ہر خلیہ ایک مکمل وجود ہے ۔ ہر وجود ایک مکمل خلیہ ۔ میں اپنے جسم کے ہر خلیئے میں موجود ہوں اور میرے تمام خلیئے مل کر بھی مجھے ہی بناتے ہیں۔ میں جزو بھی ہوں ۔ میں کُل بھی ہوں ۔ اور جہاں میں ہوں وہاں میرا اول بھی ہے اور میرا آخر بھی ۔ میں ماضی کے ہر دور کا بلیو پرنٹ ہوں اور مستقبل کا Jigsaw Puzzle۔ مجھ سے پہلے بھی کوئی تھا اور میرے بعد بھی کوئی ہو گا ۔
میری ہستی جب نیستی تھی ، میرا وجود جب عدم تھا، میں اُس وقت بھی تھا۔ میں جب عدم ہو جاؤں گا، نیست ہو جاؤں گا، میں پھر بھی موجود رہوں گا۔ میری فنا میں ہی میری بقا ہے۔ میں ہر دور میں فنا ہو کر بھی باقی ہوں۔
تم اپنے خلیئے میں اُتر کر دیکھو ۔ اک عظہم جہان ہے۔ لا محدود جہان۔ مرکز ایک ہی رہا۔ نیوکلیئس ایک ہی رہا۔ بس واحد۔ ابتدا بھی واحد، انتہا بھی واحد۔ یہاں بھی نظام مکمل ہے۔
تم اپنے خلیئے سے ریشہ بن کر دیکھو ۔ ہر ریشہ اپنی ذات میں ایک جُزو ہے اور ہر ریشہ مختلف خلیئوں کا کُل۔ ریشہ جزو ہے اور مکمل ہستی کا مالک ہے۔ یہاں بھی نظام مکمل ہے۔
تم عضو در عضو اپنے جسم میں اُتر کر دیکھو۔ ہر عضو کا ایک نیوکلیئس ہے۔ ہر عضو اپنی ذات میں ایک جزو ہے اور ہر عضو میں ریشے بھی ہیں اور خلیئے بھی اور وہ سب بھی جو ریشوں اور خلیئوں کے جہانوں میں تھا۔ ہر عضو ایک مکمل نظام ہے۔ کسی عضو کا تجزیہ کر لو۔ ایک نظام میں کئی نظام موجود ہیں۔ سب نظام مل کر ایک بڑے نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔
خلیئے، ریشے، اعضاء مل کر ایک جسم بناتے ہیں۔ ایک جسم ایک جزو ہے کسی Ecosystem کا۔ اور یہی جسم ایک کُل ہے مختلف اجزائے ترکیبی کا۔ ایک جسم میں اعضاء بھی ہیں، ریشے بھی اور خلیئے بھی۔ اور وہ سب بھی جو ہر سطح پر ہر دم موجود تھے ۔ ایک جسم مربوط انداز میں ایک نظام کے تحت آگے بڑھتا ہے۔ اور ایک جسمانی نظام کے کُل میں کئی نظاموں کے اجزائے ترکیبی ہیں۔
خلیئے سے لے کر جسم تک ایک ہی پیٹرن۔ ایک ہی فارمولا ، ایک ہی سنت۔
خلیئے کے اندر کا جہان گھوم پھر کر باہر نکلو اور ریشہ در ریشہ اس Pyramid پر تفکر کرتے جاؤ۔ اعضاء سے گزرو۔ اور جسم کے کُل پر غور کر لو۔ ہر کُل اپنی ذات میں ایک جزو ہے کسی بڑے کُل کا۔ اور ہر جزو اپنی ذات میں ایک مکمل کُل ہے۔
زندگی کسی شاعر کا دیوان ہے ۔ دیوان ایک مکمل وجود ہے۔ ایک مکمل جزو ۔ اور یہ کُل بھی ہے۔ اس کُل کی اکائیوں میں غزلیں ہیں۔ ہر غزل ایک جزو ہے دیوان کا اور کُل ہے اشعار کا۔ ہر شعر ایک جزو ہے غزل کا اور کُل ہے الفاظ کا۔ شعر کا ہر لفظ اپنی ذات میں کُل ہے اور یہ کل مختلف حروف سے مل کر کُل بنا۔ یہی فارمولا معنویت کا ہے۔ ہر جزو سے پہلے خیال ہے۔ ہر کُل کے بعد بھی خیال۔ ہر کُل ایک مکمل خیال ہے اور ہر مکمل خیال بہت سے خیالات کا مجموعہ ہے۔
کبھی غور تو کرو ۔ Food Chain اور Complex Food Web پر۔ ایک طرف بیکٹیریا ہے جو Decompose کرتا ہے۔ ہر بیکٹیریا ایک جزو ہے اور یہی بیکٹیریا ایک مکمل کُل ہے۔ Fungi، فنگس کی دنیا بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ کہیں کُل ہے۔ کہیں جزو۔ جو جہاں ہے، وہاں مکمل ہے۔ ہر مرحلے پر ایک نیوکلیئس ہے۔
نظام شمسی پر غور کر دیکھو۔ یہ کُل ہے مختلف اجزائے ترکیبی کا۔ اور پھر یہی کُل ایک جزو ہے کسی کہکشاں کا۔ پھر ہر کہکشاں ایک کُل بھی ہے اور ایک جزو بھی ۔ سورج کی روشنی اور حرارت ایک نظام کے تحت پودوں تک پہنچتی ہے۔ پودے Photosynthesis کرتے ہیں۔ ضیائی تالیف کا عمل ۔ اپنی خوراک بنانے کا عمل۔ گھاس کو دیکھو۔ کُل بھی ہے اور جزو بھی کسی بڑے کُل کا۔
پھر گھاس اور پودوں پر زندہ کُل ہیں۔ اور یہی کُل جزو بھی ہیں۔ جزو در جزو کسی کُل کی تکمیل ہوتی ہے۔ اور ہر کُل اپنی تکمیل سے ایک نیا جزو بن کر اپنے سے بڑے کسی کُل کا حصہ ہے۔ Biodiversity دیکھی؟ اس قدر متنوع اجزائے ترکیبی ۔ اس قدر کُل۔ لیکن سب مل کر ایک ہی کُل میں سما جاتے ہیں۔ سطح در سطح ۔ مرحلہ در مرحلہ۔ ایک ہی فارمولا ۔ کُن کا فارمولا۔
پھیلے تو یکون ۔ سمٹے تو کُن۔
پھیلے تو صدیاں ، سمٹے تو لمحہ
پھیلے تو قلزم، سمٹے تو قطرہ
پھیلے تو خلقت، سمٹے تو خلیہ۔
سمجھ رہے ہو نا؟
قرآن کہتا ہے ہم نے ہر شے کو پانی سے خلق کیا۔ پانی بہت بڑا کُل ہے۔ اتنا بڑا کُل کہ اس میں معلوم اور نامعلوم سب اجزا سما جائیں۔
میں اپنے جسم کے ہر خلیئے میں موجود ہوں اور میرے تمام خلیئے مل کر بھی مجھے ہی بناتے ہیں۔
سورج، پودے، Herbivores اور Carnivores اور وہ سب جو ڈی کمپوز کرتے ہیں۔ فنا ہی فنا ہے گھات میں۔
بیکٹیریا سب کو ڈی کمپوز کرتا ہے۔ اور پھر بیکٹیریا ہی بیکٹیریا کو ڈی کمپوز کرتا ہے۔
زمین کیا ہے؟ جمی ہوئی زندگی ہے۔ مادہ کیا ہے؟ جمی ہوئی توانائی ہے۔
پانی زمان ہے ۔ زمین مکان ہے۔
زمین میں Producer ہیں۔ زمین میں Consumer ہیں۔
ہم سب ایک دوسرے کے پروڈیوسر ہیں اور ہم سب ایک دوسرے کے کنزیومر۔
جس نوع کا کھیل ختم ہو گیا وہ Extinct ہو گئی ۔ توازن قائم رکھنا لازمی ہے ورنہ کائنات کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔ ایک کُن ہی تو کہنا ہے ، فیکون ہو جانا ہے۔ عدم سے وجود اور وجود سے عدم ۔ بس کُن ۔۔۔
زمین سے نکلے وجود نے زمین میں ہی ڈی کمپوز ہو جانا ہے۔ خلیہ چلا تھا۔ خلیہ ہی رہ گیا۔ واحد ، اکیلا۔
حیات کی ابتدا سے پہلے بھی خلیہ۔ انتہا کے بعد بھی خلیئہ۔ اور خلیئے میں وہ سب جسے کُن سے یکون کہا جاتا ہے۔
ایک مکمل کُل کو ڈی کمپوز کرنے والا بھی خلیہ ۔
ہم کیسے نطفے سے پیدا ہو گئے۔ نطفہ آغاز ہے۔ پھر نطفے سے بیضے کا سفر ہے۔ مرحلہ وار زندگی آگے بڑھی ہے۔ نو مہینوں میں مختلف اجزا مل کر ایک کُل بنا رہے ہیں۔ ہر مرحلے پر ایک مکمل کُل تھا۔ اور وہی کُل ایک مکمل جزو بھی۔ سلسلہ در سلسلہ حیات خلیئے سے ہوتی ہوئی جسم تک پہنچی اور پھر یہی جسم جب مر گیا تو جزو در جزو ڈی کمپوز ہوا۔ سب سے آخر میں کیا رہ گیا؟ خلیہ
اس خلیے میں بھی میں موجود ہوں۔ کوئی بال لے لو۔ جلد کا کوئی حصہ لے لو۔ دانت کا کوئی ٹکڑا لے لو۔ میں موجود ہوں۔ اپنی پوری شناخت کے ساتھ۔ آپ موجود ہو۔ قبر میں دفن کر دو۔ آگ میں جلا دو۔ کچھ کر لو۔ خلیہ زندہ رہےگا۔ اور جہاں خلیہ ہو گا وہاں مکمل DNA اور RNA
ابھی تو ماہرین حیاتیات اور آگے جائیں گے۔
یہ X اور Y کروموسومز کی کہانی ابھی بہت آگے جائے گی۔
سائنس ہر دور میں خلیوں میں چھپے جہانوں کو تسخیر کر رہی ہے۔ بیماریوں کا علاج ممکن بنایا جا رہا ہے اور نت نئی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ فنا ہمارے اندر ہے۔ ہمارے اندر ہی بقا ہے۔ یہی فلسفہ Yin اور Yan کی صورت چین کے فلسفے کی صورت سامنے آیا۔ سات جنموں کی کہانی اسی سے وجود میں آئی۔ مختلف عالموں کے قصے یہیں سے نکلے۔ فنا ہی فنا ہے اور بقا ہی بقا ہے۔ حق میں باطل ہے اور باطل میں حق۔ کمرے میں اندھیرا تھا جب تک روشنی نہ تھی۔ روشنی آ گئی تو اندھیرا کہاں گیا؟ وہ تھا تو اب بھی ہے ۔ ذرا چراغ گُل کر دیکھو! اندھیرا دور نہیں۔
سب کچھ خلیئے میں ہے۔ سب کچھ۔
پھیلے تو صحرا، سمٹے تو ذرا ۔
بڑے سے بڑا پہاڑ ایک کُل ہے کئی اجزا کا۔ اور ہر جزو ایک کُل ہے ۔
ایک وقت آتا ہے جب خلیہ Unicellular ہو جاتا ہے۔ واحد ہو جاتا ہے۔ اسے مزید تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ زمینی سائنس ہر دور میں کسی خاص نقطے پر پہنچ کر یہی اعلان کرتی تھی کہ اب بس اس سے آگے تقسیم ناممکن ہے۔ اور پھر مزید تقسیم ۔ اب بات Quantum فزکس سے آگے بڑھ رہی ہے۔
یہ پوری کائنات مچھر کے پر کے برابر نہیں۔ قرآن کی یہ آیت تحقیق کی دعوت دے رہی ہے۔ فھل من مدکر۔ کوئی ہے جو نصیحت پکڑے۔
کبھی غور کرنا Proteins میں کیا روحانیت ہے!
کبھی غور کرنا مختلف بلڈ گروپس کس کل کے اجزا ہیں۔
چھینکیں اور جماہیاں کیوں آتی ہیں؟ کبھی غور کرنا۔
زخم لگے تو کھرنڈ کیسے آ جاتا ہے۔ ہر ہر مرحلے پر، ہر ہر فانی سطح پر ایک بقا ہے۔ اس وقت تک جب تک کل من علیھا فان نہیں ہو جاتا۔ جب سب کچھ فنا ہو جائے گا تو کیا ہو گا؟ واحد، احد ۔
حیات سے پہلے بھی وہ
حیات کے بعد بھی وہ
نیند سے پہلے بھی وہ
نیند کے بعد بھی وہ
ھو الاول والاٰخرُ
کبھی زمین کی ساخت پر غور کرنا۔ زمین ایک بہت بڑا کُل ہے ۔ اور زمین کی بھی ایک Core ہے اور پھر اُس Core کا بھی ایک مرکزی مقام ہے۔ نیوکلیئس اہم ہے۔ مرکزیت اہم ہے۔ ہر خلیہ توحید والا ہے۔ ہر کل میں توحید ہے اور ہر جزو میں بھی توحید۔
زمین کے Crust سے Core تک جزو در جزو اور کُل در کُل وہی کہانی ہے جو میرے جسم کی کہانی ہے۔ جو میرے جسم کے کسی سب سے چھوٹے جزو کی کہانی ۔ میرا جسم خلیات کا مرکب ہے۔ اور ہر خلیہ مختلف جہانوں کا مرکب ۔
میں اپنے جسم کے ہر خلیئے میں موجود ہوں ۔ میرے جسم کا ہر خلیہ میں ہوں ۔ میرے اندر بھی میں ہی میں اور میرے باہر بھی میں ہی میں ۔ لیکن میری اسی کی بقا ہر قدم پر فنا کی زد پہ ہے۔ کوئی اور میں ہے جو ہر مرحلے پر میری میں کو اپنا تابع کرتی ہے۔ سائنس Big Bang تک پہنچ چکی ہے۔ ایک خلیہ پھیلا تھا ۔ ایک خلیئے کا بگ بینگ۔ ایک دم سے اچانک پھیل گیا سارا لمحہ؟ سائنس ابھی تحقیق کر رہی ہے۔ قرآن نے کُن فیکون کہہ کر ہماری راہ آسان کر دی۔
کُن سے فیکون کی تسلیم اعتقاد ہے۔
کُن سے فیکون کی تحقیق سائنس ہے۔
فاطر ہستی ، کن سے فیکون کی تحقیق کی دعوت دے رہا ہے۔
بس وہ یہ کہتا ہے کہ اول بھی میں ہوں۔ آخر بھی میں۔
تم بے شک Black Holes سے آگے نکل کر دیکھو یا کسی خلیئے کے من میں جھانک کر دیکھو ۔ وہی اول وہی آخر۔ لیکن محض اعتقاد اس زمین پر کافی نہیں۔ اعتقاد الگ معاملہ ہے اور جہد مسلسل الگ۔ حکمت عملی، خندق کی کھدائی، صبر و رضا، پیٹ پر پتھر باندھنے کا عمل، یہ سب زمینی پیمانے ہیں۔ تقاضے ہیں۔ اور پھر دعا کا عمل اعتقادی ہے۔
جو محض پراسیس کو سمجھتا رہا وہ خالق سے محروم رہا۔
جو خالق کا معتقد تو ہو گیا لیکن پراسیس نہ سمجھ سکا وہ دنیا میں پیچھے رہ گیا۔
کیا ہم دنیا میں پیچھے رہ جانے اور مغلوب ہو جانے کے لئے بھیجے گئے ہیں؟ یہ سوال چھوڑے جا رہا ہوں۔ سوچو ۔ اور ضرور سوچو ۔
اگر ہم جزو کو سمجھ جائیں تو کل کو سمجھ جائیں۔
یہی فارمولا زندگی کے ہر شعبے پر Apply ہوتا ہے۔ امر ہونا ہے تو اس فارمولے پر غور کر لو۔
اللہ اکبر ۔