تاریخ کے اوراق پر درج کہانیاں سبق آموز ہیں۔ ہر دور کے نمرود فرعون یا یزید کے پاس عددی اکثریت تهی ، دنیاوی قوت تھی ۔ مظلوم کی کہانی ہر دور میں بے بس کہانی تھی۔ ہر دور میں ظالموں کے ظلم اور جاہ و جلال کے اعداد و شمار زیادہ رہے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس ساری عددی برتری کے باوجود ہر دور کے ظالم کا ایک سا انجام ہوتا رہا۔ جب قانون قدرت کی جانب سے دی گئی ڈھیل ختم ہوتی ظلم کے سارے دیوقامت عفریت بے بس انسانوں کے قدموں میں ڈھیر ہو جاتے۔ جب بادشاہ ظلم کرتے ہیں تو وہ خود میدان میں نہیں اترتے. اپنے بندے اتارا کرتے ہیں۔ اللہ کریم بھی خود میدان میں نہیں اترتے۔ مظلوموں کی مدد و نصرت کے لیئے بھی اللہ کے بندے ہی میدان میں اترتے ہیں۔ کائنات کے بادشاہ نے بڑے بڑے زمینی بادشاہوں کا غرور خاک میں ملا رکھا ہے۔ زمینی بادشاہوں نے ہر دور میں کثیر تعداد کو بزور بازو اپنا بنا لیا تها. محافظوں کے خصوصی دستے ہوتے تهے. غریبوں میں سے ہی بعض کو ظلم پر مامور کر دیا جاتا. اور ایسا کرنے کے عوض انہیں نوازا جاتا۔ مذہبی مجالس میں بادشاہوں کے نام کا خطبہ پڑها جاتا درباری شاعر قصیدے پڑهتے رائے عامہ ہموار کرنے والی مشینری اپنا کام کرتی وظیفہ خوار اپنا وظیفہ حلال کرتے. توہم پرستی عروج پر ہوتی۔ بادشاہوں کے احسان کے بوجهه تلے دبے لوگ بادشاہوں کے ظلم پر آنکهیں بند کر لیتے. فصلیں غریب کسان اگاتے اناج پر بادشاہوں کے ہرکارے قابض رہتے. خوشامدی ہر دور میں مزے کرتے چکنی چپڑی باتوں سے بادشاہ کا دل بہلاتے ملکہ کو ہنساتے خاص خدمت گاروں کو خاص مراعات ملتیں. بادشاہوں کے چمچے تعریفوں کے پل باندهتے اور انعام و کرام سے نوازے جاتے. پهر مہلت ختم ہوتی بادشاہت کی دیواریں ریت کی دیواریں بن جاتیں. ظلم کا حجاب اُٹھ جاتا اور ان تاریکیوں سے کوئی نہ کوئی روشن کرن جلوہ افروز ہوتی اور زمانے کو منور کر دیتی۔ رحم دل بادشاہوں کا معاملہ بهی دلچسپ ہے. تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بہت سے ایسے بادشاہ بھی ہو گزرے ہیں جو انتہائی رحم دل اور خداشناس تھے۔ ایسے بادشاہوں کے ادوار میں لوگوں نے سکھ کا سانس لیا. ہر رحم دل بادشاہ کو لوگوں نے دلی احترام دیا. تاریخ نے انہیں اچهے لفظوں سے یاد رکها. اچھا ہو کہ برا وقت کا کام ہے گزر جانا کسی دور میں عام آدمی شاہی قلعے میں کب آ سکتا تها؟ شیش محل میں مسکراتی شہزادیوں نے کب سوچا تها کہ آنے والے کسی کل یہاں سگریٹ کے ٹوٹے گریں گے نسوار گرے گی۔ پان کی پیکیں اور تهوک پھینکا جائے گا۔ کس سے ایسا سوچا ہو گا تب؟ لیکن ایسا ہو کے رہا. اب بهی بڑے بڑے محلوں کے آس پاس باوردی محافظ ہیں. کسی روز یہاں سیر کرنے والے عام لوگ آئیں گے اور کہانیاں سنیں گے. ہمارا دور بھی ہر دور کی طرح ہے. ہمارے دور میں بھی مظلوم اور ظالم کے درمیان وہی کشمکش جاری ہے۔ قدرت ازل تا ابد ایک ہی کہانی کو دہراتی ہے بار بار قوموں کو آزمایا جاتا ہے کون ہے جو اللہ کا بندہ بن جائے کون ہے جو عدل کا نظام بحال کرے کون ہے جو زمین سے فساد ختم کرے اور اسے محبتوں سے بھر دے رحمتوں سے بھر دے یہی آزمائش ہے یہی امتحان ہے جب جب زمین ظلم سے بهری ہے قدرت کی بے آواز لاٹهی برسی ہے. ہمارا دور اپنے حصے کے ظلم کو دیکھ چکا۔ اب اس کہانی کا ہمارے دور کی کہانی کا کلائمکس ہے. ہر دور کی طرح ہم بهی غفلت میں دبوچے جا سکتے ہیں. ہمارا حشر ظالموں کے ساتھ ہو گا کہ مظلوموں کے ساتھ یہ بہت اہمیت والی بات ہے۔ ہم نوح کے بیڑے میں بیٹھیں گے یا ڈوب جائیں گے؟ یہ بہت اہمیت والی بات ہے۔ بادشاہوں کے محل ویران ہوں گے فقیروں کے آستانوں پر چراغاں ہو گا. ضرور ہوگا انشاءاللہ تکبر والے بت ٹوٹ جائیں گے عجز و انکسار والی سرزمینوں پر پھول کھلیں گے خوشبو پھیلے گے ضرور پھیلے گی انشاءاللہ ہم نے اپنے دور کا حساب دینا ہے۔ بس اپنے دور کا اور اپنے دور میں کیئے انتخاب کا
اللہ اکبر –