یہ ایک زمینی حقیقت ہے کہ پُرکھوں کی نسبتیں بہرحال اولادوں کے کام آیا کرتی ہیں۔ اس لئے جلنے کُڑھنے کے بجائے آگے بڑھیں۔ اپنی دنیا آپ پیدا کریں۔ ایسے پُرکھ بن جائیں جن کی نسبتوں کا فیض عام نہ صرف اگلی نسلوں تک پہنچے بلکہ دیگر متعلقین و متوسلین بھی فیضیاب ہوتے جائیں۔
جن اولادوں کے والدین شوبز میں تھے، اُن اولادوں کو شوبز کا Exposure مل گیا۔ اُن کے لئے اسٹوڈیوز کے بند دروازے پیدائشی طور پر کھل گئے تھے۔ اب اُنہیں باہر قطاروں میں نہیں لگنا پڑا۔ لیکن پھر بھی اُن کے لئے بہرحال مقابلے کی فضا تھی۔ اگرچہ اُن کا یہ مقابلہ ایک مخصوص سطح سے آگے جا کر شروع ہوا۔
جن اولادوں کے والدین پیر تھے ۔ ایک آستانہ تھا۔ گدی تھی۔ خانقاہ تھی۔ اُنہیں مجاہدے کے بغیر انتہائی چھوٹی عمر میں ہی وہ کرسی مل گئی ۔ پیر صاحب والی کرسی۔ اب اُنہیں بغیر کسی چلہ کشی کے چھوٹے پیر صاحب کہا جانے لگا۔ یہ الگ بات کہ اس وراثت کو وہ کس حد تک سنبھال سکا یا اس میں اضافہ کر سکا۔ اُن کے لئے بھی بہرحال مقابلے کی فضا تھی۔ اگرچہ اُن کا یہ مقابلہ ایک مخصوص سطح سے آگے جا کر شروع ہوا۔
جن اولادوں کے والدین فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے، اُن کے لئے مسلح افواج میں جانے کے اُسی قدر روشن امکانات پیدا ہو چکے تھے۔ کیا آپ کسی ایسے لانس نائیک کو جانتے ہیں جس کے والدین فوج میں میجر جنرل تھے یا کرنل تھے؟ نہیں، ایسا نہیں ہوتا۔ جہاں ایکسپوژر افسری والا ہو وہاں ماتحت شاید ہی کبھی پیدا ہوتے ہوں۔ لیکن آپ کو بہت سے ایسے افسران دکھائی دیں گے جن کے والدین سپاہی تھے۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ اس ایکسپوژر سے آگے بڑھنا چاہتے تھے۔
تو گویا ایکسپوژر جہاں آسانیاں پیدا کرتا ہے، وہیں مثبت مزاجی سے آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔ کہیں کسی جگہ آسانیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ کہیں کم۔ ایکسپوزر کی بہت اہمیت ہے۔ یہ سفر آسان کر دیتا ہے۔ جھجھک دور کر دیتا ہے۔ متعلقہ اور ناگزیر معلومات تک رسائی آسان کر دیتا ہے۔ اُن کے لئے بہرحال مقابلے کی فضا تھی۔ اگرچہ اُن کا یہ مقابلہ ایک مخصوص سطح سے آگے جا کر شروع ہوا۔
جن اولادوں کے والدین جس پیشے سے وابستہ تھے، اُسی پیشے کا پیدائشی ایکسپوزر بہرحال اُن اولادوں کے کام آیا اور بہت کام آیا۔
جن خاندانوں میں ڈاکٹر تھے، وہاں آنے والی نسلوں کو بہرحال اُن سے زیادہ ایکسپوزر ملا جن کے پاس یہ Exposure موجود نہ تھا۔ وکیلوں اور ججوں کے خاندان میں ویسا ہی ایکسپوزر رہا۔ بہت سی آسانیاں پیدائشی طور پر مل جاتی ہیں۔ اُن کے لئے بہرحال مقابلے کی فضا بھی تھی۔ اگرچہ اُن کا یہ مقابلہ ایک مخصوص سطح سے آگے جا کر شروع ہوا۔
کچھ علاقے کسی خاص شعبے کیإ زیادہ تعداد کی وجہ سے مشہور ہو گئے۔ وہاں ہر دوسرے گھر میں ایکسپوزر تھا۔
حکمرانوں کے گھروں میں حکمرانی کا ایکسپوژر ہے۔ پس اُنہیں پیدائشی طور پر لیڈر تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ فراعینِ مصر تین ہزار سال سے زائد اسی ایکسپوژر کو قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔
اب جہاں محرومیاں ہوں گی، اور جس قدر یا جس مزاج کی محرومیاں ہوں گی وہاں اُسی قدر مشکلات بھی ہوں گی۔ جہاں جس قدر اور جس مزاج کا ایکسپوزر ہو گا وہاں اُسی ایکسپوژر کے عین مطابق آسانیاں بھی ہوں گی اور مشکلات بھی اُسی معیار کی ہوں گی۔ اُن کے لئے بہرحال مقابلے کی فضا ہو گی۔ اگرچہ اُن کا یہ مقابلہ ایک مخصوص سطح سے آگے جا کر شروع ہوگا۔
اولادوں کے دنیا میں آنے سے پہلے والدین کے ذمہ اُس ایکسپوژر یا ماحول کو پیدا کرنا ہے جو وہ آنے والی نسلوں کو دینا چاہتے ہیں۔ نوکری کا ایکسپوژر بالعموم نوکری تک پہنچاتا ہے۔ کاروبار کا ایکسپوژر، کاروبار تک۔ اکا دکا واقعات میں ایسا نہیں بھی ہوتا لیکن بالعموم ایسا ہی ہوتا ہے۔
اب جہاں ایکسپوژر محکومی و غلامی کا ہو وہاں محکومی و غلامی کے نفسیاتی پیٹرن بن جاتے ہیں۔ ان مخصوص سانچوں میں ویسی ہی نسلیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ کبھی کبھار کوئی ایسا انسان پیدا ہوتا ہے جو اپنے Passion کی وجہ سے اُس ماحول میں ایک نئے پیٹرن کی بنیاد رکھتا ہے۔ ایسے جنونی لوگوں کو ہر دور میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ وہ بن جنونی انسان بن جائیں!
اپنے خاندانوں کو اُٹھانا پڑتا ہے۔ رائج نظام کا تنقیدی جائزہ لئے بغیر ایسا کرنا محال ہے!
یہ ایک زمینی حقیقت ہے کہ پُرکھوں کی نسبتیں بہرحال اولادوں کے کام آیا کرتی ہیں۔ اس لئے جلنے کُڑھنے کے بجائے آگے بڑھیں۔ اپنی دنیا آپ پیدا کریں۔ ایسے پُرکھ بن جائیں جن کی نسبتوں کا فیض عام نہ صرف اگلی نسلوں تک پہنچے بلکہ دیگر متعلقین و متوسلین بھی فیضیاب ہوتے جائیں۔
آپ کسی بھی ایسے پُرکھ کی مثال لے لیں جس نے اپنی جوانی میں ماحول میں رائج پیٹرن بدلنے کی تگ و دو کی۔ آج اُس پرکھ کی اولادوں کا ایکسپوژر بہرحال دیگر خاندانوں میں پلنے والی اولادوں سے بہتر رہا۔
اسلام کی مثال سامنے رکھ لیں۔ یہی ایکسپوژر ہمیں غالب دکھائی دیتا ہے۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آنے والی نسل اس وراثت کو نہ سنبھال سکے۔ بالعموم وہی پیٹرن تادیر قائم و دائم رہتے ہیں جو پرکھوں نے بنائے ہوتے ہیں۔ جو اولادیں اُن میں اپنے حصے کا عمل شامل کر لیتی ہیں وہ خاندان طاقتور ہوتے جاتے ہیں۔ جہاں ایسا نہیں ہوتا وہاں کمتری، بے بسی اور مغلوبیت کی آکاس بیل پھیلنے لگتی ہے۔
راحت فتح علی خان کو ایکسپوژر ملا۔ نصرت فتح علی خان کی شکل میں ۔ اسی طرح بہت سے گلوگار، اداکار، ہدایتکار، شوبز والے، ادیب، شاعر، مولوی، پیر، خطیب، ذاکر، افسر، پولیس والے، رینجرز والے، کاروبار والے، دیہاڑی دار، انجینئرز، سیاستدان، بیوروکریٹس ۔۔۔ الغرض جہاں جیسا Exposure تھا وہاں ویسی آسانیاں بھی تھیں اور اُسی سطح کی مشکلات بھی۔
ایسا ہر دور میں ہوا ہے۔
اب بھی ہو رہا ہے۔
اور آئندہ بھی یہی پیٹرن رہیں گے۔
ہر نسل کے ذمے بہت سے کام ہوتے ہیں۔ جو نسل جہاں سے ان پیٹرنز پر محنت کرے گی، اُسے بہرحال انتھک انداز میں محنت کرنا ہو گی۔ مجاہدے کرنا ہوں گے ۔ جن قوموں نے ترقی کی، اُنہوں نے بھی ایسے ہی فارمولوں پر عمل کیا۔ فارمولے سب کے لئے ہیں۔ تو اگر آپ سے پہلے ان فارمولوں پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تو یہ سوچیں کہ ہو گی کوئی مجبوری پرکھوں کی۔ شاید جہاں سے وہ دیکھ رہے تھے، اُنہیں وہ پیٹرن نظر ہی نہ آئے ہوں۔ یا عین ممکن ہے کہ انہوں نے کوشش کی ہو لیکن وہ اپنے جیتے جی اُن پیٹرنز میں کارہائے نمایاں سرانجام نہ دے سکے ہوں ۔ تو اگر آپ کو دکھائی دے رہے ہیں تو اُٹھو اور ایسے پُرکھ بن جاؤ جو نسلوں کی تقدیر سنوار دیتے ہیں۔
اگر گھر میں بچوں کی پیدائش سے قبل تاش، جوا، پانسے، شراب اور لعن طعن کا Exposure ہو گا تو آنے والی نسلوں کو پیدائشی طور پر وہ سب لعنتیں مل جائیں گی۔ اُنہیں شر کے لئے زیادہ محنت نہیں کرنا پڑے گی۔ دراصل خیر ہو کہ شر، اُس کا ایکسپوژر بہت اہمیت رکھتا ہے۔
آپ اپنی جوانی میں طے کر لیں کہ آپ نے کیسا پُرکھ بننا ہے تو آنے والی نسلوں کو بہرحال Footprints مل جائیں گے۔ آپ نے ہی سفر نہ کیا تو آنے والی نسلیں بہرحال آتے ساتھ ہی SUFFER کریں گی۔ اور بہت کریں گی۔ اب اُن میں سو جو اُبھرے گا اور جس قدر اُبھرے گا، وہ اُسی قدر لائق تحسین ہو گا۔ ہر ایسے نوجوان کو سلام جس نے اپنی دنیا آُپ پیدا کرنے کے لئے دن دیکھا نہ رات۔ لگا رہا۔ جنون کے ساتھ۔ مسلسل۔ بنا رکے۔ آگے بڑھتا رہا۔ اللہ اکبر ۔