مزاح کا مزاج بھی پانی کی طرح ہوتا ہے۔ بے رنگ، بے بو، بے ذائقہ بالکل غیر جانبدار۔ گندے برتن میں ڈالو، گندہ ہو جاتا ہے۔ رنگ والے برتن میں ڈالو، رنگین ہو جاتا ہے۔ بدبو والے برتن میں جا کر بدبودار ہو جاتا ہے۔ چینی، گڑ یا شکر ملے برتن میں جا کر میٹھا ہو جاتا ہے۔ اور سنکھیا (زہریلےمواد) والے برتن میں ڈالو تو زہریلا ہو جاتا ہے۔
مزاح کی بظاہراپنی کوئی شخصیت نہیں ہوتی۔ غیرمہذب اور اخلاق باختہ گروہ کا مزاح بھی غیر مہذب اور اخلاق باختہ ہوا کرتا ہے۔ مہذب اور اخلاق والے گروہ کے مزاح پر بھی اُس گروہ کے کردار کی چھاپ پڑتی ہے۔
مزاح، اسلام سمیت کسی دین یا مذہب میں منع نہیں۔ مزاح کے استعمال کی کچھ حدودوقیود ہر مذہب اور ہر سماج نے بہرحال ضرور طے کر رکھی ہیں۔ جو مزاج جس قدر حدودوقیود کا قائل ہو گا اُس کا مزاح بھی اُسی قدر حدودوقیود کا خیال رکھنے والا ہو گا۔
وہی رسمیں جو مہذب ملکوں میں کسی قاعدے، کسی ضابطے یا کسی اصول کے تحت منائی جاتی ہیں، وہ جب اُن معاشروں کا یا اُن افراد کی زندگیوں کا حصہ بنتی ہیں جو غیرمہذب ہوتے ہیں تو رسوم و رواج میں مزاح کی شکل، بدشکلی کے دائروں میں گھومنے لگتی ہے۔
مزاح کا بھی ایک خاص موسم، ایک خاص کیفیت اور ایک مخصوص رکھ رکھائو ہوتا ہے۔ بعض اوقات ہمیں مزاح سوجھ رہا ہوتا ہے جبکہ محفل پر اُس وقت سنجیدگی طاری ہوتی ہے۔ اسی لئے تعلیمات دی گئیں کہ جب کسی مرگ والے گھر میں جائو تو رونے کی کوشش کرو۔ اپنے اوپر اداسی طاری کر لو۔ اور اگر رونا نہ آئے تو رونے والوں جیسی شکل بنا لو۔
اسی طرح خوشی کی محفل میں کچھ لوگوں کے چہروں پر انجانے حسد اور محرومیوں کے سائے لرزاں ہوتے ہیں۔ خفیف حسد، بری بلا ہے۔ محفلوں کے مزاج کے مطابق مزاح مناسب ہوتا ہے۔ اسی طرح بندوں کے مزاج کے مطابق بھی مزاح کی اہمیت ہے۔
کچھ لوگ بچپن سے ہی سڑیل اور حاسد طبیعت لے کر پروان چڑھتے ہیں۔ حاسد کی سب سے بڑی نشانی اُس کا سست اور کاہل ہونا ہے۔ وہ ہمیشہ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیوں پر برہنہ پا حالت سفر میں رہتا ہے۔ اور زخمی رہتا ہے۔
محرومیاں بھی انسان کو جلاتی ہیں۔ لیکن یہی محرومیاں انسان کو بہت توانا بھی بناتی ہیں۔ جن گھرانوں میں گھٹن ہو، حبس ہو، منافقت ہو، وہاں مزاح دم توڑ جاتا ہے۔ جن طبقات اور جماعتوں میں دین مکمل طور پر نافذالعمل نہ ہو وہاں ہمیشہ خدشہ رہتا ہے کہ بعض آیات پر تو ایمان اور بعض سے کفر ہوتا رہے گا۔
مزاح کا اسلام سے نہایت شستہ تعلق ہے۔ کسی بھی الہامی دین نے مزاح سے نہیں روکا۔ بس حدودوقیود مقرر کر دیں۔
بداخلاق انسان سے اچھے مزاح کی توقع رکھنا بالکل ایسے ہی ہے جسے کیکر کے درخت سے توقع کی جائے کہ وہ انار کے پھل پھول بانٹنا شروع کر دے۔
کچھ لوگ طبعی طور پر انتہائی زہریلے ہوتے ہیں۔ اُن کا مزاح بھی دو دھاری تلوار ہوتا ہے۔ مزاح کی آڑ میں طنز کی کیفیت دراصل انسان کی شخصیت سے وابستہ ہے۔ جو انسان جس قدر سڑیل ہو گا اُس کے مزاح میں اُسی قدر زہریلا پن ہو گا۔ ہر شعبہ زندگی پر انسانی مزاج کے گہرے نقوش ثبت ہیں۔ ذاتی طور پر بداخلاق انسان اگر مذہب کا لبادہ بھی اوڑھ لیں تو ان کے نظریات پر بھی اُن کی بدمزاجی غالب رہتی ہے۔ حسد کی آگ میں جلنے والے مولوی ہوں اُستاد ہوں صحافی ہوں سیاستدان ہوں یا کوئی بھی ہو اُن کا مزاج اُن کے نظریات پر اپنا تسلط قائم رکھتا ہے۔ اور پھر یوں ہوتا ہے کہ وہ اپنے مزاج کو حق اور سچ ثابت کرنے کے لیئے اپنے انداز میں دلائل اور حقائق کو مسخ کرکے پیش کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بد اخلاق انسانوں کے بداخلاق مزاح دراصل آئینہ ہوتے ہیں۔ ان کی اُس شخصیت کا جو بظاہر سماجی، سیاسی، نظریاتی یا مذہبی پردوں میں نہاں ہوتی ہے۔ قرآن اسی لیئے ایمان کو حلق سے نیچے اتارنے کا کہتا ہے۔ جب تک نظریات زبان اور حلق تک محدود رہتے ہیں وہ راسخ نہیں ہوتے۔ مزاح پر تعلیم و تربیت کے بھی انمٹ نقوش مرتب ہوتے ہیں۔ جس کی جیسی تربیت ہوتی ہے اُس کے مزاح کا انداز بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔ مزاح، درحقیقت، ایک بہت بڑی زنجیر کی ایک کڑی ہے۔ انسانی شخصیت کے اعمال و افعال میں ایک خاص ربط ہوتا ہے۔ گفتار اور کردار کا باہمی تعلق انسانی ذات کا ایک حسین پہلو ہے۔ جہاں گفتار اور کردار کے مابین ربط برقرار نہ رہے وہاں منافقت جنم لیتی ہے۔ اور پھر منافقت بھرے ماحول میں مزاح بھی اسی نوعیت کا ہوتا چلا جاتا ہے۔ انسان کی صحبت، اُس کی سوچیں، خیالات، نظریات، مصروفیات سب مل کر ایک انسانی شخصیت کا تانا بانا بنتی ہیں۔ اب مزاح چونکہ ایک اظہار ہے اس لیئے اس اظہار پر پس منظر میں نہاں شخصیت کی جھلک بہرحال بہانے بہانے سے اثر انداز ہوتی رہتی ہے۔
مزاح، انسانی زندگی کی تکمیل کا ایک جزو ہے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ مزاح کو کفر و منافقت کی بجائے ایمان کے دائروں میں رکھا جائے۔
اللہ اکبر –