ہر سال 25 دسمبر کو میں دو ہستیوں کے تصور میں ڈوب جاتا ہوں۔

ایک پر ایمان لانا میرے مسلمان ہونے کے لئے لازمی شرط ہے تو دوسری ہستی کو ماننا میرے پاکستانی ہونے کی سب سے زندہ اور توانا علامت ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر مبارک پھر کسی موقع پر کہ وہ انتہائی عظیم اور مقدس ہستی ہیں جن کا آدم علیہ السلام کے شجرے میں بظاہر کوئی شجرہ نہ ہوتے ہوئے بھی وہ سب شجروں میں اپنی انفرادیت کے ساتھ مہک رہے ہیں۔

آج قائداعظم کا جنم دن ہے۔ 

میں ہر سال کاغذ اور قلم لے کر قائداعظم کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہوں۔ اُن سے باتیں کرتا ہوں اور ان کی باتیں نوٹ کرتا جاتا ہوں۔ 

آج 25 دسمبر 2016 ہے۔ 

قائداعظم کا درد میری انگلیوں سے ہوتا ہوا آپ کی آنکھوں کے راستے دل میں اترنے کو بے تاب ہے۔

خدارا اس درد کو سمجھیئے۔

قائداعظم قوم سے شاکی ہیں۔

وطن عزیز پاکستان کی بنیاد اس لئے رکھی گئی تھیں تا کہ ہم یہاں کامل آزادی کے ساتھ جی سکیں۔ قائداعظم کے ہر خطبے میں، ہر تقریر میں فقط زندگی کا پیغام تھا۔ امید کی روشنی تھی ۔ اتفاق و اتحاد کا نور جلوے بکھیرتا تھا۔ قائداعظم شاکی ہیں کہ ہم جی کیوں نہیں رہے؟

ہم زندگی سے اس قدر مایوس کیوں ہو چکے؟

ہم لسانیت، صوبائیت اور فرقہ واریت کی آگ میں جلنے والا ایندھن کیوں بن چکے؟

قائداعظم شاکی ہیں۔ بہت شاکی ہیں۔ اور ان کا یہ شکوہ درد بن کر میری انگلیوں کے ذریعے آپ کی آنکھوں سے ہوتا ہوا آپ کے دل کے تاروں کو چھیڑ رہا ہے۔

ہماری صفوں میں اتحاد کیوں نہ رہا؟

ہم تو یک جان تھے۔ سبز ہلالی پرچم کے نیچے ہم سب ایک قوم تھے۔ ہمیں کس کی نظر لگ گئی؟

قائداعظم شکوہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی بنیاد اقلیتوں کے مکمل تحفظ اور مذہبی آزادی کی ضمانت تھی۔ ایسا کیا ہوا کہ بنیادوں میں اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں اپنے ہی بھائیوں کا لہو بہتا جاتا ہے۔

قائداعظم نے تنظیم کا عہد لیا تھا ہم سے۔

ہمارا نظم و ضبط کہاں کھو گیا ہے؟

ہم ایک ہی پرچم تلے منظوم کیوں نہ رہےَ؟

ہماری قومی شناخت کی ہر بحر کا وزن کیوں ٹوٹ گیا؟

ہمارے ردیف اور قافیئے کیوں اس قدر بے ربط اور بے وزن ہو گئے کہ اب توازن ہے نہ ہم آہنگی۔ سُر ہے نہ تال۔

قائداعظم شاکی ہیں کہ ہم کیوں ایک قوم بن کر ایک ہی مقصد کے تحت ایک ہی سمت میں اپنی توانائیوں کو استعمال نہیں کر رہے؟

قائداعظم شاکی ہیں کہ میں نے کام ، کام اور صرف کام کی ہدایت کی تھی۔

میں نے کہا تھا میرے بچو۔۔۔ وقت ضائع مت کرنا۔ پھر تمہیں کیا ہو گیا ۔۔۔ کس کی نظر لگ گئی۔۔۔۔ کہ تم محنت سے ہی جی چرانے لگے؟

دیکھو ایسا مت کرو۔۔۔۔

یہ وطن اب تمہیں سنبھالنا ہے ۔۔۔

کل قیامت کے دن مجھ سے ملو گے تو میرا سامنا کر پاؤ گے؟

مت کرو ایسا۔ مت ٹوٹو آپس میں۔ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاؤ۔ ایک مالا کے موتی بن کر چمکو اور اپنی چمک سے ظلمتوں بھرے جہان میں اُجالے بھر دو۔۔۔دیکھو میرے بچو ۔۔۔۔۔ آزادی خوشبو ہے۔۔۔۔ اس خوشبو کا احترام کرو ۔۔۔۔اور اس بات کا اہتمام کرو کہ یہ خوشبو آنے والی نسلوں تک پھیل جائے۔

جُڑ کے رہو۔ ٹوٹو مت۔ توڑو مت۔ بس جوڑتے جاؤ۔۔۔ سندھی کو پنجابی سے۔۔۔ بلوچ کو پٹھان سے۔۔۔، کشمیری کو براہوی سے۔۔۔ سب جڑ جاؤ۔۔۔ ایک قوم بن جاؤ ۔۔۔۔

قائداعظم شاکی ہیں کہ ہم ہر سال 25 دسمبر کو ان کی یاد میں تقریبات تو منعقد کرتے ہیں لیکن ان کو سکھ پہنچانے والے کام نہیں کرتے۔

پاکستان کا سکھ، قائداعظم کا سکھ ہے۔

پاکستان کا دکھ، قائداعظم کا دکھ ہے۔

قائداعظم کہتے ہیں پاکستان خوش ہو گا تو میں عالم بالا میں خوش رہوں گا۔

یہ وطن امانت ہے میرے بچو ۔۔۔۔۔

اسے سنبھالنا ہو گا۔۔۔

اس کی ہر تاریک گلی کو اجالنا ہو گا۔

دیکھو۔۔۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔۔۔۔ تم کیوں نہیں اپنا مقام پہچانتے؟

اقبال کے شاہین ہو تم ۔۔۔۔۔

کرگس مت بنو۔۔۔۔

صحرانشینوں کی اولادیں ہو تم۔۔۔۔۔۔

مخملیں آرام گاہوں سے باہر نکلو۔۔۔۔ جہد مسلسل کی راہ پر چلو۔۔۔ مشکلات کا سامنا کرو گے تو آسانیاں ملیں گی۔۔۔۔

قائداعظم شاکی ہیں قوم سے اور چاہتے ہیں کہ قوم کا ہر فرد وطن عزیز کی بقا، سالمیت اور استحکام کے لئے ایک جان ہو جائے۔ سبز ہلالی پرچم کے نیچے اپنی صفوں میں اتحاد کی وہ فضا قائم کرے کہ پھر کسی دشمن کو یہاں بارود کی بو اور دھویں کا کاروبار کرنے کی ہمت نہ پڑے۔ ماؤں کی گودیں نہ اجڑیں۔ سہاگنوں کے سہاگ سلامت رہیں۔

قائداعظم چاہتے ہیں کہ ہم اپنی خودی اور اپنے جوہر کے ساتھ زندہ رہیں اور دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام اس طرح حاصل کریں کہ آنے والی نسلیں گواہی دے سکیں کہ ہاں۔۔۔ہاں۔۔۔۔ 2017 میں پاکستانی قوم موجود تھی۔۔۔۔ جس نے عالمی گاؤں کو ترقی کے وہ راز دیئے جو اس سے پہلے کسی کے وہم و گمان میں تھے نہ اس کے بعد کسی کے حیطہ ادراک میں آ سکے۔