درد سے رشتہ میرا تیرا
ساحل کتنی دور ہے، دیکھو
ریت سے کہہ دو جانے دے اب
سیپیاں چنتے جاتے ہو
دہکھو کیسا گہرا پانی
راز بتانے آیا ہے
ًڈوب گئے تو پھر کیا ہو گا؟
پہلی شرط ہی خاموشی ہے
صحرا بولتے رہتے ہیں
کوئی سنتا نہیں
درد کی سیپیاں
رات کی انگلی تھامے
درد ہی چنتا ہے
ساحل کتنی دور ہے، سوچو
ڈوب گئے تو پھر کیا ہو گا؟
جگنو بن کر اڑ لیتے ہو؟
روشن منظر بن سکتے ہو؟
تتلی کے پر اوڑھ کے دیکھو
رنگ تجلی ہوتے ہیں
رنگ روتے ہیں
یہ پانی کتنا گہرا ہے
ہر آہ پہ ھو کا پہرہ ہے
ساحل کتنی دور ہے، جانو
ڈوب گئے تو پھر کیا ہو گا
مان چکے ہو
جان بھی لو اب
آنکھ سے بہتے اشکوں کی
معصوم ادائیں زندہ باد
سیپیاں چنتے لمحوں کی
پرنور وفائیں زندہ باد
نیلے گہرے پانیوں کی
خاموش دعائیں زندہ باد
زندہ، قائم ذکر دمادم
رات کے پچھلے پہر کی چپ اور
اشک بہاتی فکر دما دم