یقیں شناس بہت تھوڑے لوگ ہوتے ہیں
مقام عشق ابھی ہر گماں سے آگے ہے
جو رک گئے ہیں انہیں آگہی نہیں شاید
محبتوں کا سفرخاکداں سے آگے ہے
میں اپنا درد تمہیں کیسے سونپ سکتا ہوں

زمانہ جب بھی کبھی بولیاں لگاتا ہے
میرا شعورمجھے رات بھر جگاتا ہے
میں آگہی کے سمندر میں ڈوب جاتا ہوں
بس ایک ہی تو ہنر خامشی کا آتا ہے
میں جانتا ہوں
میرا درد میری طاقت ہے
میں مانتا ہوں
تیری جستجو عبادت ہے
مجھے ملا دے میری اصل زندگانی سے
کرا دے وصل میرا اب تو لامکانی سے
مٹا دے خاکداں کا ساحلوں سے ہر نقشہ
بنا دے پھر سے مجھے اپنے کُن کے پانی سے
میں جانتا ہوں
میرا درد میری طاقت ہے