میں انسانی تاریخ کا ایک ادنیٰ سا طالبعلم ہوں۔ انسانی تاریخ کے مختلف ادوار، طور اطوار، رسوم و رواج، ثقافتیں، زبانیں، رہن سہن، جنگ و جدال، پیار محبت ،نفرتیں، تعصبات، فکری و نظریاتی پہلو، انسانوں کی سماجی دھڑے بندیاں، ذات پات کے نظام، رویے، عیاریاں، سازشیں، بغاوتیں اور عداوتیں یہ سب میرے پسندیدہ ترین موضوع رہے ہیں۔
بحر تاریخ میں غوطہ زن ہونے کا چسکا ہے ہی ایسا۔
تاریخ کا ہر طالبعلم دراصل متلاشی ہوتا ہے۔ سچ اور حق کا متلاشی۔
وہ راز جاننا چاہتا ہے۔
سراغ رساں بن کر وہ تاریخ کے مختلف ادوار میں چکر لگاتا ہے۔ ثبوت اکٹھے کرتا ہے۔ دلائل جمع کرتا ہے۔ اپنے حصے کی تسکین کا سامان ڈھونڈتے ڈھونڈتے آخرکار ایک ایسی منزل میں داخل ہو جاتا ہے جہاں سچ اور حق آپ اپنی وضاحت کے لیئے موجود ہوتے ہیں۔
قصص القرآن بھی ایک ایسی ہی تلاش میں معاون قصص ہیں۔
ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کرام علیھم السلام میں سے چند ایک کے قصص کا بطور خاص حوالہ اس بات کا آئینہ دار ہے کہ انسانی ذات کو حق اور سچ کی تلاش کے لیئے جس قدر مواد درکار ہوتا ہے، وہ فراہم کر دیا گیا۔
کم و بیش ہر دور کی تاریخ میں ایک سی کہانی دہرائی جاتی رہی ہے۔
مخلوق خدا کی راہنمائی کے لیئے ایک پیغمبر علیہ السلام تشریف فرما ہوتے۔
وہ لوگوں کو الوہی محبت کی چاشنی عطا کرتے۔
مخلوق کا خالق و مالک سے ربط بحال کرنے کی جدوجہد کرتے۔
مسکراہٹیں بانٹتے۔
اور بدلے میں اکثریت کے ہاتھوں
1) گالیاں سنتے
2) طعن و تشنیع برداشت کرتے
3) دیس نکالا جیسا ستم بھی سہتے
4) بسا اوقات جسمانی اذیتوں کا سامنا کرتے
5) یا جام شہادت نوش کر لیتے
ہر پیغمبرعلیہ السلام نے اسی سنت کا احیاء کیا۔
جس زمانے میں پیغمبرعلیہ السلام آیا کرتے، وہاں کے وڈیروں اور سرداروں کو اپنی بادشاہت خطرے میں دکھائی دیتی۔ وڈیروں سرداروں کے حواری ان کی خوشنودی کی خاطر درباروں میں عیار مشورے دیتے۔ وڈیروں اور سرداروں کے پاس دنیاوی طاقت ہوتی اور ہر وہ انسان یا طبقہ جس کا مفاد وڈیروں اور سرداروں کی بقا سے مشروط ہوتا وہ پیغمبر علیہ السلام کے خلاف مل کر ایک محاذ بنا لیتے۔
ہر حربہ آزمایا جاتا۔
کوشش کی جاتی کہ کسی طرح لوگوں کا تعلق پیغمبر علیہ السلام اور ان کی تعلیمات سے توڑ کر وڈیروں اور سرداروں کی ذات سے جوڑا جا سکے۔
بہت سے لوگ ہمت ہار جاتے۔ ساتھ چھوڑ جاتے۔
لیکن بہت سے ایسے بھی ہوتے جو ثابت قدم رہتے۔
اور پھر ہر پیغمبر علیہ السلام کی زندگی میں وہ وقت آتا جب الوہی طبل جنگ بج اُٹھتا۔
آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ محسوس کریں گے کہ ہر دور کی تاریخ کا یہی پیٹرن رہا ہے۔
حق اور باطل کے معرکے نئے نہیں۔
یہ پرانی جنگ ہے۔
زمینی بادشاہ مخلوق خدا کو اپنے ساتھ جوڑنے کی تدابیر کرتے۔
خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبر علیہ السلام مخلوق اور خالق کے ربط اور تعلق کو استوار کرتے۔ محبتوں اور شفقتوں کے ساتھ۔
جو محبت شناس ہوتے، وہ دامن پکڑے رکھتے۔
جو مفاد پرست ہوتے، وہ مارے جاتے۔
یہی کہانی جدید دور میں بھی دہرائی جا رہی ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اب پیغمبران کرام علیھم السلام نہیں آتے۔
ہاں، پیغمبران کرام علیھم السلام کی تعلیمات لے کر جو بھی زمینی بادشاہوں کے خلاف اُٹھتا ہے اُسے انہی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو پیغمبران کرام علیھم السلام کی زندگیوں میں پیش آیا کرتے تھے۔
کہانی وہی ہے۔
کردار نئے ہیں۔
حق و باطل کا وہی معرکہ بپا ہے۔
محبت شناس آج بھی
تعلیمات نبوی ﷺ سے جڑے رہنا پسند کرتے ہیں۔
مفاد پرست آج بھی مارے جاتے ہیں۔
وہ لوگ انمول ہیں جو محبتیں بانٹتے ہیں۔
محبت شناس ہیں۔
محافظ محبت ہیں۔
جن کا اوڑھنا بچھونا محبتیں ہوں ، زمینی بادشاہوں کی نفرتوں کا شکار ہوتے رہنا ان کے لیئے باعث اعزاز ہی ہوا کرتا ہے۔
راہ حق کے مسافروں کو گالیاں سن کر بھی سنت کی خوشبو آتی ہے اور بہتانوں کا سامنا کر کے بھی مزہ آتا ہے۔
میں اکثر کہتا ہوں
آج پھر کہہ رہا ہوں
سارا کھیل انتخاب کا ہے۔
آپ محبتوں کا انتخاب کر لو
یا نفرتوں کا
حشر بھی ویسا ہی ہونا ہے۔
خوشبو کی سوچ بدبو پیدا نہیں کرتی۔
محبتوں بھرے نظریات نفرتوں سے شکست کھا ہی نہیں سکتے۔
یہ انمول جذبات ہیں۔
مخلوق اور خالق کا تعلق جوڑنے والے ہی دراصل تعمیری لوگ ہوا کرتے ہیں۔
وڈیروں اور سرداروں کے مقدر میں الوہی مورخ نے بدترین شکست ہی لکھی ہے۔
ہر دور میں
ہر موڑ پر
ہر روپ میں
بدترین شکست۔
اللہ اکبر –
یاحی یاقیوم
السلام علیک ایھا النبی ورحمتہ اللہ وبرکاتہ