اُردو زبان سمیت کسی بھی زبان میں جتنی بھی گالیاں اب تک منظر عام پر آچُکیں۔ جتنے بھی بیہودہ کلمات ادا ہو چکے یا قلمبند ہو چکے۔ وہ سب کے سب اُنہی حروف تہجی سے مل کربنے جن سے اس زبان میں ہر اچھا کلمہ بنا۔ خیر ہو کہ شر، حروف تہجی کی جاگیر سانجھی ۔ ثواب ہو کہ عذاب، حروف تہجی کی وراثت میں برابر کا حصے دار۔ حرف بیج کی طرح ہوتا ہے۔ اس بیج کو رویوں کی جیسی زمین دستیاب ہو گی یہ اُسی مزاج کے مطابق اُگے گا۔ الفاظ اپنی ذات میں اس قدر مہلک نہیں ہوتے جس قدر مہلک الفاظ ادا کرنے والے کا مزاج ہوتا ہے۔ الفاظ کی ادائیگی سے بہت پہلے ایک ایسی منزل بھی آتی ہے جہاں انسانی ذات الفاظ پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ پھر جس کا جیسا مزاج اس کی ادائیگی ویسی۔
گانوں کے حروف تہجی اور نعتوں کے حروف تہجی ایک جیسے ہی ہوتے ہیں لیکن حروف کی ترتیب اور کیفیت میں زمین و آسمان کا بُعد ہوتا ہے۔
ہر زبان کا یہی ماجرا ہے۔ یہی کہانی ہے۔
انگریزی زبان میں جس قدر گالیاں ہیں وہ بھی سب کی سب اے سے لے کر زی تک انہی انگریزی حروف تہجی کی مرہون منت ہیں جن سے باقی الفاظ تشکیل پاتے ہیں۔ خیر ہو کہ شر، سیف انداز بیاں بات بدل دیتا ہے ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں۔ انگریزی زبان میں بھی الہامی کتابوں کے تراجم کئے گئے۔ احادیث کے تراجم ہوئے، وہ بھی سب انہی چھبیس حروف تہجی کے اندر ہیں جن سے مستشرقین نے قابل گردن زدنی کلمات مرتب کیئے ہیں۔
حروف کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ الفاظ کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔
طلاق ایک بے ضرر لفظ ہے۔ لیکن یہ اُس وقت مہلک ہو جاتا ہے جب انسان مہلک ہو جاتا ہے۔ الفاظ کے ساتھ انسانی ذات، نظریات اور مزاج جڑتا ہے تو لفظ کے قالب میں جان پڑتی ہے۔ وہ جان رحمان سے منسوب ہے کہ شیطان سے اس بات کا تعین کرتی ہے کہ لفظ ادائیگی اور اظہار کے بعد کیا اثرات مرتب کرے گا۔ نیت، کیفیت اور عمل کی ترتیب سے حروف اور الفاظ میں جان پڑتی ہے۔ کہنے کو ہر سیاسی ٹاک شو میں مہمان اکثر کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ فلاں صاحب میرے بھائی ہیں۔ میں اُن کا حترام کرتا ہوں ۔ لیکن ۔۔۔۔۔
(اور اُس لیکن کے ٹھیک پانچ دس منٹ کے اندر، اندر کا انسان باہر اور باہر کا انسان ہوا میں تحلیل ہو چکا ہوتا ہے)
ہماری ترتیب غلط ہو تو لفظوں کا کیا قصور؟ ترتیب کا تعلق بھی انسان کے رتبے سے ہے۔ بلند مرتبہ لوگوں کے الفاظ کی ترتیب اور راندہ درگاہ افراد کے الفاظ کی ترتیب ایک جیسی بھی ہو جائے، نیت، کیفیت اور اخلاص سارا بھانڈا پھوڑ دیتا ہے۔
فیس بک پر گالیاں کون دیتا ہے؟ وہ جس نے لفظ تو سیکھ لئے لیکن الفاظ کا وہ استعمال نہ سیکھا جو اصل علم تھا۔
فیس بک پر فتوے کون لگاتا ہے؟ وہ جس نے پمفلٹ تو پڑھ لئے، لیکن قرآن کو ایک مرتبہ بھی حسن نیت، کیفیت اور اخلاص سے نہیں پڑھا۔ جانگلی رویے دراصل مہذب لفظوں کو بھی جانگلی صورت عطا کر دیتے ہیں۔ جھوٹے، بدنیت اور منافق انسان کا آئی لو یو اس کیفیت سے محروم ہی رہتا ہے جو سچے انسان کے سادہ سے محبت کے اظہار کا نصیب ہے۔ زبان پر آنے والے الفاظ کسی نہ کسی باطنی کیفیت سے جڑے ہوتے ہیں۔ کیفیت شناس لوگ، قیافہ شناس بھی ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے بعض اوقات محبت کرنے والوں کا لہجہ نفرتوں کی چغلی کھا رہا ہو عین ممکن ہے نفرتیں کرنے والے محبتوں بھرے لہجے کا روپ دھار لیں لیکن کیفیت شناس بہرحال کیفیت پہچان لیتے ہیں۔ سچ پوچھو تو اپنے پیدا کرنے والے کی شناسائی کے طلبگار انسانی کیفیات اور رویوں کے زبردست نقیب بن جایا کرتے ہیں۔ آنکھیں راستہ ہیں، کیفیات کے ظاہری روپ تک جانے کا۔ باطنی روپ تک پہنچنے کے لیئے باطن شناسی کا ہنر لازمی ہے۔ انسان کے دل میں چھپے خفیف امراض دراصل الفاظ پر اثر انداز ہوا ہی کرتے ہیں۔ سیانے لوگ اسی لیئے مثبت مزاجی کا درس دیا کرتے تھے۔ منفیت لاکھ پردوں میں نہاں ہو عیاں ہو ہی جاتی ہے۔
اللہ اکبر –