لفظِ کُن سے جس خوشبُو کا سفر فیکون کی منزل کا راہی ہوا تھا، وہ عرش تا فرش مہکاتا ہوا میرے اور آپ کے آس پاس دائروں میں ہمہ دم جاری و ساری ہے۔
دیکھا جائے تو ارب ہا سال بیت گئے۔
سوچا جائے، محسوس کیا جائے تو خوشبو کا سفر ایک لمحہ ہے۔
وہ لمحہ جو مہک گیا۔
وہ لمحہ جس کی خوشبُوکل عالم پر پھیل گئی۔
رحمت اللعالمین ﷺ بن کر۔
کوئی حد نہیں۔ کوئی قید نہیں۔
خوشبُو کا سفر الوہی آزادی کے مبارک پروں کے ساتھ
اپنی پرواز میں محو ۔
اللہ بوجھ نہیں۔ خوشبو کبھی بوجھل نہیں ہوتی۔
خوشبو لطیف ہے۔
کثافتوں والے کیا جانیں خوشبو کی لطافتوں کا راز؟
يا حَـيُّ يا قَيّـومُ
سیمنٹ، سریے، بجری اور مشینوں کے جہان سے بلند ہو کر
خوشبو کا سراغ ملتا ہے۔
خواہشات کے بت پاش پاش کرو تو
خوشبو اپنا پتہ دیتی ہے۔
جان جائو اور مان جائو اپنی اوقات تو
خوشبو سرگوشیاں کرتی ہے۔
يا حَـيُّ يا قَيّـومُ
چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے
خوشبو سے نسبت رکھنے والے
خوشبو میں مہکنے والوں سے نسبت رکھنے والے
خوشبو کے کارواں میں شریک مہکے ہوئے قلوب سے نسبت رکھنے والے
مہک جاتے ہیں
چہک اُٹھتے ہیں۔
يا حَـيُّ يا قَيّـومُ
خوشبو مہکار ہے، چہکار ہے۔
جسم مہکے
روح مہکے
مکان مہکے
قبر مہکے
خوشبو ذکر ہے، ذاکر مہکے گا۔
خوشبو وضو ہے، مہکائے گی
معطر کرے گی۔
يا حَـيُّ يا قَيّـومُ
آنکھیں بند کر کے مہک جائو، یا
کھول دو آنکھیں اور خوشبو کا نظارہ کرو۔
چکھ لو خوشبو کے مزے
مزے ہی مزے
يا حَـيُّ يا قَيّـومُ