قرآن کریم ہمیں فقط اتنا بتاتاہے اور بار بار بتاتا ہے
کہ ابلیس تمہارا کھلا دشمن ہے۔
قرآن میں ابلیس کا طریقہ واردات واضح طور پر بتا دیا گیا ہے
ہمارے تعلیمی اداروں
اور پی ایچ ڈی کرنے والوں کو اس طریقہ واردات پر
سائنسی حوالوں سے تحقیق کرنا ہو گی۔

ابلیس عابد و زاہد تھا ۔
متقی تھا۔
لیکن اُس کی تمام تر عبادات و مناجات
کا انجام کیا ہوا؟
وہ متکبر ہو گیا۔

ملائکہ بھی عبادات و تسبیحات میں مصروف رہتے ہیں
لیکن وہ ہمیشہ عاجزی و مسکینی کا پیکر رہتے ہیں

ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں

یا ہم تکبر کریں
یا ہم مسکینی اختیار کریں

ہر وہ انسان جو تکبر کرتا ہے
وہ دراصل ابلیس کو ووٹ دیتا ہے

اور ہر وہ انسان جو مسکین ہے اور متکبر نہیں۔
اُس کا ووٹ ملائکہ کے لئے ہے۔

جی ہاں! وہی ملائکہ جنہوں نے ہماری بزرگی کو تسلیم کیا تھا
ہمارے علم و فکر والے روپ کے آگے سجدہ ریز ہوئے تھے
ملائکہ علم و فکر والوں کا احترام کرتے ہیں
ہر دور میں (اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں)
اہل علم و اولی الباب کا ناطقہ بند کیا گیا
ہر دور میں
آدم کی تکریم سے انکار کرنے والے
ابلیسی ووٹر پیدا ہوتے رہے۔

یہ نئی بات نہیں۔
یہ قرآنی کہانی ہے

تکبر، ابلیس کا راستہ ہے
عاجزی اور مسکینی ملائکہ کا شیوہ
علم و فضل، آدم کا راستہ

اب اس کہانی کو پڑھیں۔
غور سے
تو آپ جان پائیں گے
کہ امت مسلمہ اس وقت علم و فضل میں کیوں پیچھے ہے؟
آپ جان پائیں گے
کہ نظام عدل کیوں غیر فعال ہے
آپ جان پائیں گے علاج، تعلیم،صحت، ماحول، سہولیات کا نظام
کیوں الگ الگ ہے۔

ابلیس نے چیلنج کیا تھا۔
پس وہ محنت کرتا ہے
دن رات
اپنے چیلنج میں سرخرو ہونے کے لئے
اور انسانی شکلوں میں موجود اُس کے حواری
اُس کے اس چیلنج کو بھرپور انداز میں
سپورٹ کرتے ہیں۔

من الجنتہ والناس

یہ جنگ ہے
اولاد آدم کے علم و فضل
اور ابلیس کی سرکشی میں

اولاد آدم جس قدر علم و فضل والی ہوتی جائے گی
ابلیس ہارتا جائے گا
ابلیسی نظام ہارتا جائے گا
یہی وجہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام کو
جان بوجھ کر ایسا رکھا جاتا ہے۔

کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تونے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

اسلام علم و فکر کا دین ہے
بصیرت کا دین ہے
تحقیق کا دین ہے
حکمت کا دین ہے
امن کا دین ہے

جہاں کہیں علم و فکر نہیں
وہاں ابلیس کامیاب ہو چکا
جہاں تحقیق نہیں وہاں ابلیس کامیاب ہو چکا
جہاں حکمت نہیں
وہاں ابلیس کامیاب ہو چکا
جہاں امن نہیں
وہاں ابلیس کامیاب ہو چکا

علم و فکر کی خوشبو ابلیس اور اُس کے حواریوں کے لئے ناگوار بُو ہے۔
اسی طرح جہل، جہالت، اور جاہل افراد کے کرتوتوں کی سڑاند

اولی الباب محسوس کرتے ہیں۔

یہ جنگ جاری ہے
علم اور جہالت کی جنگ
بیناؤں اور نابیناؤں کی جنگ

جاننے والوں اور انجانوں کی جنگ
نور والوں اور ظلمت والوں کی جنگ
حسینیت والوں اور یزیدیت والوں کی جنگ
مطلوم اور ظالم کی جنگ

متکبر انسان ابلیس کا دوست ہے۔ ووٹر ہے، حواری ہے
مسکین بندے ملائکہ کے دوست ہیں، محبوب ہیں
علم و فضل والے
اور جاہل لوگ
کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔
قرآن کہہ چکا۔

اللہ اکبر –