پیٹرن انگریزی زبان میں بطور اسم اور فعل مستعمل ہے۔پیٹرن دراصل وہ منطقی ساخت ہے جو ہر قرن میں ایک جیسے نتائج پیدا کرتی رہی ہے۔ یہ بار بار دہرایا جانے ڈیزائن ہے ۔ یہ ایک ایسا ماڈل ہے جس کی مدد سے ایک نوعیت کی مصنوعات بار بار اور لگاتار بنائی جا سکتی ہیں۔   جب تک ڈیزائن یا ماڈل میں تبدیلی نہیں کی جاتی، مصنوعات کی ساخت میں تبدیلی نہیں ہوتی۔

پنجابی زبان میں ایک ہمہ جہت علامت ’’پورنے‘‘ کے نام سے موجود ہے ۔ ایک وقت تھا  جب بچوں کو تختی پر پُورنے ڈال کر دیئے جاتے تھے اور وہ ان پُورنوں پر قلم دوات کی مدد سے لکھنے کی باقاعدہ مشق کرتے تھے ۔یہ پورنے بھی دراصل سانچے تھے ۔ طلبا و طالبات کو خوش خط بنانے کے سانچے ۔جو جس قدر مشق کرتا تھا، اُسی قدر خوش خط ہو جاتا تھا۔

اردو میں اس کے لئے  نمونہ، طریقہ، انداز، مثال، مجسمہ، پُتلا ، ترتیب، راہنما، تصویر، خاکہ، منصوبہ، نقشہ، ہدایات، حکم اور سانچہ جیسے الفاظ ملتے ہیں ۔ عربی میں اس کے لئے سنت کا لفظ بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ سنت بھی دراصل نمونہ ، سانچہ یا پیٹرن ہے۔ اسے طریق یا طریقۂ     کار بھی کہا جا سکتا ہے۔فطرت بھی دراصل الوہی سانچوں کا مجموعہ ہے۔تقویم بھی ایک الوہی سانچہ ہے۔ انسان کی تخلیق  لقد خلقنا الانسان فی احسنِ تقویم ہے۔

میں نے ان بہت سے الفاظ میں سے معنوی اور صوتی و جمالیاتی اعتبار سے  سانچے کا لفظ منتخب کیا ہے ۔ جہاں جہاں لفظ سانچہ، سانچے یا سانچوں استعمال ہو گا وہاں وہاں  انگریزی کے لفظ پیٹرن کی بات ہو رہی ہو گی۔

ہماری کائنات، منطقی سانچوں کا مجموعہ ہے۔ کوئی شے بغیر از علت نہیں۔ ہر تخلیق کی ایک وجۂ تخلیق ہے ۔ میں ان وجوہات پر بہت زیادہ تفکر کرنے کا عادی ہوں۔ کل مخلوقات کے میکرو اور مائیکرو لیول پہ ایک جیسا نظام کارفرما ہے۔

بزرگ جب کسی بات سے منع کرتے ہیں تو وہ دراصل ان سانچوں سے آگاہ ہوتے ہیں جن پر چل کر ہم سے اگلوں کے نقصانات ہو چکے ۔۔۔۔ جوان جسم سمجھتے ہیں کہ وہ کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے ۔۔۔ بوڑھے مسکراتے ہیں کہ کبھی ہم بھی انہی سانچوں کے سراب میں تھے ۔۔۔   بہار کے جوش میں لہلہاتے پھول خزاں کے سانچوں کے قریب پہنچ چکے اور اُنہیں خبر تک نہیں۔ سانچوں سے بے خبری کے الگ سانچے ہیں۔ جو آگاہ ہو گیا، اُسے عرفان و ادراک کے انعام یافتہ سانچوں کی آگہی مل گئی ۔ طلب ہو تو انعام یافتگان کے سانچوں کی۔ راہ گم کردہ اور مغضوب سانچے بہت بڑی آزمائش ہیں۔

ہمارے رویے، نفسیات، انتخاب یعنی چوائسز ، پسند ناپسند، جذبات، کیفیات، کامیابی اور ناکامی ۔۔۔ سب کے جدا جدا سانچے ہیں۔ ہر انسان کے ذوق کا سانچہ الگ ہے ۔ پھر ایک ہی خطے کے افراد کے سانچے ایک جیسے بنتے چلے جاتے ہیں۔۔۔ ایک قبیلے، ایک سماج کے ایک جیسے سانچے ۔۔۔۔ان سانچوں میں نسل و نسبت کی تفریق ہو سکتی ہے۔

پیٹرن انداز بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔ جینے اور مرنے کا انداز ۔۔۔۔ ہنسنے اور رونے کا انداز ۔۔۔۔۔ سوچنے اور نہ سوچنے کا انداز ۔۔۔۔ انداز بھی تو دراصل ایک سانچہ ہی ہوا کرتا ہے ۔۔۔اور ہر سانچے سے انداز نکلتے ہیں۔۔۔۔اندازہ بھی ایک سانچہ ہے۔ خمیازہ بھی ایک سانچہ ہے۔ گناہ بھی ایک سانچہ ہے اور توبہ ایک سانچہ۔ آنکھ کے سانچے میں آنسوؤں کے جدا جدا سانچے ہیں۔ نمی کا الگ سانچہ ہے۔ طرب و کرب کے سانچے ہیں۔ آہ اور ھو کے سانچے ہیں۔حُسن و عشق کے سانچوں سے ادبیات کا دامن بھرا ہوا ہے۔ معرفت و آگہی کے سانچوں سے تصوف کے دبستان مہکتے ہیں۔

Pattern is a mockup. It’s a template. It’s a reference. It’s rhythm. It’s balance. It’s logic. It’s Divinity.

محبتوں اور نفرتوں کے بھی سانچے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ اللہ کریم نے عورت کو یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ مکالموں میں چھپے جنسی جذبات کو سمجھ جائے ۔ عورت کی آنکھیں مرد کی آنکھوں میں چھپی نفسانی خواہشات کو پہچاننے کا ملکہ رکھتی  ہیں۔ اگر وہ چاہے تو ان الوہی سانچوں کو سمجھ کر وہ اپنی عزت برباد ہونے سے بچا سکتی ہے۔لیکن انہی سانچوں میں سے کچھ سانچے کمزور ہوتے ہیں کچھ طاقتور، کچھ غالب اور کچھ مغلوب ۔۔۔۔ ماضی کے سانچے ہوں کہ مستقبل کے سانچے، ان کا تعلق موجودہ لمحے کے سانچوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔ بعض اوقات ہم جان بوجھ کراُن سانچوں کو نظرانداز کر رہے ہوتے ہیں جو بہت بڑی حقیقت ہیں۔ اسی لئے کہا گیا کہ بہت زیادہ گمانوں سے بچو ۔ گمان، سانچوں کے لئے غلاف کا کام کرتے ہیں ۔۔۔۔

انسان بہت زیادہ جوش میں آ جائے یا غصے میں، عقلی سانچے مغلوب ہو کے رہ جاتے ہیں ۔۔۔۔جنسی جذبات جب غالب آ جائیں  تو پھر دماغ  بصیرت والے حصے سے جزوی طور پر محروم ہو جاتا ہے ۔۔۔۔نفس امارہ سے نفس لوامہ تک یہی دردناک کہانی بار بار دہرائی گئی ہے۔ انسانی تاریخ میں بار بار دہرائے گئے یہ پیٹرن یا نمونے یا سانچے آج بھی اسی طرح موجود ہیں ۔۔۔

محبتوں کی سچائی لفظوں کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی ۔۔۔۔ نیت اور کیفیت کے سانچوں کو جانچنے اور پرکھنے کے سانچے بھی الگ ہوتے ہیں ۔۔۔۔ پھول کے سانچے جسم کی دنیا میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔۔۔۔ ان کی نقل بنائی جا سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن خوشبو کے سانچوں کو سمجھنے کے لئے اور طرح کے ملکہ کی ضرورت ہے۔۔۔ہم اپنی ضرورتوں اور مجبوریوں اور خواہشات کو محبت سمجھ لیں تو یہ ہماری طبع کا سانچہ ہے، محبت کا نہیں۔۔۔۔

فانی حدود میں سانچوں کو بنایا بھی جا سکتا ہے مٹایا بھی جا سکتا ہے۔ اُن میں ترمیم ہو سکتی ہے۔ تحریف ہو سکتی ہے۔ ان کی ایک مخصوص سطح کو تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے ۔سانچوں پر اثرات مرتب ہوتے رہتے ہیں ۔ ڈی این اے کے سانچوں کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔بلڈ گروپس کا انتہائی دلچسپ جہان ہے۔ جینز اور کروموسومز کے سانچے سائنسدانوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال رہے ہیں۔

ہے۔ زمین کے  کَرسٹ سے لے کر اُس کے نیوکلیئس تک سانچے ہی سانچے ہیں۔ Core Version ہر مخلوق کا مرکزی سانچہ خالق کے اختیار میں ہے۔ یہ انتہائی کنفیڈینشل سانچہ ہے۔اس سطح کو محض خالق چھیڑ سکتا ہے ۔ اس سطح پر معجزات ہوتے ہیں ۔کرامات کا ظہور ہوتا ہے۔

جیسے ماں اور باپ کے ملاپ سے سلسلہ نسب آگے بڑھتا ہے ۔۔۔ یہ ایک عمومی سانچہ ہے ۔۔۔۔ لیکن اس سانچے کو خالق اگر چاہے تو بدل بھی سکتا ہے ۔۔۔۔ اور وہ معجزہ ہو گا۔۔۔ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تخلیق ۔۔۔۔۔ جیسے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ۔۔۔عمومی سانچوں میں عورت بانجھ ہوتی ہے تو عمر بھر بانجھ رہتی ہے ۔۔۔۔لیکن حضرت زکریا علیہ السلام کی زوجہ محترمہ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ بی بی سارہ سلام اللہ علیھا کی صورت ہمیں معجزہ دکھائی دیتا ہے ۔۔۔۔

آگ کا عمومی سانچہ جلانے والا ہے لیکن وہی آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نہیں جلاتی ۔۔۔۔۔ سانچوں پر دعائیں یا بددعائیں اثراانداز ہوتی ہیں۔۔۔ اعمال اثراانداز ہوتے ہیں ۔۔۔ ماحول اثرانداز ہوتا ہے۔۔۔ جسم کی دنیا میں جس قدر ادویات ہیں، وہ دراصل ایک سانچے کو بدل کر دوسرے سانچے میں ڈھالتی ہیں ۔۔۔۔ سانچوں کو بگاڑنا یا بگڑے ہوئے سانچوں کو درست کرنا ممکن ہے ۔۔۔۔ تعلیم و تربیت کا نظام اسی لئے اولین ترجیح رکھتا ہے ۔۔۔۔

دنیا کے ہر کاروبار کے سانچے ہیں۔۔۔ اس کاروبار میں کامیابی اور ناکامی کے سانچے ہیں۔۔۔۔ سچ اور جھوٹ کے سانچے ہیں ۔۔۔ روحانی دنیا کے بھی سانچے ہیں ۔۔۔۔ مخلوقات میں ہر شے کا آغاز ہے اور ہر شے کا انجام ہے ۔ خالق اُس آغاز اور انجام کا بھی خالق ہے۔ قرآن ہمیں ان سانچوں پر غور کرنے کی بار بار دعوتِ فکر دیتا ہے۔

کوئی شے عبث نہیں۔ ہر شے میں منطق ہے۔ ہر شے کا ایک سانچہ ہے۔ ہر شے ایک نمونے پر بنی ہے۔ مخلوقات میں انسانی تخلیق کے سانچے کو فی احسن تقویم کہا گیا۔ یہ تقویم بہت معنی خیز لفظ ہے ۔ ہمہ جہت ۔۔۔۔اسی لئے اپنے بارے میں غور کرنے کا کہا گیا۔ کہ سوچو تم کون ہو۔۔۔ کیسے پیدا ہوئے۔۔۔ کہاں سے آئے۔۔۔ کہاں جانا ہے۔۔۔۔ ہمیں کہا گیا کہ قوموں کے عروج و زوال کے بارے میں تفکر کرو۔۔۔ دیکھو! عبرت پکڑو ۔۔۔ سوچو کہ سابقہ اقوام کے ساتھ کب کیا ہوا ۔۔۔۔

تو گویا جوبھی  ان سانچوں پر غور کرتا ہے، وہ اپنی استطاعت اور اللہ کے کرم کے مطابق راز پا لیتا ہے ۔۔۔ دست شناسی یعنی پامسٹری سے لے کر ستاروں کے علم تک سعید و نحس پتھروں یا لمحات سے لے کر ہندو مت کی مہورت فلاسفی یا جنم کنڈلی نکالنے تک،  یونانیوں کے علم الاعداد سے علم جفر تک یہی سانچے کام آتے ہیں۔۔۔۔دراصل ہم انسانوں کی زندگی میں بھی بار بار وہی سانچے ہمارے سامنے آتے  ہیں جو ہم سے پہلے قوموں کی زندگی میں آئے تھے ۔ ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا۔

طب و حکمت کی دنیا ہو کہ سیاست و فلسفہ کے میدان  ۔۔۔ یہی سانچے، یہی تقویم، یہی نمونے اور یہی پیٹرن سوچنے والے دماغوں کے لئے دعوت فکر کا انتظام ہیں۔۔۔ھل من مزید بھی ہے اور فھل من مدکر بھی ہے۔ کائنات الوہی نشانیوں سے بھری ہوئی ہے ۔ ہر نشانی، آیت  یا علامت کسی نہ کسی الوہی سانچے  کا صراط مستقیم ہے۔ لوگ جن کہانیوں اور قصوں کو اساطیر الاولین کہتے رہے ، وہی اساطیر ہمارے لئے نشانیاں ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار ۔

تعقلون، یتفکرون، یعلمون، تشعرون اور یتدبرون القرآن دراصل انہی الوہی سانچوں میں نہاں الوہی علامات کی اُنگلی تھام کر عباد الصالحین اپنے معبود برحق سے جا ملتے ہیں اور سلام قول من رب الرحیم  سے اُن کا استقبال ہوتا ہے۔ الوہی سانچوں کے مطابق امارہ اور لوامہ کے مراحل سے سرخرو ہونے والے نفوس کو رضا کے سانچے عطا ہوتے ہیں اور اُنہیں بندوں اور جنتوں میں داخل کر دیا جاتے ہیں۔ عبدیت کے سانچے حقیقی فلاح والے ہیں۔