معاشرے کفر کو تسلیم کرلیں اور ایمانداری سے کفر کی راہ پر چل پڑیں تو بھی ترقی کر سکتے ہیں۔
معاشرے ایمان کو تسلیم توکرلیں لیکن بددیانتی اور بدنیتی سے ایمان کی راہ پر چل پڑیں توزوال ہی اُن کا مقدر بنتا ہے۔ ایمان ہو کہ کفر، معاشرتی نظام کے استحکام سے مشروط ہے۔ جن معاشروں میں قول و فعل کا تضاد غالب آ جائے وہاں کبھی ترقی نہیں ہو سکتی۔ معاشرے (یا افراد) تضادات کا شکار ہوں تو ماسوائے منافقت کے وہ کسی میدان میں ترقی نہیں کر سکتے۔
رات کے اندھیروں میں اکثر شراب پینے والے صبح کے اجالے میں محراب و منبر سے شراب کے خلاف وعظ دیتے ہیں۔ ایوانوں میں شراب کے خلاف قانون سازی کرتے ہیں، سڑکوں پر منہ سونگھتے پھرتے ہیں اور کالے کوٹ پہن کر غریب شرابیوں کو سزائیں سناتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایسے افراد یا معاشرے قابل اعتبار نہیں ہوا کرتے جوامیروغریب کے لیئے الگ الگ قوانین بناتے ہوں۔
حرام خور، حرام کے خلاف جہاد کیسے کر سکتا ہے؟ اگر وہ مجاہد کے روپ میں نظر بھی آ رہا ہو تو سمجھو وہ اپنے حرام مال کے تحفظ کے لئے برسرپیکار ہے۔ میراثی، بھانڈ اور نقال اگر داڑھی رکھ کر ملا بن جائے اور اُس کا باطنی روپ اُس کے ظاہری روپ کی تبدیلی سے تبدیل یا متاثر نہ ہو تو کیا ہو گا؟ اسی طرح اگر کوئی تنگ نظر یا انتہاپسند کلین شیو بھی کر لے تو وہ تکفیریت سے کیسے باز رہ پائے گاا؟
منافق معاشروں میں قول و فعل کا تضاد زوال کی سب سے مضبوط وجہ بن جاتا ہے۔
یا شراب کی فیکٹریاں بند کر دو ، لائسنس منسوخ کر دو۔ یا غریب آبادیوں میں بھی لوگوں کو شراب پینے دو۔
بڑی بڑی کوٹھیوں سے چرس کی بو کے بھبھکے اُٹھتے ہیں۔ قانون ناک بند کر کے وہاں سے گزر جاتا ہے۔
اور وہی قانون کچی آبادیوں میں چرس کی بو سونگھتا پھرتا ہے۔
جسم فروشی کی خبریں دینے والا میڈیا وہاں بکنے والے جسموں کی خبر نہیں دیتا جہاں سے یہ رسم پھیلتی ہے۔
رشوت حرام ہے (کتابوں میں) عمل کی دنیا میں کہاں رشوت نہیں چلتی؟ یہ جو لولا لنگڑا نظام ہے، یہ تطہیر کا متقاضی ہے۔ اور تطہیر کا عمل ذاتیات کے سپرد کر دیا جائے تو نظریات مزید پراگندہ ہو جاتے ہیں۔
سٹے باز اور جواری ہر سطح پر موجود ہوتے ہیں۔ پکڑے صرف وہی جاتے ہیں جو طاقتور جواریوں اور سٹے بازوں کی مرضی کے بغیر جوا کھیلتے ہیں۔
ہر سال رمضان کی آمد ہوتے ہی بینک خالی کیوں ہو جاتے ہیں؟ دو دو نظام چل رہے ہوں تو کوئی ایک نظام بھی نہیں چل سکتا۔
سود کہاں نہیں؟ یا تسلیم کر لو۔ یا یکسر انکار کر دو لیکن خدارا سود کو مسلمان مت کرو۔ اُسے کلمہ مت پڑھائو۔ لوگوں کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔ قدرت کو نہیں۔
دو رنگی چھوڑنی ہو گی۔
جن محفلوں کے انعقاد پر پوش علاقوں میں پولیس کے چھاپے نہیں پڑتے۔ ویسی ہی طرز کی محفلوں کے انعقاد پر کچی آبادیوں میں چھاپہ بھی نہیں پڑنا چاہیئے۔قانون سب کے لئے ایک ہو۔ تو فلاح ممکن ہے۔
ورنہ زوال ہر لمحہ قریب ہوتا جا رہا ہے۔
منافق معاشرے اللہ کی الوہیت کا مزاق اڑاتے ہیں۔
فیس بک کو بند کریں۔ باہر نکل کر دیکھیں۔ ہر محکمے میں رشوت ہے۔ سفارش ہے۔ غنڈہ گردی ہے۔ اقربا پروری ہے۔ ہر ہر جگہ ظلم ہے۔ منافقت ہے۔ دو نمبری ہے۔
اور اس پر ظلم یہ کہ اسلام کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ لوگ اس امید پر اپنے گناہوں سے تائب نہیں ہوتے کہ انہیں بتا دیا گیا ہے کہ ایک حج یا عمرہ کر آنے سے آپ ’زیرومیٹر‘ ہو جائیں گے۔ کسی کے پاس مہلت کا سرٹیفکیٹ ہے؟ منافق معاشروں میں فتوے سازی کا کام کاروبار عروج پر ہوتا ہے باقی ہر طرف زوال ہی زوال۔ معاشرے کی تطہیر حبس اور گھٹن کے خاتمے سے مشروط ہے۔ جب تک امیر و غریب کے لیئے یکساں قانون کا اطلاق نہیں ہوتا، بادشاہت کو تو مضبوط کیا جا سکتا ہے، عام لوگوں کی فلاح و بہبود کے نظام کو نہیں۔
اللہ اکبر –