آپ اپنے لیئے، اپنے خاندان کے لیئے، پاکستان کے لیئے، اپنی آنے والی نسلوں کے لیئے واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو آج سے اس بات کا پختہ عہد کر لیں کہ محنت کو اپنا شعار بنائیں گے۔ اپنی توجہ اپنے مقصد کی جانب مرکوز رکھیں گے اور کسی بھی قیمت پر کسی کے بھی کہنے پر یا کسی کے بھی ورغلانے پر اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کریں گے۔
ہمارا دور شعبدہ بازی کا دور ہے۔ ہر روز نت نئے ڈرامے اور تماشے ہوتے رہیں گے۔ اصل مسائل سے توجہ ہٹانا اور نوجوانوں کا قیمتی وقت ضائع کرنا کن کی سازش ہے، آپ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔
اپنے آپ کو بنائیں۔
پیر، امیر ہو گئے۔
اشرافیہ کی سات نسلوں کے لیئے جائیدادیں بن گئیں۔ 
ان کے بچے اعلیٰ تعلیم کے لیئے بہترین یونیورسٹیوں تک پہنچ گئے۔
آپ اور ہم فقط نعرے لگاتے رہ گئے۔
وقت گزر جاتا ہے۔ ضائع ہو جاتا ہے
مسائل حل نہیں ہوتے لیکن کن کے مسائل؟
عام لوگوں کے مسائل
میرے اور آپ کے مسائل
اُن کے مسائل جو چند خاندانوں کو
اپنے اوپر مسلط رکھتے ہیں
اور دیرینہ مسائل سے نجات تو چھوڑیئے
مزید مسائل پیدا کر لیتے ہیں۔
کب تک یہی سب کچھ چلتا رہے گا؟
اس طلسم سے آپ خود ہی باہر نکل سکتے ہیں۔
اس سحر کا توڑ آپ نےخود کرنا ہے۔
میں نے کرنا ہے
ہم نے کرنا ہے۔
محنت کریں۔
لگن کے ساتھ
جوش و جذبے کے ساتھ
اور جنون کے ساتھ۔
لوگوں سے نزرانے لے لے کر پیر صاحب نے تو جائیدادیں بنا لیں، مرید بے چارے رہے غریب کے غریب۔
پیر صاحب کے بچے تو پڑھ رہے ہیں آکسفورڈ اور کیمبرج نامی یونیورسٹیوں میں۔۔۔ اور بے چارے مریدوں کے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخلہ بھی مشکل سے ۔
پیر صاحب نذرونیاز کے پیسوں پر پجارو اور پراڈو میں سیریں کرتے پھرتے ہیں۔ اور مریدوں کے پاس آ جا کے وہی چنگ چی، تانگہ اور ٹوٹی ہوئی سائیکل۔
پیر صاحب، عامل صاحب مریدوں کو جنت کی کہانیاں سناتے رہتے ہیں اور خود اپنی دنیا کو ہی جنت بنا لیتے ہیں۔ جبکہ مریدوں کے لئے دنیا مُردار ہے۔
پیر صاحب اللہ کے خاص بندے ہیں۔ نسل در نسل خاص بندے۔ اور اُسی خاص پیر کے مریدین ساری زندگی عام ہی رہتے ہیں۔ لاحول ولا قوۃ۔
اصلی پیرومرشد پکڑو جو آپ کو خاص بنا دے۔ جو آپ کو بھی وہی گُر سکھائے جو اُس نے اپنی اولاد کو دیا۔ وہ مرشد ڈھونڈو جو آپ کو ربنا آتنا فی الدنیا حسنہ و فی الاخرہ حسنہ کا سبق پڑھائے۔
وہ اُستاد تلاش کرو جو محنتی ہو۔ کاسب ہو۔ اور اپنے مریدوں کو علم و عمل سے نوازتا ہو۔
وہ رہبر تلاش کرو جو آپ کی جسمانی و روحانی دنیا میں حقیقی تغیر پیدا کر دے۔ جو آپ کو تحقیق اور سائنس کی جانب راغب کرے۔ جو آپ کو شارٹ کٹ نہ دے۔ بلکہ آپ کو مقابلہ کرنے کی قوت دے۔ آپ کی رگ رگ میں بجلیاں بھر دے۔
جہاد سے ڈرانے والے پیر ہوں یا فقیر، رہبر ہوں یا عالم، سب دھوکے میں ہیں۔ جہاد پاکستان کی افواج کی پہچان ہے۔ جہاد، مسلمان کی پہچان ہے۔ نفس کے خلاف جہاد اسی لئے جہاد اکبر ہے کہ اپنی خواہشات کو قابو کرنا آسان نہیں ہوا کرتا۔
دونمبر پیروں اور فقیروں پر لعنت بھیج دیں۔ اور بلا تکلف لعنت بھیج دیں۔ کیونکہ اللہ اور اُس کے ملائکہ کی بھی ان پر لعنت ہے۔
پیر وہ جو آپ کی زندگیوں میں جسمانی و روحانی انقلاب کی قوت پیدا کر دے جو آپ کو حقیقی معنوں میں محمدی بنا دے۔ جو آپ کو واقعی اللہ سے ملا دے۔ خود اکیلے ملاقاتیں نہ کرتا پھرے۔ جو اپنی اولادوں کو ترقی کی راہ پر ڈال دے اور آپ اور آپ کی اولادوں کو کبھی ترقی کے اُس راز تک پہنچنے ہی نہ دے بس ایسے نام نہاد پیرومرشد سے بچو۔ وہ ڈنڈی مار رہا ہے۔
کیا سمجھے؟
اللہ اکبر –