لوگ اپنے قائدین پر لگائے گئے کرپشن کے الزامات کا دفاع نہیں کرتے وہ اپنی ضد اور اناء کا دفاع کرتے ہیں۔ وہ ان نعروں کا دفاع کرتے ہیں جو انہوں نے مخالف گروہ کے قائدین کے خلاف لگائے تھے۔ ہم سب درحقیقت اہنی اپنی نسبتوں کا دفاع کرتے ہیں۔ کسی کی کیا مجال جو ہماری نسبت کی توہین کرے؟ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کرپشن کے الزامات سچ ثابت ہو گئے تو وہ جھوٹے پڑ جائیں گے۔ اس لئے وہ ہر جھوٹ بول کر اپنے اپنے قائدین کا دفاع کرنے پرمجبور ہوتے ہیں۔ وہ سیاسی قائدین ہوں، مذہبی راہنما یا کاروباری قائدین۔ ایسی صورتحال میں کرپشن پر کبھی قابو نہیں پایا جا سکتا۔ ایک دوکرپٹ قائدین کی وجہ سے پوری کی پوری سیاسی جماعت، مسلک یا کاروباری ادارہ متحرک ہوتا ہے کہ نہیں؟ جس جماعت کے قائدین پر کرپشن کے الزامات ہوں وہ جماعت اپنی خوشی سے دفاع نہیں کرتی۔ مجبوریاں دفاع پر مجبور کرتی ہیں۔ عجیب و غریب مجبوریاں۔ اگر اپنی ہی جماعت سے کوئی ہمت کر بھی دے تو لوگ اسے لوٹا کہنے میں دیر نہیں لگاتے۔ مسلکی معاملات اس سے بھی زیادہ سنگین ہیں۔ کفر کے فتوے بازار میں ارزاں نرخوں پر دستیاب ہیں۔ سب جماعتوں کی یہی نفسیات ہے۔ نظریاتی کارکن جب کسی جماعت سے الگ ہوتے ہیں تو عیار لوگ ان پر۔ طنز کرتے ہیں۔ کوئی اپنی تحقیق سے مسلک تبدیل کر لے تو رشتے دار اس کا جینا محال کر دیتے ہیں۔ کرپشن کا دفاعی نظام دراصل اناء کی فصیلوں کے حصار میں ہے۔ ضد، تعصب اور جھوٹ انسان کو غیرجانبدارانہ انداز میں رائے قائم کرنے سے ہی محروم کر دیتا ہے۔ پھر جس کی جو نسبت وہ اس کے دفاع میں لگ جاتا ہے۔ جھوٹ سچ ملا کر بس دفاع۔ ہم سب ایسا کرتے ہیں۔ اپنی اپنی باری پر۔ اس۔لئے ہم سب مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ کاش ہماری نسبت پاکستان ہو جائے۔ کاش ہماری نسبت اسلام ہو جائے۔ کاش ہماری نسبت انسانیت ہو جائے۔ تو وارے نیارے ہو جائیں۔
ـ اللہ اکبر