جنـات، بھوت پریت اور آسیب کا سایہ جیسی باتیں ،جانتے ہو نا، کس طبقے میں زیادہ مشہور ہوتی ہیں؟
زندگی کی تلخ حقیقتوں اور آزمائشوں سے گھبرا کر راہ فرار اختیار کرنے والے طبقے میں۔ یا پھر اُس طبقے میں جہاں کسی نہ کسی محرومی کی دیگ، حسد اور جلن کی دھیمی آنچ پر پکتی رہتی ہے۔۔ یا پھر اُس طبقے میں جہاں بے لگام خواہشات، نفس کے غلاموں کو ،شارٹ کٹ کی بھول بھلیوں میں چکر کاٹتے رہنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔
آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں۔
کس قسم کے لوگ زیادہ تر جعلی پیروں اور عاملوں کے ہاتھوں اپنی جمع پونجی لٹا دیتے ہیں؟
سب سے بڑا ظلم یہ کہ ایسے جعل سازوں نے لوگوں کے دل و دماغ میں اللہ کریم کے ڈر کی بجائے مخلوق کا ڈر اس قدر راسخ کر دیا ہے کہ اب لوگ تعویز گنڈے کرنے والوں اور والیوں سے زیادہ ڈرے سہمے رہتے ہیں اور اللہ کریم سے کم۔
یہی اس طبقے کی بد بختی ہے۔
حسد اور جلن عجیب بیماری ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے انسان کو کسی بھوت پریت، آسیب یا سائے کی ضرورت نہیں۔
آپ نے سُنا ہو گا نا کہ رمضان میں شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں؟ تو پھر رمضان المبارک میں لوگ روزے کی حالت میں شیطانی امور سرانجام کیوں دینے لگتے ہیں؟ افطاری کے وقت روزے داروں کو لوٹنے والے کسی شیطان کے زیراثر تو نہیں ہوتے پھر یہ سب بے ایمانیاں کون کرتا ہے؟
ہم کرتے ہیں۔ ہمارا نفس کرتا ہے۔
سچ پوچھو تو انسان کو بہکانے کے لئے اُس کا اپنا نفس ہی کافی ہے۔ سورۃ والناس کی آخری آیت پر غور کرو۔
صرف شیطان ہی کیوں بدنام ہے؟ اس لئے کہ وہ جن ہے؟ تو والجنۃ والناس بھی ہے۔ یہ والناس، جن کا سوا ستیا ناس، جو لوگوں کے دل و دماغ میں مشرکانہ ڈر پیدا کرتے ہیں، یہ صریح دھوکے میں ہیں۔ اور ان کی اس خبیث قوت پر ایمان رکھنے والے اُس سے بھی بڑے دھوکے میں۔
جن ہوں کہ انسان۔ دو ہی اقسام ہیں۔
ایک وہ جو اللہ کے مطیع ہیں۔ دوسرے وہ جو اللہ کے نافرمان ہیں۔
اور اللہ کریم کا نظام ،ابلیس اور اُس کے والناسی حواریوں کے باطل نظام سے بالا ہے۔ قوی ہے۔ عظیم ہے ، اعلیٰ ہے۔
یہ بھوت پریت، آسیب، جنات کا قبضہ، یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ توہمات ہیں۔ کمزور لوگوں نے اپنی کمزوریاں اور ناکام طبقات نے اپنی ناکامیاں چھپانے کے لئے یہ بت تراش رکھے ہیں۔
محنت کرنے والوں پر جنات کا قبضہ نہیں ہوتا۔ سست اور کاہل لوگ بذات خود جن ہیں انہیں کسی اور بھوت پریت کی کیا ضرورت۔
ایماندار اور سادہ لوگوں پر کسی کے تعویذ کا اثر نہیں ہوتا۔ کہیں نہ کہیں بے ایمانی کرنے والے تعویذ گنڈے والوں اور والیوں سے ڈرتے رہتے ہیں۔
کہو لا الہ الا اللہ اور چھا جائو دنیا پر۔ لو نام محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور پاش پاش کر دو سب بت ان بھوتوں اور باطل جنوں کے۔
اللہ کے مطیع انسان اور جنات ہر وقت آپ کے آس پاس ہیں۔ فرشتے آپ کی حفاظت پر مامور ہیں۔
کیوں ڈرتے ہو؟ اندر موجود ڈر کو کک آئوٹ کر دو۔
سب بھوت پریت، آسیب، اور سائے کک آئوٹ ہو جائیں گے۔
اللہ اکبر –