کے مرکزی دروازے کے قریب بائیں طرف علامہ اقبال کا مزار میرے لئے پرسکون گوشہ تھا ۔۔۔ میں اکثر وہاں جاتا اور پہروں اُن کی قبر کے پاس سر جھکائے بیٹھا رہتا ۔۔۔ بابا اقبال سے میری محبتوں کی کہانی بہرحال میں نے نہیں لکھی تھی ۔۔۔ بس یہ کہانی خودبخود چل پڑی تھی ۔۔۔ شاید صدیوں پرانی کتھا تھی یہ ۔۔۔۔
مزار اقبال کے ایک طرف بادشاہی مسجد تو بالکل سامنے شاہی قلعہ اپنی تمام تر تاریخی روایات کا علمبردار بن کر چپ چاپ کھڑا آتے جاتے لوگوں کو پیغام دیتا تھا کہ ’’ لوگو! کبھی یہاں شہزادے اور شہزادیاں رہا کرتے تھے ۔۔۔ یہ دنیا عبرت کدہ ہے ۔۔۔۔ ایک وقت تھا جب غریب انسان شیش محل کے قریب پھٹک بھی نہیں سکتے تھے اور اب دیکھو ۔۔۔ پان کی پیکیں، نسوار کے چوسے ہوئے دستی بم اور سگریٹ کے چلے ہوئے کارتوس کس بے دردی سے جگہ جگہ پھینکے جاتے ہیں ۔۔۔یہ قلعہ اب تاریخ بن چکا ۔۔۔ اس قلعے میں بھی محبتوں کی کہانیاں لکھی گئی ہوں گی ۔۔۔ یہاں بھی فزکس کے سوالوں کی طرح کے موڑ آئے ہوں گے ۔۔۔ یہاں بھی فرماں برداری اور نافرمانی کے لمحات ابھرے ہوں گے ۔۔۔۔‘‘عصری شعور کے کینوس پر جب تاریخی شعور کے رنگ بکھرتے ہیں تو فکروشعور کی دنیاؤں میں عجیب و غریب خیالات جلتے بجھتے قمقموں کی مانند راج کرنے لگتے ہیں ۔۔۔ تصورات، کہانیاں، کردار، مکالمے ۔۔۔۔ بس سوچتے جاؤ ۔۔۔ ماضی حال اور مستقبل کی تکوینی تقسیم اور بنی نوع انسان ۔۔۔۔ کون جانے کہانی کب سے ہے، کب تک رہے ۔۔۔ اسی شاہی قلعے میں بہت سی ایسی کہانیاں بھی لکھی گئی ہوں گی جو ہم تک نہیں پہنچیں ۔۔۔ تاریخ کے اوراق میں دفن گمنام کردار شاید ہی کبھی ہمارے سامنے آئیں ۔۔۔سب کہانیاں کھودائی کے دوران کہاں دریافت ہوتی ہیں ۔۔۔ بس ایک آدھ کہانی مل جاتی ہے اور آثار قدیمہ والوں کے ہاتھ جیسے بہت بڑا خزانہ لگ گیا ہو ۔۔۔۔ ایک لحاظ سے اچھا ہی ہے ۔۔۔۔ ماضی میں دفن ہر کہانی دریافت ہو جائے تو شاید ہم انہی کہانیوں کے بوجھ تلے زندہ درگور ہو جائیں ۔۔۔۔ لیکن کیا واقعی اس قدر متفرق کہانیاں لکھی گئی ہوں گی؟ میں اکثر سوچا کرتا تھا ۔۔۔ یا بس ایک ہی کہانی ہے جو مختلف انداز میں، مختلف کرداروں کے ساتھ بار بار لکھی جا رہی ہے؟ کیا میرے جیسے گنوار لوگ ماضی میں بھی ہوں گے؟ کیا ایسے بھی ہوں گے جن کی محبتوں کی کہانی فزکس کی کاپی میں رکھے ایک محبت نامے جیسی مختصر اور لمحاتی ہو گی؟
میں جب بھی شاہی قلعے جاتا دیواروں پہ بنے نقش و نگار میں کھو سا جاتا ۔۔۔ ان تخلیق کاروں کی دنیا کس قدر رنگین ہوتی ہو گی؟ کیا خوبصورت تخیل ہوتا ہو گا ان کا؟ اور یہ شیش محل بنانے والے تو واقعی باکمال آرٹسٹ تھے ۔۔۔ ان کی کہانیاں کہاں گم ہو گئیں؟ عام محلوں میں رہنے والے غریب فنکاروں کی کہانیاں شاہی قلعے کی دبنگ کہانی میں کیوں اپنا وجود کھو دیتی ہیں؟ کیا کہانی کو زندہ رکھنے کے لئے مادی وسائل کی ضرورت ہوا کرتی ہے؟ جہاں کوئی سامع نہ ہو، ناظر نہ ہو وہاں لکھی جانے والی کہانی، کہانی نہیں کہلا سکتی؟ یا کہانی کو زندہ رکھنے کا فیصلہ خالق کائنات کی صوابدید پر ہے اور مادی وسائل کہانی کو مستقل بنیادوں پر زندہ نہیں رکھ سکتے؟ شاہی قلعے میں میری سوچوں کے دھارے کہاں سے کہاں بہتے چلے جاتے ۔۔۔۔ مجھے ہاتھیوں کے چنگھاڑنے کی آوازیں سنائی دیتیں ۔۔۔ شہزادیوں کا کھلکھلانا، باادب باملاحظہ ہوشیار اور شاہی تسلیمات سے گونجتی شاہی قلعے کی دیواریں ، سرگوشیاں، قہقہے، ماتم، سازشیں ۔۔۔ میں سوچتا چلا جاتا ۔۔۔
ساتواں باب
میں بہتانوں کی قبر میں کتنی صدیاں دفن رہا، مجھے نہیں معلوم۔ میں کس قدر رویا؟ مجھے نہیں معلوم۔ میرے آنسو کب جاری ہوتے۔ کب رُک جاتے۔ میں نہیں جانتا۔ قبر کی وحشتوں میں کب کمی واقع ہوتی اور کب اضافہ ہوتا؟ مجھے نہیں یاد۔ مجھے یاد ہے تو بس اتنا کہ قبر کے سناٹے میں بس ایک ہی آواز گونجا کرتی تھی ۔۔۔ ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔ ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔
انسان مٹی سے بنا ہے۔ جانتے ہو نا؟ مٹی سے۔
جب مالک کائنات نے ابلیس سے سوال کیا کہ تمہیں کس شے نے سجدہ کرنے سے روکا؟ تو جانتے ہو اْس کا جواب کیا تھا؟
اْس نے مٹی کا ذکر کیا تھا۔ حقارت سے اور تکبر سے۔ اسی مٹی کا جس سے میری اور تمہاری تخلیق ہوئی ہے۔ یہ مٹی ہماری پہچان ہے۔ اس مٹی کو سمجھنا لازمی ہے۔ اس مٹی کی روحانیت اس کے جسمانی پیکر سے کہیں زیادہ معتبر، افضل، مقدس اور گہری ہے۔
یہ مٹی ابلیس کے لئے حقارت کا باعث تھی۔ اْس نے توہین کی تھی مٹی کی۔ کبھی غور کیا ہے اس پہلو پر؟ مٹی تکبر کو پسند نہیں کرتی۔ متکبر انسان کو اس زمین نے ہمیشہ آن دبوچا ہے اور یوں کہ پسلیاں آپس میں جْڑ جاتی ہیں۔ وعبادالرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا و اذا خاطبھم الجاھلون۔۔۔ والی آیت پڑھی ہے نا؟
سورہ فرقان دیکھنا۔۔۔اﷲ کی زمین پر رحمان کے بندے عاجزی سے رہتے ہیں اور جب اْن کی گفتگو، اْن کا تخاطب جاہلوں سے ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں سلام۔۔ رحمان کے بندے متکبر نہیں ہوتے ۔۔۔ اور وہ شریر لوگوں کے جوش دلانے پر آپے سے باہر نہیں ہوتے ۔۔ وہ گالم گلوچ نہیں کرتے۔یہ جو مٹی ہے نا۔۔۔ اسے سمجھنا لازمی ہے۔۔۔ اس مٹی کی سرگوشیاں سنا کرو۔۔۔۔ یہ خاک جو انسانی جسم میں ڈھل گئی ہے یہ کس کا انتخاب ہے؟ اﷲ کا انتخاب ہے یہ مٹی۔۔۔یہ ہارڈویئر کمال ہارڈویئر ہے۔اور پھر اس ہارڈویئر میں کمال سافٹ ویئر علم آدم الاسماء۔۔۔وہ جو مقدس توانائی پھونکی گئی ہے نا اس میں ۔۔۔ وہ کمال توانائی ہے۔۔۔
قبر کی تاریکیوں میں اسی مٹی کو میں نے آنسوؤں میں بھیگتے دیکھا تھا۔اور تب مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی تھی کہ یہ مٹی جس قدر نم ہو، اُسی قدر اس سے حجابات اُٹھا لئے جاتے ہیں۔ جانتے ہو، رقت کیا ہے؟ یہ راتوں کو جاگنے والے ۔۔۔نالہ شبگیر والے کرتے کیا ہیں؟ یہ مٹی کو بھگو کر رکھتے ہیں۔ مٹی بھیگی رہے تو مسکینی قائم رہتی ہے۔مٹی سخت ہو جائے تو تکبر کا شکار ہونے میں دیر نہیں لگاتی۔
اس مٹی کو خوب بھگویا کرو ۔ رات کی تنہائیوں میں جب آنکھوں سے چھما چھم آنسو بہتے ہیں تو مٹی اس قدر نرم ہو جاتی ہے کہ اْس پر اﷲ کی رحمتوں کے مقدس پھول کھل اْٹھتے ہیں۔
رقت والے ہو جاؤ۔ یہ بڑی معراج ہے۔۔ دیکھو! میرے اور آپ کے کریم آقا ﷺ ہمارے لئے انسانی آبادیوں کے لئے رویا کرتے تھے ۔۔تڑپا کرتے تھے۔ پہلو بدل بدل کر۔۔۔ کائنات میں سب سے زیادہ اگر کوئی رویا ہے ۔۔۔ کائنات کے لئے تو وہ میرے اور آپ کے کریم آقا ﷺہیں۔ مٹی کو سمجھیں۔۔۔ اس مٹی سے ابلیس کی جنگ ہے۔ وہ اس مٹی کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اشرف المخلوقات کہلائے۔
اسی لئے وہ ایسا نظام وضع کرتا رہتا ہے جہاں انسانی ذات کی نشوونما نہ ہو سکے۔ جسمانی طور پر بھی مٹی مر جائے اور روحانی طور پر بھی۔یہی وجہ ہے کہ وہ سب سے پہلے جب کسی انسان کا شکار کرتا ہے تو اْسے انعام کے طور پر تکبر میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ راتوں کو اْٹھ اْٹھ کر تہجد کی ساعتوں میں مصلے بھگونے والے اپنی مٹی کو تروتازہ رکھتے ہیں۔اسی لئے دن بھر اْن کی عاجزی اور مسکینی کے پھولوں سے بھینی بھینی خوشبو ہمارے آس پاس پھیلی رہتی ہے۔اور جانتے ہو درود شریف کی اتنی فضیلت کیوں ہے؟ درود شریف وہ دوائی ہے ۔۔۔ وہ نسخہ ہے ۔۔۔ جس سے انسانی ذات میں موجود تکبرختم ہو جاتا ہے ۔۔۔ درودشریف انسانی مٹی اور روح کو تروتازہ رکھتا ہے۔ اْسے مسکین بنائے رکھتا ہے۔ اْسے ابلیس کے وساوس سے بچائے رکھتا ہے۔ السلام علیک ایھاالنبی ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ
۔۔۔ یا حی یا قیوم ۔۔۔ اﷲ اکبر ۔۔۔ یہ سب مٹی کو زرخیز بنائے رکھنے کے فارمولے ہیں۔
آدم وابلیس و ملائکہ سے متعلق قرآنی کہانی ۔۔۔ اپنے اندر ایک جہان معانی رکھتی ہے۔سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 208 کو سمجھنا لازمی ہے کیونکہ اْس کا براہ راست تعلق اس قرآنی کہانی سے ہے۔
ابلیس نے حکم عدولی کی۔ صرف ایک مرتبہ۔ باقی سب احکامات تو وہ مان رہا تھا۔ اسی لئے بلند مرتبت تھا۔ ایک حکم نہ مانا اور راندہ درگاہ ہو گیا؟ جانتے ہو وہ حکم تھا کیا؟ اور اْس حکم کی اہمیت کا ادراک کس قدر اہم ہے؟ ابلیس کی خواہش تھی کہ اْسے معتبر تسلیم کیا جائے اور کسی اور مخلوق کو اْس پر برتری نہ دی جائے۔
یہ نکتہ اچھی طرح سمجھ لو ۔۔۔ تیسرے سپارے کی پہلی آیت۔۔۔ بعض کو بعض پر فضیلت ہے۔۔۔عبادات و مناجات اگر تکبر کی اْس ابلیسی منزل پر لے جائیں تو انجام بھی ابلیس والا ہی ہو گا۔ اور ابلیس کا قصور کیا تھا؟ وہ اپنی مرضی سے اﷲ کی مرضی کے خلاف چل پڑا ۔۔۔ وہ اﷲ کی رضا میں راضی نہ ہوا۔ اور اْس نے اپنی مرضی سے اﷲ کی ناراضگی مول لے لی۔ یوں سمجھ لو کہ جب کوئی اﷲ کی مرضی پر اپنی مرضی کو ترجیح دے اور اﷲ کی رضا کے برعکس اپنی رضا سے فیصلے کرتا پھرے تو وہ دراصل ابلیس کا ہو گیا ۔۔۔ وہ متکبر ہو گیا ۔۔۔ اور وہ راندہ درگاہ ہو گیا۔
لیکن جب کوئی اپنی مرضی ۔۔۔ اﷲ کی مرضی کے مطابق کر لے اور اﷲ کی رضا میں ہی راضی رہے تو پھر وہ مسکین ہو جاتا ہے۔ پھر وہ فلاح پا جاتا ہے ۔ پھر وہ نفس مطمئنہ بن جاتا ہے۔
میں جتنا عرصہ موت کی آغوش میں رہا ۔۔۔ قبر میں دفن رہا ۔۔۔ میں اپنی مرضی کے ہر ایک بُت کو ریزہ ریزہ توڑتا رہا۔ ربنا ظلمنا انفسنا۔ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔ ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔
ابلیس اگر آدم کو سجدہ کرلیتا تو اْس سے اْس کی بزرگی نہ چھینی جاتی۔ حکم ایک، لیکن اْس حکم کی اہمیت۔۔۔ یہ نکتہ سمجھنا لازمی ہے۔۔۔ اﷲ کریم کی بارگاہ میں شرک ناقابل معافی کیوں ہے؟ کیونکہ شرک ہمیشہ متکبر انسان کرتا ہے۔
شرک سرکشی ہے۔ شرک کرنے والا مشرک دراصل اﷲ کریم کی مرضی کے برعکس فیصلہ دے کر اپنی مرضی سے اپنے نفس کو معبود بنا لیتا ہے۔
ابلیس نے بھی آدم کو سجدہ کرنے کا حکم نہ مان کر دراصل اپنے معبود سے وفاداری کی۔ اگرچہ اْس نے قسم اﷲ کی کھائی لیکن درحقیقت وہ ہی مشرک تھا۔
وہ قیامت کے روز بھی اسی گمان میں مکالمہ کرے گا کہ میں توحید پرست ہوں۔۔۔ لیکن اْس کی توحید کے سارے دعوے اْس کے منہ پر مار دیئے جائیں گے۔ نبی اکرم ﷺکی بارگاہ میں عجز و انکسار سے پیش ہونے والے ابلیس اور اْس کے حواریوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتے ۔۔۔ جنگ جاری ہے ۔۔۔ تکبر والے اور عجز و انکسار والے آمنے سامنے ہیں ۔۔۔
حق ہمیشہ غالب آیا ہے ۔۔۔ تکبر والے ہی باطل والے ہیں ۔۔۔بدتمیز اور بدتہذیب لوگ نبی اکرم ﷺکی بارگاہ میں بھی بدتمیزی اور بدتہذیبی سے باز نہیں آتے۔
خبردار! یہ وہ بارگاہ ہے جہاں آواز بھی بلند ہو جائے تو اﷲ کریم اس آواز کو گدھے کی آواز سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ خبردار۔۔۔ یہ وہ بارگاہ ہے جہاں راعنا پر پکڑ ہے۔۔۔ یہاں بس اْنظرنا والے ہی فلاح پاتے ہیں۔۔۔ ادب سے ذکر کیا کرو کریم آقا ﷺ کا ۔۔۔ ابلیس کو اس سے بہت تکلیف ہوتی ہے ۔۔۔ اْسے آدم کا احترام پسند نہیں تو پھر رحمتہ اللعالمین ﷺ کا احترام اْس کے لئے واقعی تکلیف دہ ہے
یاد ہے ابلیس نے اپنے حواریوں سے مسجد ضرار بنوائی تھی۔۔۔ ابلیس کہتا ہے کہ بس اﷲ کے ہو جاؤ۔۔۔ اﷲ کریم کہتے ہیں کہ میرا ہونا ہے تو پہلے محمد ﷺکے ہو جاؤ۔۔۔ پھر میں تمہارا ہو جاؤں گا ۔۔۔ آیت پر غور کرو۔۔۔ قل ان کنتم تحبون اﷲ۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش! تم یہ نکتہ سمجھ لو۔۔۔ قرآنی کہانی اور ادب رسول اکرم ﷺ ۔۔۔ بڑا گہرا تعلق ہے اس میں۔۔۔
جب اولاد ماں باپ کی نافرمان ہوتی ہے تو دراصل وہ اپنے پیغمبر ﷺ کی نافرمان ہو جاتی ہے۔ اور پیغمبر ﷺ کی نافرمانی کا مطلب اﷲ کی نافرمانی۔ میں
اسی لئے اپنی کہانی کے ساتھ آدم اور ابلیس کی کہانی سنا رہا ہوں۔ جب تک تمہیں اُس کہانی کی سمجھ نہیں آئے گی تمہیں میرا بہتانوں کی قبر میں محبتوں کا کفن پہنے دفن ہونا سمجھ میں نہیں آئے گا۔تمہیں اُس وقت تک میری حکم عدولی کی سمجھ نہیں آئے گی۔
تم اُس وقت تک نہیں جان سکو گے کہ درد کس طرح مقدس توانائی بن کر اولاد آدم کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ جو ربنا ظلمنا انفسنا ہے نا، یہ انسانی ذات کو مقدس توانائیوں سے بہرہ مند کرنے کا وظیفہ ہے۔
آدم اور ابلیس میں یہی فرق ہے ۔ ابلیس غرور کا شکار ہو جاتا ہے اور آدم سراپا عجز و انکسار ہو کر ربنا ظلمنا انفسنا کی تسبیح کرنے لگتا ہے۔ اور جب وہ ایسا کرتا ہے تو خاک کے پتلے میں نورانی نوہر جگمگا اُٹھتے ہیں۔ محبتیں کچھ اس طرح جلوہ گر ہونے لگتی ہیں کہ ہر رگِ جاں مہک اُٹھتی ہے۔ پھر انسان ہر قسم کی نفرتوں اور تعصبات کی آلودگی سے دور ایک پاکیزہ دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔

محبتیں انسان کو در اصل اپنی ذات کی داخلی اصلاح پر قائل کرتی ہیں۔ اور جب کسی داخلی محاذ پر اصلاح ہو جائے تو پھر تمام تر خارجی معاملات سنورجاتے ہیں۔ ذات کی اصلاح کئے بغیر حالات کی اصلاح کی کوشش فضول ہے۔ جب تک نفس انسانی میں مثبت تبدیلی پیدا نہیں ہوتی، نفس معاشرہ میں اثبات محض ایک خوش خیالی ہے۔ ایک واہمہ ہے۔ہر فرد کو اپنی ذات میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ جب کسی ذات میں تبدیلی کا عمل شروع ہوتا ہے، معاشرے میں تبدیلی کے عمل کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی تاریک کمرے میں ایک ننھا سا دیا روشن ہو جائے۔ ہر فرد ایک مشعل ہے۔ مشعلیں روشن ہوں گی تو اندھیرے چھٹ جائیں گے۔ اپنے من میں انقلاب لے آؤ۔ معاشرہ بدلنا شروع ہو جائے گا۔

میری ذات کی اصلاح بہتانوں کی قبر میں ہوئی تھی۔ وہاں میں تنہا تھا اور قبر کی وحشتیں تھیں۔ میں پھوٹ پھوٹ کر روتا لیکن میری آواز قبر میں ہی عارضی طور پر ارتعاش پیدا کرتی اور مر جاتی۔ لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری ۔ میں سجدے میں پڑا مسلسل ربنا ظلمنا انفسنا کی تسبیح کرتا رہا۔ اُس وقت تک کرتا رہا جب تک مقدس نور کا ہالہ قبر کی وحشتوں میں جلوہ گر نہ ہوا۔ میں نے اُس قبر میں پہلی مرتبہ حقیقی محبتوں کے جلوے دیکھے۔ جب انسان دفن ہوتا ہے تو اُس پر عجیب و غریب انکشافات ہوتے ہیں۔ لیکن میں وہ سارے انکشافات نہیں بتا سکتا۔ کشف کی وہ منزل کڑی تھی۔ جب انسانی ذات کے حجابات ایک ایک کر کے اُٹھتے ہیں تو انسان ظلمتوں سے نور کی جانب آجاتا ہے۔ ایک دم سے روشنی پھیلے تو آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ انسانی بساط کے مطابق ایک ایک آیت کا نزول بغیر از علت نہیں۔ قبر کی تنہائیوں میں سارا کلام ایک دم سے نازل ہو جاتا تو شاید میں یہ کہانی نہ سُنا رہا ہوتا۔

ربنا ظلمنا انفسنا دھیمے سُروں کی کہانی ہے۔ توبہ کا درخت برگد کے پیڑ جتنا بڑا ہو جائے اُس کا بیج ہمیشہ چھوٹا ہی رہتا ہے۔ توبہ کو جب عجز و انکسار کی زمینوں میں لگا کر ندامت کے آنسوؤں سے پانی دیا جاتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ نشوونما پاتا ہے۔ اُس کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔ تنا مضبوط ہوتا ہے۔ پھر شاخیں پھیلتی ہیں۔ پھل پھول کی منزل آتی ہے۔ پھر پھلوں اور پھولوں کی تقسیم کے مراحل آتے ہیں، یہ سب کچھ ایک دم سے ہو جائے تو انسانی عقل دنگ رہ جائے۔ الوہی تجلی کو دیکھنے کی خواہش ازلی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام بھی کوہ طور پر یہی تجلی دیکھنے گئے تھے۔ طور سے پوچھنا کبھی؟ کیا ہوتا ہے جب ایک دم سے تجلی کا ظہور ہوجائے۔ قبر کی وحشتناک تنہائی میں میرے آنسوؤں نے آہستہ آہستہ مٹی کو اس قدر نرم کر دیا کہ اُس میں انکشافات کی بیلیں اُگ آئیں۔ اور پھر اُن بیلوں پر پھل پھول بھی آئے۔

محبتیں کبھی ناکام و نامراد نہیں ہوتیں۔ جہاں محبتیں نہیں ہوتیں۔ وہاں نہیں ہوتیں۔ اور جہاں ہوتی ہیں وہاں ہوتی ہیں۔اور کامیاب و کامران ہوتی ہیں۔
محبتوں کے سفر پر نکلے ہوئے مسافر جانتے ہیں کہ راہ میں سراب ہی سراب ہیں۔ قدم قدم پر آزمائشیں ہیں۔ کھائیاں ہیں۔ دشواریاں ہیں۔ لیکن سفر شرط ہے۔ سفر جاری رہے تو منزل مشروط ہے۔ جیسا سفر ویسی منزل۔ محبتوں کی راہ کے مسافر محبتوں کی منزل پا ہی لیتے ہیں۔ شرط صرف اتنی ہے کہ وہ اپنا سفر جاری رکھیں۔ فرماں برداری کے ساتھ۔ خلوص کے ساتھ۔ اور جب کبھی اُن کا آمنا سامنا سرابوں سے ہو تو وہ ربنا ظلمنا انفسنا کی تسبیح کی جانب لوٹ آئیں۔

سرابوں کے پیچھے عارضی طور بھاگنا پیاسے آدم کی جبلت ہے۔ سرشت ہے۔ لیکن پھر سے حقیقی چشموں کی تلاش میں عزم نو کے ساتھ نکل پڑنا بھی آدم کی ہی سرشت ہے۔ ابلیس کی نہیں۔ ابلیس سرابوں کو ہی چشمہ سمجھ لیتا ہے۔ آدم کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ سرابوں کو سراب مان لیتا ہے۔ جب اُس پر سرابوں کی حقیقت آشکار ہوتی ہے وہ ربنا ظلمنا انفسنا کی تسبیح میں مصروف ہو جاتا ہے۔

میں نے زندگی کے سفر میں سرابوں کو بھگتا ہے۔ جن دنوں میں بہتانوں کی قبر میں دفن تھا، مجھے رہ رہ کر اس حقیقت کا ادراک ہوتا تھا کہ سراب دراصل کہتے کسے ہیں۔ یہ جو ماں باپ ہوتے ہیں نا، یہ کبھی سراب نہیں ہوتے۔ ماں تو ایسا چشمہ ہے جو کبھی خشک ہی نہیں ہوتا۔ ماں سے زیادہ قبر کی تنہائیوں اور وحشتوں کو کون سمجھ سکتا ہے بھلا؟ جانتے ہو یہ جو رحم مادر ہے نا، یہ بھی قبرنما ہوتی ہے۔ اور یہ قبر ماں کی مکمل حفاظت میں ہوتی ہے۔ کسی کی مجال جو اس میں دفن اُس کی اولاد کو کوئی نقصان پہنچا سکے۔ ماسوائے اُس کے جو ماں کا بھی خالق ہے۔ وہی جو کل جہاں کا بھی خالق ہے۔ قبر کی وحشتوں میں جب مجھے ڈر لگتا تو کل جہاں کا خالق ، میری ماں کا خالق، میرا خالق مجھے محبت سے دیکھا کرتا۔ میں محسوس کرتا تھا کہ میں اپنی قبر میں تنہا نہیں۔ لیکن شاید آہستہ آہستہ تجلی کا ظہور ہی انسانی بساط ہے۔اور بس۔
ہر دور میں، ہر زمانے میں، شکست خوردہ ذہنیت کا سب سے بڑا ہتھیار الزام تراشی رہا ہے۔الزام لگانا دنیا کا سب سے آسان کام ہے بالخصوص ان معاشروں میں جہاں قانون کی عملداری نہ ہو۔ آج میڈیا کے دور میں یہ سب سے کارگر ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ کاروباری مفادات کی غلام گردشوں میں رینگتے ہوا و حوص کے پیکر ہر روز الزامات اور بہتانوں کی بوچھاڑ کرتے پھرتے ہیں۔
دین، تحقیق کی بات کرتا ہے۔ دین کہتا ہے جب کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو یہ نہ ہو انجانے میں تم کسی پر ظلم کر بیٹھو۔ ہم تحقیق کی راہ کے مسافر ہی نہیں بنتے۔ سنی سنائی باتیں آگے بڑھانا ہمارا محبوب مشغلہ بنتا جا رہا ہے۔
بصیرت مرتی جا رہی ہے۔ تحقیق دفن ہوتی جا رہی ہے۔ جب چاہو، جس پر چاہو، جو چاہو الزام لگا دو۔
اور پھر باقی کا کام سوشل میڈیا پر چھوڑ دو کہ یہاں ایک سے بڑھ کر ایک مفتی تشریف فرما ہیں۔ یہ جو میں Facebook پر ہر وقت لکھتا رہتا ہوں نا، یہ وہی کشف ہے جو مجھے بہتانوں کی قبر میں نصیب ہوا تھا۔ تحقیق کو عادت بنا لو۔ جب تک کوئی آیت، حدیث یا واقعہ تحقیق کے معیار پر نہ اتر جائے، اسے آگے شیئر مت کرو۔
سیاسی و مسلکی تعصب نے واقعات اور حالات کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔ ہم جسے پسند نہیں کرتے، اس کے خلاف ہر الزام اور بہتان لگانا ہم جائز سمجھتے ہیں۔ اور بدلے میں ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا ہوتا ہے۔ ہم بہت تیزی سے اس اخلاقی پستی کے ڈھلوانی راستے سے نیچے گرتے جا رہے ہیں۔ رک جائیں۔ تھوڑی دیر کہیں ٹھہر جائیں۔ سانس لیں۔ حالات و واقعات پر غور کریں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کسی کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن رہے ہیں؟ تحقیق کریں۔ مشاہدہ کریں۔ آنکھیں اور کان کھلے رکھیں۔
ہم تماشا بننا چھوڑ دیں تو تمشائیوں کی بھیڑ ختم ہو جائے گی۔سچ پوچھو تو تماشے ختم ہو جائیں گے۔ ایک دوسرے کو سننے کی عادت ڈالنا ہو گی۔ برداشت کے
رویوں کی فصل اگانا ہو گی۔ معاشرہ تیزی سے اس نہج کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں ہم سب ایک دوسرے کے لئے چلتا پھرتا خطرہ بن جائیں گے۔ اولاد ، ماں
باپ کے لمس سے محروم۔ ماں باپ اولاد کے لمس سے محروم۔ ذرا سوچو، انتہا کیا ہو گی؟ انجام کیسا ہو گا؟
Facebook پر سرگرم سوشل میڈیا کارکنان کو سمجھنا ہو گا کہ اسلام کو ہماری ضرورت نہیں۔ہمیں اسلام کی ضرورت ہے۔ بے ایمانی اور بدنیتی ظاہر ہو کر رہتی ہے۔ الزام لگانے والوں/ والیوں اور بہتان لگانے والوں/ والیوں کا انجام ہمیشہ بدترین ہوا کرتا ہے۔ہمیں اپنے حالات درست کرنا ہوں گے۔ اﷲ کریم سے اپنا تعلق استوار کرنا ہو گا۔ بات بات پر اس کا شکر ادا کرنا ہو گا۔پل پل سرزد ہوتے کفر سے بچنا ہو گا۔ہمیں ہر پل یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ماں باپ کے سامنے ہمیں اُف تک نہیں کہنا۔اور سب سے بڑھکر ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ کہیں ہم جانے انجانے میں بہتانوں کی راہ کے مسافر کبھینہ بن جائیں۔۔۔

میں نے بھگتا ہے بہتانوں کو ۔ میں سرتاپا اس زہر سے نبردآزما رہا ہوں۔ میں نے تلخی کو محسوس کیا ہے۔ موت کا مشاہدہ کیا ہے میں نے۔ قبر میں دفن رہا ہوں میں۔ اوریہ جو تم اکثر مجھ سے سوال کرتے ہو کہ میں بعض اوقات اتنا زہریلا کیوں ہو جاتا ہوں؟تو سنو ۔۔۔ میں زہریلا نہیں ہوتا لیکن جب کبھی زندگی کے سفر کے اُس مخصوص حصے کی یاد آتی ہے جب میں بہتانوں کی قبر میں زندہ درگور کر دیا گیا تو میرے اندر میرے اپنے تکبر کی باسی تلخیاں سرگوشیاں کرنے لگتی ہیں۔مجھے قبر کی تاریکیوں میں دفن وجود کی گیری چپ ڈرانے لگتی ہے ۔اور جب تک قبر کی گہری چپ برقرار رہتی ہے، میں بول ہی نہیں سکتا۔ اور جب بولتا ہوں تو تمہیں لگتا ہے میرا لہجہ زہریلا ہے۔

تم میرے ماضی کے قلعوں میں دفن یادوں کا سراغ لگانا چاہتے تھے نا؟ لو اب دفن ہو کر دیکھ لیا میرے ساتھ؟ محسوس کیں وہ وحشتیں جن سے میں نبردآزما رہا؟ دیکھو! محبتوں کے سفر میں قدم قدم پر ایسے ایسے خوشنما سراب ہیں کہ آدم کی سرشت دھوکا کھا ہی جاتی ہے۔ تُم بس حکم عدولی سے بچنا۔ نافرمان نہ ہو جانا۔

بہتانوں کی قبر میں زندہ دفن ہونے کا تلخ تجربہ بہرحال میرے بہت کام آیا ہے۔ مجھے حقیقی معنوں میں زندگی اور محبتوں کی سمجھ آئی ہے۔ محبتیں کبھی بے وفا نہیں ہوتیں۔ محبتیں کبھی رسوا نہیں کرتیں۔ حکم عدولی رسوا کرتی ہے۔ خواہشات رسوا کرتی ہیں۔ سراب، رسوا کرتے ہیں۔ ابلیس آدم کو رسوا نہ کرے تو وہ اس جنگ کو کیسے جیتے گا؟ بہشت بریں سے بے دخل ہونا آسان کام نہیں۔ دوبارہ داخل ہونا بھی آسان نہیں۔ ہاں محبتوں کا وظیفہ یاد رہے تو انسان کو قدم قدم پر روحانی توانائیاں راہنمائی کرتی محسوس ہوتی ہیں۔ نفرتوں اور تعصبات کی آلودگی میں صرف وہی زندہ رہیں گے جو محبتوں کے ماسک پہن لیں گے۔ جو ایسا نہیں کرے گا، اُس کا دم گھٹ جائے گا۔ جس کا دم گھٹ گیا وہ ابلیس کا ہو گیا۔

میں قبر میں زندہ درگور کر دیا گیا لیکن میرا دم نہیں گھٹا۔ عارضی طو رپر گھٹن محسوس ہوئی لیکن جب انسانی ذات میں ربنا ظلمنا انفسنا کا روزن کھلتا ہے تو پھر تازہ ہوائیں قبر میں آنے لگتی ہیں۔اُس مرحلے تک پہنچنے کے لئے بہرحال سخت مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔ تیرہ شبی سے لڑنا پڑتا ہے۔ وحشتوں اور تنہائیوں سے نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔
بہتانوں کی قبر میں میرا طویل مجاہدہ اور مراقبہ تھا۔ بس میں تھا اورربنا ظلمنا انفسنا کی تسبیح۔ یہ مراقبہ بہت ضروری ہے۔ تخلیہ بہت ضروری ہے۔ جب تک انسان زندگی کے شورشرابے میں مصروف رہتا ہے اُسے کوئی مقدس آواز سنائی ہی نہیں دیتی۔ روح کی سرگوشیاں وہی سُنتے ہیں جو جسم کے شورشرابے کی دنیا
سے بہت دور چلے جاتے ہیں۔
میں قبر میں دفن تھا۔ جسم کی دنیا مر چکی تھی۔روح کی سرگوشیاں میرے ساتھ میری قبر میں موجود تھیں۔ تب مجھ پر اس حقیقت کبریٰ کا انکشاف ہوا کہ موتوا قبل الموت کیا ہے۔ کیوں ہے؟یاد ہے میں نے تمہیں ایک مرتبہ ایک مشق دی تھی؟‘‘

اُس کے اچانک سوال پر میں ہڑبڑا گیا۔ میں شاید اُس کے ساتھ قبر میں دفن تھا۔ احساس ہی نہیں ہوا کہ وہ مجھ سے کوئی سوال کر رہا ہے۔
’’یاد ہے میں نے کہا تھا کہ ڈائری اور قلم لو۔ سب سے دو گھنٹے کے لئے جدا ہو جاؤ۔ کسی ایسی جگہ جا بیٹھو جہاں تمہارے اور پیدا کرنے والے کے سوا کوئی نہ ہو۔ جب ایسی کوئی پرسکون جگہ نصیب ہو جائے تو آرام سے بیٹھ جاؤ۔ زیادہ بہتر ہو گا اگر تم زمین پر ہی بیٹھ جاؤ؟‘‘
اور مجھے واقعی وہ مشق یاد آگئی۔ میں نے اُس کے حکم کے عین مطابق عمل کیا تھا۔ اُس نے کہا تھا کہ ’’جب بالکل پرسکون ہو جاؤ تو قلم نکالو اور اپنی ڈائری کیخالی صفحے پر لکھو۔
اﷲ
بس ایک لفظ۔ پھر اس لفظ پر غور کرو۔ اور کچھ مت سوچو۔ بس اﷲ کو دیکھو۔ اﷲ کو سوچو۔اس لفظ کی توانائیوں کو محسوس کرو۔ کھو جاؤ اس ایک لفظ میں۔
آدھے گھنٹے کی اس ریاضت کے بعد دوبارہ قلم سنبھالو۔ اور ڈائری پر لکھو۔ نعمتیں۔اور پھر اﷲ نے تمہیں جو کچھ دیا ہے، ان نعمتوں کو لکھتے جاؤ۔ نان اسٹاپ۔ بس لکھتے جاؤ۔ آنکھوں کا لکھو۔کیا خوب نعمت ہے قوت بصارت ۔۔۔ کانوں کا لکھو۔کس قدر عظیم نعمت ہے قوت سماعت؟ سانسوں کا لکھیں۔ رنگ، خوشبو، ذائقہ ۔۔۔ بس لکھتے جاؤ۔ ایک ایک نعمت۔۔۔ جب لکھتے لکھتے تھک جاؤ۔ توآخر میں لکھو۔
الحمدﷲ ۔تیرا شکر ہے رب کریم! اور پھر جب تک بیٹھیں رہو۔ شکر ادا کرتے رہو۔ ہر ایک نعمت کا۔اور یوں سب سے جدا ہو کر۔۔۔ روزانہ یہ مشق کیا کرو اپنے آپ سے ملو۔ اپنے رب سے ملو۔ اور پھر بے شک واپس اسی بھیڑ کا حصہ بن جاؤ جہاں شکر کم ہے، کفر زیادہ۔ تم محسوس کریں گے کہ صرف دو گھنٹوں کے شکر نے تمہاری زندگی کے بہت سارے کفر کو دھو دیا ہے۔ہم نعمتوں بھرے جہان میں رہتے ہیں لیکن جسمانی خواہشات کے شور شرابے میں شکر کی آوازیں دب جاتی ہیں اور کفر کا ہنگام بپا ہو جاتا ہے۔ ‘‘
مجھے حرف بہ حرف وہ مشق یاد تھی۔ اور میں اکثر و بیشتر اسی مشق کو دہراتا تھا۔ مجھے واقعی سکون ملتا تھا۔ ٹھندا میٹھا سکون۔
مجھے یاد آیا کہ اس مشق کے بعد اُس نے مجھے لمس کی اہمیت کے بارے میں بھی بہت خوبصورت انداز میں بتایا تھا۔ ہم ایک روز چائے کے کھوکھے پر بیٹھے تھے۔ وہی لمس بھرا لہجہ تھا اُس کا ’’ تم نے فیس بک پر میرا نیا نوٹ پڑھا ہے؟‘‘
اور میں مسکرا دیا۔ کیسے ممکن تھا کہ میں اُس کو فالو نہ کرتا۔انسانی لمس کے حوالے سے اُس کا موسیقیت بھرا نوٹ میرے ذہن میں ابھی تک دھنیں بکھیر رہا ہے۔ اُس نے لکھا تھا کہ ’’آپ اس وقت اپنے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ یا موبائل فون کی اسکرین پر یہ لفظ جواب دیکھ رہے ہیں یا کسی کتاب کی صورت پڑھ رہے ہیں وہ میں ٹائپ کرتے وقت ، لکھتے وقت دیکھ رہا تھا، پڑھ رہا تھا۔ میری انگلیاں کی بورڈ پر انگریزی حروف تہجی ٹائپ کرتی تھیں، اور کمپیوٹر کی اسکرین پر مجھے اردو کے حروف تہجی ٹائپ ہوتے، لفظوں میں ڈھلتے دکھائی دیتے تھے۔لفظوں کا یہ سفر میری انگلیوں سے شروع ہوا تھا؟ ہر گز نہیں۔ لفظ میری انگلیوں کی پوروں سے ہوتے ہوئے کی بورڈ تک پہنچے، میں جانتا ہوں اور آپ بھی تجربہ کر چکے ہیں۔لیکن انگلیوں سے پہلے لفظوں کا وجود کہاں تھا؟ دماغ میں؟ دل میں؟ پیٹ میں؟ یا جسم کے کسی اور حصے میں؟ لفظ، کہاں رہتے ہیں؟ ان مسافروں کا ٹھکانہ کہاں ہے؟ منزل کہاں ہے؟ چلو مان لیا کہ دماغ کے یادداشتی گودام میں تمام لفظ ترتیب و تشکیل پاتے ہیں اور قیام کرتے ہیں۔ وہاں اُن کی ہیئت کیا ہوتی ہے؟ دماغ میں تو اور بھی بہت سی چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ تو کیا لفظوں پر دماغی کیفیت اثر انداز ہوتی ہو گی؟ ماحول کا اثر تو ہوتا ہے ، نا؟
چلو مان لیتے ہیں کہ لفظ دل میں رہتے ہیں۔ دل میں تو وسوسے بھی رہتے ہیں۔ بت بھی رہتے ہیں۔ اچھے برے خیالات بھی رہتے ہیں۔ تو کیا لفظوں پر بھی
وسوسوں اور اچھے برے خیالات کا اثر پڑتا ہے؟ ماحول کا اثر تو ہوتا ہے، نا؟ چلو مان لیتے ہیں کہ لفظ پیٹ کے راستے انگلیوں تک پہنچتے ہیں تو پھر پیٹ میں تو بہت کچھ ہوتا ہے۔ ایک مکمل فیکٹری ہے۔ خوراک ہضم کرنے کی۔ فالتو مواد ذخیرہ کرنے اور اخراج کرنے کی۔پیٹ میں حلال بھی جاتا ہے اور حرام بھی ۔ تو کیا لفظوں پر اس حرام و حلال رزق کا اثر ہوتا ہے؟ ماحول کا اثر تو ہوتا ہے، نا؟
چلو مان لیا کہ لفظ کہیں اندر ہی اندر کسی نامعلوم مقام پربسیرا کرتے ہیں، تو کیا وہ خون کے دوش پر سفر کرتے ہیں؟ آخر انگلیوں کی پوروں تک پہنچے ہیں تو خون کی گردش کے ساتھ ہی پہنچے ہوں گے نا؟ خون کی گردش رک جائے تو لفظوں کا سفر ختم؟ مردے، ٹائپ نہیں کر سکتے۔ تو جب وہ ایسا نہیں کر سکتے، تو ان کے اندر موجود لفظ بھی کیا ان کے ساتھ مر جاتے ہیں؟ یا کسی اور جسم میں منتقل ہو جاتے ہیں؟ اس سارے عمل میں لمس کہاں جاتا ہے؟ کہاں رہتا ہے؟ کون سی حالت میں موجود ہوتا ہے؟ لفظ اپنی ذات میں اچھا یا برا ہوتا ہے یا اُس کا لمس اس بات کا تعین کرتا ہے کہ اچھائی کیا ہے اور برائی کیا ہے؟ نیت اور خلوص کا لمس کے ساتھ کیا رشتہ ہے؟ کیا بغیر لمس کے تبلیغ اثرانداز ہو سکتی ہے؟‘‘
مجھے یاد ہے وہ ایک طویل نوٹ تھا۔ وہ لکھنے پہ آتا تو بس لکھتا چلا جاتا۔ یا شاید بولتا چلا جاتا۔
اور آج بری امام کے احاطے میں بھی اُس کے درد کا لمس مجھے رگ رگ میں اترتا محسوس ہو رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ شاہی قلعے سے لے کر مینار پاکستان تک کہانیاں ہی کہانیاں بکھری ہوئی تھیں ۔۔۔ انہی کہانیوں میں بازار حسن کی ان گنت ان کہی کہانیاں بھی نوحہ کناں تھیں ۔۔۔ بازار حسن کے لفظ اور یہاں عملی طور گلیوں میں موجود اس لفظ کی معنوی شکل و صورت میں بہت تضاد تھا ۔۔۔عورت کو اس حال تک پہنچانے والا معاشرہ بڑی دیدہ دلیری سے ان گلیوں کے ذکر سے بے زاری کا اظہار بھی کرتا اور اس کے باوجود یہاں رات کی تاریکی میں حرص و ہوس کے پیکر اپنے اپنے فتاویٰ کی قیمت وصول کرنے آتے ۔۔۔یونیورسٹی میں ہمارا ایک کلاس فیلو تھا ۔۔۔ جس کے پاس اس بازار کے بارے میں چونکا دینے والی معلومات تھیں ۔۔۔ میں اکثر اُس سے سوالات کرتا تو وہ چڑ سا جاتا ۔۔۔ ’’ اتار دولبادہ شرافت کا ۔۔۔ چلو میرے ساتھ کسی روز ۔۔۔ سمندر میں کودو گے تو سمندر کے رازوں کی سمجھ آئے گی‘‘ وہ اکثر کہا کرتا۔۔۔
اور میں کہ محبتوں کی شریف النفس کہانی لکھنے کی ہمت خود میں نہیں پاتا تھا کیسے اور کس دل گردے سے بازار حسن میں کسی کہانی کی تلاش میں نکل سکتا تھا ۔۔۔ہم جیسے نام نہاد فرماں بردار بیٹے کناروں پر بیٹھ کر ہی حالات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں ۔۔۔ ہمیں اجازت ہی نہیں کہ ہم گہرے پانیوں میں کود جائیں ۔۔۔اور بغیر اجازت ان انجانی راہوں پر ہمارے قدم اُٹھ ہی نہیں سکتے۔ اُٹھ بھی جائیں تو ہمین بہرصورت کنارے ہمیں واپس نکال لاتے ہیں۔ہمیں بہرحال اپنے والدین کی مقرر کردہ حدود میں ہی گردش کرتے رہنا ہے ۔۔۔۔نفس خودسر کا کیا ہے ۔۔۔۔وہ تو ہمیشہ حدود سے باہر نکلنے کی بات ہی کرتا ہے۔۔۔حدود کا احترام ہی تو حقیقی فرماں برداری ہے۔ کامل اطاعت ہے۔ جی تو چاہتا تھا کہ عام سا ہو کر عام ماحول کا حصہ بن کر کسی عام سی کہانی کا کردار بن جاؤں لیکن کوئی چیز تھی جو اندر ہی اندر شاید ’بزدلی‘ بنتی جاتی تھی ۔۔۔ خاص کہانی کا کردار بننا ’بزدلی‘ ہے؟ میں اکثر سوچتا رہتا۔۔۔ایک جسم کا سچ ہے ۔۔۔ ایک روح کا ۔۔۔۔ ہر مرحلے پر صداقتیں نت نئے روپ میں آشکار ہوتی رہتی ہیں۔ شرط یہ ہے کہ سفر جاری رہے۔ حق اور سچ کی تلاش کا سفر ۔۔۔ کون جانے کس مرحلے کا سچ آخری ہو ۔۔۔ حتمی ہو؟
بازار حسن کی گلیوں سے گزرتا، مشاہدہ کرتا، بغیر رکے آگے ہی آگے بڑھتا جاتا ۔۔۔ کہانی لکھنے کے لئے جو عزم درکار ہوتا ہے میں شاید اُس سے محروم تھا ۔۔۔یا شاید میں کسی خاص کہانی کا کردار بننا چاہتا تھا۔۔۔ یا شاید کسی خاص کہانی نے مجھے بطور کردار پہلے ہی نامزد کر رکھا تھا ۔۔۔۔
کہانی بھی کردار کا انتخاب کرتی ہے ۔۔۔شاید میرا انتخاب بھی ہو چکا تھا ۔۔۔۔ میں چاہتے ہوئے بھی پنجاب یونیورسٹی ، مینارپاکستان، شاہی قلعے اور بازار حسن کی حدود میں پھیلی ان گنت کہانیوں میں اپنے حصے کی کہانی تلاش کرنے میں ناکام رہا تھا ۔۔۔
کبھی کبھار مجھے ماں جی پر غصہ بھی آتا ۔۔۔۔ شجرممنوعہ کا تصور دے کر انہوں نے مجھے اور میرے نفس کو عجیب آزمائشوں سے دوچار کر دیا تھا ۔۔۔۔ اور جب ایسی باغیانہ سوچیں اور خیالات میرے اندر ہی اندر ہلچل مچاتے تو مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے میرے اندر دو مختلف محاذ کھل گئے ہوں ۔۔۔۔ یہ جو بد ن کا مدافعتی نظام ہوتا ہے نا جسے امیون سسٹم کہا جاتا ہے، یہ دفاعی نظام ہے ۔۔۔ خون میں موجود سفید خلیے جسمانی صحت کی فصیلوں پر پہرے دیتے ہیں اور حملہ آور جراثیموں کے مقابلے میں جسم کا دفاع کرتے ہیں ۔۔۔ یہ امیون سسٹم روحانی دنیا بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔ ماں کی لوریاں، باپ کی محبت اور تربیت یہ سب اس امیون سسٹم کو توانا بناتے ہیں ۔۔۔۔ اور ایک ایسا خودکار نظام وضع ہو جاتا ہے کہ انسان خیروشر کی دو دنیاؤں میں بٹ سا جاتا ہے ۔۔۔ میں عام ہونے لگتا تو میرے اندر موجود یہ دفاعی نظام الرٹ ہو جاتا ۔۔۔ اور پھر جیت ہمیشہ ماں جی کی ہوتی ۔۔۔ والدمحترم کی ہوتی اور شاید میں ہار جاتا ۔۔۔۔ میرا جی چاہتا تھا کہ کبھی تو میں بھی جیتوں ۔۔۔۔ لیکن پھر خیال آتا کہ ماں باپ کی ہار شاید میری جیت کا مزہ ہی کرکرا کر دے ۔۔۔ اور یوں میں کناروں پر کھڑے چپ چاپ آتی جاتی لہروں کو دیکھتا ۔۔۔ اور آگے ہی آگے بڑھتا رہتا ۔۔۔
سب یار دوست انجوائے کرتے تھے ۔۔۔ قہقہے لگاتے تھے ۔۔۔۔ میرا مذاق اُڑاتے تھے ۔۔۔ لیکن میرے احترام سے کبھی غافل بھی نہیں ہوتے تھے ۔۔۔یہ عجیب کرامات تھیں ماں باپ کی حدود میں رہنے کی ۔۔۔۔جس قدر مذاق اُڑتا اس سے کہیں زیادہ عزت و احترام بھی مجھے نصیب ہوتا چلا جاتا ۔۔۔۔زندگی محبتوں سے پُر تھی ۔۔۔ ماں باپ، بہن بھائی، رشتے دار، یار دوست سب محبتوں کو نچھاور کرتے تھے ۔۔۔تعلیمی کامیابیاں، غیرنصابی سرگرمیاں اور سب سے بڑھ کر اخلاقیات ۔۔۔۔ میرا ماحول مجھے پسند کرتا تھا ۔۔۔ لیکن میں بعض اوقات اپنی کہانی سے محرومی کی سیلن زدہ سوچوں کا شکار ہوتا تو میرا نفس مجھے حدود سے نکل جانے پر اُکساتا ۔۔۔ اور عین انہی لمحوں میں جب میں کمزور پڑ رہا ہوتا کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا کہ میرے اندر موجود دفاعی نظام سارا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیتا ۔۔۔۔
’’نہیں! میں ماں جی کا نافرمان نہیں ہو سکتا۔۔۔ جہنم کی آگ شدید ہوتی ہے ۔۔۔۔ تندوری کی آگ برداشت نہیں ہوئی تھی ۔۔۔جہنم تو پھر جہنم ہے۔۔۔۔‘‘ میں سوچ کر لرز جاتا ۔۔۔۔ یہ جو ماں باپ بچپن میں لوریاں اور کہانیاں سناتے ہیں نا۔۔۔۔یہ اندر ہی اندر آکاس بیل کی طرح پھیلتی جاتی ہیں ۔۔۔ اپنے رنگ میں آخر کار رنگ ہی لیتی ہیں ۔۔۔۔۔ اور پھر انسانی نفس اور لوریوں کی کشمکش انسان کو آہستہ آہستہ خیروشر کے عظیم سربستہ رازوں کی آگہی اور شعور دے کر موت کی وادیوں کی جانب ہانکتی چلی جاتی ہیں ۔۔۔ طوہاََ و کرہاََ۔۔۔۔‘‘

کبھی کبھار مجھے لگتا کہ میرے حصے کی کہانی خود میری تلاش میں ہلکان ہو رہی ہے ۔۔۔ لیکن کب، کیسے، کہاں، کس موڑ پر ۔۔۔۔ یہ کہانی اپنا انتخاب کرے گی، نہیں معلوم تھا۔ معلوم تھا تو بس اتنا کہ تلاش کا سفر جاری ہے۔ ہر لمحہ جاری و ساری۔ فی الحال دور دور تک کوئی نام و نشان تھا نہ ہی کوئی سراغ ۔۔۔کھڑکیاں لاہور میں بھی کھلتی تھیں، بند ہوتی تھیں۔ یہاں بھی ادھ کھلے کواڑوں سے جھانکتی آنکھیں میرا پیچھا کرتی تھیں ۔۔۔ میرے یار دوست اکثر مجھے کہتے ’’ یار تو بڑا بدھو ہے ۔۔۔ ہم لڑکیوں پر مرتے ہیں۔۔۔لڑکیاں تم پر مرتی ہیں ۔۔۔اور تم پتہ نہیں کب مرو گے کسی پر‘‘۔۔۔۔ لیکن میں شاید محبت نامی جذبے سے ہی نابلد تھا ۔۔۔ میں شاید عام لوگوں کی طرح کبھی محبت کی کہانی نہ لکھ سکوں ۔۔۔۔ محبت تو بہادر لوگوں کا نصیب ہوتی ہے ۔۔۔۔ اور میں ٹھہرا ڈرپوک اور بزدل انسان ۔۔۔ جسے ماں باپ کی ناراضگی کا اس قدر خوف لاحق ہوتا کہ روح کانپ کانپ جاتی ۔۔۔لیکن میں کیوں ڈرتا ہوں؟ میں اکثر اپنے آپ سے سوال کرتا ۔۔۔۔ کیا محبت گناہ ہے؟ جرم ہے؟ ابلیسی سازش ہے جو میں اس قدر ڈرتا ہوں؟ لیکن میرے ہر سوال کا جواب خودکار نظام کی مدافعتی قوت کے پاس پہلے سے موجود ہوتا ۔۔۔ شجر ممنوعہ کے پاس نہیں جانا ۔۔۔ بس ماں جی کا حکم ہے ۔۔۔۔ گھر میں بہنیں ہوں تو کسی کی جانب دیکھنے سے پہلے اپنی بہنوں کا خیال ضرور کر لینا ۔۔۔ماں جی بچپن سے یہ لوریاں سناتی آئی تھیں ۔۔۔۔۔مجھے اپنے آپ پر ضمیر کا قیدی بن کر جینے پر شدید غصہ آتا ۔۔۔۔ میری سرشت مجھے تسخیر کی جانب مائل کرتی ۔۔۔اور ماں جی کی پہنائی ہوئی زنجیریں میرے لاشعور میں بج اُٹھتیں ۔۔۔ ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر کے مصداق میں بری طرح دو خانوں میں بٹ سا جاتا۔۔۔۔
زندگی کو تجربات اور مشاہدات کی بھٹی سے گزارے بغیر میں نے کیوں مان لیا کہ سب ویسا ہی ہوتا ہے جیسے مجھے بتایا گیا ہے، سکھایا گیا ہے؟ میں تجربہ کرنا چاہتا تھا۔ روایت شکنی کے دبستان میں اپنے حصے کا ہتھوڑا لے کر بہت سے بت توڑنا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن مجھے لگتا تھا جیسے میں آپ بہت بڑا بت ہوں ۔۔۔ میں اپنے آپ کو کیسے توڑ سکتا ہوں؟ میں اپنی ذات کا عرفان کب کر پاؤں گا؟ میری تلاش کب امر ہو گی؟ میں بزدل ہوں تو میری بزدلی کا حدوداربعہ کیا ہے؟ میں بہادر ہوں تو بہادری کا احاطہ کیسے ممکن ہے؟ گناہ کیا ہے؟ ثواب کیا ہے؟ خیر وشر کی کہانیوں میں جبروقدر کیا ہے؟ اختیار و ارادہ کیا ہے؟ میں اکثر سوچ میں ڈوب جاتا۔ مجھے عام انسانوں کی طرح پیدا کر دیتے، مالک! میرے اندر ہی اندر سرگوشیاں دم توڑتی رہتیں۔ یہ سوچیں، یہ خیالات ۔۔۔۔ کس خاطر؟ کیوں؟
جامعہ پنجاب میں چند روز کی تعطیلات ہوئیں تو ماں جی نے کہا کہ جاؤ کراچی گھوم پھر آؤ ۔۔۔ خالہ سے بھی مل لینا ۔۔۔چھوٹی خالہ کراچی میں مقیم تھیں ۔۔۔ اور جب بھی اُن کا خط آتا وہ ہمیشہ میرا نام لے کر مجھے وہاں آنے کی دعوت دیتیں ۔۔۔اور اب تو خیر سے بھانجا یونیورسٹی میں تھا اس لئے اب اُن کا اصرار کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا تھا ۔۔۔یونیورسٹی جانے کا مطلب آزادی سے بالغ افراد کی مانند سفر کرنے کی عام اجازت ۔۔۔میں نے مختصر سامان باندھا ۔۔۔ دائری ہاتھ میں لی اور لاہور ریلوے اسٹیشن جا پہنچا۔۔۔ تیزگام ایکسپریس پر میری ایک سیٹ اور برتھ ابوجان پہلے ہی ریزرو کرا چکے تھے ۔۔جیب سے ٹکٹ نکال کر اُس پر درج سیٹ نمبر اور بوگی نمبر دیکھا اور پھر اپنے مطلوبہ مقام کی جانب چل پڑا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ میں جب بہتانوں کی قبر میں دفن تھا تو ربنا ظلمنا انفسنا کے الفاظ میری تسبیح بن کر میرے ساتھ ساتھ رہے۔اپنی تمام تر کیفیات کے ساتھ۔ اب لفظ، کسی نہ کسی خیال کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ احساسات و محسوسات کی ترجمانی کرتے یہ لفظ جسم کی دنیا میں رہتے ہیں کہ ان کا تعلق روح کی دنیا سے ہے؟ یا ہماری طرح، لفظوں کا بھی جسمانی و روحانی روپ ہوتا ہے؟ ہماری طرح لفظ بھی اچھے یا برے ہوتے ہیں؟ اچھا لفظ، برا لفظ؟ عجیب گورکھ دھندا ہے۔لفظ تو حروف تہجی کی مرہون منت ہوتے ہیں۔ عین ممکن ہے ایک برے لفظ کے حروف تہجی، کسی اچھے لفظ کی ترتیب و تشکیل میں بھی من و عن استعمال ہوتے ہوں؟انگریزی کے چھبیس (26) حروف تہجی ہیں۔ دنیا بھر میں لکھی جانے والی، بولی جانے والی تمام تر انگریزی انہی حروف تہجی کی مرہون منت ہے۔ صرف چھبیس حروف تہجی اور یہ اتنے بڑے بڑے انسائیکلوپیڈیاز، ضخیم کتب، مجلے، رسالہ جات، خطبات، تقاریر، فلمیں، ڈرامے اور جانے کیا کیا۔ صرف چھبیس حروف تہجی۔ ہے نا دلچسپ معاملہ؟
اردو کے سینتیس یا اڑتیس حروف تہجی۔ اور اردو کا دبستان دیکھیں۔ اردو کی وسعتوں کا اندازہ لگاؤ۔تم حیران رہ جاؤ گے۔ انگریزی اور اردو لغات میں اچھے الفاظ بھی ہیں برے الفاظ بھی۔ لفظ اچھا یا برا ہوتا ہے؟ لفظ کا استعمال اچھا یا برا ہوتا ہے؟ کہ حروف تہجی کی ترتیب؟ حرف، کم از کم غیر جانبدار ہے۔ معصوم بچے کی طرح پیدائشی مسلمان۔ جس طرح چاہو ترتیب دے کر اسے اچھا یا برا لفظ بنا لو۔ نہیں؟

تم اُس نوٹ کوجب پڑھ رہے تھے تو دراصل تمہاری آنکھیں پڑھ رہی تھیں یا سن رہی تھیں اور میری انگلیاں لکھ رہی تھیں یا بول رہی تھیں۔کوئی اور بھی تو تھا اس سارے عمل میں شریک۔ جو لمحہ لمحہ کا ریکارڈ مرتب کر رہا تھا۔جب ہم جانتے ہیں کہ ہر لمحہ ریکارڈ ہو رہا ہے تمام تر صوتی و بصری مواد سمیت تو پھر کیوں نہ لفظوں کی ترتیب مصطفوی ہو؟ کیوں نہ لفظوں کی ترتیب حسینی ہو؟ یوں نہ لفظوں کی ترتیب و تشکیل انسانی ہو؟ کیوں نہ لفظوں کی ترتیب محبتوں والی ہو؟ فیس بک کی دنیا میں نفرتوں اور تعصبات کی ترتیب نے انسانی دماغوں کو بدترین آلودگی سے دوچار کر رکھا ہے۔انسان، انسان سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ نفرتوں اور تعصبات کی آلودگی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسے عالم میں محبتوں کے ہجے اور پہاڑے جب تک یاد نہ ہوں، انسان اس تیزی سے پھیلتی نفرتوں اور تعصبات بھری آلودگی سے نہیں لڑ سکتا۔
بہتانوں کی قبر میں مجھ پر یہ حقیقت بھی منکشف ہوئی کہ انسانی جسم پر ہر لحظہ نزع کا عالم طاری ہے۔ لمحہ بہ لمحہ کمزور و ناتواں ہوتا انسانی جسم اس بات کا غماز ہے کہ کاتب تقدیر نے اس کی تقدیر میں جینا اور مرنا لکھ رکھا ہے۔ ہر لمحہ پیدا ہوتا ہے پھر موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ لمحہ در لمحہ انسانی جسم اور روح کو ایک
نئے قالب میں ڈھلتے رہنا ہے۔ مائیکرو بیالوجی والے میٹابولزم کی اصطلاح سے بخوبی واقف ہیں۔ ہم اور غم ایک لمحے میں پیدا ہوتے ہیں۔ ایک لمحے میں ہم اور غم جیتے ہیں۔ ایک لمحے میں ہم اور غم ابدی نیند سو جاتے ہیں۔
غم سوتے ہیں تو خوشیاں جاگ اٹھتی ہیں۔ پھر خوشیوں کو نیند آ جاتی ہے۔ اور غم چاک وچوبند ہو کر ہماری زندگی کو گھیر لیتے ہیں۔ لمحہ در لمحہ موتیوں کی لڑی بنتی جاتی ہے۔ اس لڑی میں یادیں پروئی جاتی ہیں۔ ہر قسم کی یادیں۔ لمحوں کی اس لڑی میں پروئے دکھ اور سکھ ،مختلف کہانیوں کے ڈیٹابیس سمیت، ماضی کی ہارڈ ڈسک میں محفوظ ہوتے جاتے ہیں۔ ریکارڈ مرتب ہوتا جاتا ہے۔ ہر لمحہ عدم سے وجود اور وجود سے عدم کی منزلیں سر کرتا، اپنے پیچھے نقوش چھوڑتا رواں دواں ہے۔

وقت کا یہ شجر ہر سال خزاں کی نذر ہوتا ہے اور اگلے ہی لمحے ایک نئی صبح کی کونپلیں امید کی تازگی لئے اس پر پھوٹتی ہیں۔ زندگی رواں دواں ہے۔ محرومیاں ہوں کہ آسودگی، وقت چلتا رہتا ہے۔ اپنی دھن میں مگن۔ ہم انسانوں نے دنیاوی پہچان کے لئے کیلنڈر بنا رکھے ہیں۔ عیسوی کیلنڈر ہو کہ ہجری کیلنڈر، سب وقت کی بولی بولتے ہیں۔ وقت کی ایک ہی بولی ہے نسل آدم کے لئے۔ وقت کے سنہری اصول ہر فرد اور قوم کے لئے ایک سے ہیں۔

جو اپنی حالت بدلنا چاہے، فرد ہو کہ قوم، اس کی حالت تبدیل ہو جایا کرتی ہے۔ تبدیلی کی خواہش رحمانی ہے کہ شیطانی اس کا تعین ہم نے آپ کرنا ہے۔ ہم وقت کے کنیوس پر جو رنگ بکھیرنا چاہیں، اسباب مہیا ہو جاتے ہیں۔ ہم رنگ اڑانا چاہیں، اسباب مہیا ہو جاتے ہیں۔ ہم ظلم کرنا چاہیں کہ عدل، طاقت کا سرچشمہ وہی ذات با برکات ہے جو کائنات کی خالق و مالک ہے۔ ہم وقت کے سفید صفحوں پر جیسا کردار بن کر اپنی کہانی لکھیں گے آخر کار انجام بھی ویسا ہی ہو گا۔ جو ڈائیلاگ بولیں گے، سامنے آئے گا۔
منفی طرز فکر سے وقت ناخوش ہوتا ہے۔ انسان خود ظلم کی ابتدا کرتا ہے اور وقت کو ، لمحات کو ظالم کہہ کر راہ فرار اختیار کر لینا چاہتا ہے۔ وقت، فرار کی راہ نہیں دیتا۔ مہلت ضرور مل سکتی ہے لیکن مہلت کو بھی دوام نہیں۔ طالب علم ہو تو آنے والے سال کچھ ایسا کر گزرنے کا ارادہ کر لو کہ وقت عش عش کر اٹھے۔ کاروبار کرتے ہو تو ماپ تول میں ایمانداری کے برتاؤ سے برکتوں کے حصول کو اپنا مقصد زندگی بنا لو۔
قوم کے لیڈر ہو تو اﷲ کی مخلوق کو رزق، امن اور عدل کی فراہمی کو اپنا شیوہ بنا لو۔ ورنہ یاد رکھو! شاہی قلعے میں اب لوگ پان کی پیکیں اور سگریٹ کے ٹوٹے پھینکتے ہیں۔
اولاد بن کر ماں باپ کا دل جیت لو، اﷲ کریم خوش ہو جائیں گے۔ ماں باپ بن کر اولاد کی تربیت ایسے کر جاؤ کہ صدقہ جاریہ کی عظیم مثال قائم ہو جائے۔
استاد ہو تو اپنی روح کی توانائیاں اپنے شاگردوں میں ایسے پھونک دو کہ وہ پاکستان کے معمار بن سکیں۔اور دعاگو رہو رب کریم کی بارگاہ میں کہ وہ پاکستان کے حکمرانوں کو پاکستان کے لئے وجہ شہرت بنائے۔ پاکستان کو بدنامی کی دلدل میں دھکیلنے والے حکمرانوں اور طبقات سے نجات عطا فرمائے۔ امت مسلمہ میں اتحاد پیدا کرے اور سرکار نبی پاک ﷺ کی محبتوں اور رحمتوں کی برکت سے اخوت اور بھائی چارے کی فضا پیدا کر دے۔ خوش رہو۔ محنت کرو۔ وقت کے صفحات پر اچھا اچھا لکھو۔ اچھا اچھا بیج بو جاؤ۔ اچھی فصل کاٹنے کو ملے گی تو فائدہ ہو گا۔ ورنہ انسان خسارے میں ہے۔قسم والعصر کی۔
بہتانوں کی قبر میں جب حقائق مجھ پر منکشف ہوتے تو میں آنسو آنسو ہو جاتا۔محبتوں کے کفن کو بھگوتا چلا جاتا۔ قبر کی مٹی گیلی ہوتی جاتی۔کبھی ماں جی کو بلاتا تو کبھی کل جہاں کے مالک کو صدائیں دیتا ۔ کل جہاں کے مالک کو علم تھا کہ مجھ پر بہتان لگایا گیا۔ لیکن اُسی مالک کو یہ بھی علم تھا کہ میں نے ماں جی کی نافرمانی کی ہے۔
ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔ ربنا ظلمنا انفسنا ۔۔۔بس پھر تسبیح شروع ہوتی تو رکنے کا نام نہ لیتی۔ میں کئی کئی پہر سجدے میں سر رکھے بچوں کی طرح
گڑگڑاتا رہتا۔

آٹھواں باب
تیزگام سیٹیاں بجاتی اوکاڑہ کے قریب پہنچ چکی تھی۔میں اپنی سیٹ پر براجمان باہر نظریں جمائے تیزی سے بدلتے مناظر کے دھندلے نقوش میں کھویا ہوا تھا ۔۔۔ملی جلی آوازیں عجیب سرگم پیدا کرتی تھیں ۔۔۔ٹرین کا سفر بھی زندگی جیسا ہی ہے ۔۔۔ وہی رونق، وہی چہل پہل، وہی سواریوں کا سوار ہونا، اترنا، وہی ہجر کا غم، وصل کی خوشی۔۔۔زندگی کے بھرپور ہنگامے کی عملی تفسیر بن کر ٹرین کے سفر نے ہمیشہ سوچنے والے دماغوں کو نت نئی جہات اور پرتوں سے روشناس کرایا ہے۔۔۔ٹرین اپنی منزل کی جانب چھکا چھک چھکا چھک سیٹیاں بجاتی، دھول اُڑاتی آگے ہی آگے بڑھتی جاتی ہے ۔۔۔سواریاں اپنی سیٹ پر براجمان ماضی، حال اور مستقبل میں ایک خاص سمت کا تعین کئے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔۔۔ یا شاید ٹرین ہی وقت ہے ۔۔۔ اور ہم سب مسافروں کی طرح وقت کے دوش پر سوار کہیں سے چلے تھے، کہیں اتر جائیں گے ۔۔۔ سفر جاری رہتا ہے ۔۔۔مسافر چڑھتے اترتے رہتے ہیں ۔۔۔ ہر روز نیا سفر ۔۔۔ نئے مسافر۔۔۔لیکن وقت کی ٹرین وہی ۔۔۔۔ ہنگامہ وہی ۔۔۔۔ہلچل وہی۔۔۔سیٹیاں بجاتی ٹرین کا جاہ و جلال بھی وہی ۔۔۔۔

میں انہی سوچوں کے ساتھ ساتھ مختلف دھاروں میں بہتا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے محسوس کیا کہ میرے چہرے پر دو آنکھیں ارتکازی صلاحیتوں کے جوہر آزما رہی ہیں ۔۔۔میں ارتکاز کی متشدد سمت کی جانب متوجہ ہوا تومیری نظریں سامنے بیٹھی ایک لڑکی کی نظروں سے جا ٹکرائیں۔۔۔ یہ سب کچھ ایک دو لمحوں میں ہوا اور ہم دونوں ہی گڑبڑا گئے ۔۔۔اور پھر تھوڑی تھوڑی دیر بعد نہ چاہتے ہوئے بھی کبھی میں اُس کی جانب دیکھتا تو وہ میری جانب پہلے سے ہی دیکھ رہی ہوتی اور کبھی یوں بھی ہوتا کہ وہ میری جانب دیکھتی تو میں بے اختیار اُسی کے معصوم چہرے کی دلکشی میں محو ہوتا۔۔۔۔اُس کے ساتھ غالباََ اُس کا چھوٹا بھائی تھا اوردو خواتین بھی بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔میری سیٹ اور اُس کی سیٹ آمنے سامنے کھڑکی کے ساتھ تھی۔ میرے دائیں طرف ایک سفید ریش بزرگ اور دو خواتین بیٹھی ہوئی تھیں۔اُن کے لب و لہجے سے لگ رہا تھا کہ وہ کراچی کے مستقل رہائشی ہیں۔۔۔ بوگی میں زیادہ رش نہ تھا۔ میرے سامنے والی سیٹ پر براجمان خاندان کا لب و لہجہ خالص لاہوری تھا۔۔۔ وہی اندرون شہر کا مشہور زمانہ لب و لہجہ ۔۔۔زندگی اور رنگوں سے بھرپور توانا لب ولہجہ۔ چھوٹا بھائی بار بار اپنی باجی کو تنگ کرتا اور کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھنے کی ضد کرتا ۔۔۔میں بظاہر اُن کی جانب نہیں دیکھ رہا تھا لیکن خدا جانے اُس لڑکی میں ایسا کیا تھا کہ میں کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے بھی اُسی کے حسن کے سحر میں کھویا ہوا تھا۔۔۔۔

وہ عمر میں مجھ سے دو چار سال چھوٹی ہی ہوگی ۔۔۔ میں نے اندازہ لگانے کی کوشش کی ۔۔۔چھوٹا بھائی بار بار اُسے ’عاشی‘ کہہ کر کھڑکی والی سیٹ پر براجمان ہونے کے لئے بہتیرے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا ۔۔۔۔ ’عاشی‘۔۔۔۔ میں نے زیر لب اُس کا نام دہرایا ۔۔۔۔ عاشی ۔۔۔ یقیناََ یہ کوئی نِک نیم ہو گا ۔۔۔ کاشف سے کاشی ہو جاتا ہے۔۔۔ عین ممکن ہے عائشہ سے عاشی ہو گیا ہو ۔۔۔۔ یا عریش سے عاشی کی تصغیر ہوئی ہو۔۔۔۔یا ہوسکتا ہے ـ’عاشی‘ ’آشی‘ ہو۔ اصل نام آسیہ ہو۔جب انسان کسی شے میں، جذبے میں، ادا میں، نظریے میں یا خیال میں دلچسپی لے تو پھر تہہ میں اترنا فطری امر ہے۔ انسان سچ پالینا چاہتا ہے۔ متجسس ہے۔ تحقیق کرنا چاہتا ہے تا کہ حقیقتیں اُس کے سامنے عیاں ہو سکیں۔ انسان حقیقت کا اس قدر متلاشی کیوں ہے؟ افسانوی دنیا سکون بخش کیوں نہیں؟ ہم جیسے لوگ افسانوں سے کیوں نہیں بہلتے؟ ہم کیوں عام سی کہانیوں کی چوسنی منہ میں ڈال کر وقت نہیں گزارسکتے؟ ہمارا نفسیاتی رجحان اصلی اور حقیقی کہانی کا ہی متلاشی کیوں رہتا ہے ہروقت؟ عرفان نفس کے سبھی راستے خیروشر سے ہو کر گزرتے ہیں؟ نام میں کیا رکھا ہے؟ محبت کا نام بدل کر گاجر رکھ لیا جائے تو کیا ذائقہ بدل جائے گا؟ لفظ کی معانی سے نسبت جسمانی ہے یا روحانی؟ ’عاشی‘ اس لئے میرے سامنے بیٹھی ہے کہ اُسے میرے سامنے ہی بیٹھنا تھا؟ یا میں اُس کے سامنے اس لئے بیٹھا ہوں کہ میرے پاس اور کوئی چارہ کار ہی نہ تھا؟ کیا پھر کوئی فزکس کا سوال میرے سامنے آئے گا؟ کیا میری زندگی میں محبت کا وہ موڑ گیا ہے جس کی دھوم کل عالم میں ہے؟مجھے کچھ معلوم نہ تھا۔ ٹرین چل رہی تھی۔ چھکا چھک چھکا چھک چھکا چھک۔۔۔ اور دل کی دھک دھک میں کوئی گنگناتا تھا۔ کیا یہ شجرممنوعہ کا طربیہ گیت ہے؟ کیا یہ خیروشر کی رزمیہ نظم ہے؟ ’عاشی‘ کا نام میرے ساتھ ساتھ میرے سوالوں کی ڈور سلجھا رہا تھا۔ فزکس کا عاشی نامی سوال تیزگام میں میرا ہمسفر بن چکا تھا۔اور سفر ابھی شروع ہوا تھا۔

سب مسافر اپنی اپنی دنیا میں مگن تھے اس کے باوجود تیزگام کی اس عارضی دنیا کا حصہ بھی تھے۔سب کی بے شمار کہانیاں تھیں۔زندگی قدم قدم پر نئی کہانیاں لکھتی ہے۔ عجیب و غریب ، پراسرار، دھند میں لپٹی کہانیاں ۔۔۔ تاریخ انسانی انہی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ اساطیر الاولین سے لے کر ہم تک لکھی جانے والی کہی، ان کہی کہانیاں تلاش کے عظیم سلسلے کا پھیلاؤ ہیں۔ حقیقت ایک بہت بڑا قلزم ہے۔ ہر قطرے کی الگ الگ کہانی۔ قطرے کا قطرے سے وصل ایک الگ کہانی۔ قلزم میں ہجر کسے کہا جائے؟ وصل کسے کہا جائے؟ تیزگام آہستہ آہستہ قلزم بنتی جا رہی تھی ۔ قطرے ایک دوسرے میں جذب ہو رہے تھے۔ جذب و کیف کا احساس کئے بغیر۔ شعور و ادراک کے بغیر وہ ایک دوسرے کی حدود میں تھے ۔ اس کے باوجود سب اپنی اپنی کہانیوں کے دائروں میں گھوم رہے تھے۔ کوئی ماضی میں دفن کسی قدیم کہانی کے آثار کا کھوجی تھا تو کوئی مستقبل کی دھند میں لپٹی ان دیکھی کہانیوں کے خوش کن تصورات میں گم تھا۔ یہاں تیزگام میں وقت کا تصور ، قلزم سے جڑا گیا تھا۔ لمحہ در لمحہ قطروں کا انجذاب ایک اور ہی عالم کی تشکیل کر رہا تھا۔۔۔۔

وقفے وقفے سے ہم دونوں ہی خاموش مکالموں کی نذر ہو چکے تھے۔ خاموش گفتگو جب ایک فریکیوئنسی پر ٹیون ہو جائے تو پھر اظہار و ابلاغ کے سبھی پیرائے تبدیل ہو کر رہ جاتے ہیں۔پھر لفظ ادا نہیں ہوتے، پرواز کرتے ہیں۔ ہر قطرے کا اپنا الگ دائرہ اثر ہوتا ہے۔ مقناطیسی فیلڈ ہوتی ہے۔ اس مقناطیسی فیلڈ میں کشش کا ایک عظیم جہان آباد ہوتا ہے۔ لیکن اس کشش کا ادراک غیرموصل اشیاء کو تو ہونے سے رہا۔ میں جنم جنم سے محبتوں کے لئے موصل تھا۔ ایک خاص الخاص کنڈکٹر۔ جس میں سے محبتوں کا گزر یقینی تھا۔میں جانتا تھا محبتوں کا کوئی بھی عام سا روپ مجھے اپنی جانب نہیں کھینچ سکتا۔ اور میں تو تھا ہی بزدل و ڈرپوک۔ میں یہ ہمت کر ہی نہیں سکتا تھا۔ میری تشکیک میرے قدموں میں پڑی سب سے بڑی زنجیر تھی۔ ماں جی کے حکم کی یہ زنجیر جس نے مجھے ان گنت شکوک و شبہات کے سپرد کر رکھا تھا۔ واہ رے انسان! تیرا تجسس۔۔۔۔۔۔میں بھی تلاش میں تھا کہ کوئی آئے اور میری ذات میں بھونچال پیدا کر دے۔۔۔۔میرے لئے پھر سے ہدایات کا چارٹر تیار کرے۔۔۔ نئے قاعدے بنائے۔۔۔ میرے اوپر حکومت کرے۔۔۔ میں فزکس کے سوال جیسی محبتوں کا قائل نہیں تھا۔ جو آج یہاں تو کل وہاں۔۔۔ میں آفاقی وصل کی جستجو میں وقت کے عظیم قلزم میں تیر رہا تھا۔۔۔ میرے اردگرد موجود بہت سے قطرے میرے ساتھ رگڑ کھاتے گزرجاتے لیکن مجھے کبھی کسی لمحے یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ وصل کا لمحہ آن پہنچا ہے۔۔۔۔میں چاہتا تھا میری تکمیل ہو۔ مجھے اپنی ذات کے ادھورے پن سے نجات ملے۔ میں بھی ’علم‘ حاصل کر سکوں۔ جان سکوں۔ مان سکوں۔ اپنے حصے کی محبتوں کو پہچان سکوں۔

تیزگام خانیوال سے پہلے کسی مقامی اسٹیشن پر رکی ہوئی تھی۔ شاید انجن میں کوئی خرابی پیدا ہو گئی تھی۔۔۔

آہستہ آہستہ مسافر نیچے اتر کر حالات کا جائزہ لے رہے تھے۔ میں بھی نیچے اترا ۔۔۔ لیکن شاید میرا جسم بوگی سے نیچے اترا ہو گا ۔۔۔ میں محسوس کر رہا تھا جیسے میں ابھی تک اپنی سیٹ پر بیٹھا عاشی کو کن اکھیوں سے دیکھ رہا ہوں۔ وہ ابھی تک اپنی سیٹ پر بیٹھی کسی ماہانہ رسالے کا مطالعہ کر رہی تھی۔۔۔میری سوچ کی برقی رو آہستگی سے اُس کی آنکھوں سے ٹکرائی ہو گی جو اُس نے اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ نیچے اترنے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔۔ اُن کی والدہ اور خالہ اندر ہی بیٹھی رہیں۔۔۔ شاید سامان کی حفاظت کے پیش نظر ۔۔۔ یاشاید اس وجہ سے کے ان کے درمیان مسلسل کوئی خاندانی معاملہ زیر بحث تھا اور وہ کراچی پہنچنے سے قبل اس معاملے کو منطقی انجام سے دوچار کرنا چاہتی تھیں۔ایک دو مرتبہ انہوں نے اشاروں کنایوں سے عاشی کا نام بھی لیا تھا۔۔۔میں چونکہ مکمل طور پر اپنی کہانی کے لئے سنجیدہ تھا اس لئے بہت سی ایسی باتیں بھی نوٹ کر رہا تھا جو شاید قابل غور نہ تھیں۔ہو سکتا ہے ’عاشی‘ کے رشتے پر کوئی بات چل رہی ہو؟ میں نے یہاں تک سوچنے کی جسارت بھی کی۔۔۔ ایک اُس لڑکی کے لئے جو فی الحال فزکس کا خاموش سوال تھی ۔۔۔

خوانچہ فروش مختلف راگ الاپتے یہاں اکٹھے ہو رہے تھے۔ ان کی آوازوں کی مہارت، ترنم اور الفاظ کی پیشہ وارانہ ادائیگی مجھے ہمیشہ بھلی لگتی ہے۔ وہ انتہائی خلوص سے شربت ، چنا چاٹ، پان وغیرہ فروخت کرتے مجھے بہت اچھے لگتے تھے۔ محنت کرنے والے لوگ ہمارے معاشرے کا حقیقی سرمایہ ہیں۔ اور میں ہمیشہ ایسے لوگوں کی قدر کیا کرتا تھا جو کسی پر بھی بوجھ نہیں بنتے تھے۔

عاشی اور اُس کا بھائی جسے ’نیڈو‘ کہہ کر بلایا جا رہا تھا البیلی ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھر رہے تھے۔ اور میں بہانے بہانے سے ایک آدھ نظر اُن پر ڈالتا اور پھر دوسرے مسافروں کے چہروں پر لکھی کہانیوں کو پڑھنے میں مشغول ہوجاتا۔’’ جانتے ہو ہر چہرہ ایک مکمل دبستان ہوتا ہے۔ جس چہرے پر جس قدر زیادہ جھریاں ہوتی جاتی ہیں، سمجھو اُس کی کہانی میں اُسی قدر زیادہ موڑ آ چکے۔ یا وہ اُسی قدر زیادہ اپنی کہانی جی چکا۔‘‘ اُس نے میرا ہاتھ پکڑ کر براہ راست مجھے مخاطب کرتے ہوئے یہ بات کہہ تھی۔ سچ بتاؤں تو میں اس کے ذریعے تیزگام کے آس پاس موجود عاشی اور نیڈو کے تصور میں تھا۔ میرا اپنا اندازہ تھا کہ شاید عاشی کی کہانی ہی آگے چل کر گہری چپ کے کواڑ کھولے گی۔ ہو سکتا ہے یہ گہری چپ عاشی کی ہی مرہون منت ہو؟ لیکن پھر خیال آتا کہ وہ محبتوں کی عام کہانیوں والا انسان تو تھا ہی نہیں۔ پھر ایسا کیا ہوا ہو گا جو وہ اس قدر پراسرار اور گہری چپ والا ہو گیا؟
اُس کے مخاطب کرنے پر میں واپس بری امام کے احاطے میں آ گیا۔
چہروں پر پھیلی جھریاں بھی وہ پڑھ لیتا تھا۔ اُن میں بھی کہانی تلاش کرتا تھا۔ میرے چہرے پر خفیف سے مسکراہٹ اُبھری۔
اُس نے ایک نظر حسب معمول بری سرکار کی قبر مبارک کی جانب کی۔ مسکرایا۔ اور پھر میری طرف دیکھ کر گہری سانس لی۔

’’یہ جو فیس بک کا زمانہ ہے نا ۔۔۔۔ اس نے ٹرین کے سفر کی وہ لمس بھری فضائیں بھی چھین لی ہیں۔ سب مسافر ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہوتے تھے ۔ لیکن آج کل موبائل کے ذریعے انسان تیزگام کے بجائے کسی اور دنیا کا حصہ بنا ہوتا ہے۔ فطری لمس سے بے نیاز ہو کر مصنوعی لمس کی دنیا میں گم۔ کتنی کہانیاں ہوتی ہیں ٹرین کی ہر بوگی میں۔ لیکن فیس بک کا سحر ایسا ہے یا شاید ہماری تنظیم ایسی کہ ہم لمحہ موجود میں ہی موجود نہیں ہوتے۔ یہ جو بے ترتیبی نظر آتی ہے نا معاشرتی سطح پر یہ اسی وجہ سے ہے۔ ہماری ترتیب یہ تھی کہ ہم جس لمحے میں ہوں، اُس لمحے کا احترام کریں۔ اُس لمحے میں لپٹی یادوں کو انجوائے کریں۔ اُس لمحے کے ماضی، حال اور مستقبل سے اپنے حصے کی کہانی کشید کریں۔ لیکن اب ایسا نہیں ہو رہا۔ ہم جہاں ہوتے، وہاں نہیں ہوتے۔ اسی لئے ہم جہاں ہونا چاہتے ہیں، وہاں ہم نہیں ہو سکتے۔ فاصلوں اور قربتوں کا یہ فلسفہ ہمارا سب سے بڑا روگ بن رہا ہے۔‘‘

وہ مجھے پھر سے فیس بک کے زمانے میں واپس لے آیا تھا۔ اور ٹھیک کہہ رہا تھا وہ۔ اُس نے ایک دو لمحے آسمان کی وسعتوں میں کچھ دیکھنے کی کوشش کی اور پھر واپس اُسی اسٹیشن پر پہنچ گیا جہاں عاشی اور نیڈو اُس کی نظروں کی مکمل حدود میں تھے۔
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ انجن کی جانب سے سیٹی کی آواز آئی۔ یہ کوچ کا نقارہ تھا۔ سبھی مسافر واپس اپنی اپنی بوگیوں میں سوار ہونے لگے۔ دور انجن کے پاس ریلوے اہلکار سرخ جھنڈا لہراتا جاتا تھا۔۔۔۔

سفر پھر شروع ہوا۔ کہانی پھر شروع ہوئی۔

پہلا خاموش مکالمہ پہلے سے زیادہ جاندار اور معنی خیز تھا۔ یوں جیسے روح تک آگئی تاثیر مسیحائی کی ۔ مجھے یہ کیفیات اجنبی لگ رہی تھیں۔ میں نے پہلے کبھی کسی کے لئے اپنے دل میں ایسے جذبات محسوس ہی نہیں کئے تھا۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی باربار عاشی کو دیکھنا چاہتا تھا۔ اُس کی بڑی بڑی خوبصورت گہری آنکھیں، اُس کا زندگی سے بھرپور چہرہ، اُس کی جاندار مسکراہٹ، اُس کا کھلکھلانا۔۔۔ یہ سب میرے دل میں روشنی بکھیرتا جا رہا تھا۔ باہر سورج ڈوب رہا تھا۔ اور میرے دل میں یوں جیسے محبتیں طلوع ہونے لگی تھیں۔

آہستہ آہستہ کھڑکی سے باہر مکمل تاریکی چھا گئی۔ کبھی کبھار کوئی روشنی دکھائی دیتی۔ پل دو پل۔ اور پھر وہی تاریکی۔ ٹرین کے سفر میں رات کے وقت باہر کا نظارہ ایک اور ہی دنیا میں پہنچا دیتا ہے۔ لیکن بوگی نمبر ۸ میں سیٹ نمبر ۱۱ اور ۱۹ پر زندگی کسی اور ہی جہان کی سیر کر رہی تھی۔ بوگی میں زرد رنگ کا بلب روشن ہو چکا تھا۔ میری برتھ میری منتظر تھی۔ میں نے سوچا کہ تھوڑی دیر برتھ پر جا کر کمر سیدھی کر لی جائے لیکن نہ جانے کیوں مجھے یوں لگا جیسے محبتوں کا قبلہ سیدھا کئے بغیر نیند میرے اوپر حرام ہے۔میں نے سوچا چلو خانیوال کا اسٹاپ گزار کر پھر لیٹ جاؤں گا۔

میں انہی خیالوں میں گم تھا کہ عاشی کی والدہ نے مجھے پہلی مرتبہ مخاطب کیا۔ ’’بیٹے آپ پڑھتے ہو؟‘‘ میں ایک لمحے کے لئے اس اچانک سوال پر تھوڑا گڑبڑا سا گیا۔ کیا خبر انہوں نے میری کوئی ایسی حرکت نوٹ کی ہو جو ان پڑھوں والی تھی۔ ہو سکتا ہے وہ اس سوال کے ذریعے مجھے یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ اگر پڑھے لکھے ہو تو ذہن میں ابھرنے والے فزکس کے سوالوں کا ہر جواب ضائع کر دو۔ یا ہو سکتا ہے ان کا سوال ایک عام ساے تعارفی سوال ہو اور وہ واقعی سفر کی طوالت کے پیش نظر جان پہچان کے مراحل سے گزرنا چاہتی ہوں۔ عین ممکن ہے وہ اور ان کی بہن باتیں کر کر کے تھک چکی ہوں اور اب کسی نئے موضوع کی تلاش میں ہوں۔۔۔ ان کے اچانک سوال نے میرے ذہن میں کئی سوالات کھڑے کر دیئے۔ میں نے فوراََ اپنے ذہن میں اُٹھنے والے خدشات سے بھرے سوالوں کے درمیان سے انتہائی مہارت سے اور انتہائی مناسب جواب، اپنی دانست میں، اُن تک پہنچا دیا۔ ’جی آنٹی میں پنجاب یونیورسٹی میں بی اے کا طالب علم ہوں‘‘۔
’’اچھا، اچھا۔ بہت اچھی بات ہے بیٹے تو آپ کراچی خیر سے جا رہے ہو؟‘‘
’’جی آنٹی، میری خالہ وہاں ہوتی ہیں۔ یونیورسٹی سے چھٹیاں تھیں تو ماں جی کا حکم تھا کہ کچھ دن کراچی گزار آؤں‘‘
’’ ارے واہ! ہم بھی کراچی سیر سپاٹے کے لئے ہی جا رہے ہیں۔ لاہور میں تو بلا کی گرمی ہو جاتی ہے اس موسم میں‘‘ انہوں نے اس بات کے عمل ثبوت کے طور پر ماتھے پر آیا پسینہ پونچھا۔ حالانکہ ٹرین میں آج موسم قدرے خوشگوار تھا۔ ہو سکتا ہے شاید یہ خوشگواریت صرف مجھے ہی محسوس ہو رہی ہو۔ مجھے تو یاد ہی نہیں رہا تھا کہ گرمیوں کا موسم ہے۔ میں تو کوہ قاف کے سفر پر نکلا وہ شہزادہ بنا ہوا تھا جس کی شہزادی کسی کالے دیو کے چنگل میں تھی ۔
اسی طرح دو چار اور تعارفی سوال جواب ہوئے۔ اور یوں جیسے ہم گھل مل گئے ہوں۔ آنٹی نے میرا تعارف سب سے کروا دیا۔ سب کا نام وغیرہ مجھے بھی بتا دیا گیا۔ مجھے معلوم ہوا کہ عاشی سیکنڈ ایئر کی طالبہ ہے۔ بہت ذہین ہے۔ ہر سال فرسٹ آتی ہے۔ اور اس کا بھائی نیڈو عاشی کی طرح لائق تو نہیں لیکن بہت ذہین ہے۔ ظاہر ہے یہ جاندار تعارف تھا۔ عاشی کوئی عام لڑکی تو ہو نہیں سکتی تھی۔ میرے ذہن میں ایک لمحے کے لئے روشنی کی ایک کرن جگمگائی۔ ہاں، عاشی کوئی عام لڑکی نہیں تھی۔ یہ فزکس کا سوال نہ تھی۔ یہ تو کوئی ادبی مرحلہ تھا میری زندگی کا۔

خانیوال جنکشن آ چکا تھا۔ خاصی رونق ہوتی ہے یہاں۔ حافظ کا ملتانی سوہن حلوہ اور دیگر سوغات یہاں برائے فروخت تھیں۔ میں نیچے اترا کیونکہ مجھے چائے کی طلب ہو رہی تھی۔ میں نے آنٹی جی سے پوچھنے کا اخلاقی اصول ضرور یاد رکھا۔ انہوں نے اپنی بہن سے پوچھا۔ پھر عاشی سے۔ لیکن شاید وہ چائے کے اس قدر شوقین نہ تھے۔ بہرحال میں پلیٹ فارم پر قائم ایک عارضی کھوکھے کے پاس جا کھڑا ہوا۔ چائے کا آرڈر دیا۔ چائے کیا تھی۔ بس گرم پانی میں دودھ کا ہلکا سا امکانی وجود اور پتی کے نام پر کوئی شائبہ سا۔ خیر چینی تھی اور خوب تھی۔ میٹھا اور گرم پانی سمجھ کر اپنے حلق کو تر کیا۔ تھوڑی دیر خانیوال جنکشن پر موجود زندگی سے بھرپور شور میں گم ہو گیا۔ دس پندرہ منٹ کے بعد تیزگام کی وسل سنائی دی۔ سب مسافر ایک ایک کر کے اپنی اپنی بوگیوں میں سوار ہونے لگے۔ میں واپس پہنچا تو ہماری سیٹوں کا علاقہ کھانے کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ وہ شاید اپنا کھانا وغیرہ بنا کر لائے تھے۔ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے بزرگ ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر تھے۔ ان کے ساتھ ان کی بیگم اور بیٹی تھیں۔ یہ خاندان لاہور میں اپنے رشتے داروں کے ہاں کسی شادی کی تقریب میں شرکت کرکے واپس لانڈھی کراچی جا رہا تھا۔

آنٹی جی نے مجھے بھی کھانے پر مدعو کیا۔ میرے انکار کے باوجود انہوں نے ایک پلیٹ میں سالن اور دو روٹیاں رکھ دیں۔ ٹرین میں کھانا کھانے کا بھی ایک الگ مزہ ہے۔ ٹرین چل پڑی تھی۔ میں نے عاشی کی نظروں کا پیغام سمجھ کر چپ چاپ نوالے توڑنے شروع کر دیئے تھے۔ ہم سب ایک خاندان بن چکے تھے۔ سبھی مسافر ایک دوسرے میں خوب گھل مل چکے تھے۔ ٹرین کے سفر کی یہ سب سے خاص بات ہوتی ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ منزل ابھی دور ہے۔ اس لئے سبھی ایک دوسرے کی کہانیوں میں کھو سے جاتے ہیں۔ یوں سفر بھی کٹ جاتا ہے اور خوشگوار یادیں مزید کئی کہانیوں کو بھی جنم دے دیتی ہیں۔ ایک کہانی آج ہماری بھی لکھی جا رہی تھی۔ میری اور عاشی کی کہانی۔ لیکن کیا یہ واقعی وہی کہانی ہو گی جو میری کہانی ہے؟ جو میری تلاش میں نکلی تھی، کیا تیزگام میں میرے ساتھ سفر کرتی یہ کہانی وہی کہانی ہے؟میں نے ایک دو لمحے کے لئے دل میں ابھرتے وسوسوں کے سارے بت توڑ دیئے۔

آج میں کچھ اور سوچنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ بس بہت ہو گیا خاص بننے کا ڈھونگ ۔ عام سا انسان ہوں۔ عام بن کر جیوں گا۔ اپنے حصے کی تسخیر کروں گا۔ میرے اپنے تصورات جو دنیا بنائیں گے، وہی میری دنیا ہو گی۔ بس۔ اس سے زیادہ سوچنا منع ہے۔ میں جانتا تھا میرا مدافعتی نظام فی الحال خاموش ہے۔ اور اس سے پہلے کہ وہ مدافعت کرے بلکہ مداخلت کرے، مجھے اس قدر دلائل اکٹھے کرنا ہوں گے کہ میں اس کا مقابلہ کر سکوں۔ ثابت کر سکوں کہ اس قلزم میں عاشی وہی قطرہ ہے، جس کا وصل میری تکمیل ہے۔ میں کھانا کھاتا جاتا تھا اور سوچتا جاتا تھا۔

کھانے کے بعد عاشی نے برتن سمیٹے۔ اور پھر سے آہستہ آہستہ بوگی کے اندر انسانوں کے لہجے گونجنے لگے۔ مختلف لہجے۔ مختلف مکالمے۔ مختلف کہانیاں۔میں بھی تھوڑی دیر تک آنٹی جی اور ہیڈماسٹر صاحب کے ساتھ تقدیر کے موضوع پر گفتگو کرتا رہا۔ میں نے کوشش کی کہ اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے اجتناب کروں کیونکہ میری اپنی تحقیق کے مطابق تقدیر کا فلسفہ شاید ہم سب ٹھیک طرح سمجھ ہی نہیں پائے ہیں۔ میں اکثر اپنے دوستوں کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو کیا کرتا تھا۔ یہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ میں علامہ اقبال کے فلسفۂ تقدیر کو برحق سمجھتا تھا۔ نباتات و جمادات کا معاملہ الگ تھا ہم زندہ انسانوں کی تقدیر کا جہان باالکل الگ۔۔۔ لیکن میں بحث نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اور یہاں تو ویسے بھی بحث کا موقع محل نہ تھا۔ ہاں، البتہ میں نے محسوس کیا کہ عاشی اس موضوع میں دلچسپی لے رہی ہے۔ تو کچھ دیر تک میں نے اپنے دلائل دیئے۔ ہیڈماسٹر صاحب نے میری تعریف کی اور میرے فلسفۂ تقدیر کی بھرپور حمایت کی۔ آنٹی جی کی آنکھوں میں بھی تحسین کے جگنو ٹمٹماتے تھے۔ اور عاشی ۔۔۔۔ وہ تو خیر اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے فزکس کے سوال کو قدموں تلے روندتی میرے ادبی جہان میں داخل ہو چکی تھی۔ہماری گفتگو میں کوئی اور شریک نہ تھا۔ خالہ برتھ پر جا کر براجمان ہو چکی تھیں۔ میں نے اخلاقی طور پر ہیڈماسٹر صاحب کو درخواست کی اگر وہ سونا چاہیں تو میری برتھ حاضر ہے۔ انہوں نے ساتھ بیٹھی ضعیف عمر خاتون سے پوچھا۔ وہ شاید تھک چکی تھیں۔ میں نے محسوس کیا شاید وہ ہچکچا رہی ہیں۔ میں نے براہ راست انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ برتھ پر جا کر آرام کریں۔ ہم ابھی ویسے بھی باتیں کر رہے ہیں۔ اور میں سفر میں بہت کم سوتا ہوں۔ اور یہ حقیقت بھی تھی۔ مجھے جاگ کر سفر کرنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔ اور ریل گاڑی کا سفر تو ویسے بھی انسانی مشاہدے کے لئے ایک زبردست ٹانک کی حیثیت رکھتا ہے۔ کہانیاں ہی کہانیاں۔ مناظر ہی مناظر۔ رویے ہی رویے۔ ٹرین سے باہر تیزی سے بدلتے مناظر ۔۔۔۔ ایک ہی وقت میں پیچھے کی جانب اڑتا وقت، ٹرین کے اندر سست رفتار وقت، اور ٹرین کے انجن کی سمت آنے والا پل۔۔۔۔ سبھی کچھ بہت خوبصورت ہوتا ہے۔۔۔

ہم کافی دیر تک تقدیر کے موضوع پر گفتگو کرتے رہے۔ نیڈو سو چکا تھا اور اُس کا سر آنٹی جی کی گود میں تھا۔ عاشی بدستور کھڑکی والی سیٹ کے پاس بیٹھی تھی۔ ہوا سے اس کے ماتھے پر آئی ہوئی بالوں کی لٹ اُڑتی اور وہ بار بار اپنی انگلیوں سے اُس لٹ کو کانوں کے پیچھے بالوں میں پھنسانے کی کوشش کرتی۔ یہ منظر خوبصورت تھا۔ بہت خوبصورت۔ کہانی کو ایسے ہی مناظر درکار تھے۔ بھرپور جمالیاتی شاہکار بن کر منظر عام پر اُبھرتے مناظر۔ ٹرین کی چھکا چھک جاری تھی۔ کبھی کبھار دور کہیں سے گیدڑوں کے راگ سنائی دیتے۔ رات کے تاریک سائے آہستہ آہستہ زمین پر گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ہیڈماسٹر صاحب بھی آہستہ آہستہ نیند کی وادیوں میں اتر چکے تھے۔

پھر یوں ہوا کہ میرے اور عاشی کے سوا سبھی نیند کے سحر کے آگے بے سدھ ہوتے چلے گئے۔ ہم دونوں ہی جاگ رہے تھے۔ شاید ہم خود جاگنا چاہتے تھے یا شاید ہماری کہانی ہمیں جگا کر رکھنا چاہتی تھی۔

عاشی نے ایک نظر بڑی ادا سے ساتھ والی سیٹوں پر سوئے ہوؤں کو دیکھا۔ پھر اس کی آنکھیں میری آنکھوں میں جیسے گڑ سی گئیں۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی؟ کچھ سننا چاہتی تھی؟ میں کچھ کہنا چاہتا تھا؟ کچھ سننا چاہتا تھا؟ لیکن ہم دونوں چپ تھے اور ہماری خاموشی ہم سے زیادہ ہماری فکرمند تھی۔ بولتی جاتی تھی۔ عجیب کشش تھی اس وقت میرے اور عاشی کے مابین۔ ایک عجیب ، ان دیکھا، اٹوٹ بندھن۔۔۔۔ کیا یہ محبت ہے؟ کیا سب ایسے ہی ہوتا ہے؟ کیا اجنبی لوگ یوں ایک دم سے اپنے لگنے لگیں تو اُسے محبت کہتے ہیں؟ میرے ذہن میں مختلف سوالات پیدا ہوتے اور پانی کی سطح پر بنے بلبلوں کی طرح غائب ہو جاتے۔میری بزدلی آہستہ آہستہ میرے اعصاب پر سوار ہوتی جا رہی تھی۔ شجر ممنوعہ کا سارا فلسفہ آہستہ آہستہ اُس بوگی کی کھڑکیوں سے اندر آتا جا رہا تھا۔ اور میں زندگی میں پہلی مرتبہ بھرپور قوت سے مقابلہ کر رہا تھا۔ دفاع کر رہا تھا اپنی ہونے والی کہانی کا۔

مجھے شدید غصہ بھی آرہاتھا۔ عاشی منتظر تھی کہ میں کوئی بات کروں۔ میں منتظر تھا کہ عاشی کوئی بات کرے۔ لیکن ہم دونوں چپ تھے۔ اور ہماری خاموشی باتیں کرتی جاتی تھی۔ اسی شش و پنج میں کئی چھوٹے بڑے اسٹیشن آئے۔ گزر گئے۔ کبھی کبھار اس سکوت میں عارضی طور پر خوانچہ فروشوں کی آوازیں ہلچل پیدا کرتیں اور وہی سکوت۔ وہی خاموشی۔ وہی میرا اور عاشی کا اضطراب۔ پھر ایک دم سے جیسے میرے اوپر کسی نے ہزاروں من وزنی پتھر گرا دیا ہو۔ مجھے یوں لگا جیسے میں کسی ڈھلوانی راستے سے نیچے گر رہا ہوں۔ زور کا دھماکہ ہوا تھا۔ برتھ پر سوئی ہوئی خالہ شاید نیند کے عالم میں نیچے گری تھیں۔ میرے اوپر۔ یا شاید ہیڈماسٹر صاحبہ کی زوجہ۔ مجھے کچھ یاد نہیں۔ مجھے یوں لگا جیسے ٹرین ٹریک سے اتر کر قلابازیاں کھا رہی ہو۔ پھر مجھے کچھ ہوش نہ رہا ۔میری آنکھیں بند ہوتی چلی گئیں۔

میں ہوش کی دنیا میں واپس آیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ میری دنیا کس قدر بدل چکی ہے۔ تیزگام کو خطرناک حادثہ پیش آ چکا تھا۔ میرے جسم پر معمولی زخم تھے لیکن میرے سر پر اچھی خاصی پٹی باندھی گئی تھی۔ میں نے اپنے ہاتھ پاؤں ہلا جلا کر اندازہ لگایا تو مجھے محسوس ہوا کہ میری ہڈیاں سلامت ہیں۔ میرے سامنے ایک نرس کھڑی تھی۔ مجھے ہوش میں آتا دیکھ کر اس کے چہرے پر پرسکون مسکراہٹ ابھری۔ اور وہ الٹے قدموں واپس مڑ گئی۔ تھوڑی دیر بعد اس کی واپسی ہوئی تو ایک خوبرو ڈاکٹر صاحب گلے میں اسٹیتھو اسکوپ لٹکائے میرے بیڈ کے قریب آ ئے۔ آہستہ سے میرا نام پکارا۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ بولنے کی کوشش کی لیکن مجھے محسوس ہوا کہ میری زبان پر بھی بہت بڑا زخم ہو۔ میں نے اپنے منہ میں زبان کو ہلانے کی کوشش کی لیکن خاطرخوا کامیابی نہ ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے نرس سے ایک دو سوال پوچھے۔ فائل پر کچھ لکھا اور واپس چلے گئے۔
میرے حواس آہستہ آہستہ بحال ہو رہے تھے۔ اچانک جیسے کسی نے مجھے زور سے جھنجھوڑ دیا ہو۔ میں نے ہڑبڑا کر اُٹھنے کی کوشش کی۔ نرس فوری طور پر آگے بڑھی اور اُس نے مجھے سختی سے منع کیا کہ میں اس حرکت سے باز رہوں۔لیکن میری دنیا عاشی کے نام سے ایک دم بھونچال کا شکار ہو چکی تھی۔ ہم ٹرین میں تھے۔ عاشی میرے سامنے تھی۔ ہماری خاموشی باتیں کرتی تھی۔ مسافر سو رہے تھے۔ نیڈو بھی سو رہا تھا۔ ہم جاگ رہے تھے۔ پھر اچانک کیا ہوا؟ میں یہاں ہسپتال میں کیسے آیا؟ کیوں آیا؟ عاشی کہاں ہے؟

’عاشی! کہاں ہے؟‘ عاشی، عاشی، عاشی۔۔۔ میری زخمی زبان کچھ کہہ رہی تھی۔ لیکن نرس کو سنائی ہی نہیں دے رہا تھا۔ مجھے اُس نے اشاروں سے منع کیا۔ اور پوچھا کہ کیا میں تکلیف میں ہوں؟

تکلیف؟ عاشی کہاں ہے؟ خدا کے لئے مجھے بتاؤ عاشی کہاں ہے؟ نیڈو کہاں ہے؟ ہم سب کہاں ہیں؟ کیا ہوا ہے؟ میں نے کوشش کی کہ وارڈ میں لیٹے مریضوں کو دیکھ سکوں۔ لیکن سب اجنبی تھے۔ کوئی کراہ رہا تھا۔ کوئی ساکت پڑا ہوا تھا۔ بے حس و حرکت۔ نرس نے شاید میری آنکھوں میں ابھرتے ان سوالوں کو پڑھ لیا تھا۔ وہ میرے بیڈ کے ساتھ رکھے اسٹول پر بیٹھ گئی۔ میرے کانوں کے قریب اپنا منہ لا کر اس نے بتایا کہ ٹرین کو زبردست حادثہ پیش آیا تھا۔ ٹریک پر کوئی بھینس آ گئی تھی۔ یا رات کے اندھیرے میں کوئی اور جانور۔ اس سے ٹکرا کر ٹرین کے انجن نے ایک جھٹکا کھایا اور ٹریک سے اتر گیا۔ اس طرح ساری بوگیاں دور دور تک قلابازیاں کھاتیں ایک دوسرے سے ٹکراتیں دور جا گریں۔ نرس نے بتایا کہ بہت جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ میں نے اشاروں میں پوچھا کہ میری زبان کو کیا ہوا ہے؟ تو اس نے کہا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ آپ کو جب یہاں لایا گیا تو آپ بیہوش تھے اور خون میں تر۔ ہم تو سمجھے تھے کہ شاید آپ زندگی کی بازی ہار جائیں لیکن آپ نے موت کو شکست دی؟ نرس اپنا اظہار کر رہی تھی۔ میں عاشی کی خیریت کا طلبگار تھا۔ کاش اس نرس کو محسوس ہو جائے کہ میری کہانی نے شروع ہونے سے پہلے ہی خطرناک موڑ لے لیا ہے۔ مجھے بتایا جائے کہ عاشی کہاں ہے؟ نیڈو کہاں ہے؟ ہیڈماسٹر صاحب، آنٹی جی۔ خالہ یہ سب کہاں ہیں؟

مجھے اپنی زبان پر درد محسوس ہوا۔ میں نے بے اختیار اپنی انگلیوں نے درد کرتی زبان کو ٹٹول کر محسوس کیا۔ زبان سوجھی ہوئی تھی۔ اوپر والا ہونٹ بھی بری طرح سوجھا ہوا تھا۔ نرس نے مجھے بتایا کہ میرے سر پر بالکل درمیاں میں دس ٹانکے لگے ہیں۔ برتھ کا ہینڈل شاید میرے سر میں لگا تھا یا کوئی اور چیز۔ لیکن زخم گہرا تھا۔ خدا کا شکر کہ ہڈی کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔

عاشی کہاں ہے؟ میرا دل زور زور سے چیخ رہا تھا اور میری زبان بولنے سے قاصر تھی۔ اچھا ہے۔ اس زبان سے گویائی چھین لی جائے۔ اسے جب بولنا ہوتا ہے، یہ نہیں بولتی۔ عاشی سامنے بیٹھی تھی۔ یہ زبان گنگ تھی۔ ’اب بول کے دکھا‘۔ یہی علاج ہے تیرا۔ میں شاید درد کی وجہ سے اوٹ پٹانگ سوچیں سوچ رہا تھا۔ تھوڑی تھوڑی دیر پر درد کی لہریں اُٹھتیں اور میں تڑپ کے رہ جاتا۔

میں نے نقاہت کے عالم میں آنکھیں بند کر لیں۔ اور پھر سے تیزگام کے سفر کا تصور کرنے لگا۔ بوگی میں رات اتر چکی تھی اور نیند بھی۔ عاشی کے بال ہوا سے اُڑتے جاتے تھے۔ ہم تھوڑی دیر قبل فلسفۂ تقدیر پر گفتگو کر رہے تھے۔ تقدیر کا یہ روپ میرے لئے بالکل نیا تھا۔ اچانک۔۔۔ یوں بھی کوئی کرتا ہے۔۔۔ بات تو مکمل ہو جاتی۔۔۔۔ کہانی کا آغاز تو ہو جاتا۔۔۔۔ یہ کیا کہ اچانک ۔۔۔ کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔۔۔۔ پھر درد۔۔۔۔پھر آہ نکلی۔۔۔۔ میں پھر ہوش سے بے گانہ ہو گیا تھا شاید۔

دوبارہ آنکھ کھلی تو دن کا اجالا وارڈ میں روشنی کر رہا تھا۔

میں پہلے سے کافی بہتر محسوس کر رہا تھا۔ میری آنکھ کھلی تو ساتھ ہی بنچ پر خالو اور خالہ بیٹھے ہوئے دکھائی دیئے۔ وہ مجھے ہوش میں آتا دیکھ کر یکدم اٹھے اور مجھے چومنا شروع کر دیا۔ خالہ کی تو باقاعدہ روتے روتے ہچکی بندھ گئی۔ نرس کے کہنے پر خالہ پیچھے ہٹیں۔۔۔پھرآگے بڑھیں میرا چہرہ چوما۔ اُن کی آنکھوں میں آنسو تیرتے تھے۔ خالو کے چہرے پر مجھے ہوش میں آتا دیکھ کر سکون پھیل چکا تھا۔ نرس بھی مطمئن دکھائی دیتی تھی۔ یہ وہی رات والی نرس تھی۔ شاید ایمرجنسی کی وجہ سے ڈبل ڈیوٹی لگی ہو۔۔۔ میرے ذہن میں سوال پیدا ہوا۔۔۔ مجھے محسوس ہوا کہ سر کی چوٹ نے میرے سوالوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑا تھا۔۔۔۔

عاشی کہاں ہے؟ میرے اندر یہی سوال پھر سے گونجنے لگا۔۔۔۔ عاشی! کہاں ہے؟ اور میں نے محسوس کیا میرے ہونٹوں سے لفظ نکلے ہوں۔۔۔ میں نے خود اپنی آواز سنی۔ میں بول سکتا تھا۔ میں نے نرس سے پوچھا کہ میرے ساتھ جو سواریاں تھیں، وہ کہاں ہیں؟

نرس نے ہاتھ میں پکڑے رجسٹر پر ایک نظر ڈالی۔ اور مجھے بتایا کہ میرے ساتھ بیٹھی ہوئی سات سواریوں میں سے صرف دو خواتین زندہ بچی ہیں۔ ایک بچہ، ایک لڑکی، ایک بزرگ اور دو خواتین اس حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ میرے سارے زخموں سے ٹیسیں اُٹھنا شروع ہو گئیں۔ درد ہی درد۔ لیکن میں نے سوچا کہ شاید نرس کو غلط فہمی ہوئی ہو۔ میں نے پھر پوچھا کہ آپ کے رجسٹر پر نام وغیرہ لکھے ہیں؟ اور میں جانتا ہوں کہ اس سوال نے میرے اندر طوفان برپا کر دیا تھا۔ نرس نے جو نام بتائے، وہ سن کر مجھے لگا کہ میں اب زندگی بھر بے نام رہوں گا۔ ہیڈماسٹر صاحب، اُن کی زوجہ، عاشی کی خالہ، نیڈو اور ۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔ عاشی۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔۔۔ عاشی کو کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔ میری کہانی ادھوری نہیں رہ سکتی۔۔۔۔ یہ ظلم ہے۔۔۔ ظلم عظیم ہے۔۔۔۔ یہ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔یہ کیسی تقدیر ہے مالک!۔۔۔۔ میرے اندر نوحے تھے۔۔۔۔ ماتم تھا۔۔۔۔ اور میرے زخم رستے تھے۔۔۔۔ ٹیسیں اٹھتی تھیں۔۔۔لیکن یہ ٹیس سب سے خطرناک تھی۔۔۔جان لیوا درد۔۔۔۔۔۔ عاشی نہیں مرسکتی۔۔۔۔ عاشی کو ابھی میری کہانی مکمل کرنی ہے۔۔۔۔ وہ میری ذات کی تکمیل ہے۔۔۔۔میں ادھورا نہیں رہ سکتا۔۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔۔عاشی نہیں مر سکتی۔۔۔۔ میرے اندر کوئی بین کرتا تھا۔۔۔۔۔ بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔۔۔۔ اور میں نے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔

خالہ نے اپنے ہاتھوں سے میرے آنسو پونچھے۔ ’’میں صدقے میں واری اپنے بیٹے پر‘‘۔۔۔۔ خالہ مجھے چوم رہی تھیں۔۔۔۔ اور میری بند آنکھوں کے پیچھے میری آنکھیں کھل چکی تھیں۔۔۔۔ اور عاشی میرے سامنے تیزگام کی کھڑکی والی سائیڈ پر بیٹھی تھی۔۔۔۔ ہوا اُس کی بالوں کی ایک لٹ کو اُڑاتی تھی۔۔۔۔ اور میں عاشی کو دیکھتا تھا۔۔۔۔ ہماری خاموشی باتیں کرتی تھی۔۔۔۔ اور ہم دونوں چپ تھے۔۔۔۔

عاشی! کہاں ہے؟ میں شاید نیم بیہوشی میں تھا۔ ہر چیز دھندلا رہی تھی۔۔۔۔ ہر چیز۔۔۔ ہر منظر ڈوب رہا تھا۔۔۔۔ میں نے دوبارہ آنکھیں موند لیں۔۔۔۔ سختی سے بند کر لیں تا کہ کوئی بھی آنسو میری آنکھوں سے باہر نہ نکل سکے۔۔۔یہ عاشی کے آنسو تھے۔۔۔ انہیں باہر نہیں گرنا چاہیے۔ یہ مقدس آنسو ہیں۔۔۔۔ عاشی۔۔۔۔ عاشی کہاں ہو؟ میں زیر لب اُس کا نام دہراتا پھر ہوش سے بے گانہ ہو گیا۔۔۔۔

دوبارہ آنکھ کھلی تو شام ہو چلی تھی ۔ خالہ میرے پاس بنچ پر بیٹھی تھیں۔۔۔ میں نے اُٹھنے کی کوشش کی۔۔۔ تو خالہ نے نے اشارہ کیا کہ میں لیٹا رہوں۔۔۔لیکن نہ جانے کس طاقت نے مجھے بیٹھنے کی ہمت دی۔۔۔ میں بیڈ پر سیدھا بیٹھا تو خالہ نے تکیہ میری پشت پر رکھ کر میرے لئے ٹیک کا بندوبست کیا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد خالو بھی وارڈ میں آگئے۔ دیگر مریضوں کے پاس بھی کوئی نہ کوئی ملاقاتی موجود تھا۔۔۔ وارڈ سے باہر رونے کی مدہم آوازیں بھی آ رہی تھیں۔۔۔ میں نے خالہ سے پوچھا کہ یہ کون سا شہر ہے۔۔۔۔ خالہ نے مجھے بتایا کہ’’ سکھر اور کوٹری کے درمیان یہ المناک حادثہ پیش آیا تھا۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد زیادہ تر مریضوں کو فارغ کر دیا گیا تھا۔ تمہاری جیب میں گھر کا فون نمبر لکھا تھا۔ اسی کے ذریعے ہمیں اطلاع ملی۔ ابھی یہ سکھر کا ایک مقامی ہسپتال ہے۔ڈاکٹروں سے بات ہو گئی ہے۔۔۔۔ کل تمہیں ہم اپنے ساتھ کراچی لے جائیں گے۔۔۔۔ تمہارے خالو کسی دوست سے گاڑی لے آئے تھے۔۔۔‘‘

عاشی کہاں ہے!؟ میں خالہ سے پوچھتے پوچھتے رک گیا۔۔۔۔ خالہ نے بتایا کہ تمہارے ساتھ جو سواریاں تھیں۔۔۔ ان کی بہت بری حالت تھی۔۔۔ بس ایک ماں بچی ہے۔ اور ایک دوسری عورت ۔۔۔ بہت پیارا بیٹا اور بیٹی اس حادثے کی نذر ہو گئے۔۔۔۔ خالہ انتہائی کرب میں بتا رہی تھیں۔۔۔’’ اولاد کا غم خدا کسی دشمن کو بھی نہ دے۔۔۔۔۔۔‘‘ خالہ کی آواز رندھ گئی۔۔۔۔
اور میں تو شاید ماتم کی کسی اگلی منزل پر فائز ہو چکا تھا۔۔۔۔
مجھ سا بدنصیب بھی ہو گا کوئی؟
عاشی! کہاں ہے؟ یقین نہیں آتا تھا۔۔۔۔ میں واش روم کے بہانے اُٹھا۔۔۔ خالہ نے منع بھی کیا لیکن میں نے ضد کی۔۔۔ جونہی نیچے پاؤں رکھا۔۔۔مجھے لگا زمین گھوم رہی ہے۔۔۔سر میں درد کی شدید ٹیسیں اُٹھیں ۔۔۔ میں نے اپنے حواس مجتمع کیا۔ ہمت کر کے دونوں پیروں پر بوجھ ڈالا اور بالاخر کھڑا ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ خالو نے مجھے تھام رکھا تھا۔۔۔ میں آہستہ آہستہ چلتا ساتھ والی وارڈ میں داخل ہوا۔ وہی نرس سامنے موجود تھی۔ مجھے اپنے قدموں پر کھڑا دیکھ کر اُس کے چہرے پر شفیق سے مسکراہٹ ابھری۔ وہ ہمارے قریب آئی اور اُس نے خالو کو مبارکباد دی۔۔۔ میں نے نرس سے ہمت کر کے پوچھا کہ میرے ساتھ والی سواریوں میں سے جو بچا ہے، اُن سے ملاقات ہو سکتی ہے۔۔۔ تو انہوں نے ایک رقعہ میرے حوالے کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک عورت نے یہ تمہارے لئے دیا تھا۔۔۔ وہ بار بار اُٹھ کر تمہیں دیکھنے جاتی تھیں۔۔۔ ان کی بہن، بیٹی اور بیٹا اس حادثے میں اﷲ کو پیارے ہو گئے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔میرے اندر دھڑام سے جیسے میں گر گیا۔۔۔سجدے میں۔۔۔یا الٰہی! یہ ظلم مجھ پر ہی کیوں؟ مجھے عام رہنے دے مالک۔۔۔ مجھے اتنے دکھ نہ دے۔۔۔۔ میری عاشی کو واپس کر دے۔۔۔ نرس کی زبانی پتہ چلا کہ میتیں لاہور روانہ کر دی گئیں ہیں۔ میں نے لرزتے ہاتھوں سے تہہ کیا ہوا کاغذ کھولا تو اُس پر صرف اتنا لکھا تھا۔۔۔۔ ’’بیٹے! آپ کی ماں خوش نصیب ہے ۔۔۔۔ میری بدنصیبی دیکھو میرے سامنے میرے دونوں بچے موت چھین کر لے گئی۔۔۔ کاش! مجھے موت آ جاتی۔۔۔۔۔ ‘‘ میری آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔۔۔۔ خالو میری حالت دیکھ کر مزید پریشان ہو گئے۔ نرس نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر مجھے دلاسہ دیا۔۔۔۔اور واپس مجھے بیڈ تک چھوڑنے آئی۔۔۔ میں نے آنکھیں صاف کر کے دوبارہ آنٹی جی کے الفاظ پڑھے۔۔۔۔ انہوں نے گھر کا پتہ اور فون نمبر بھی دیا تھا۔۔۔ لکھا تھا ’’میں خوش ہوا کہ آپ کی جان بچ گئی بیٹا ۔۔۔ صحت مند ہونا تو ضرور میرا پتہ کرنے آنا۔۔۔ میرے اپنے دونوں بچے تو۔۔۔۔۔۔‘‘ اس سے آگے میں نہیں پڑھ سکا۔۔۔اور پھر بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں بند کرلیں۔۔۔۔۔

رات گئے میری ایک دو مرتبہ آنکھ کھلی۔۔۔ خالہ نے مجھے جوس وغیرہ پلایا۔۔۔۔ اور میں خالی خالی نظروں سے وارڈ کی دیواروں کو گھورتا تھا۔۔۔۔ عاشی! کہاں ہو؟ میری کہانی لکھو نا؟ مجھے مکمل کر دو پلیز! دیکھو! لوٹ آؤ۔۔۔ ابھی تو ہم نے مل کر کہانی تخلیق کرنی تھی۔۔۔ایسی بھی کیا ناراضگی۔۔۔۔ مت روٹھو۔۔۔ واپس آ جاؤ۔۔۔۔ عاشی۔۔۔۔عاشی۔۔۔۔۔

صبح آنکھ کھلی تو میں پہلے سے بہت بہتر اور توانا محسوس کر رہا تھا۔ درد میں بہت کمی تھی۔۔۔ زبان بھی کافی بہتر محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ کاغذی کاروائی کے بعد خالو مجھے لے کراپنے دوست کی گاڑی تک آئے۔ میں کسی لاش کی طرح گم صم اُن کے ساتھ چل رہا تھا۔ میرا کسی سے کوئی بات کرنے کو جی چاہتا تھا نہ کسی کی آواز سننے کو۔ مجھے کائنات کی ہر شے زہر لگ رہی تھی۔۔۔۔ جب میری کہانی مکمل نہیں ہوتی تو مجھے کسی کہانی سے کیا غرض۔۔۔۔کیا دلچسپی؟ نفرت ہے مجھے ہر کہانی۔۔۔۔ نہیں سننی مجھے کسی کی بھی کہانی۔۔۔۔۔۔ مجھے یاد ہی نہیں رہا کہ میں خالہ سے پوچھتا کہ ماں جی کو تو نہیں بتایا آپ نے؟ اچانک میں نے خالہ سے پوچھا۔۔۔۔ خالہ مسکرائیں اور کہنے لگیں۔۔۔ ’’فکر نہ کرو۔۔۔۔ میں نے انہیں نہیں بتایا۔۔۔۔ تم ٹھیک ہو جاؤ پھر خود بتا دینا۔۔۔ انہیں پتہ چلتا تو وہ اُڑ کر یہاں پہنچ جاتیں۔۔۔پتہ تو ہے تمہیں۔۔۔۔‘‘

ماں جی کو یقینا خواب آ گیا ہو گا۔ مامتا کو اشارے ہو جاتے ہیں۔ میں بچپن سے دیکھتا آیا تھا۔ ماں اور اولاد ایک مقدس رشتے اور ربط میں بندھی ہوتی ہے۔۔۔۔ اولاد کی تکلیف ماں سے کب چھپی رہتی ہے۔ میرے ذہن میں ماں جی تصور آیا تو آنسو ایک مرتبہ پھر آنکھوں میں جھلمل جھلمل کرنے لگے‘‘۔۔۔۔
بری امام کے احاطے میں مقدس خاموشی محوگفتگو تھی۔
میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ اُس کی آنکھوں میں رکے برسوں پرانے آنسو اُس کے رخساروں پر بہتے دیکھے ۔۔۔۔ میں خود بھی بے ساختہ رورہا تھا۔ نہ جانے کیوں مجھے اُس کی گہری چپ عظیم لگنے لگی تھی۔۔۔۔۔ عاشی کی پراسرار ملاقات اور جدائی ، کہانی کا ادھورا پن۔۔۔۔ یہ سب بہت اذیت ناک تھا۔۔۔ میں جانتا ہوں، وہ عاشی کا ذکر کرتے ہوئے کس قدر کرب سے دوچار تھا۔۔۔۔
’’ہاں! میں غائب ہو جاتا ہوں ۔۔۔۔ عاشی کی قبر کا مجاور ہوں میں۔۔۔۔۔ لاہور میں اس کی قبر میرا انتظار کرتی ہے۔۔۔اور میں اُس کے لئے تازہ موتیے کے پھول لے کر جاتا ہوں۔۔۔۔ میری کہانی ٹرین سے قبرستان تک پہنچ چکی ہے۔۔۔۔ یہ کہانی آج بھی ادھوری ہے۔۔۔۔ عاشی کون تھی؟ کیوں آئی میری زندگی میں؟ کیا عاشی پھر آئے گی؟ کسی اور روپ میں؟کیا عاشی جنت میں میری منتظر ہو گی؟ کیا عاشی مجھے قیامت کے روز پہچان لے گی؟ کیا مجھے حشر تک ادھوری کہانی کے ساتھ جینا ہے؟ یا عاشی کا جدا ہونا ہی میری کہانی ہے؟‘‘ وہ سوال کرتا جاتا تھا اور مجھے بری امام کے احاطے میں عاشی کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی تھی۔۔۔۔ یا شاید یہ اُس کے دل کی دھڑکن تھی ۔۔۔۔ لیکن آج وہ وقت کے عظیم بہاؤ میں بہہ رہا تھا ۔۔۔۔ ’’ جانتے ہو! یہ آج کل کی محبتیں، محبتیں کم اور کرش زیادہ ہو گیا ہے۔۔۔۔زمانہ اس قدر برق رفتار ہے کہ کہانیاں پیدا ہونے سے پہلے مر جاتی ہیں۔محبت ، ۲۴ گھنٹے کا رجحان نہیں ہوتی۔ یہ ٹوئٹر
ٹرینڈ نہیں کہ جو آئے، چھا جائے اور پھر کوئی نیا ٹرینڈ اسے بدل دے۔ یہ تو آفاقی نظریہ ہے۔۔۔۔ محبت ہوتی ہے تو پھر ہوتی ہے۔۔۔ نہیں ہوتی تو نہیں ہوتی۔۔۔۔ محبت کے رنگ کچے نہیں ہوتے۔۔۔۔ اس کی آواز کبھی نہیں مرتی۔۔۔۔ اس کا سفر کبھی نہیں رکتا۔۔۔۔‘‘

اُس نے اپنی آنکھوں کو دونوں ہاتھوں سے صاف کیا۔ گردن اوپر اُٹھا کرآسمان کو گھورا اور پھر اپنی گہری چپ کے جہان میں خاموشی سے سر جھکائے داخل ہو گیا ’’کراچی میں میرا قیام۔۔۔ وہاں کلفٹن پر عبداﷲ شاہ غازی کے ساتھ میری ملاقات کا حال احوال۔۔۔۔ قائداعظم کے ساتھ شکوے شکایتیں پھر کبھی سناؤں گا۔۔۔۔ میں لاہور واپس آیا۔ گھر والوں کو پتہ چل چکا تھا۔۔۔۔ سب مجھے ہاتھ لگا لگا کر ٹٹول رہے تھے۔ میں سر سے پاؤں سے تک سلامت تھا۔۔۔ ہڈیاں سلامت تھیں۔۔۔ زخم بھر چکے تھے۔۔۔ ہاں سر کے بالوں میں ایک نشان آج بھی موجود ہے۔۔۔ عین سر کے بیچوں بیچ۔۔۔۔کسی راستے کی طرح۔۔۔ ادھورے راستے کی طرح۔۔۔۔۔ اب تو میں ٹنڈ بھی نہیں کرواتا۔۔۔۔سر میں موجود اس راستے کا آغاز ہے نہ انجام۔۔۔۔ یہ معمہ ہے۔۔۔سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔۔۔۔۔ یہ عاشی کے سفر کی علامت ہے جو میرے سرکے بیچوں بیچ موجود ہے۔۔۔ ادھوری کتھا کے ساتھ۔۔۔۔ عاشی میری کہانی میں آئی اور چلی بھی گئی۔۔۔۔ شاید اُس کا یہ عارضی پڑاؤ ضروری تھا؟ میں اکثر سوچتا تھا۔۔۔۔ اور اب جان چکا ہوں کہ بہت ضروری تھا عاشی کا ٹرین میں میرے ساتھ سفر کرنا۔۔۔۔ اور شاید یوں اچانک مجھے ادھورا چھوڑ کر آگے بڑھ جانا۔۔۔۔۔
ابھی تک اُس سفر کی چاشنی محسوس کرتا ہوں
ابھی تک یاد آتی ہے مجھے وہ اجنبی لڑکی

اجنبی عاشی؟ میرا درد عاشی؟ بس میں اس سے آگے نہیں سوچتا۔ اُس کی قبر ہے اور میں اُس کا مجاور ہوں۔۔۔۔ اب تو زندگی اور محبتوں کا فہم و ادراک کسی اور منزل میں داخل ہو چکا۔۔۔۔ اب تو حیات و موت اور فنا و بقا کے سبھی مطالب و مفاہیم تبدیل ہو چکے۔۔۔۔ اب میری کہانی کوئی اور لکھ رہا ہے۔۔۔۔ اور میں اس پر خوش ہوں۔۔۔۔۔ قطرہ قطرہ قلزم کا شعور مجھے واصف باصفا کے در سے ملا ہے۔۔۔۔ میری محبتیں پھیل گئی ہیں۔۔۔۔۔ قلزم شناس محبتیں عاشی کے بعد ایک اور مرحلے سے بھی گزری تھیں۔۔۔۔۔۔

میں نے گریجویشن مکمل کی۔۔۔۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ عاشی کون ہے؟ میرا اُس کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ میں جانتا تھا۔ اﷲ کریم کی ذات جانتی تھی۔۔۔عاشی کو معلوم تھا۔۔۔۔تیزگام کی کھڑکی والی دونوں سیٹیں ہمرازتھیں۔۔۔اور بس۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ آج تک کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہو سکی کہ عاشی میری ادھوری کہانی کا سب سے تلخ موڑ تھی۔۔۔۔۔۔

اس دوران کھڑکیاں کھلنا بند نہ ہوئیں۔۔۔۔ لیکن میں ایمان لا چکا تھا ۔۔۔۔ کہ اب مجھے اپنی کہانی خود نہیں لکھنی ۔۔۔۔۔ جو ہوتا ہے ہو جائے ۔۔۔۔۔
اور پھر وہ ہو گیا جو ہونا تھا۔۔۔۔ میرے اس رویے سے سبھی نالاں تھے۔۔۔۔ لوگ میری گہری چپ کا مذاق اُڑاتے تھے۔۔۔۔ اس دوران لاہور میں موجود ماں جی کی بچپن کی سہیلی کی ایک بیٹی میرے قریب آئی ۔۔۔۔ میں تھک چکا تھا شاید۔۔۔۔ یا میں نے ہار مان لی تھی؟ بس میں نے مذاحمت نہیں کی۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ میں ٹوٹ چکا تھا۔۔۔۔۔ کراچی سے واپس آنے کے بعد زندگی خیروشر کے بہت سے اسرارورموز سے شناسا ہوئی۔۔۔ شاید میرے اندر غم تھا؟ انتقام تھا؟ غصہ تھا؟ لیکن آفاقی محبتوں کی تسخیر سے قبل میں زمینی راستوں سے گزرا اور خوب بھیگ بھیگ کر گزرا۔ لیکن اُس کے ساتھ جس کا دعویٰ تھا کہ وہ بچپن سے میری دیوانی ہے ۔۔۔۔۔ میں ہمیشہ کناروں پر رہ کر بات کیا کرتا تھا۔۔۔۔ میں اُس کا احترام کرتا تھا شاید۔۔۔۔لیکن پھر ایک لمحہ
آیا جب مجھے یاد ہی نہ رہا کہ ماں جی کا حکم ماننا کس قدر لازمی ہے۔۔۔۔۔ گستاخی ہو گئی۔۔۔۔ تکبر بری بلا ہے نا۔۔۔۔ انسان اکڑ جاتا ہے۔۔۔ سمجھتا ہے اُس نے چھوٹی سی عمر میں اتنا بڑا روگ دیکھ لیا ہے کہ وہ اب برگزیدہ ہستی بن چکا ہے۔۔۔۔ یا شاید اُسے اس بات پر غصہ آتا ہے کہ اُس پر ہونے والے ظلم و ستم کا وہ حقدار نہ تھا اور اُس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔۔۔۔۔ یا شاید وہ عام بن کر جینا چاہتا تھا اور کوئی طاقت اُسے خاص بنا کر خاص محبتوں سے نوازنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔ بہت سے رشتے دارمجھ سے نالاں ہو چکے تھے۔۔۔۔ ہمارا معاشرہ اپنی ضد اور انا کی خاطر بہتان لگانے سے باز نہیں آتا ۔۔۔۔۔ ہم جیسے دیوانوں کی گہری چپ بہتانوں کو ہمیشہ تقویت دیتی آئی ہے۔۔۔۔ ہم صفائیاں نہیں دیا کرتے۔۔۔۔۔ ہم اپنی سچائی کے ثبوت نہیں دیتے ۔۔۔۔۔ زندگی جب کسی اور راز سے شناسا ہو جائے تو پھر زندگی کے سارے معانی تبدیل ہو کے رہ جاتے ہیں۔۔۔۔ ابلیس کا تکبر اُس کو راندۂ درگاہ بنا گیا۔ آدم و حوا کی جانب سے الوہی حکم کو نہ مانناعظیم توبہ اور جنت سے بے دخلی پر منتج ہوا۔

آخری باب
رونا اور آہ و بکا کرنا اولاد آدم کی وراثت ہے۔ آدم بھی بہت عرصہ روتے رہے۔ سجدے میں سر رکھے کرلاتے رہے۔ اور اس طرح کہ کونجوں کا کرلانا بھی اُن کے آگے ماند پڑ جائے۔ میں بھی کُرلاتا تھا۔ ہچکیاں بھر بھر کے روتا تھا۔ ایک ایک لمحہ میرے سامنے پیش ہوتا تھا۔ ایک ایک لمحہ۔ اُنہی لمحات میں ایک لمحہ ایسا بھی آیا تھا جب مجھے محسوس ہوا کہ بہتانوں کی اس قبر سے مٹی ہٹائی جا رہی ہے۔ قبر کے سناٹے میں انسانی قدموں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی میری قبر کے آس پاس میری ہی باتیں کر رہا ہو۔ جوں جوں قبر سے مٹی ہٹتی جا رہی تھی توں توں آوازیں قریب سے اور واضح انداز میں سنائی دینے لگی تھیں۔ مٹی کے کچھ ذرات محبتوں کے کفن پر بھی گر رہے تھے۔
ربنا ظلمنا انفسنا کی تسبیح قبول کر لی گئی تھی۔ وحشتوں کی قبر سے آزادی کے مبارک لمحات قریب آن پہنچے تھے۔ خوشبو کی تسخیر منظر عام پر آنے والی تھی۔ میں
متجسس تھا کہ آخر میری قبر کا خیال کسے آ گیا۔ اور جانتے ہو جب میرا دوسرا جنم ہوا تو میں نے سب سے پہلے کس کا چہرہ دیکھا؟ اپنی ماں جی کا۔ تم اکثر کہتے تھے نا کہ میں اپنی ماں جی سے اتنا زیادہ عشق کیوں کرتا ہوں؟
دیکھو! ماں تو ایک دفعہ جنم دے تو اولاد اُس کا حق ادا نہیں کر سکتی۔ مجھے تو دو مرتبہ جنم دیا ماں جی نے۔ بہتانوں کی قبر سے مٹی ہٹائی جا چکی تھی۔ محبتوں کے کفن کو سمیٹ کر جب میں قبر سے نکلا تو لڑکھڑا گیا۔ ماں باپ کے قدموں میں گرپڑا۔ ربنا ظلمنا انفسنا کی لذت ہی دوبالا ہو گئی۔ میرے لرزتے وجود کو ماں باپ نے تھاما۔ مجھے اپنی بانہوں میں سمو لیا۔ یہ محبتوں کا سراب نہیں۔ یہ ہے حقیقی چشمہ۔ یہ ہیں بے لوث محبتیں۔ ‘‘
بری امام کے احاطے میں اُس نے اپنی کہانی جس کرب کے ساتھ سنائی تھی۔ وہ صرف میں ہی جانتا ہوں۔اُس کہانی کے بہت سے پہلو میں نے جان بوجھ کر حذف کر دیئے ہیں۔ زندگی رہی تو محبتوں کی کہانی کے وہ پہلو بھی آشکار کروں گا۔ وعدہ رہا۔عین ممکن ہے یہ کہانی بھی اس کی درجن بھر ڈائریوں میں درج اور خاندان میں مشہور دیگر کہانیوں کی طرح ایک ڈائیورژن ہو ۔۔۔ میں صرف یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں بری امام کے احاطے میں اس کا لب و لہجہ مختلف تھا۔ وہ انتہائی درد بھرے انداز میں مجھے ماضی کی قبر میں دفن ربنا ظلمنا انفسنا کی سرگوشیاں سنا رہا تھا ۔ ہو سکتا ہے اس نے اپنی ذات میں خاص میرے لئے ایک سرنگ کھودی ہو۔ ہو سکتا ہے ابھی بہت کچھ سننا باقی ہو۔ فیس بک کا پلیٹ فارم ابھی تروتازہ ہے ۔ وہ آج بھی اپنے درد کو بانٹ رہا ہے ۔ اسی مخصوص درد کے ساتھ ۔۔۔ بری امام کے احاطے سے لے کر آج تک چائے کا کھوکھا بھی آباد ہے اور اس کی پراسرار مسکراہٹوں کا سلسلہ بھی۔ وہ انتہائی گہرا اور پرت در پرت انسان ہے۔ ہو سکتا ہے پھر کسی روز کوئی اور سرنگ کھلے ۔ پھر کچھ نیا دریافت ہو ۔۔۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اُس نے واقعی چابی گم
کر دی ہو؟ اس سے زیادہ میری فریکیوئنسی کو کون سمجھ سکتا ہے بھلا؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فی الحال ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔