تم کیا جانو درد کی حالت
من سودائی ہو جاتا ہے
گہری چپ کی بکل مارے
ہر خلیئے میں کھو جاتا ہے
آنسو آنسو لفظ پروکر
ہچکی ہچکی سو جاتا ہے
تم کیا جانو درد کی حالت
لہریں اٹھتی رہتی ہیں
اور رستے بنتے جاتے ہیں
گہری چپ کے ساحل پر
میں درد کی تسبیح کرتا ہوں
اورذکر کے موتی چنتا ہوں
یاحی حی کہتا ہوں
قیوم سے قائم رہتا ہوں
میں درد کا دامن بھرتا ہوں
اب آ جاؤ نا چپکے سے
اب ختم کرو یہ ہجر کتھا
مجھے وصل کہانی لکھنے دو
مجھے اپنے پاس ہی رہنے دو