ایک ایسا سکول جس کا نصاب بہترین ۔ لیکن ہر سال کثیر تعداد میں فارغ التحصیل ہونے والے طلباء و طالبات کی کارکردگی فکری، نظریاتی اور عملی زندگی میں صفر بٹا صفر۔
اساتذہ اس نصاب کے ہوتے ہوئے بھی ظلمتوں کو بڑھنے سے روکنے میں ناکام۔
بے چارگی کا عالم چارسُو۔ والدین، اساتذہ پر برہم۔ اساتذہ والدین کی بے توجہی اور غفلت سے نالاں۔
جب زمانہ طلباء و طالبات کی کارکردگی کا حوالہ دے کر نصاب پر انگلیاں اُٹھاتا ہے تو کیا والدین کیا اساتذہ اور کیا طلباء و طالبات سب کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔
جب کہیں کسی اور سکول کے طلباء و طالبات یا اساتذہ کسی علمی ترقی سے ہمکنار ہوتے ہیں تو ہمارے سکول کے اساتذہ ، والدین اور طلباء و طالبات بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ ترقی کے یہ سبھی راز تو ہمارے نصاب میں پہلے سے ہی شامل ہیں۔
صاحب ذی شعور حیرت میں گُم۔ نصاب میں تو ترقی ہی ترقی ہے۔ طلباء و طالبات کیوں زوال پزیری کے عمل میں حصے دار ہیں؟
اگر نصاب میں یہ سب پہلے سے تھا، تو سکول کی کارکردگی صفر بٹا صفر کیوں؟ کہاں گڑبڑ ہو رہی ہے؟
منتظمین مخلص نہیں؟
اساتذہ کی نظر مراعات پر ہے؟
والدین غفلت کے مارے ہیں؟
یا طلباء و طالبات کو ایک سازش کے تحت نصاب کے اہم ترین حصوں سے دور رکھا جاتا ہے۔
آخر کوئی وجہ تو ہو گی۔
اسی نصاب سے طلباء و طالبات کی وہ کھیپ تیار ہوئی تھی جس نے زمانے میں علم کی روشنی بکھیر دی تھی۔ جس نے ظلمتوں کو مات دے دی تھی۔
نصاب وہی۔ بہترین۔ کامل۔ جامع۔ موئثر۔
لیکن اب کارکردگی صفر بٹا صفر کیوں؟
طلباء و طالبات کی زندگیوں میں اس نصاب کی جھلک کیوں نہیں؟
نصاب مکمل طور پر جسم و جاں پر غالب کیوں نہیں آتا؟
آسان ترین، جامع اور واضح نصاب کی موجودگی میں بھی مشکلات کیوں ہیں؟
کارکردگی صفر بٹا صفر کیوں ہے؟
سب ایک دوسرے سے نالاں۔
بعض اوقات ایک استاد کسی دوسرے استادکے طلباء طالبات کے خلاف متعصب۔
ایک ہی نصاب ، کہیں ثواب کہیں عذاب۔
فی الدنیا حسنہ نہیں۔ فی الاخرہ حسنہ کیا ہو گی؟
اگر یہ نصاب فی الاخرہ کے لیئے ہی ہوتا تو فرشتوں کا نصاب ہوتا۔
ہم دنیا میں بھیجے گئے۔
ہمارا نصاب دنیا میں بھیجا گیا۔
دنیا میں ہماری کارکردگی کبھی مثالی تھی۔
اس کا مطلب آبائو اجداد اس نصاب کو ہم سے بہتر سمجھتے تھے۔
تھے تو آباء وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو؟
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
دوسرے سکولوں والے دنیا میں آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اُن کی آخرت خراب ہے۔
اور ہم اسی پر خوش ہیں کہ وہ جہنمی ہیں۔ کیونکہ ہمارے نصاب میں لکھا ہے؟
نہیں ہمارے نصاب میں یہ نہیں لکھا۔
جو کفر ہمارے نصاب میں مذکور ہے وہ خود ہم پر صادق آتا ہے۔
اپنے اپنے کفر کو دیکھنا ہو گا۔
اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔
جب تک ہم دوسروں کے کفر پر آوازے کستے رہیں گے
ہماری اپنی آوازیں مدھم ہوتی جائیں گی۔
قرآن نے جن رویوں پر لعنت بھیجی ہے، وہ خود ہمارے اپنے رویے ہیں۔ ہم ملعون ہیں۔
نصاب میں لکھا ہے کہ جھوٹوں پر لعنت۔ کتنے اساتذہ، والدین، طلباء و طالبات ملعون ہو جاتے ہیں؟
نصاب میں لکھا ہے آپس میں فرقہ فرقہ ہو جائو گے تو تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔
ہم متحد ہیں؟
نصاب میں لکھا ہے کہ فاسقوں پر لعنت۔
فاسقوں کی نشانیاں ہمیں پڑھائی نہیں جاتیں؟
منافقوں کے لیئے جہنم کا بدترین درجہ۔
منافقت ہمارے معاشرے کا طرہ امتیاز ہے کہ نہیں؟
نصاب میں تھا کہ غور کرو۔ فکر کرو۔ تدبر کرو۔ برھان سے بات کرو۔ عاجزی سے بات کرو۔ خوش اخلاقی سے بات کرو۔ اچھی گفتگو، اچھا لباس، اچھا انداز۔
ہم فکر سے کوسوں دور۔
برھان کا راستہ ہی کھو گیا۔
تکبر، تعصب، نفرتیں، تکفیریت۔
نصاب بہترین۔
لیکن پھر بھی ہر سال
طلباء و طالبات کی کارکردگی صفر بٹا صفر۔
آخر کیوں؟
اساتذہ کا قصور ہے؟
انتظامیہ بے ایمان ہے؟
پمفلٹوں کا قصور ہے؟
یا نصاب بھیجنے والی ذات ہی ہم سے ناراض ہے؟
 
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا – کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
 
سوچنا ہو گا۔
ہم سب کو۔
دنیا کے دکھ فقط دعائوں سے نہیں ٹلتے۔
خندق کھودنی ہو گی۔ پیٹ پر پتھر باندھ کر
پھر دعا میں اثر ہو گا۔
پھر نصاب بولے گا
دما دم بولے گا۔
اللہ اکبر –