آنسؤو آؤ
تمہارا آنا لازم ٹھہرا
گہرے پانیوں سے لوٹ آؤ
کچھ بتاؤ تو سہی
ساحل پر ہی بہہ جاؤ
کچھ تو کہہ جاؤ
وہاں کیا ہے
جہاں گہری چپ کے ڈیرے ہیں
جہاں محبتیں شیلف میں رکھی کتابوں کی طرح
گم صم گم صم
اندراج کی منتظر ہیں
درج ہوں گی تو درجہ بندی ہو گی
درجہ بندی ہو گی تو مدارج نصیب ہوں گے
درد کی ہر شرط مان لی
آنسؤو آؤ کہ تمہارا آنا لازم ٹھہرا
یاحی یاقیوم