خلافت سے ملوکیت تک اور جمہوریت سے آمریت تک انسانی تاریخ ہوش ربا واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ اقتتدار کی جنگوں میں اب تک جانے کتنے بے گناہوں کا خون بہایا جا چکا۔
ہر دور میں ایک سی تاریخ دہرائی جاتی ہے۔ ہر دور کا پیٹرن ایک ہی رہتا ہے۔ واقعات کا ظاہری روپ بدل جاتا ہے لیکن منطقی ترتیب اور ساخت وہی صدیوں پرانی۔
حضرت آدم کے ابتدائی انسانی دور سے لے کر آج تک جتنے بھی ادوار گزرے، اُن سب میں ایک ہی کہانی کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔
تاریخ کی مستند کتابوں کو کھنگالیں۔ ایک ٹائم لائن بنائیں۔ آپ بھی میری طرح حیران ہو جائیں گے کہ تاریخ نے ہر دور میں ایک سے حالات کو قلمبند کیا۔
کہانی کے کردار بدلتے رہے۔ مکالمے تبدیل ہوتے رہے۔ مکانات، لباس، حلیئے ۔۔۔سب کچھ بدلتا رہا لیکن کہانی کا مرکزی خیال آج بھی وہی آدم علیہ السلام کے دور والا۔
تاریخ کے پیٹرن کو سمجھنے والے حالات کی کڑیاں ملاتے ہیں اور عام بندوں کی نسبت اپنے دور کی کہانی کے ختم ہونے سے قبل کہانی کا انجام بتا دیتے ہیں۔ حالات و واقعات کو سرسری طور پر دیکھنے والے اُن کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہیں برا بھلا کہتے ہیں۔ لیکن جلد ہی کہانی میں وہی موڑ آ جاتا ہے جس کی نشاندہی کرنے والے کر چکے ہوتے ہیں۔ اب کچھ تو واپس لوٹ آتے ہیں۔ اور مان لیتے ہیں کہ کہنے والا ٹھیک کہتا تھا اور کچھ حرص و ہوس کے پیکر، اپنے اپنے سطحی مفادات کی آڑ میں چھپ جاتے ہیں اور اپنے اوپر تعصبات کا موٹا بدبودار کمبل اوڑھ لیتے ہیں۔
لیکن کہانی نہیں رکتی۔ کہانی، لفظ کن سے فیکون تک کا تسلسل ہے۔
ہر ظالم کا ایک سا انجام ہوتا ہے۔ ہر فرعون کا ایک سا انجام ہوتا ہے لیکن ہر دور کا ظالم اور فرعون سمجھتا ہے کہ وہ بچ جائے گا۔ لوگوں کو دھوکا دیا جا سکتا ہے کیونکہ لوگ نفس کی کمزوریوں والے ہیں۔ فطرت کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا کیونکہ فطرت ہر لحاظ سے کامل اور مضبوط ہے۔
اور فطرت کا قلمکار ہر دور میں ایک ہی کہانی لکھتا ہے کہ شاید سمجھنے والے سمجھ سکیں اور لوٹ آئیں۔ لیکن انسان خسارے میں ہے۔ کسی بھی دور کی کہانی سے عبرت نہیں پکڑتا۔ اکثریت گمراہ ہونے والوں کی ہے۔
اکیسویں صدی کی کہانی نئی نہیں۔ ظالم ومظلوم کے کردار وہی صدیوں پرانے۔
انسان، عام انسان، اپنے دور کی کہانی کے جلد خاتمے کی دعائیں کرتے ہیں۔ اور ایسا ہر دور میں ہوا ہے۔ عام لوگ جب کسی بستی میں ظالموں کے ظلم سے تنگ آ جاتے تو دعائوں کی پناہ میں چلے جاتے۔ پھر کوئی نہ کوئی مسیحا ضرور آتا۔ فرعون کی سلطنت کا تختہ الٹنے۔
غریب اور مظلوم، فطرت کے قریب تر ہوتے ہیں ۔ بلکہ ہر بے سہارا، کمزور اور بے بس انسان فطرت کے قریب ہوتا ہے۔ اور قربت میں کی گئی مناجات جلد سن لی جاتی ہیں۔
قبرستان بھرے پڑے ہیں اُن کرداروں سے جو سمجھتے تھے کہ شاید وہ کہانی میں اپنی مرضی سے کمی یا اضافہ کر لیں گے۔
میری لکھی ہوئی کہانی پر تنقید ہو سکتی ہے۔ کمی یا بیشی کی جا سکتی ہے۔ میرے کرداروں کو اپنی مرضی کے انجام سے دوچار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن فطرت کے قلمکار کی کہانی کا ایلگیردم انوکھا شاہکار ہے۔ فطرت کے حسابی فارمولے شاندار ہیں۔ فطرت کی طبیعت اور طبیعات جاہ و جلال والی ہے۔
قرآن اس عظمت کا نقشہ کچھ یوں کھینچتا ہے۔
ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا
تاریخ کے پیٹرن کو سمجھو۔ کہانی کی منطقی ترتیب کو سمجھو۔ یا ان کی مان لو جن کی عمریں صرف ہو گئیں کہانی کو سمجھنے میں اور دوسروں کو سمجھانے میں۔
جنگیں اسلام کے نام پر اور انسانیت کے نام پر لڑی جاتی ہیں اور آخر کار نقصان جانتے ہو سب سے زیادہ کس کا ہوتا ہے؟
اسلام کا اور انسانوں کا۔
یہ ہر دور کے بادشاہوں کی نفسیات ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے عارضی اور مصنوعی دور حکومت کی طوالت کے لئے کبھی مذہب تو کبھی انسانیت کا نعرہ لگاتے ہی رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں لاکھوں غریب انسان، لاکھوں غریب انسانوں کے ہاتھوں قتل ہوتے آئے ہیں۔ بادشاہوں کی نسلیں حکومتوں میں اور رعایا کی نسلیں جیلوں یا قبرستانوں میں چلی جاتی ہیں۔
اور پھر کہانی میں وہ موڑ آتا ہے جہاں فطرت اپنی رٹ قائم کرتی ہے۔
آپ اُسے معجزہ کہہ لیں۔ حسن اتفاق کہہ لیں۔
واللہ خیرالماکرین کے تناظر میں سمجھ لیں۔
تاریخی پیٹرن آپ کو سمجھ آ جائے گا۔
اللہ اکبر – یاحی یا قیوم – اللہ اکبر –