درد کی بُکل درد نے ماری
درد سے رشتہ درد نے جوڑا
درد نے درد کو خوب نچوڑا
درد کی مٹھی
درد کی ریت
درد زمیں ہے
درد ہی کھیت
درد بہاراں
درد خزاں ہے
درد علامت
درد نشاں ہے
درد کے مالک
درد بڑھا دے
روح کو اپنے پاس بلا لے
یہ سیمنٹ
یہ سریا
پتھر
میرے درد کے دشمن بن کر
لمحہ لمحہ توڑ رہے ہیں
میرے تیرے درد کا رشتہ
کب تک ہجر کا درد سہوں
میں کب تک تجھ سے دور رہوں
درد کے مالک
درد بڑھا دے
روح کو اپنے پاس بلا لے
میں تیار ہوں کُن سننے کو
تیرے صور کی دھن سننے کو
یا پھر مجھ کو ایسا کر دے
گہری چپ کا دامن بھر دے