میں جن دیکھنے کا شوقین ہوں۔ گذشتہ بیس برس سے میری تحقیق جاری ہے۔ مجھے آج تک کہیں کوئی جن، بھوت یا آسیب دکھائی نہیں دیا۔
میں دوردراز کا سفر کر کے ایسے علاقوں میں گیا ہوں جہاں جنات کی کہانیاں مشہور تھیں۔ میں نے قبرستانوں میں راتیں گزاریں کہ شاید کبھی کسی جن، بھوت پریت یا آسیب کا دیدار نصیب ہو جائے۔
میں نے درباروں پر اکیالیس جمعراتوں کے چلے کاٹے۔ سورۃ جن کی تلاوت کی۔ صرف اس امید پر کہ شاید کبھی کوئی جن، بھوت یا آسیب سے میری مڈبھیڑ ہو جائے۔
لیکن ایسا خوش بخت لمحہ میری زندگی میں کبھی آیا ہی نہیں۔
مجھے پتہ چلا کہ راولپنڈی میں ایک مائی صاحبہ ہیں جن کے پاس ہر وقت موئکل حاضر ہوتے ہیں۔ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ اُن مائی صاحبہ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ شاید میری تحقیق کا سفر ختم ہو اور مجھے کسی جن، چڑیل ، بھوت پریت یا آسیب کی خصوصی زیارت حاصل ہو۔ لیکن اُ ن مائی صاحبہ نے بھی آخر کار مجھے یہ کہہ کر مایوس کر دیا کہ آپ سیدزادے ہیں۔ اور آپ کا ورد پکا ہے۔ آپ کا مرشد تگڑا ہے۔ اس لئے میرے موئکل آپ کے سامنے آنے سے ڈرتے ہیں۔
لاحول ولا قوۃ۔
بیس سال ہونے کو ہیں۔ مری کے سرسبزوشاداب پہاڑوں پر جنات نہیں ملے۔ دریائے چناب کے پانی میں آدھی رات کو اُتر کر کھڑے ہو کر چلہ کشی کی۔ جن نہیں ملے۔ کشمیر سے کوئٹہ تک کے پہاڑوں پر راتیں گزاریں۔ کبھی کسی جن نے دیدار نہیں کروایا۔
آ جا کے انسان ہی ملتے تھے۔ جنوں، بھوتوں اور آسیبوں سے خطرناک انسان۔
بیس سال میں صرف خواہشات دکھائی دیں۔ نفسانی خواہشات۔ جو جنوں اور بھوتوں سے زیادہ خطرناک تھیں۔
میں نے دیکھا کہ جہاں محرومیاں زیادہ تھیں غربت تھی توہم پرستی تھی اور جہالت تھی وہاں جنات کی کہانیاں زیادہ تھیں۔ وہاں نامعلوم ڈر اور انجانے خوف زیادہ تھے۔ اور وہاں لوٹنے والے دونمبر پیر اور جعلی فقیر بھی بہت زیادہ تھے۔
میں نے دیکھا کہ ایسے علاقوں میں شعبدہ باز لوگ خوب خوب مخلوق خدا کو لوٹتے تھے۔ اور اپنی تجوریاں بھرتے جاتے تھے۔
میں نے دیکھا کہ انسان اپنی اپنی نفسانی خواہشات کی غلامی میں عجیب و غریب حرکتیں کرتے تھے اور بدنام جنات کو کرتے تھے۔
جنات ہماری طرح اللہ کریم کی مخلوق ہیں۔ فرماں بردار اور ٖغیرفرماں بردار۔۔۔ہر دو طرح کے جنات ہیں۔ اُن کا انسانی ذات پر اختیار نہیں۔ وہ صرف کہانیاں بن کر گھومتے ہیں۔ وہم اور وسوسہ اُن کی طاقت ہے۔ زندگی کے تلخ حقائق سے فرار حاصل کرنے والے اپنی اپنی ناکامیوں اور نفسانی خواہشات کی راہ پر سانس پھول جانے کو جنات اور آسیب کی کاروائی قرار دیتے ہی ہیں۔ جنات کا انسانی آبادیوں میں داخلہ اس قدر آسان نہیں۔ اُن کی بھی حدود ہیں۔ ہاں! اللہ والوں کی محفل میں جنات آیا کرتے ہیں۔ لیکن وہ اُس وقت تک جن نہیں ہوتے جب تک وہ انسانوں کے درمیان موجود ہوتے ہیں۔ انہیں انسانی روپ دھارنا پڑتا ہے۔ یہی شرط ہے۔
باقی سب دو نمبری ہے۔ دھوکہ ہے۔ جعل سازی ہے۔
شعبدہ باز لوگ ماہر نفسیات ہوتے ہیں۔ دست شاس، نفسیات سے کھیلتے ہیں۔ اور کمزور لوگوں، کاہل لوگوں اور محنت سے جی چُرانے والے لوگوں کی نفسیات دنیا بھر میں ایک جیسی ہے۔ ایسی نفسیات کے حامل لوگ، امریکہ و یورپ سے لے کر انڈیا ، بنگلہ دیش اور پاکستان تک ایک جیسے ہیں۔ وہی توہم پرستی۔ وہی جنات اور آسیب کی کہانیاں۔
یادرکھو!
یہ سب وساوس کا کھیل ہے۔
وسوسہ شریر لوگ پیدا کرتے ہیں۔ اور وسوسہ پیدا ہو جائے تو کسی بھی انسان کو دام میں لایا جا سکتا ہے۔
اللہ کریم کے بندے، لوگوں کے دلوں میں وسوسے پیدا نہیں کرتے۔ وسوسہ، شر ہے۔ شریر لوگ، خناس ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو انسانوں میں سے بھی ہیں اور جنوں میں سے بھی۔
دلوں میں وسوسے پیدا کر کے مخلوق خدا کو رب کریم کی توحید سے دور کرنے والے اپنی تجوریاں بھرتے جاتے ہیں اور اپنے ماننے والوں کی جیبیں خالی کرتے جاتے ہیں۔
ایسے شعبدہ بازوں پر لعنت بھیج دیں۔ جنات سے پیار کریں۔ کیونکہ اللہ کے مطیع جنات آپ سے پیار کرتے ہیں۔ آپ کی حفاظت پر مامور ہیں۔ شریر انسانوں، خبیث خواہشات اور وسوسے پیدا کرنے والی محفلوں سے نجات حاصل کریں۔
یا پھر مجھے کسی جن سے ملا دیں۔ جو واقعی جن ہو۔ اصلی جن۔ آپ یقین کریں جب آپ اس تلاش میں نکلیں گے تو آپ کی ملاقات اپنی ہی کسی منہ زور خواہش سے ہو جائے گی۔ نفسانی خواہشات کا جن قابو کر لیں تو آپ بھی حقیقی پیر۔ ورنہ پھر دونمبر پیروں کے محتاج رہیں عمر بھر۔ کیا سمجھے؟
اللہ اکبر –