ٹہنی ٹہنی اُڑتی چڑیا
جب برگد سے ملنے آئی
بیٹھ گئی پر پھیلا کر
اور کہنے لگی
“میں مر جاؤں”

یہ سن کر برگد کہنے لگا
“میں ایک علامت جیون کی
کیوں قبرستان بناتی ہو؟
درویش منش ہر ٹہنی ہے
تم کہہ دو کتھا جو کہنی ہے”

یہ سن کر چڑیا اُٹھ بیٹھی
اور کہنے لگی سن میری کتھا
“میں درد کی کوکھ سے نکلی ہوں
میں لمحہ لمحہ اجڑی ہوں
میں لڑتی رہی ہوں بازوں سے
ہر موڑ پہ پیچھا کرتے تھے
میں بچتی بچاتی اُڑتی تھی
پر درد کی ایسی گُڑتی تھی
میں اُڑتی رہی ہوں جنگل میں
میں پھنستی رہی ہوں دلدل میں
اب سوچا کیوں نہ مرجاؤں
میں اپنے آپ سے ڈر جاؤں”

دور کہیں سے کوئل کی
آواز سنائی دیتی تھی

“ہر بار بچا لے جاتی ہے
تقدیر بہت تڑپاتی ہے”

برگد نے سنی یہ درد کتھا
اک آہ بھری اور کہنے لگا

“سن چڑیا!بھولی بھالی سی
میں پھیلا ہوا ہوں لمحوں پر
ہر ڈالی ایک پناہ گاہ ہے
ہر پتہ ایک کہانی ہے
تم اپنی پسند کی ڈالی پر
اندیشے سب مستقبل کے
اور خوف الٹ دو ماضی کے
اور اپنی کہانی پتوں پر
خود لکھو اپنی مرضی سے
اور یہ لمحہ جو حاصل ہے
میں اس کو خوب پھیلا دوں گا
میں تم کو مرنے نہیں دوں گا”

دور کہیں سے کوئل کی
آواز سنائی دیتی تھی

“یہ درد ہماری مستی ہے
یہ درد ہماری ہستی ہے
درویش منش اس برگد کی
ہر ڈالی درد کی بستی ہے
یہ نگر تمہاری منزل ہے
یہ جنم جنم کا حاصل ہے
تم اس لمحے کو جی جاؤ
اس امرت رس کو پی جاؤ
برگد کے پتوں میں چھپ جاؤ”