ہم انسان مٹی سے جڑے ہیں۔ مٹی کے مادھوئوں اور سادھوئوں پر مٹی اثرانداز ہوتی آئی ہے۔ یہ بوترابی کیفیت ہمارا ورثہ ہے۔ ہم وارث ہیں ان موسموں کے۔ ان محبتوں کے۔
گفتار ہو کہ خاموشی، یہ سبھی جذبے ہمارے ہیں۔
بعض اوقات مہینوں گزر جاتے ہیں، مٹی چپ کر جاتی ہے۔ دبک جاتی ہے۔ بس سانس کا زیروبم اور کچھ نہیں۔
بسا اوقات مٹی ایسے کھنک اُٹھتی ہے گویا راگ چھڑ جاتے ہیں۔
یہ شاعر لوگ جسے آمد کہتے ہیں، یہ کہاں سے آتی ہے؟َ
وہیں سے جہاں سے سب موسم عطا ہوتے ہیں۔
یہ کیفیات صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں۔ کائنات کی ہر شے ان کیفیات سے گزرتی ہے۔
یہ باقاعدہ نظام ہے۔
آج میں پریشاں ہوں تو یوں لگتا ہے
آج مہتاب کا چہرہ بھی ہے اُترا اُترا
ہر چیز کائنات کی لبریز یاس ہے
دل کیا اُداس ہے کہ زمانہ اُداس ہے
جب محب کو محبوب کا دیدار عطا ہو جائے تو وہ خوامخواہ شوخا ہوتا ہے کہ نہیں؟
اٹھکیلیاں ہوتی ہیں۔
کائنات کی ہر شے محو رقص دکھائی دیتی ہے۔
یہ کیفیات عجیب طلسماتی دنیا میں لے جاتی ہیں۔
سب سے توانا کیفیت محبتوں والی ہوتی ہے۔
آپ یوں سمجھ لیں کہ محبتیں سردار ہیں ہر جذبے کی۔
ہر کیفیت کی۔
اور اس سرداری کا باطل نفرتیں ہیں۔
یہ اتار چڑھائو
یہ سرگم
کائناتی نغمے کی اصل ہے۔
مٹی کا سُر ہے
یہ سارا مٹی کا سُر ہے۔
بے سُروں کو کیا معلوم مٹی کے سُر کیا ہیں؟
متکبر انسان کیوں درگاہ سے نکال دیا جاتا ہے؟
وہ بے سُرا ہو جاتا ہے۔
وہ اپنی آواز محبتوں کی آوازوں سے الگ تھلگ کرنا چاہتا ہے۔
مٹی کے مادھو اپنی آوازیں ان کی آوازوں سے ملائے رکھتے ہیں
جن سے سُر ملتے ہیں۔