درد بڑھتا ہے۔
بہت بڑھتا ہے۔
پھیلتا جاتا ہے۔
انگلیاں خودمختار ہو جائیں
آپ مہاری ہو جائیں
تو درد بہہ نکلے
اس قدر ضبط بھی غنیمت سمجھو
گہرے پانیوں میں کون رہتا ہے
یا ڈبو دے
یا ساحل پہ آجائے
گھمن گھیریاں ، گھمن گھیریاں، گھمن گھیریاں
درد کو نیند بھی تو آتی ہو گی؟
گہری چپ کی تفسیر بھی گہری چپ
گہرا سانس ہی لینے دو
درد ہے کہ امتحان
یاحی یاقیوم