اسلام دینِ فطرت ہے!
میں نے ایک طویل عرصہ اسلام کو سمجھنے کی کوشش کی ۔ اسلام حلق سے نیچے نہیں اُترا ۔ خشک کتابیں ۔ پیچیدہ ترین فقہی معاملات ، تمام مکاتیب فکر کے اپنے دلائل و براہین ۔ میری اُلجھنوں کو سلجھاؤ نہیں ملا۔
پھر میں نے اسلام کو خیر باد کہہ دیا ۔ دین کو سمجھنے کی کوشش کی ۔
دین، مکمل نظام حیات ہے۔ دین یہ ہے۔ دین وہ ہے ۔ نت نئے فلسفوں سے پالا پڑا ۔ میں نے دین دار بننے کی مخلصانہ کوششیں کیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میں دین دار رہا نہ دنیا دار ۔ پس میں نے دین کے رائج تصورات سے بھی توبہ کر لی ۔ مجھے ایسا دین دار نہیں بننا جو مجھے رہبانیت سکھا دے ۔ جو مجھے خانقاہوں کا مجاور بنا دے۔
میں تلاش کے اس سفر میں لا دین ہو گیا۔ دہریہ ہو گیا ۔ میرا ظاہر سماج کی خارجی پابندیوں کے زیر اثر وہی ’’کرتوت‘‘ کرتا رہا، جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والے ہر بشر کو کرنا ہیں۔ لیکن رہ رہ کے میرے اندر یہ آوز گونجتی تھی ۔ ’’تم اسلام کو نہیں سمجھے‘‘۔ ’’تم دین کو نہیں سمجھے‘‘ تم بس رسم و رواج کے پابند ہو ۔ تم کلچرل زنجیروں میں جکڑے ہوئے بے بس انسان ہو اور کچھ بھی نہیں۔ تم عرب کے اُن بدوؤں جیسے ہو جو تحقیق سے عاری تھے ۔ بصیرت سے محروم تھے ۔‘‘
میں نے اندر کی آوازوں کو باہر نکلنے ہی نہیں دیا۔ میرے سماج میں ایسی آوازوں پر کفر کے فتوے لگتے تھے ۔ میں کلچرل حدود میں بہرحال مسلمان رہنے کا پابند تھا ۔ اگر لوگوں کو علم ہو گیا کہ میں اسلام اور دین کے نام پر رائج ’’معجون‘‘ کا کافر ہوں تو عین ممکن ہے مجھے معاشرتی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑے ۔ سادات گھرانے کا چشم و چراغ اور کافر ۔ کیا کیا نہ سننا پڑتا میرے ماں باپ کو۔ اُن محترم و مکرم آباؤاجداد کو جن کے ہر سال عرس ہوتے ہیں۔ جو عمر بھر علم و آگہی اور شعور بانٹتے رہے۔
پس میں نے بھی کلچرل بہاؤ میں منافقت کی تیراکی و پیراکی سیکھ لی ۔ اندر کچھ، باہر کچھ ۔ سماج کی خوشنودی انسان کو اچھا خاصا منافق بنا دیتی ہے۔ اور کوئی چارہ بھی تو نہیں ہوتا۔ یہی ضعف، اصلی اور خطرناک ضعف ہے۔ یہ بھید بعد میں کھلا۔
لیکن میرے اندر وہی آوازیں گونجتی رہیں۔ ’’تم دین کو نہیں سمجھے‘‘ تم بس رسم و رواج کے پابند ہو ۔ تم کلچرل زنجیروں میں جکڑے ہوئے بے بس انسان ہو اور کچھ بھی نہیں۔ تم عرب کے اُن بدوؤں جیسے ہو جو تحقیق سے عاری تھے ۔ بصیرت سے محروم تھے ۔‘‘
اسلام دین فطرت ہے!
بس یہ مختصر سا جملہ میرے فکر و شعور میں ارتعاش پیدا کرتا رہتا ۔ میں گھنٹوں کمرے میں بند کتابوں کی ورق گردانی کرتا ۔ کبھی قرآن، کبھی انجیل، کبھی گیتا، کبھی گرنتھ ۔ کبھی فلسفہ، کبھی فقہہ کی کتابیں ۔ بس دہریہ بننے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی ۔ ہر دوسری کتاب میں ایک نئی بات ۔ قرآن کے مختلف تراجم دیکھے ۔ تفاسیر دیکھیں۔ احادیث کی کتب کے مختلف ورژن دیکھے ۔ جہاں پتہ چلتا کوئی راہبر ہے ، وہاں پہنچ جاتا ۔ لیکن مجھے میرے سوالوں کا جواب کہیں سے نہیں ملا۔
اسلام دین فطرت ہے ۔۔۔ تو میں دہریہ کیوں ہوں؟ مجھے رائج نظام کو اسلام اور دین ماننے میں دشواریوں کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟
من کی دنیا میں بھونچال پیدا ہوتے رہتے ۔ تن کی دُنیا میں کمال مہارت سے میں نے جینا سیکھ لیا تھا ۔ لوگ میرے ہاتھ چومتے ۔ مجھے سید زادہ سمجھ کر میری تکریم کرتے اور میرا تن جھومنے لگتا ۔ لیکن میرے اندر آوازیں گونجتی رہتیں۔
‘‘ تم بس رسم و رواج کے پابند ہو ۔ تم کلچرل زنجیروں میں جکڑے ہوئے بے بس انسان ہو اور کچھ بھی نہیں۔ تم عرب کے اُن بدوؤں جیسے ہو جو تحقیق سے عاری تھے ۔ بصیرت سے محروم تھے ۔‘‘
پھر ایک روز یوں ہواکہ میں اس منافقت اور دوغلے پن سے واقعی گھبرا گیا۔ اندر کے ہر دم بڑھتے حبس نے مجھے چاروں شانے چت کر دیا ۔ میں بغاوت کرنہیں سکتا تھا ۔ پس میں نے خاموشی اختیار کر لی ۔ دل میں سوچ لیا کہ رائج نظام میں جو کچھ ہے، اس کا ’’لا‘‘ کرنا ہے۔ میں نے دراصل کلمے کے پہلے لفظ سے ابتدأ کر دی۔
’’لا‘‘ کی منزل
بس لا کر دیا ۔ ہر شے کی نفی کر دی ۔ میں نے کعبہ ذات میں موجود تمام چھوٹے و بڑے بتوں کی فہرست تیار کی ۔ اور پھر اُن کے خلاف ابراہیمی ’’لا‘‘ کے کلہاڑے سے جہاد شروع کر دیا۔ میں نے اس ’’جہادی پراسیس‘‘ کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی ۔ یہ ابتدائی دور تھا ۔ مجھے رات کے اندھیرے میں ہجرت کرنا تھی۔ میرے اپنے نفس میں موجود کافر بہت طاقتور تھے ۔ میں اُن تمام معبودوں کے خلاف ابھی کلمہ حق بلند نہیں کر سکتا تھا۔ ایسا کرتا تو مار دیا جاتا۔
اسلام دین فطرت ہے! بس یہ میرا نصاب تھا۔
میں اسلام اور دین سے برگشتہ ہو چکا تھا۔
میں نے جب ’’لا‘‘ کرنا شروع کیا ، تو بارہا مجھے خود ہی عدالت لگانا پڑتی ۔ میں چونکہ ’’لا‘‘ ئیر تھا ۔ اس لئے میں خود ہی اپنے آپ کو کٹہرے میں کھڑا کرتا۔ خود ہی گواہیاں دیتا۔ ثبوت پیش کرتا۔ خود ہی منصف بن جاتا اور خود ہی وکیل و مدعی ۔ بحث ہوتی اور گھنٹوں اس مقدمے کی کاروائی چلتی رہتی ۔
میں اب بہت کم لوگوں سے ملنے لگا تھا۔ میرا زیادہ تر وقت درباروں پہ گزرتا ۔ ویرانوں میں گزرتا ۔ ہر وہ جگہ جہاں ’’حرا جیسی غار‘‘ تھی، میں وہاں چلا جاتا ۔ ذہن کے نہاں خانوں میں ’’غار حرا‘‘ سے ایک عقیدت بہرحال ضرور تھی ۔ اُنسیت تھی ۔ یا شاید ’’غار حرا‘‘ میری ضرورت تھی ۔ یا شاید میرے اندر سے کوئی آواز آتی تھی ۔ ’’تخلیہ‘‘ اور جیاں تخلیئے کی ضرورت ہو گی وہاں ’’غار حرا‘‘ کا تصور لازمی تھا۔ ظاہر ہے اسلام اور دین کے نام پر رائج کلچر سے میں پہلے ہی بے زار ہو چکا تھا۔ لیکن یہ ایک حقیقت تھی کہ اُس سارے سفر میں جب میں ہر شے کو ’’لا‘‘ کے کلہاڑے سے توڑ رہا تھا، مجھ سے غار حرا کو توڑا نہ جا سکا۔ وہاں کوئی بت تھا ہی نہیں۔ بس تخلیہ۔ اور مجھے اس تنہائی کی ضرورت تھی۔
اسلام دین فطرت ہے! بس غار حرا تھی اور یہی میرا نصاب تھا۔
میں اسلام اور دین کے نام پر رائج کلچرل ’’تک بندیوں‘‘ کو ’’لا‘‘ کے کلہاڑے سے ڈھیر کر چکا تھا۔ اب میرے پاس ایک ہی راستہ بچا تھا کہ میں فطرت پر غور کروں۔ فطرت کیا ہے؟ مجھے ایک راہبر نے بتایا ’’فطرت کی تفہیم ہی صراط مستقیم ہے!‘‘۔ کہا تھا کسی کہنے والے نے کہ ’’اگر تم فطرت کو سمجھ گئے تو سمجھدار ہو جاؤ گے۔‘‘ میں نے جہاں سب کی نفی کی تھی، وہیں اُس راہبر کا اثبات کرنا پڑا۔ اُس نے بات ہی ایسی کی تھی۔ وہ اندر سے بولا تھا۔ یا یوں سمجھ لیں کہ اُس نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ حکیم بن کر ایسی نبض شناسی کی تھی کہ میں تن کی دنیا کا مشہور و معروف سید زادہ دھڑام سے اُس کے آہنی شکنجے میں آ چکا تھا۔
اسلام دین فطرت ہے!
میں اسلام اور دین کے نام پر بنائے گئے ہر بت کو پاش پاش کر چکا تھا۔ اب مجھے فطرت کو ہی سمجھنا تھا۔ مجھے اُس راہبر نے ’’پورنے‘‘ ڈال کر دیئے ۔ حروف تہجی عطا کر دیئے ۔ اسماء سکھا دیئے ۔
راہنمائی کی تھی ایک اُستاد محترم نے ۔
سورہ روم کی آیت نمبر ۳۰
(فطرت اللہ التی فطر الناس علیھا)
” اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔“
اسلام دینِ فطرت ہے! پس میں نے اس جملے کو تین مختلف اجزاء میں تقسیم کر کے دیکھا:
۱۔ اسلام نامی کوئی دین ہے۔ جس کی میں نفی کر چکا تھا۔
۲۔ اسلام نامی دین، دینِ فطرت ہے۔ میں تو دیندار تھا نہ دنیا دار ۔ یہاں بھی نفی ہو چکی تھی۔
۳۔ فطرت کیا ہے؟ اب مجھے یا تو اس مرحلے پر ’’لا‘‘ کرنا تھا یا ’’الا‘‘۔
یاد رکھیں اس میں ’’ہے‘‘ ہے۔ تھی، تھا، یا گی گا نہیں۔ اسلام دینِ فطرت ہے ۔ ہے پر زور ہے۔
پس میں تھا۔ غار حرا تھی ۔ اور فطرت کا دبستان ۔
میں بہت پہلے درد سے شناسا ہو چکا تھا۔ محبتوں کے نام پر وہ سب ستم سہہ چکا تھا جو رائج نظام میں بننے والی فلموں، ڈراموں اور رومانوی کہانیوں میں عام مذکور تھے ۔ لیکن میں نے ہر اُس جذبے کی نفی کر دی۔ درد کی بھی نفی کر دی۔
من عرف نفسہ
میں نے اکیالیس جمعراتیں لگاتار داتا دربار پر تفکر کیا۔ میں سورج غروب ہونے کے بعد وہاں جاتا اور سورج طلوع ہونے سے قبل تانگے پر بیٹھ کر واپس اپنی غار میں آ جاتا۔
میں کلفٹن ، کراچی، سندھ میں عبد اللہ شاہ غازی کے احاطے میں کئی راتیں جاگا۔ اُس وقت یہاں دربار کے احاطے سے ساحل پر آتی جاتی لہریں دیکھی جا سکتی تھیں۔ قلزم میرے لئے ہمیشہ محترم رہا ہے ۔ میں تمام ندی نالوں اور پرنالوں کی نفی کر کے قلزم کی تلاش میں نکلا وہ قطرہ تھا جسے اب فطرت کو سمجھنا تھا۔ اپنی فطرت کو۔ قلزم کی فطرت کو سمجھنے کی کوششوں میں پے در پے ناکامیوں کے بعد اب مجھے قطرے کو سمجھنا تھا۔ باہر کچھ نہیں، اندر ہی ملے گا جو ملے گا۔ جن کے اندر خالی رہتے ہیں، وہ بس ڈھول بن کر سماج میں بجتے رہتے ہیں۔ اندر، من کی دنیا میں ڈوب کر سراغِ زندگی پا جاؤ۔
میں بلوچستان کے پہاڑوں میں گیا۔ خشک پہاڑوں پر کالے مٹیالے پتھر مجھے پھولوں جیسے دکھائی دینے لگتے ۔ دست شناسی، جوہر شناسی ۔ علمدار روڈ ۔ یہ پتھر پہنو، وہ انگوٹھی پہنو۔ زائچے کیسے بنتے ہیں؟ تعویذ کیا ہیں۔ چلے کیا ہیں۔ یہ سب مراحل طے کئے۔
میں نے کشمیر اور مری میں فطرت کو سمجھنے کے دورے کئے ۔ ہنگامی دورے ۔ کوئی جادو؟ کوئی جوڑ توڑ؟ کوئی ایسا آسان راستہ جس پر چل کر منزل قریب آ جائے۔ لیکن سب کچھ ’’لاحاصل‘‘۔ سعیٔ نا تمام ۔ اور بس۔
میں نے ’’مجاہد‘‘ بننے کی بھی کوشش کی ۔ مکمل کمانڈوطرز کی ٹریننگ۔ علی الصبح اُٹھنا۔ کئی کئی میل دوڑنا۔ ڈنڈ پیلنا۔ رات گئے نہرمیں چھلانگ لگا دیتا اور پہروں پانی کے اندر سانس بند کئے مراقبہ کرنا۔ بہروپ بھرنا۔ کبھی یہاں تو کبھی وہاں۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ زندگی، موت نے ہی دبوچ لی۔ جزوی موت۔ عجیب جنون تھا۔ اور میرے پاس زاد راہ میں قرآن کے سوا کچھ نہ تھا۔ باقی ہر کتاب کا میں ’’لا‘‘ کر چکا تھا۔ قرآن مجھے اُس راہبر نے دیا۔ اور کہا یہ کتابِ فطرت ہے ۔ شاید راہبر کو خبر تھی کہ میں اسلام اور دین کے نام پر رائج تمام کلچرل حد بندیوں کو پہلے ہی توڑ چکا تھا۔ قرآن کے سب تراجم اور تفاسیر کی نفی کر چکا تھا ۔ایسا کرنا ناگزیر تھا۔ لیکن اُس راہبر نے مجھے یہ کہہ کر قرآن دے دیا کہ کتاب فطرت ہے۔
بس پھر میں تھا۔ غار حرا تھی اور فطرت کا نصاب۔
میں نے فطرت کا بغور مشاہدہ کیا۔
ابلیس، آدم، وسوسے ۔۔۔ جھوٹ، خیانت، بغض، غیبت، نفرت، محبت، منافقت، ریاکاری ۔۔۔۔ میں پڑھتا چلا گیا۔ گور کرتا چلا گیا۔ جیسے آسمان سے گرتے اولوں کو بچے جمع کرتے ہیں۔ فطرت کا ہر صحیفہ مجھے اچھا لگا۔ لطف آنے لگا۔
امارہ، لوامہ، مطمئنہ ۔۔۔۔۔ لطف ہی لطف ۔۔۔۔
میں جانتا ہوں بہت خیر و شر کے بارے میں
میں زندگی کے ہر اک راستے سے گزرا ہوں
آنسو، سوال ۔۔۔۔ سرگوشیاں ۔۔۔۔
لطف ہی لطف ۔۔۔۔۔
بے نیازی سی بے نیازی ۔۔۔۔
لطف ہی لطف ۔۔۔۔۔
اتنی اہمیت تو تن کی دنیا کے سید زادے کو بھی کبھی نہ ملی تھی ۔۔۔۔ لاڈ ہی لاڈ ۔۔۔۔۔ حوصلہ ہی حوصلہ۔۔۔۔ راہنمائی قدم قدم پر ۔۔۔۔۔ دھڑکن دھڑکن ساز ۔۔۔۔ سانس سانس میں حکمتیں ۔۔۔۔
پھول، پودے، تتلیاں، پرندے ، جانور ۔۔۔۔۔ جنگل۔۔۔۔ صحرا۔۔۔۔ پہاڑ۔۔۔۔ چراگاہیں، چاند، تارے، چاندنی، لہریں، ساحل، سمندر، بس یہ میرے موضوعات تھے ۔۔۔ تخلیق ۔۔۔۔ تولید ۔۔۔۔ جنس ۔۔۔۔ پیدائش۔۔۔ پرورش ۔۔۔۔ رشتے ۔۔۔۔ تعلقات ۔۔۔۔ خواہشات ۔۔۔۔ زندگی، موت ۔۔ بس یہ میرے اسباق تھے ۔۔۔۔ میں رات رات بھر غار حرا میں فطرت کی گردانیں سمجھنے کی کوشش کرتا ۔۔۔۔۔ منطقی پیٹرن دیکھتا ۔ یہ ہوا تو وہ ہوا ۔ اگر پھر یہی ہو گا تو پھر وہی ہو گا۔ فارمولے ہی فارمولے دکھائی دیتے تھے ۔ ایک نظام کے تحت سب کچھ آگے بڑھ رہا ہے۔ پھیل رہا ہے۔ عدم ہو رہا ہے۔ وجود پا رہا ہے۔
پھر ایک رات، اچانک ۔۔۔۔۔۔ غار میں روشنی ہو گئی ۔ خوشبو پھیل گئی ۔ اندر باہر۔ خوشبو ہی خوشبو۔ روشنی ہی روشنی ۔
مجھ پر ایک لمحہ ایسا مہربان ہوا کہ صدیوں کی الجھنیں سلجھ گئیں۔ سب پیٹرن ترتیب پا گئے ۔
وہ ایک لمحہ جو پھیلتا چلا گیا۔ عالمین میں پھیل گیا۔۔۔۔ نور ہی نور ۔
وہ ایک لمحہ جس کا نام محمد ﷺ ہے ۔ رسول ﷺ تمہیں جو دیں وہ لے لو، جس سے روکیں، رک جاؤ ۔ فطرت کا دبستان ایک لمحہ بن کر پھیل گیا۔۔۔۔ خاکی بشر کو اس لمحے نے بالِ جبریل دے دیئے ۔ وہ لمحہ، فطرت کا امین بن کر ایسے پھیلا کہ اندر باہر
السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ و برکاتہ
السلام علینا
وعلیٰ عباد اللہ الصالحین
امن ہوتا چلا گیا۔
سکون ملتا چلا گیا
گتھیاں سلجھتی چلی گئیں۔۔۔۔
علمائے حق سر کا تاج بن گئے ۔۔۔
پیرانِ کرام محبتوں کی روشن علامتیں بن گئے ۔۔۔
ہر انسان قابل احترام ہو گیا۔
بغض گیا۔ تعصب گیا ۔ رحمتیں ہی رحمتیں۔ اندر باہر رحمتیں ہی رحمتیں۔
جب تک اندر کچھ غلط تھا، باہر سب کچھ غلط لگتا تھا۔ جب اندر روشنی ہوئی تو باہر اُجالے ہی اُجالے دکھائی دینے لگے۔
فطرت نے واپس دین سے جوڑا۔ دین نے اسلام سے مربوط کیا ۔۔۔۔۔
اب کاٹ دو ۔۔۔۔
پیس دو ۔۔۔۔
گرم ریت پہ لٹا دو۔
اسلام میرا دین ہے۔
میرا دین ایک کامل دین ہے۔۔۔
اور وہی کامل دین، دین فطرت ہے ۔۔۔۔
فطرت کا دین کمال ہے۔۔۔۔۔
جس انسان نے کامل ہونا ہے، اُسے فطرت کے دین کے کمالات کو سمجھنا ہو گا۔۔۔۔ یہی سب سے بڑا کمال ہے کہ آپ باکمال ہستی ﷺ کا لایا ہوا نصاب منتخب کر لیں۔ بس پھر آپ کا انتخاب کر لیا جائے گا۔
وہ دن ہے اور آج کا دن ۔۔۔۔۔۔ روشنی اور خوشبو کے دائرے پھیل رہے ہیں ۔۔۔۔
میں ہوں اور غار حرا ۔۔۔۔
اور اظہار تشکر
السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ و برکاتہ
اس سفر میں نفرتیں بھی دیکھیں، محبتیں بھی۔
موسم بدلتے دیکھے ۔۔۔ روپ، بہروپ، انداز ۔ کیا کچھ نہ بدلا۔
نشیب و فراز دیکھے ۔۔۔۔ اُتار چڑھاؤ ۔۔۔ اونچ نیچ ۔۔۔ گرمی سردی ۔۔۔۔
مایوسی کے سیلابی ریلوں کا سامنا کیا۔ امید کے کنارے ہاتھ آئے۔ لیکن میں محسوس کیا کہ اس تضاد اور کشمکش نے سفر کو حسین تر بنا دیا ہے۔
فقد عرف ربہ
لیکن وہ ’’اللہ‘‘ جو رحمتہ اللعالمین ﷺ کا رب ہے ۔۔۔۔۔ ہمیشہ بہت مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہی رہا۔ اُس نے مجھے میرے سچ سمیت قبول کر لیا ۔ کبھی ڈانٹا نہیں۔ جھڑکا نہیں۔ فتویٰ نہیں لگایا۔ بس لاڈ ہی لاڈ ۔ قطرہ جب قلزم میں جذب ہو جائے تو پھر قلزم کا رنگ ، قلزم کی پاکیزگی ۔۔۔۔ اے قطرے ۔۔۔ اپنا آپ قلزم کو سونپ دے ۔۔۔۔ اور پاک ہو جا۔۔۔۔ بندوں میں داخل ہو جا۔۔۔۔۔ جنتوں میں داخل ہو جا۔۔۔۔۔۔
داخلے کا ایک ہی پاسپورٹ ہے ۔۔۔۔ ہر مسلمان کے لئے ۔۔۔۔
جو در مصطفیٰ ﷺ پہ جھک گیا اُسے رفعتیں مل گئیں۔ جو اُن کا ہو گیا ﷺ، عالمین اُس کے ہو گئے۔
بس اب زندگی کا یہی مقصد ہے۔ رسول ﷺ تمہیں جو دیں، وہ لے لو۔ جس سے روکیں۔ رُک جاؤ۔ اب اگلے مراحل تلاش کا یہی مرحلہ ہے۔ اللہ کا کرم ہو اور حشر اس حال میں ہو کہ رسول ﷺ نے جو دیا ہو، اُس کا حق ادا کر سکوں۔ رسول ﷺ نے جس سے روکا ہو، اُس سے رکنے والا کہلا سکوں ۔ رسول ﷺ نے قرآن دیا اور اں فارمولوں کو اپنی زندگی میں منطبق کر کے سکھا دیا۔ وہی کرنا ہے۔ اُنہی سے سیکھنا ہے۔ ﷺ ۔ یہی کرنا ہے اب جب تک کرنا ہے۔
السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ و برکاتہ
السلام علینا
وعلیٰ عباد اللہ الصالحین