ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
ہم انفرادی طور پر اور بحیثیت قوم اس بات کا تعین ہی نہیں کر سکے کہ ہم آخر چاہتے کیا ہیں۔
ہم الجھے ہوئے ہیں ۔کون سے دھاگے کا سرا کہاں ہے، نہیں معلوم۔ کون سی کہانی کا پس منظر کیا ہے، پیش منظر کیا، نہیں معلوم۔
ہم جاگنا چاہتے ہیں۔خواہش یہی ہے۔ لیکن کوئی ہمیں جگانے آتا ہے تو ہم اس سے لڑپڑتے ہیں۔ اُس کو لعن طعن کرتے ہیں۔ اس کی کردار کشی کرتے ہیں۔ اس کی ذات پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔ اور پھر سو جاتے ہیں۔ جگانے والے آخر کار خاموش ہو جاتے ہیں۔ دعائوں کی پناہ میں چلے جاتے ہیں۔ہم پھر سو جاتے ہیں وہی غفلت بھری نیند۔
ہم تھوڑی دیر کے لئے اُٹھتے ہیں۔ اور شکوہ کرتے ہیں کہ ہمیں جگایا کیوں نہیں گیا؟ ہم جاگنا چاہتے تھے۔ کیونکہ خواب غفلت بہت نقصان دہ ہے۔لیکن ہم پھر سو جاتے ہیں یا سلا دیئے جاتے ہیں۔ لوریاں دینے والے بھی تو بہت ہیں۔ میڈیا لوریاں سناتے نہیں تھکتا۔ ہماری اپنی صفوں میں ایسے لوگ ہیں جنہیں ہماری نیند سے عشق ہے۔ وہ ہمیں سلائے رکھنا چاہتے ہیں۔
جگانے والے پھر کوشش کرتے ہیں ہمیں جگائے رکھنے کی۔ لیکن ہم پھر سو جاتے ہیں۔ میڈیا ہمیں مسلسل افیون کھلاتا ہے۔ مدہوش کئے رکھتا ہے۔ شاطر و عیار قسم کے تجزیہ نگار اپنے کاروباری ہتھکنڈوں سے ہمیں لوریاں سناتے ہیں۔ ہم پھر سو جاتے ہیں۔ بڑے بڑے کاروباری اینکرز ہماری کانوں میں سحر پھونکتے ہیں کہ جگانے والے آپ کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں۔ آپ کو سوئے رہنا چاہیئے۔ سونا، ایک عظیم نعمت ہے۔ جو آپ کی نیند خراب کرے وہ آپ کا دشمن۔
ہم پھر سو جاتے ہیں۔
پھر کوئی دھماکہ۔ پھر کوئی ظلم ہمیں جھنجوڑتا ہے۔ پھر کوئی سانحہ ہمیں وقتی طور پر نیند سے بیدار کرتا ہے۔ ہم جاگتے ہیں اور کف افسوس ملتے ہیں۔ ہم پچھتاتے ہیں کہ کاش! ہم وقت سے پہلے جاگ گئے ہوتے۔ کاش! ہم نے جگانے والوں کے جگانے کی کوششوں کا بروقت خیرمقدم کیا ہوتا تو آج اس ظلم کی کہانی نہ دہرائی جاتی۔
لیکن ہمارے کانوں میں پھر مدہوش کر دینے والی لوریوں کا سحر پھونکا جانے لگتا ہے۔
ہم پھر ازلی خراٹوں کی فریکیوئنسی پر ٹیون ہو جاتے ہیں۔
سلانے والے ایک سے بڑھ کر ایک۔ جگانے والا کوئی ایک آدھ۔
جگانے والے جس نظریے کے تحت جگانے آتے ہیں۔ اسی نظریہ کو مشکوک بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔ اور ہم اپنے اپنے تعصب کے تنگ دائروں میں محبوس بے چون چراں تسلیم کر لیتے ہیں، مان لیتے ہیں۔ اور پھر سو جاتے ہیں۔
جب حادثہ رونما ہو جاتا ہے تو پھر اکثر لوریاں سنانے والے ہمیں جگانے کی وہی تدبیریں کرتے ہیں تو جگانے والوں نے کی ہوتی ہیں۔ کیا خوب کاروبار ہے سلانے والوں کا، لوریاں سنانے والوں کا۔
یہ غیرسنجیدگی کی انتہا ہے۔
غفلت، جہالت اور مدہوشی کا گھنائونا کاروبار کرنے والے اللہ کریم کے مجرم ہیں۔ مخلوق خدا کو راہ سے ہٹانے والے بدترین مجرم ہیں۔ الجھانے والے اور الجھنوں کا مکروہ دھندہ کرنے والے بدترین مجرم ہیں۔
اور سب سے بڑی مجرم ہماری قومی جہالت ہے۔ ہم سب اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ اور ہر وہ صاحب علم جو اس میں شریک ہے کسی نہ کسی تعصب کا شکار ہے۔
ہم جاگنا چاہتے ہیں اور جاگتے بھی نہیں۔ بس یہی ہمارا مسئلہ ہے۔ اور جب افراد یا قومیں اپنی حالت کو بدلنے کی غلط تدبیریں کرتے ہیں تو تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔
انسان، ازل سے قلیل تعداد میں راہ حق کا مسافر بنتا آیا ہے۔ کسی دور میں کثیر تعداد نے پیغمبروں کی بات نہیں سنی۔نہیں مانی۔ عام جگانے والے تو پھر عام انسان ٹھہرے۔
قلیل تعداد والے سمندر پار کرتے ہیں۔ نوح کے بیڑے پر سوار ہوتے ہیں۔ بت پرستی سے تائب ہوتے ہیں۔
آپ نے سوچنا ہے کہ ہم قلیل تعداد میں شامل ہیں یا پھر گمراہ ہو جانے والی اکثریتی پارٹی کا حصہ ہیں۔
یاد رکھیں!
قرب قیامت کی نشانیاں ہمارے سامنے ہیں۔ لوریاں سنانے والوں کو پہچان لیں گے تو جگانے والوں کو پہچان لیں گے۔ مدہوش کئے رکھنے والے گیتوں کو سننا چھوڑ دیں۔نیند اڑا دینے والی سچائیوں سے پیار کریں۔
سچ، کاروبار نہیں ہوتا۔ اور میڈیا کاروبار کرتا ہے۔
سچ کی سزا، زہر کا پیالہ سچ کی سزا پھانسیاں اور کال کوٹھڑی۔
یہ کیسا سچ کہ جس کے صلے میں پلاٹ ملیں۔ مراعات ملیں۔ عہدے ملیں؟
بہت بڑی گڑبڑ کر رہے ہیں سلانے والے۔ اور اس سے بڑی گڑ بڑ وہ کر رہے ہیں جو جاگنا چاہتے ہیں لیکن جاگتے نہیں۔ اس لئے سزا کے طور پر وہ پرسکون طریقے سے سو بھی نہیں سکتے۔
اللہ اکبر –