آپ جانتے ہیں ہمارے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟
شاطر و عیار دشمن ہماری خامیوں، جاہلانہ کوتاہیوں اور نظریاتی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ طاغوتی طاقتیں، ہم سے زیادہ ہماری تاریخ کے فرقہ وارانہ فسادات کو جانتی ہیں۔ ہماری ہر کمزور رگ اُن کی دسترس میں ہے۔ اُن کے سامنے بچھی ہوئی بساط میں ہمارے مہرے پٹ رہے ہیں اور ہم مسلسل ہار رہے ہیں۔
جانتے ہیں کیوں؟
کیونکہ ہمیں کھیلنا نہیں آتا۔ ہم تماشہ بننے کے ماہر ہیں یا تماشائی بننے کے شوقین۔ ہماری قومی یک جہتی اور ملی اتحاد کا شیرازہ اس حد تک بکھر چکا کہ ہم اپنے دیرینہ مسائل کے حل پر بھی ایک دوسرے کا گریبان چاک کر دیتے ہیں۔
ہم آج بھی قرطبہ اجڑتے دیکھنے والے خاموش تماشائی ہیں۔ چنگیز خان اور ہلاکو خان کی خونخوار فوجیں آج بھی ہمیں سنی اور شیعہ کے جھگڑوں کی آڑ میں قتل کر رہی ہیں۔ اپنی اولاد کو باہر کے ممالک میں پڑھانے والے ملکی نظام تعلیم کو کیوں بہتر کریں گے؟ اپنا اور اپنے رشتے داروں کا بیرون ملک علاج کروانے والے ہمارے ہسپتالوں کی حالت زار پر کیوں رحم کریں گے؟ جن کی حفاظت پر پولیس کے تازہ دم دستے ہر وقت موجود ہوں، انہیں کیسے احساس ہوگا کہ سڑکوں پر، بازاروں میں سینہ تانے چلنے پھرنے والے غریب کیوں عدم تحفظ کا شکار ہیں؟ کوئی دلیل ہے آپ کے پاس؟
اور یہی ہماری خامیاں ہیں۔ یہی ہماری کمزوریاں ہیں۔
ہماری رگوں سے غلامی کے اثرات ابھی زائل نہیں ہوئے۔ ہم محکوم بنے رہنا چاہتے ہیں۔ اور ہم اپنے اوپر حاکم مسلط کئے رکھنا چاہتے ہیں۔
ہمارے ہاں موجود ظلم و جبرکا نظام دہشت کو فروغ دیتا ہے۔ ہماری عدالتیں، طاقتوروں کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہیں۔ اور ہمارے علماء مسلسل ناکام ہو رہے ہیں۔ نااتفاقی کا یہی منطقی انجام ہونا تھا۔
میڈیا جن لوگوں کے خلاف ذہن سازی کرتا ہے۔ انہی کو دوسرے ہی دن ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے۔ ایک دم سے پراپگنڈا لہر اٹھتی ہے اور جس کو چاہتی ہے زیرو کر دیتی ہے۔ جس کو چاہتی ہے ہیرو بنا کر قوم کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔
ہر کوئی اپنی چال چل رہا ہے۔ میڈیا ہمیں بتاتا ہے کہ فلاں شخص ریاست کے لئے خطرہ ہے۔ فلاں شخص دہشت گردوں کا حمایتی ہے۔ اور پھر میڈیا ہی اُس شخص کا وکیل بن کر اُس کا مقدمہ لڑتا ہے۔
کونے کھدروں سے طاغوتی طاقتوں کے نمائندے اپنا اپنا نمک حلال کرنے نکل پڑتے ہیں۔ اور الجھنیں بانٹتے ہیں۔
ایک سنی مار دو۔ ایک شیعہ مار دو۔ ایک مسیح مار دو۔ بس باقی کا کام جاہلوں کے حوالے کر دو۔ ہم سب بارود کا ڈھیر بن چکے، باخدا! ہم سب بارود کا ڈھیر بنا دیئے گئے ہیں۔ ایک دیا سلائی اور پھر شعلے ہی شعلے، راکھ ہی راکھ۔ اور اس راکھ میں دبی دبی انسانیت کی چیخیں۔ جو ضمیر والوں کو جھنجوڑ جھنجوڑ کر پاگل کر دیں۔
دن رات میڈیا کی سنسنی خیزی نے گود میں پلنے والوں کو متشدد بنانے کا آغاز کر دیا ہے۔ حکومتوں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ آج کے بچے کل کو جوان ہو کر کس قدر متشدد کاروائیوں کی داغ بیل ڈالیں گے۔
بریکنگ نیوز کی کثرت نے علم کا قحط پھیلا دیا ہے۔
ہم توحید کے ساتھ ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔ شرک، ہماری موت ہے۔ میڈیا کے مختلف زاویے، مختلف بتوں کو تراشتے ہیں اور پھر لوگوں کو بت پرست بنا دیا جاتا ہے۔ قومی توحید اُس وقت ہو گی جب قومی سلامتی کے لئے سب کا ایک نظریہ ہو گا۔ بس ایک۔ قومی سلامتی کے مختلف نطریات پیدا کئے جاتے ہیں۔ فوج خاموش رہتی ہے۔ حکومتیں چپ سادھ لیتی ہیں۔ اور پھر دن رات انہی مشرکانہ نطریات کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ پریشر گروپ بنتے چلے جاتے ہیں۔ اور پھر ہر آنے والی نئی حکومت ان پریشر گروپوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
فوج کا سب سے بڑا قصور یہ کہ فوج انتظار کرتی ہے۔ اُس وقت بھی انتظار کرتی ہے جب قوم کا بچہ بچہ فوج کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے۔ حکمرانوں کا سب سے بڑا قصور یہ کہ حکمران اللہ سے زیادہ اقتتدار کی فکر کرتے ہیں۔ نبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دہ ہونے سے زیادہ عالمی طاقتوں کو جواب دہ ہوتے ہیں۔
یہی انتظار، یہی خاموشی، یہی بزدلی، الجھنوں کو بڑھاتی ہے۔ اور طاغوتی طاقتیں، میڈیا کے ذریعے ہمیں پرسکون ہونے ہی نہیں دیتیں۔ ہر دو منٹ بعد سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرتے رہنے کو ہی کاروبار سمجھ لیا جائے تو پھر الامان، الحفیظ۔
خدارا! اتفاق پیدا کرو۔ ایٹمی طاقتیں، تماشہ نہیں بنا کرتیں۔ جمہوریت میں لاقانونیت نہیں ہوتی۔ عدل کرو۔ سچ بولو۔ معاشرے، جھوٹ کے ہاتھوں اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔
سچوں کی قدر کرو۔ انہیں معاشرے کے ماتھے کا جھومر بنائو۔ انہیں مت دھمکائو۔ مت ڈرائو ۔۔۔ ورنہ عذاب الہی تمہیں گھر بیٹھے اچک لے گا۔ انصاف کرو۔ چالیں مت چلو۔ ڈرامے مت کرو۔ قوم کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھو۔ میڈیا پر قومی سلامتی کے حوالے سے نطریاتی پابندیاں عائد کرو۔ زیرو ٹالیرنس ہو گی تو توحید کا تصور راسخ ہو گا۔
ورنہ آج ہماری تو کل تمہاری باری آنی ہی ہے۔ یہی نظام فطرت ہے۔ یہی قدرت کے اصول ہیں۔
اللہ اکبر –